It is a spiritual outing of a realized soul.
Al-Risala, June 2005, pp. 6–9
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں مجھے یورپ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا خط ملا۔ انہوں نے الرسالہ کے ایک مضمون پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے الرسالہ میں لکھا تھا کہ یہ دراصل دماغ ہے جو تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ قلب (دل) سوچ یا احساس کا مرکز نہیں ہے، وہ صرف خون کی گردش کو جاری رکھنے والا ایک پمپنگ آرگن ہے۔ انہوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے دو باتیں لکھی تھیں ۔
ایک یہ کہ قرآن میں قلب کو سوچ اور فکر کا مرکز بتایا گیا ہے۔ اکثر لوگ یہ بات کہتے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میں اتارا گیا ہے اور دنیا کی تمام زبانوں میں پچھلے ہزاروں سال کے نتیجہ میں ایک ادبی اسلوب رائج ہو گیا ہے۔ اسی اسلوب کو قرآن میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کلام کی تاثیر ختم ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر مغربی تعلیم یافتہ لوگ، جدید سائنسی تحقیقات کی بنا پر یہ مانتے ہیں کہ قلب صرف گردش خون کا آلہ ہے۔ مگر یہی لوگ جب بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ ہول ہارٹڈلی (wholeheartedly) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے وہ ہول مائنڈ ڈلی (wholemindedly) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ یہ معاملہ صرف قلب کا نہیں ہے۔ قرآن میں دوسری بہت سی آیتیں ہیں جن میں کسی لفظ کو اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے اختیار کیا گیا ہے نہ کہ سائنسی دریافت کے اعتبار سے۔ مثلاً قرآن میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ان کے پاس کان ہیں ، مگر وہ نہیں سنتے۔ ان کے پاس آنکھ ہیں ، مگر وہ نہیں دیکھتے
اس طرح کی آیتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود کان اور خود آنکھ کے اندر سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی سماعت اور بصارت کے الفاظ سوچ کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سنی ہوئی بات کو اپنے آپ سمجھ سکتے ہیں اور دیکھی ہوئی بات کو اپنے آپ جان سکتے یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کے اندر سوچنے اور سمجھنے کا مادہ نہیں۔ یہ دراصل دماغ ہے جو کان کے ذریعہ سنتا ہے اور آنکھ کے ذریعہ دیکھتا ہے۔ مگر یہاں دماغ کا حوالہ نہ دے کر صرف کان اور آنکھ کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ انسانی ادب میں یہ الفاظ اسی طرح رائج ہو چکے تھے۔ اس کے بجائے اگر مذکورہ آیت میں یہ کہا جاتا کہ ان کا دماغ آنکھ کے ذریعہ دیکھی ہوئی باتوں کو سمجھتا نہیں اور ان کا دماغ کان کے ذریعہ سنی ہوئی باتوں پر سوچتا نہیں ، اگر بات کو اس طرح کہا جاتا تو اس کی تاثیر ختم
اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں قرآن میں ہیں۔ مثلاً سورج کا غروب ہونا اور طلوع ہونا۔ حالاں کہ علمی تحقیق کے مطابق ، طلوع اور غروب دونوں ظاہری مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔
غروب کے الفاظ میں خلائی واقعہ کا بیان نہیں۔ اس کے بجائے اگر طلوع اور غروب کے مظاہر کو فلکیاتی سائنس کی زبان میں بیان کیا جاتا تو کلام کی تاثیر ختم ہو جاتی۔ یہی معاملہ اس قسم کے دوسرے قرآنی استعمالات کا ہے۔
مذکورہ تعلیم یافتہ مسلمان نے اپنے نظریہ کی تائید میں دوسری بات یہ کہی تھی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے قلب پر کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ خوشی کے وقت بھی اور غم کے وقت بھی۔ اس سے انہوں نے یہ قیاس کیا تھا کہ انسان کا دل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ واقعات سے متاثر ہو کر مختلف قسم کی کیفیات میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ اس لیے کہ اسی قسم کے احوال قلب کے علاوہ دوسرے جسمانی اعضاء پر بھی طاری ہوتے ہیں۔ مثلاً خوشی سے زمین پر پاؤں نہ پڑنا، خوف سے جسم کے رونگٹے کھڑے ہونا، گھبراہٹ کے وقت ہاتھ میں کپکپی طاری ہونا، ہول کے وقت آنکھوں میں اندھیرا چھا جانا، وغیرہ۔ ادبی استعمالات میں ان تمام کیفیات کو جسم کے مختلف اعضاء سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ان کا تعلق دماغ سے ہے نہ کہ خود جسمانی اعضاء سے۔ میں روزانہ صبح کو بی بی سی لندن کی نشریات سنتا ہوں۔ میں نے ساتھیوں کو بتایا کہ آج بی بی سی کی رپورٹوں میں چند باتیں بڑی سبق آموز تھیں۔ وہ میں آپ کو مختصر طور پر بتاتا ہوں۔ ایک رپورٹ سرینگر کی تعمیرات کے بارے میں تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سرینگر کے اکثر مکانات اب بھی لکڑی کے ہیں۔ اس سلسلہ میں تفصیل بتاتے ہوئے رپورٹر نے ایک بڑی سبق آموز اس نے کہا کہ سرینگر لکڑیوں کا شہر ہے۔ مگر اس شہر کو دیمک نہیں کھارہی ہے بلکہ اس کو یہاں کے باشندوں کی بے شعوری کھارہی ہے۔ یہ بات مختلف پہلوؤں سے درست ہے۔ کشمیر صدیوں سے ایک پرسکون علاقہ تھا۔ یہاں کے لوگ عام طور پر خوش حال تھے۔ انسان کے جان و مال کو محترم سمجھا جاتا پورے علاقہ میں روحانی اور اخلاقی قدریں پھیلی ہوئی تھیں۔ مگر اکتوبر ۱۹۸۹ میں یہاں بے شعوری کا ایک عمل شروع ہوا۔ یہاں متشددانہ جہاد شروع کر دیا گیا۔ اس نام نہاد جہاد نے کشمیر کو ہر اعتبار سے تباہ کر دیا۔
عجیب بات ہے کہ متشددانہ جہاد شروع ہونے سے عین پہلے میں سرینگر گیا تھا۔ وہاں کے ٹیگور ہال میں میری تقریر ہوئی تھی۔ اس تقریر میں میں نے بولتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ نے متشددانہ تحریک شروع کی تو اس کے نتیجہ میں آپ لوگوں کو تباہی کے سوا اور کچھ ملنے والا نہیں۔ آخر کار وہ وقت آئے گا جب کہ آپ لوگ تشدد سے عاجز آ کر امن کی بولی بولنے لگیں گے۔ اس وقت میں نے اہل سرینگر کو فارسی کا ایک شعر سنایا تھا جواب ۱۵ سال کے بعد واقعہ بن چکا ہے۔ وہ یہ کہ جو کچھ دانش مند کرتا ہے وہی نادان بھی کرتا ہے، لیکن کافی بربادی کے بعد :