من نکردم شما حذر بکنید
Al-Risala, June 2005, pp. 10–17
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے بتایا کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ پاکستانی سیاست کے بارے میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے حکمراں پچاس سال سے یہ کہہ رہے تھے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ اس کے سوا تمام دوسرے مسائل ضمنی ہیں۔ پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کرو، اس کے بعد دوسرے تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ اس کے مقابلہ میں انڈیا کے لیڈروں کا یہ کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کو پر امن بات چیت کی میز پر رکھا جائے اور دوسرے تمام عملی مسائل طے کر لیے جائیں، مثلاً تجارت، تعلیم، آمد و رفت، ثقافتی تبادلہ (cultural exchange)، وغیرہ۔ یہ گویا ڈی لنکنگ (delinking) کی پالیسی تھی۔ یعنی کشمیر کے سیاسی مسئلہ کو بقیہ مسائل سے الگ کر دینا۔ دوسرے مسائل کو فوراً حل کرتے ہوئے سیاسی مسئلہ کو مستقبل کے خانہ میں ڈال دینا۔ پاکستان کے حکمراں اور لیڈر کسی طرح اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ انہوں نے کئی جنگیں لڑیں۔ انہوں نے پراکسی وار چلائی۔ انہوں نے کشمیر کے اشو کو انٹرنیشنلائز کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ فوج کے اوپر لگا دیا۔ و مال کی بھاری قربانی کے باوجود مثبت معنوں میں پاکستان کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ رپورٹر نے بتایا کہ اب پاکستانی لیڈر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم یونی فوکل (uni-focal) نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب انہوں نے ڈی لنکنگ کی پالیسی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے مگر میرے جیسے آدمی کو اس پر کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔ لیے کہ ان کا یہ اعتراف سارے قیمتی مواقع کو برباد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب پاکستان ایک نئے ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تو وہاں کے لوگوں کے اندر زبردست جوش تھا۔ لوگ امنگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک کچھ کر ڈالنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے سیکولر لیڈر اور اسلام پسند رہنما دونوں ہی اس ابتدائی ٹیمپو (tempo) کو تعمیری رخ پر
لگانے میں ناکام رہے۔ اس کے بجائے دونوں ہی نے یہ کیا کہ لوگوں کے جذبات کو تخریب اور تشدد کی طرف موڑ دیا۔ اب معاملہ وہاں تک پہنچ چکا ہے جہاں سے لوگوں کے لیے یوٹرن (u-turn) لینا شاید ممکن نہیں۔
اس کے بعد میں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی معاملہ میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت آرٹ آف تھنکنگ کی ہے۔ جس آدمی کے اندر آرٹ آف تھنکنگ کی صلاحیت ہو وہ معاملات کا صحیح تجزیہ کرے گا، وہ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھے گا۔ وہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کو جانے گا۔ وہ اس قابل ہوگا کہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ وہ اس قابل ہوگا کہ وہ شبہ کے عناصر(elements of doubt) کو دور کر کے چیزوں کی اصل ماہیت کو سمجھے۔ یہی وہ صحیح الفکر انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: ينظر بنور الله (وہ اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے)
ہماری گاڑی اپنی رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی اور سڑک کے دائیں اور بائیں دونوں طرف پھیلا ہوا سبزہ ہمیں یاد دلا رہا تھا کہ ہماری زمین کائنات کا کیسا انوکھا سیارہ ہے جہاں استثنائی طور پر پانی اور سبزہ اور ہوا جیسی زندگی بخش چیزیں موجود ہیں۔
ایک ساتھی نے سوال کیا کہ آرٹ آف تھنکنگ کی صلاحیت کو کس طرح اپنے اندر ڈیولپ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سب سے زیادہ اہم چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو تعصب سے خالی کرے۔ وہ اپنے آپ کو متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) سے مکمل طور پر بچائے۔ تعصب آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے۔ دیکھی ہوئی باتوں کو بھی نہیں دیکھتا اور سنی ہوئی باتوں کو بھی نہیں سمجھتا۔ میں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۰ نومبر ۲۰۰۴ کی صبح کو میں وائس آف امریکا (ریڈیو) سن رہا تھا۔ اس میں ایک رپورٹ آرہی تھی جس میں ۲ نومبر ۲۰۰۴ کو ہونے والے امریکی الیکشن پر تبصرہ تھا۔ یہ الیکشن امریکی صدارت کے دو امیدواروں جان کیری اور جارج بش کے درمیان
اس الیکشن میں جارج بش جیت گئے۔ وائس آف امریکہ کے نشریہ میں مختلف ووٹروں کی آوازیں جارج بش کے ایک پرجوش سپورٹر نے کہا کہ اس الیکشن کے بعد پہلی بار میں نے یہ دریافت کیا کہ خدا وائٹ ہاؤس میں رہتا ہے:
For the first time I have discovered that God lives in White House. ایک طرف مذکورہ امریکی ووٹر ہیں جو جارج بش کی فتح کو سچائی کی اور خدا کی فتح سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف اسی امریکہ میں بسنے والے چھ ملین سے زیادہ مسلمانوں کا نظریہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے اس الیکشن کے موقع پر تقریباً متفقہ طور پر یہ مہم چلائی کہ جارج بش کو ہر اؤ اور جان کیری کو جتاؤ کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق ، جارج بش کی سوچی سمجھی پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں کو تباہ کیا جائے۔ یہی نظریہ دنیا بھر کے تقریباً تمام مسلمانوں کا تھا۔ دنیا بھر کے مسلمان خواہ عرب ہوں یا غیر عرب سب کے سب یہ کہتے تھے کہ جارج بش اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ جارج بش کی جیت مسلمانوں کی ہار ہے اور جارج بش کی ہار مسلمانوں کی جیت۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے اپنے اپنے الفاظ میں یہی لکھ اور بول رہے تھے۔ اس معاملہ میں غالباً میں ساری دنیا میں واحد مسلمان تھا جو اس منفی سوچ میں شریک نہ تھا۔ میرا ماننا یہ تھا کہ کوئی بھی شخص ، بشمول جارج بش اسلام کا دشمن نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق ، ہر انسان ربانی فطرت پر پیدا ہوا ہے اور ہر انسان امکانی مسلم (potential Muslim) کی حیثیت رکھتا ہے ، حتیٰ کہ دشمن بھی (فصلت ۳۲)
ان دونوں رایوں کا تقابل کر کے آپ سوچ سکتے ہیں کہ کس طرح تعصب انسان کے ذہن کو متاثر کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ صحیح انداز میں سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس واقعہ میں امریکی ووٹر نے بے جا محبت کی حد تک جارج بش کو اپنا سپورٹ دیا اور موجودہ مسلمان بے جانفرت کی حد تک جارج بش کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ اس ذہنی کیفیت نے دونوں کو غلو میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ دونوں ہی صحیح رائے قائم کرنے سے معذور ہو گئے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یاسر عرفات (پیدائش ۱۹۲۹) فلسطینی تحریک کے
سب سے بڑے لیڈر تھے۔ وہ فتح (حركة تحرير فلسطين) کے بانی تھے جس کو عام طور پر پی ایل او (PLO) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف اپنی تشددانہ تحریک کا آغاز ۱۹۶۹ میں کیا۔ نشانہ اسرائیل کو نیست و نابود کرنا (destruction of Israel) تھا۔ وہ اپنی دو انگلیوں سے ہمیشہ وکٹری کا نشان بنایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تشددانہ واقعات کئے۔ مثلاً ہائی جیکنگ، قتل، یرغمال بنانا، سوسائڈ بامبنگ، وغیرہ۔ تشددانہ کارروائیوں کے باوجود فلسطینی اسٹیٹ قائم نہ ہوسکی۔ آخر کار ۱۱ نومبر ۲۰۰۴ کو پیرس کے ایک اسپتال میں شدید مایوسی کے عالم میں ان کا انتقال ہوگیا۔
یاسر عرفات کی زندگی میں بہت سے سبق ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنی پوری تحریک تشدد کے اصول پر اٹھائی مگر جب انہوں نے دیکھا کہ تشدد صرف فلسطینیوں کی یکطرفہ تباہی کا سبب بن رہا ہے تو انہوں نے اپنی پالیسی بدلی اور امن کے اصول پر اپنی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا مگر جن فلسطینیوں کو وہ خود اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ تشدد کے راستہ پر لا چکے تھے ان کو دوبارہ وہ امن کے راستہ پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
میں نے کہا کہ یہی حادثہ اکثر لیڈروں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ انہوں نے ابتدائی جوش کے تحت ایک تحریک اٹھائی۔ بعد کو جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ قابلِ عمل نہیں ہے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یوٹرن (U-turn) لینے پر آمادہ کرنا چاہا مگر اس قسم کا یوٹرن ایک موٹر کار کے لیے تو ممکن ہے، مگر وہ انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ تمام لیڈر دوبارہ ناکام ہو کر رہ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک مزید سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بہت سے اعلیٰ صلاحیت کے لوگ پیدا ہوئے۔ مثلاً جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، آیت اللہ خمینی، ڈاکٹر محمد اقبال، محمد علی جوہر، ابو الکلام آزاد، عزت ان لوگوں نے بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں اور اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں مگر یہ تمام تحریکیں سراسر بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔
ان لیڈروں کی ناکامی کا مشترک سبب یہ تھا کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کا فرق نہیں سمجھا۔ اپنی ہمالیائی کوششیں ناممکن کے میدان میں صرف کرتے رہے۔ حالانکہ اگر یہ لوگ ممکن دائرۂ عمل اور ناممکن دائرہ عمل کے فرق کو جانتے اور ممکن دائرہ عمل میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے تو یقینی طور پر ان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتیں اور ملتِ کار کا ہوا قافلہ آگے بڑھ چکا ہوتا۔ اس کے بعد پروگرام کے مطابق ٹیم کے ہر ممبر نے اپنا کوئی تجربہ بتایا اور پھر اس تجربہ پر گفتگو ہوئی۔ نغمہ صدیقی نے بتایا کہ حال میں پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد دہلی آئے۔ یہاں ان کے کئی ۲۳ اور ۲۵ نومبر ۲۰۰۳ کو نغمہ صدیقی نے ان کے دو لکچر سنے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرے۔ اس کے بغیر ان کا اسلام ادھورا ہے۔
میں نے کہا کہ نو آبادیاتی دور میں جب مسلمانوں کا سیاسی غلبہ ختم ہوا تو اس کے بعد ساری مسلم دنیا میں اس کے خلاف ردعمل ظاہر ہوا۔ اس ردعمل کے دو مظہر تھے۔ ایک وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کو صرف ایک پولیٹیکل اشو کے طور پر اٹھایا۔ اس کی قیادت سید جمال الدین افغانی نے کی۔ دوسرا مظہر وہ تھا جس میں اس سیاسی ردعمل کو اسلامائز کیا گیا۔ یعنی دوبارہ مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کو مسلمانوں کی مذہبی ڈیوٹی بتایا گیا۔ اس سیاسی تعبیر میں ایک نمایاں نام سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اسی دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
میں نے کہا کہ سید جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: الشرّق للشرقيين (مشرق مشرقیوں کے لیے) دوسرا مکتب فکر وہ تھا جس کے نمایاں لیڈر سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ انہوں نے اس معاملہ کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ ان کی فکر کو ایک لفظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں: دنیا مسلمانوں کے لیے۔ یعنی مسلمان زمین میں خلیفۃ اللہ ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ خدا کی نیابت میں دنیا پر حکومت کریں۔
یہ نظریہ قرآن میں بالکل اجنبی ہے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک امتحانی پرچہ ہے
جس طرح دوسرے امتحانی پرچے ہوتے ہیں، مثلاً مال، اولاد، وغیرہ۔ اس لیے خدا باری باری مختلف گروہوں کو سیاسی اقتدار دیتا ہے تا کہ ہر ایک کو آزمائے۔ قرآن کے مطابق، اسلامی مشن کا نشانہ فرد کو اسلامائز کرنا ہے نہ کہ اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔
پریا ملک نے کہا کہ ٹیم میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت آدمی کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ رائٹ کیا ہے اور رانگ کیا ہے۔ اس طرح سوچنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اختلاف بڑھتا ہے اور کبھی کبھی بریک ڈاؤن (breakdown) کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ صورت حال اکثر غصہ کے وقت پیدا
اس مسئلہ کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا ہے: الکاظمین الغیظ۔ یعنی غصہ کو پی جانے والے۔ قرآن میں یہ نہیں فرمایا: الفاقدین الغیظ ۔ یعنی وہ لوگ جن کے اندر غصہ سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ گویا اس معاملہ میں اصل چیز اینگر مینجمنٹ (anger management) ہے۔
منجور مانی نے کہا کہ مسلمانوں میں نمبر ۷۸۶ کو مقدس مانا جاتا ہے جو کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نمبر ہے۔ مسلمان اس نمبر کو برکت اور حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے ۷۸۶ کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ نمبر نہ تو قرآن وحدیث میں بتایا گیا ہے اور نہ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اس کا کوئی وجود تھا۔ یہ بلاشبہ ایک قوم پرستانہ عقیدہ ہے جو دوسری قوموں کے اثر سے لیا گیا ہے۔
نصرت الہی نے کہا کہ میں نے قرآن میں یہ آیت پڑھی ہے کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت نہیں دیتا۔ اب میں جاننا چاہتی ہوں کہ ہدایت دینے اور ہدایت نہ دینے کے لیے خدا کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اصول قرآن میں بتا دیا گیا ہے، اور وہ ہے ھدی للمتقین (البقرۃ)
یعنی قرآن سے ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔
مطلب اس سیاق میں محتاط (cautious) ہونا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ہدایت کی پرواہ ہو، جو ہدایت کی تلاش میں ہوں، جنہیں یہ فکر ہو کہ وہ ہدایت سے محروم ہو کر نہ رہ جائیں۔ ایسے لوگوں کو ایک لفظ میں متلاشی حق (seeker of truth) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اس طرح متلاشی حق ہوں، خدا ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان کے لیے ہدایت کا سامان کر دیتا ہے۔
۲ نومبر ۲۰۰۴ کو جب کہ ہماری گاڑی دہلی سے سہارن پور کی طرف جارہی تھی درمیان میں اچانک پریا ملک کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ یہ بمبئی کا ٹیلیفون تھا۔ پریا کی ممی نے بمبئی سے بتایا کہ پریا کے چچا پرکاش ملک (عمر 65) کا بمبئی میں انتقال ہو گیا۔ وہ ایک عرصہ سے کینسر کے
میں نے کہا کہ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی شخص کا انتقال ہو تو دوسرے لوگوں کو یہ کہنا چاہیے: انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے
اس سے معلوم ہوا کہ جب موت کی خبر ملے تو انسان کو اس سے کیا اثر لینا چاہیے۔ ہے کہ موت ایک ریمائنڈر (یاد دہانی) ہے۔ اس بات کی یاد دہانی کہ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اس کو دوبارہ اپنے خالق کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ گویا کہ ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے وہ اپنا ایک ریٹرن ٹکٹ لے کر آیا ہے۔ اس ٹکٹ میں لکھا ہوا ہے: آخرت۔
موت اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ موت بتاتی ہے کہ انسان خدا کی دنیا سے آیا تھا۔ پھر وہ کچھ دن کے لیے زمین پر رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ مر کر دوبارہ خدا کی دنیا کی طرف لوٹ جاتا ہے تا کہ وہ اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پائے۔
خالد انصاری نے بتایا کہ جب ہم اپنا سفر طے کر رہے تھے تو کچھ دیر کے لیے ایک ایسا ایریا آیا جہاں موبائل کے سگنل نہیں تھے۔ میں اپنے کسی ساتھی سے دہلی کنیکٹ کرنا چاہتا تھا لیکن موبائل کے با وجود سگنل نہ ہونے کی بنا پر بات نہ ہو سکی۔ میرا ذہن تو سم کی طرف چلا گیا کہ انسان بھی ایک موبائل
فون کی طرح ہے۔ اگر اس کے دماغ میں اسپرچول سکنس نہ ہوں تو با وجود ہر چیز کے اس کا خدا سے کنفیکٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کی حیثیت وہی ہے جیسے موبائل فون ہونے کے باوجود ہم کنفیکٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
میں نے کہا کہ آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امکانی طور پر انسان ہر وقت خدا کے قریب ہے مگر خدا سے عملی طور پر ربط قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے ہوئے ہو۔ اگر آدمی اپنی طرف سے اہلیت کی شرط پوری نہ کرے تو سارے امکانات کے با وجود اس کا رابطہ خدا کے ساتھ قائم نہ ہوگا۔
مسٹر رجت ملہوترہ نے کہا کہ ہم گلوبلائزیشن کے دور میں جی رہے ہیں۔ آج پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ یہ بظاہر یونیورسل یونی کا واقعہ ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ انسانی سماج میں اب بھی یونی اور ہارمنی موجود نہیں۔
میں نے کہا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں گلوبلائزیشن کا عمل صرف ٹیکنیکل سنس میں ہوا ہے۔ چنانچہ موجودہ گلوبل کلچر نے ہم کو ٹیکنیکل یونی تو دی ہے مگر وہ ہم کو ہیومن یونی نہ دے سکا۔
ہیومن یونی کے لیے ہم کو ٹیکنیکل کلچر کے علاوہ ایک اور کلچر درکار ہے۔ یہ اسپرچول کلچر ہے۔ اسپرچول کلچر کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہے کہ سوشل اور نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر ہارمنی لائی جاسکے۔ حقیقت ہے جس کو مسیح نے ان لفظوں میں کہا تھا: