Al-Risala · June 2005

آنچہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

Al-Risala, June 2005, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

بی بی کے رپورٹر نے ایک اور خبر پاکستان کے آصف علی زرداری کے بارے میں سنائی۔ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے شوہر ہیں۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ، بے نظیر بھٹو کی حکومت کے زمانہ میں انہوں نے کافی مالیاتی دھاندھلی کی۔ یہاں تک کہ ان کو مسٹر ٹن پرسنٹ کہا جانے لگا۔ آخر کار وہ پکڑے گئے اور عدالت سے ان کے لیے قید با مشقت کا فیصلہ ہوا۔ ۱۱ سال کے بعد وہ ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ جیل کی زندگی کے بارے میں آپ کا تجربہ کیا تھا۔ آصف زرداری نے کہا کہ جیل کی زندگی مصیبتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اب میری بیک (پیٹھ) ایسی ہوگئی ہے کہ بیٹھنا میرے لیے ایک عذاب ہے۔ رپورٹر نے مزید پوچھا کہ نوجوانوں کے لیے آپ کا مسیح (پیغام) کیا ہے۔ آصف زرداری نے جواب دیا کہ میرا صرف ایک ہی وہ یہ کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو جو تمہاری عزت کو خطرہ میں ڈالنے

"اپنی عزت اپنے ہاتھ کا اصول بلاشبہ ایک قیمتی اصول ہے۔ یہ اصول قدیم زمانہ سے چلا مگر عجیب بات ہے کہ اس اہم اصول کو اکثر لوگ صرف اس وقت دریافت کرتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو بے عزت کر چکے ہوں۔ حقیقی معنوں میں اس اصول کو جاننے والا وہ ہے جو اپنے کو دوسروں کے ہاتھوں بے عزت کروانے سے پہلے اسے جان لے۔ اسی انسانی کمزوری کو ایک فارسی شاعر نے

اس طرح بیان کیا ہے کہ میں پر ہیز نہ کر سکا مگر تم لوگ پرہیز کرنا:

Printed page