امنِ عالم
Al-Risala, June 2005, pp. 1–5
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانَا وحید الدین خاں
Class on Wheels ہمارا پہلا سفری کلاس جون ۲۰۰۴ میں ہوا تھا۔ اس سفر میں میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ دہلی سے بلند شہر گیا تھا۔ اس سفر کی روداد الرسالہ نومبر ۲۰۰۴ میں شائع ہو چکی ہے۔ ہمارا دوسرا سفری کلاس نومبر ۲۰۰۴ میں ہوا۔ اس سفر میں ہم لوگ ۲۲۲۷ نومبر کو کار کے ذریعہ دہلی سے سہارن پور گئے اور ۲۸ نومبر کو وہاں سے واپس ہوئے۔ اس سفری کلاس میں ہماری ٹیم کے جو افراد شریک تھے ان کے نام
نغمہ صدیقی، خالد انصاری، رجت ملہوترہ، اقبال پردھان، نصرت الہی، استھی ملہوترہ، منجورمانی، پریا ملک، فریدہ خانم۔
۲۷ نومبر کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ راقم الحروف سمیت اس ٹیم میں کل دس افراد شریک سب لوگ ایک ہی بڑی گاڑی میں بیٹھے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، ٹیم کا ہر فرد بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر گاڑی میں داخل ہوا۔ میں نے کہا کہ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی کام شروع کیا جائے تو پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا جائے۔ اس کلمہ کے معنی ہیں۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے:
In the name of God Almighty, most merciful, most compassionate. یہ کلمہ خدا کی دو صفات کو یاد دلاتا ہے، ایک اس کا قادر مطلق ہونا اور دوسرا اس کا شفیق اور مہربان اس طرح یہ کلمہ ہم کو یاد دلاتا ہے کہ جس خدا کے حوالے سے ہم اپنا کام شروع کر رہے ہیں وہ ایک طاقتور خدا ہے۔ وہ ہر کام کو تکمیل تک پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے۔ کوئی بھی اس کے راستے میں روک بننے والا نہیں۔
یہ کلمہ خدا کی جس دوسری صفت کو یاد دلاتا ہے وہ اس کا شفیق اور مہربان ہونا ہے۔ کلمہ کا یہ دوسرا جزء ہمارے لیے امید کا سر چشمہ ہے۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ جس خدا کو ہم نے اپنا خدا بنایا ہے وہ ہمارے لیے ماں اور باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ وہ ہماری پکار کو سنے گا اور ہماری لغزشوں کو معاف کرتے ہوئے ہم کو اپنی مدد پہنچاتا رہے گا۔
حدیث میں آیا ہے کہ: کل امر ذی بال لم يبدأ فيه بسم الله الرحمن الرحيم اقطع (ہر اہم کام جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر شروع نہ کیا جائے وہ کٹا ہوا ہے) یعنی ایسا کام اپنی جڑ سے کٹا اس کا مطلب صرف کلمہ کا تلفظ نہیں ہے بلکہ کلمہ کی اسپرٹ ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی حیثیت صرف کلمہ آغاز کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت پورے عمل میں کارفرما اسپرٹ کی ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے میں نے ایک قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ بحری جہاز رانی کے دور میں ایک بحری جہاز امریکہ کے ساحل سے افریقہ کے لیے روانہ ہوا۔ جہاز جب اٹلانٹک سمندر کے درمیان پہنچا تو سخت طوفان آگیا۔ جہاز تیزی سے ہلنے لگا۔ تمام مسافر پریشان ہو گئے۔ ایک مسافر گھبراہٹ میں ادھر سے ادھر چل رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ جہاز کے ایک گوشہ میں ایک بچی بے فکر ہو کر اپنے کھلونے سے کھیل رہی ہے۔ مسافر نے بچی سے کہا کہ کیا تم کو پتہ نہیں کہ سمندر میں طوفان آگیا ہے اور جہاز ڈوبنے والا ہے۔ بچی نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا: تم جانتے ہو کہ اس جہاز کا کپتان میرا باپ ہے۔ وہ کبھی اس کو ڈوبنے نہیں دے گا۔
You know, my father is the captain of this ship. He is not going to let it sink. میں نے کہا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر ایک مومن کا ہوتا ہے۔ مومن جب کوئی کام شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اس کے لیے یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ قادر مطلق خدا کے اوپر اپنے اتھاہ بھروسہ کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا کہ مومن یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے کام میں خدا میرا مددگار ہے، وہ کبھی میرے کام کو بگڑنے نہیں دے گا:
I begin my work with the conviction that most merciful and all powerful God is always at my side. He will never leave me alone.
اس کے بعد ہم نے مشترک طور پر یہ دعا پڑھی: اللهم أنت الصاحب في السفر وأنت الخليفة في الأهل ۔ میں نے کہا کہ اس کو پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کچھ مقدس عربی الفاظ ہیں اور ان کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کے بعد خود بخود کچھ پراسرار نتیجے ظاہر ہوں گے ۔ یہ کلمہ دراصل ایک عظیم حقیقت کو اپنے دماغ میں تازہ کرنے کے لیے ہے، یہ حقیقت کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف خدا کو حاصل ہے ۔ ہر کام اسی کی مدد سے انجام پاتا ہے۔ انسان ہر جگہ اسی کی مدد کا محتاج ہے۔ صرف ایک عقیدہ کی بات نہیں ۔ بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس کو ہمیں ہر لمحہ یاد رکھنا چاہئے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کے پاس صرف ایک چیز ہے اور وہ اس کا ارادہ ہے۔ اسی ارادہ کو واقعہ بنانے کے لیے ان گنت دوسرے عوامل (factors) درکار ہیں ۔ اور یہ سارے عوامل پوری طرح خدا کے ہاتھ میں ہیں۔
مثلاً ہمارے پاس آنکھ ہے مگر آنکھ سے دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہے جو خدا کی طرف سے آتی ہے ۔ ہمارے پاس کان ہے مگر کان سے سننے کے لیے ہمیں ہوا کی ضرورت ہے جو خدا کے اختیار کی چیز ہے۔ ہم چلنا چاہتے ہیں مگر چلنے کے لیے زمینی کشش کی ضرورت ہے جس کا کنٹرول پوری طرح خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ ہم کو زندہ رہنے کے لیے پانی اور آکسیجن درکار ہے مگر پانی اور آکسیجن کی سپلائی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ ان الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان حقیقتوں کو اپنے ذہن میں تازہ کیا جائے ۔ اسی کے ذریعہ بندہ اور خدا کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے اور خدا کی طرف سے بندہ کو وہ چیز ملتی ہے جس کو روحانی فیض کہا جاتا ہے۔
پھر جب ہماری گاڑی آگے بڑھی تو میں نے لوگوں کو ایک حدیث رسول سنائی۔ کے الفاظ یہ ہیں: جددوا ایمانکم بقول لا اله الا الله (لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کی تجدید کرو) اس حدیث میں ایک بہت اہم حقیقت بتائی گئی ہے۔ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا میں نے کہا کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لا الہ الا اللہ کے الفاظ کو زبان سے اس طرح کا مفہوم اس حدیث کی تقصیر ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ توحید پر
اپنے یقین کو بڑھاتے رہو۔ خدا کو بار بار دریافت کرو: