Al-Risala · June 2005

Discover your faith again and again.

Al-Risala, June 2005, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر میں نے کہا کہ بار بار خدا کو دریافت کرنا کیا ہے۔ یہ دریافت دو طریقہ سے ہوتی ہے۔ یہ کہ آپ کی روحانیت یا رابنیت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہو کہ آپ کو بار بار نفسیاتی سطح پر ایسے تجربات آئیں جب کہ آپ کو محسوس ہو کہ آپ کا رشتہ خدا سے جڑ گیا ہے۔ آپ اور خدا کے درمیان کمیونیکیشن یعنی وہ چیز جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یناجی ربہ (بندہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے)۔

اس کیفیت کے حصول کا دوسرا ذریعہ وہ ہے جس کو قرآن میں توسم (الحجر ۷۵) کہا گیا ہے۔ یعنی آس پاس کے مشاہدات سے ربانی سبق لینا۔ اپنے تجربات کو خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھال لینا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مخلوقات کو دیکھ کر خالق کی معرفت حاصل کرنا۔ یہ صلاحیت ذہنی ارتقاء کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے اندر صحیح سوچ پیدا کرلے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ خلق کو دیکھ کر وہ خالق کو یاد کرے ۔ روزمرہ کے تجربات سے وہ خدائی سبق کی غذا لیتا ہے۔

ہمارا قافلہ درختوں کے بیچ میں بنی ہوئی سڑک سے گزر رہا تھا۔ ہر لمحہ نئے مناظر سامنے آتے چنانچہ مادی سفر کے ساتھ ہمارا ذہنی سفر بھی برابر جاری تھا۔ میں یہ کوشش کر رہا تھا کہ مشاہدات اور تجربات میں چھپی ہوئی معنویت کو ابھاروں اور لوگوں کی ذہنی تربیت کروں۔ میرے نزدیک ذہن کی یہی وہ ربانی تربیت ہے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ تزکیہ متصوفانہ قسم کے اعمال واشغال کا نام نہیں ہے بلکہ وہ مکمل طور پر ایک ذہنی سرگرمی ہے جو کھلی آنکھ اور کھلے کان کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔ تزکیہ کی یہ حقیقت حدیث میں بھی مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، صحابی ابوذر غفاری کہتے ہیں : لقد تر کنا محمد صلى الله عليه وسلم وما يحرك طائر جناحيه في السماء الا ذكرنا منه علما (مسند احمد ۵/ ۱۵۳) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: لقد ترکنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما یتقلّب فی السماء

طائر الا ذکر نا منه علما (۵ / یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو چھوڑ اور آپ کا حال یہ تھا کہ کوئی چڑیا بھی اگر فضا میں حرکت کرتی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دہانی کراتے ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ تزکیہ کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ کرتے تھے کہ آس پاس کے واقعات میں نصیحت کے جو پہلو ہیں ان کو کھولتے اور اس طرح لوگوں کی ذہنی تربیت کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ نام ہے دنیاوی واقعات کو ربانی تجربات میں ڈھالنے کا: Converting worldly events into divine experience. میں نے کہا کہ ہمارا سفری کلاس تزکیہ کے اسی عمل کی ایک تو سیعی شکل ہے۔ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں مومن کی ایک صفت السائحون (التوبہ ۱۱۲) بتائی گئی ہے۔ ایک اور آیت میں کہا گیا ہے کہ زمین میں سیر کرو اور اپنے لیے عقل وبصیرت حاصل کرو (الحج ۴۶) اہل ایمان کے لیے سیاحت کی یہ صفت اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کو قرآن میں خواتین کی بھی مستقل صفت کے طور پر السائحات (التحریم (۵) کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔

قرآن میں جس سیر یا سیاحت کا ذکر ہے وہ عام معنوں میں ٹورزم (tourism) جیسی کوئی چیز نہیں ۔ یہ ایک خالص ربانی عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ کسی صاحب معرفت کی ایک روحانی سیاحت :

Printed page