Man can not live by bread alone.
Al-Risala, June 2005, pp. 17–34
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹیکنیکل یونی میں باہم جوڑنے کے لیے جو رول کمیونیکیشن کا ہے وہی رول انسانی یونی میں فرینڈ شپ کا ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان کو اپنا دوست سمجھے۔ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے پیس ہو۔ یہی فرینڈ شپ کلچر ہے اور اسی فرینڈ شپ کلچر کے ذریعہ انسانی زندگی میں ہارمنی آسکتی ہے۔
دنیا کا نظام عملاً فرینڈ شپ کے اصول پر قائم ہے۔ مگر دنیا میں فرینڈ شپ کے دو طریقے ہیں۔ ایک، مادی اور دوسرا، اخلاقی:
In a non-religious culture, friendship is based on material interest, but in a religious culture friendship is based on moral principle. یہ ایک فیکٹ ہے کہ فرینڈ شپ کے بغیر زندگی کا کاروبار نہیں چل سکتا۔ اس لیے ہر آدمی کہیں نہ کہیں فرینڈلی بی ہیویئر کو اپناتا ہے۔ مگر یہ فرینڈلی بی ہیویئر عام طور پر انٹرسٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ یا مرد کا انٹرسٹ جس سے وابستہ ہو اس کے ساتھ وہ فرینڈلی بی ہیویئر اختیار کرتا ہے۔ مثلاً تاجر کا انٹرسٹ کسٹمر سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے تاجر کسٹمر فرینڈلی بن جاتا ہے۔ اسی طرح وکیل کلائنٹ فرینڈلی ہوتا ڈاکٹر پیشنٹ فرینڈلی ہوتا ہے۔ لیڈر ووٹر فرینڈلی ہوتا ہے، وغیرہ۔
یہ سب سیکٹیریئن فرینڈ شپ ہے۔ اس کا عمومی فائدہ نہیں۔ یہ صرف ریلیجن یا اسپرچوئلٹی ہے جو ساری انسانیت کے لیے فرینڈ شپ کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایک سچا ریلیجس آدمی یا اسپرچوئل آدمی ہمیشہ انسان فرینڈلی یا ہیومن فرینڈلی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صرف مذہب یا اسپرچوئلٹی ہے جس کے ذریعہ گلوبل فرینڈ شپ یا گلوبل ہارمنی دنیا میں قائم کی جاسکتی ہے۔
فریدہ خانم نے دعوت اور صبر کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک سوال کیا۔ وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل کا آغاز دعوت سے کیا۔ ابتدائی دور میں آپ پر یہ آیتیں اتریں: یا ایھا المدثر 0 قم فانذر (المدثر ۱۔ ۲) اس کے بعد جب آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں بھی آپ کا پہلا خطاب ایک دعوتی خطاب تھا۔ خطاب میں آپ نے فرمایا: اتقوا النار ولو بشق تمر (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو) پھر اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں جب آپ نے حج ادا فرمایا تو وہاں بھی آپ نے دعوتی کلام کیا۔ چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ان الله بعثنى كافة للناس فادواعنی (اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لیے پیغمبر
ب کر بھیجا ہے، تو تم لوگ میرا پیغام سارے انسانوں تک پہنچادو)
یہی معاملہ صبر کا ہے۔ صبر پیغمبر کی تحریک کے مختلف مراحل میں سے ایک مرحلہ نہیں۔ وہ پیغمبر کی زندگی کا مستقل حصہ ہے۔ چنانچہ نبوت کے آغاز میں آپ کے اوپر یہ آیت اتری: ولربك فاصبر (المدثر) اس کے بعد برابر صبر کی آیتیں اترتی رہیں۔ رمضان کا روزہ پوری عمر کے لیے ہوتا ہے اور پیغمبر نے اپنی زندگی کے آخری سال تک اس پر عمل فرمایا۔ آپ نے روزہ کے مہینہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صبر کا مہینہ ہے (هو شهر الصبر)
جہاں تک مسلح تصادم (armed struggle) کی بات ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ کے لفظ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے خود سے فریقِ ثانی کے خلاف تصادم فرمایا۔ سراسر بے بنیاد ہے۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام کا ارشاد ہے: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے امن مانگو)
اصل یہ ہے کہ خود اپنی طرف سے تصادم چھیڑنا نا پیغمبرانہ طریق کار کا کوئی حصہ ہی نہیں۔ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں جو چند مسلح مقابلے پیش آئے وہ تمام تر دفاعی مقابلے تھے ۔ خود قرآن میں اس کی شہادت موجود ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا کہ: قاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقره (۱۹۰) یعنی جو لوگ تمہارے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں اُن اسی طرح فرمایا: وهم بدؤکم اول مرة (التوبه (۱۳) یعنی وہی لوگ ہیں جنہوں نے پہلے جنگ کا آغاز کیا، وغیرہ۔
اسلام کا نشانہ دشمن کو دشمن قرار دے کر اُس سے جنگ کرنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ حسن تبلیغ کے ذریعہ دشمن کو دوست بنایا جائے۔ اسلام کی اس پالیسی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا
ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجدہ ۳۳-۳۴)
اس کے بعد آج کے اخبارات کا اجتماعی مطالعہ کیا گیا۔ ہمارے ساتھ ۷ نومبر ۲۰۰۳ کے چار اخبارات تھے۔ ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، راشٹریہ سہارا (اردو) پنجاب کیسری (ہندی) ٹائمس آف انڈیا کے پہلے صفحہ کی ایک سرخی یہ تھی: انل امبانی کو غصہ کیوں آتا ہے۔ جانتے ہیں کہ دھیرو بھائی امبانی نے ریلائنس (Reliance) کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔ اس کمپنی نے غیر معمولی ترقی کی۔ اُس نے بہت سے بڑے بڑے بزنس قائم کیے۔ یہاں تک کہ ریلائنس انڈیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل گروپ بن گیا۔ دھیرو بھائی امبانی کے مرنے کے وقت اس کا سرمایہ تو سے ہزار کروڑ روپیہ تھا۔
دھیرو بھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، مکیش امبانی اور انل امبانی۔ دھیرو بھائی امبانی کے مرنے کے بعد کمپنی کی ملکیت (ownership) کا سوال پیدا ہوا۔ ہندو رواج کے تحت بڑے بھائی مکیش امبانی ریلائنس کے چیرمین بن گئے۔ یہ بات دوسرے بھائی انل امبانی کو گوارا نہیں ہوئی۔ سخت اختلاف پیدا ہوا جو میڈیا تک پہنچ گیا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اس اختلاف کی جڑ یہ ہے کہ انل امبانی کے لیے کمپنی میں ماتحت کردار (subordinate role) قابل قبول نہیں۔
ماضی اور حال میں جب بھی کوئی اجتماعیت ٹوٹی ہے تو اس کا سبب ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کوئی تنظیم یا اجتماعیت جب بھی قائم ہوتی ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک کو چیرمین کا درجہ مل جاتا ہے اور دوسرے لوگوں کے لیے ماتحت حیثیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی اجتماعیت کا امتحان ہے۔ سو آدمیوں میں ننانوے افراد ماتحتی پر راضی ہوتے ہیں، تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص سردار بن کر نظام کو چلائے۔ جماعت کا پیغام ایک اعتبار سے یہی ہے۔ جس سماج میں اطاعت امیر کی روح ہو، وہی سماج ترقی کرتا ہے اور جو سماج اطاعت امیر کی روح سے خالی ہو جائے وہ سماج منتشر اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۷ نومبر ۲۰۰۳) میں ایک خبر تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا-- واجپئی ہندوتو کے حق میں، مگر وہ کہتے ہیں کہ ہندو تو الیکشن کا ایشو نہیں بن سکتا:
Vajpayee endorses Hindutva But says it can't be an election issue. بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی تین روزہ میٹنگ ۲۶ نومبر ۲۰۰۳ کورانچی میں ختم اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اٹل بہاری واجپئی نے کہا کہ ہندوتو زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔ مگر ہندوتو کبھی الیکشن کا ایشو نہیں بن سکتا:
Hindutva is a philosophy of life, but it can not be an electoral issue. (p. 15)
یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے گویا اپنے سابقہ موقف سے واپسی کا اعلان ہے۔ لیڈر پہلے یہ کہتے تھے کہ ہندوتو کا تعلق ملک کی تعمیر نو سے ہے۔ وہ اس کو قومیت سے جوڑتے تھے اور اس کو کلچرل نیشنلزم کا نام دیتے تھے۔ مگر اب تجربہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ہندوتو کچھ ہندوؤں کی اپنی زندگی کا ایک ذاتی فلسفہ ہوسکتا ہے۔ مگر وہ ملک کی قومیت کی تشکیل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ گویا کہ ہندوتو کچھ لوگوں کے لیے اُن کی پرائیویٹ لائف کا ضمیمہ بن سکتا ہے۔ مگر وسیع تر معنوں میں وہ قومی زندگی کی تعمیر کی بنیاد بننے کا اہل نہیں۔
کسی قوم کا کلچر کیا ہو، اس کا فیصلہ کسی پارٹی کے دفتر میں نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ بین الاقوامی عوامل اور تاریخ کی طاقتوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ زندگی کے اس اہم اصول کو نہ سمجھنے کی غلطی انڈیا کے ہندو پسند لیڈروں نے بھی کی ہے اور ٹھیک یہی غلطی پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں نے بھی کی ہے۔ کے قانون کے تحت دونوں ہی یکساں طور پر مکمل ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ اسی طرح انڈیا کے ہندو پرست لیڈروں نے کہا کہ ہندوستان ہندو ازم کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ مگر الاٹ منٹ کا یہ نظریہ دونوں جگہ صرف فرضی نعرہ ثابت ہوا۔
نئی دہلی کے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا (۲۷ نومبر ۲۰۰۲) کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: تکمیل نبوت پر ڈاکٹر اسرار احمد کا خطاب۔ اس عنوان کے تحت جو خبر درج تھی اس کا ایک حصہ یہ ہے:
پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد نے فلکی آڈیوریم نئی دہلی میں تکمیل نبوت کے موضوع پر تقریر انہوں نے کہا کہ قرآن مجید دیگر آسمانی کتب وصحائف کے برعکس انسان کے ذہنی ارتقاء کے نقطہ عروج پر اتارا گیا ہے۔ جہاں قرآن یعنی تکمیل ہدایت ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اجراے وحی کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ اب نبوت ورسالت کی ضرورت
قرآن بلاشبہ آخری کتاب ہے مگر مذکورہ استدلال درست نہیں۔ قرآن یا حدیث میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ قرآن انسان کے ذہنی ارتقاء کے نقطہ عروج پر اتارا گیا ہے۔ یہ سراسر ایک خود ساختہ مفروضہ ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ قرآن اسی خدائی ہدایت کو لے کر اتارا گیا ہے جو پچھلے نبیوں کو دی گئی تھی۔
مزید یہ کہ یہ ایک خطرناک نظریہ ہے۔ کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن انسانیت کی روایتی دور میں اترا، جب کہ اب انسانی دنیا ترقی کر کے سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اسی واقعہ کو استعمال کر کے قادیانیت اور بہائیت نے نئی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب انسانیت اپنی تاریخ کے نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی تو اب ضروری ہو گیا کہ آج کے انسان کی رہنمائی کے لیے نیا پیغمبر ظاہر ہو۔ قرآن کا اصل امتیاز یہ نہیں ہے کہ وہ ہدایت ربانی کی تکمیل ہے۔ بلکہ اس کا اصل امتیاز یہ ہے کہ وہ ہدایت ربانی کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ قرآن کو استثنائی طور پر تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل ہے، جبکہ دوسری مذہبی کتابیں تاریخی معیار پر معتبر ثابت نہیں ہوتیں۔ ہندی روز نامہ پنجاب کیسری (۲۷ نومبر ۲۰۰۲) میں آئی انسٹیٹیوٹ اور ریسرچ سنٹر کی طرف سے ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا:۔ نیزردان آپ بھی دے سکتے ہیں دوسروں کو روشنی کی سوغات۔
اس رپورٹ میں آنکھ کے عطیہ کے بارے میں ضروری تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بہت سے لوگ جو کسی وجہ سے آنکھوں سے محروم ہو گئے ہیں آپ ان کو دوبارہ روشنی دے سکتے۔
ہیں وہ اس طرح کہ آپ مرنے سے پہلے تحریری وصیت کردیں کہ میری موت کے بعد میری دونوں آنکھیں نکال لی جائیں۔ اس کے بعد موت کے چھ گھنٹے کے اندر آپ کی آنکھ (eyeball) ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر نکال لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کی آنکھ کسی نابینا آدمی کے چہرے پر لگادی جاتی ہے۔ کے بعد وہ نابینا آدمی پہلے کی طرح دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے رپورٹ میں اس قسم کے الفاظ درج ہیں: دان میں ملی آنکھیں کسی کے جیون کو روشن بنا سکتی ہیں۔ لوگ بھی خوشیوں میں ساجھیدار بن سکتے دوسروں کی زندگی میں روشنی بھرنے کے لیے آوشیک ہے کہ آپ اپنی آنکھیں دان کریں۔ نیتر دان کسی کے جیون کو روشن کر سکتا ہے۔ آپ کے دان سے سبھی اندھوں کو آنکھیں مل جائیں
اس اخباری رپورٹ کو پڑھ کر میں نے کہا کہ بلاشبہ یہ کام ایک قابل تعریف انسانی خدمت جن لوگوں نے اس طبی امکان کو دریافت کیا اور جو لوگ اس امکان کو عملی صورت دینے کے لیے سرگرم ہیں وہ سب یقیناً ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ میں نے سوچا کہ اسی نوعیت کی ایک زیادہ بڑی خدمت وہ ہے جس کے لیے کوئی تڑپنے والا نہیں۔ مادی آنکھ سے محروم لوگوں کو روشنی کا تحفہ دینے کے لیے ساری دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اور بڑے بڑے ادارے کام کر رہے ہیں۔ بے شمار لوگ ایک اور روشنی سے محروم ہیں اور کوئی نہیں جو لوگوں کو یہ روشنی فراہم کرنے کے لیے سرگرم یہ سچائی کو دیکھنے والی آنکھ سے محرومی تندرست آنکھوں والے لوگ بھی اس دوسرے پہلو سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ مگر ان کے اندھے پن کو دور کرنے کی کسی کو فکر نہیں۔ اس طرح ہمارا کارواں سڑکوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ہم لوگ سہارنپور شہر میں داخل ہوئے۔ سفر کے دوران ہی موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ سہارنپور کے منتظمین کو اطلاع دے دی گئی تھی۔ ڈاکٹر محمد اسلم اور دوسرے لوگ گھنٹہ گھر کے پاس مل گئے ۔ ان کے ساتھ چل کر ہمارا قافلہ پنجاب ہوٹل میں پہنچا جہاں ہم لوگوں کے قیام کے لیے منتظمین نے پانچ کمرے بک کر لئے تھے۔
یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے پہلے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ یہ نماز ہوٹل کے ایک بڑے کمرہ میں پڑھی گئی۔ اس میں ہمارے قافلہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شریک ہو گئے۔ اس طرح یہ کافی بڑی جماعت بن گئی۔ جماعت جب کھڑی ہوئی تو کچھ لوگ دوڑ کر دھلی ہوئی سفید چادریں لے آئے تا کہ اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھی جا سکے۔ میں نے کہا کہ نماز پڑھنے کے لیے دھلی ہوئی چادروں کی ضرورت نہیں بلکہ دھلی ہوئی روح کی ضرورت ہے۔ سب سے اچھی نماز وہ ہے جو دل کی صفائی کے ساتھ پڑھی جائے۔
جماعت کے بعد میں نے مختصر طور پر بتایا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز کا ایک مگر نماز سے خدا کو جو اصل چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے اندر تواضع (modesty) پیدا میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ان الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر
میں نے کہا کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ نماز ادا کرنے سے اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ فحش اور منکر چیزیں نمازی کی زندگی سے ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ دراصل معیاری نماز کا ذکر ہے نہ کہ نتیجہ نماز یعنی سچی نماز کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرے اور اس سوچ کے تحت وہ بالقصد فحش اور منکر جیسی چیزوں کو چھوڑ دے۔
دوپہر کے کھانے سے فراغت کے بعد ہوٹل کے ایک بڑے کمرہ میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اس پریس کانفرنس کے لیے تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ اخبار کے لوگ ٹھیک ٣ بجے وہاں پہنچ گئے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ منتظمین نے باقاعدہ طور پر صرف چار اخبار کے نمائندوں کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔ مگر اخباری حلقہ میں میری آمد کی خبر پہنچ گئی اور بیشتر اخباروں کے نمائندے اپنے آپ
پریس کانفرنس نہایت معتدل ماحول میں ہوئی۔ لوگوں نے ہر قسم کے ملکی اور ملتی سوالات کئے اور میں نے ان کے سوالات کا اپنے انداز میں جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے بتایا کہ
کی لیڈر مسٹر محمد علی جناح تھے۔ اپنے مقصد کے اعتبار سے یہ دونوں دھارے ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر دونوں کا طریق کار ایک تھا۔ دونوں کا ایک مفروضہ حریف تھا اور دونوں اپنی سیاسی مہم اس مفروضہ حریف کے خلاف جاری کئے ہوئے تھے۔ گاندھی کا حریف انگریز تھا اور جناح کا حریف ہندو۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں اپنے سیاسی حقوق کے لیے اپنی مہم چلا رہے تھے۔ دونوں بڑے لیڈروں کا یہ طریق کار بعد والوں کے لیے رجحان ساز (trendsetter) بن چنانچہ ۱۹۴۷ کے بعد ملک میں جتنی بھی تحریکیں اٹھیں وہ سب کے سب اپنے حقوق کے مطالبہ پر کوئی بھی تحریک اپنے فرائض کی ادائیگی کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی۔ اس طرح پورے برصغیر ہند کا سماج رائٹ کانشس (right conscious) سماج بن گیا، جب کہ صحت مند سماج وہ ہے جو ڈیوٹی کانشس (duty conscious) سماج ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈیوٹی کانشس سماج ہی تعمیری سماج ہے۔ ایسا ہی سماج تعمیر وترقی کی راہ میں آگے بڑھتا ہے۔ جس سماج میں لوگ اپنے حقوق (ادھیکار) مانگنے لگیں وہاں نتیجہ کے اعتبار سے صرف انارکی پیدا ہوگی۔ فطرت کا قانون ہے کہ فرض (ڈیوٹی) ادا کرنے والوں کو ان کے حقوق اپنے آپ مل جاتے ہیں اور جو لوگ اپنے حقوق کے لیے چیخ پکار کریں ان کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ ہمارا مشن ایک اعتبار سے یہ ہے کہ ہم اس سماجی سفر کو دوبارہ ایک نیا رخ دینا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سماج حق شناس سماج بنے۔ وہ صرف حقوق شناس سماج بن کر نہ رہ جائے جیسا کہ آج نظر آتا ہے۔
یہ پریس کانفرنس ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک چلی۔ مختلف اخباروں کے نمائندے نہایت دلچسپی کے ساتھ اپنے اپنے سوالات کرتے رہے اور میں ان کے جوابات دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ ملک کی کس پارٹی کو سب سے اچھی پارٹی مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسٹرارون شوری نے ایک بار
میرے بارے میں کہا تھا کہ: مولانا صاحب، ہمارے ہندوستانی فیملی کے ایلڈر ممبر ہیں۔ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں اور ملک کے ہر شہری کے لیے میرے دل میں وہی جذبات ہیں جو ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک ماں کے کئی بیٹے ہوں اور آپ اس سے پوچھیں کہ تمہارا کون سا بیٹا تم کو زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اس کے جواب میں یقیناً ماں یہ کہے گی کہ مجھے تو اپنا ہر بیٹا اچھا لگتا یہ حقیقت ہے کہ میں ملک کی ہر پارٹی کو یکساں طور پر شفقت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ دل میں ہر ایک کے لیے نیک تمنائیں پاتا ہوں۔
ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ عام طور پر لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان اس ملک میں ایک پچھڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ وہ ترقی کے دور میں بہت پیچھے ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں لوگ اپنی رائے میڈیا کے ذریعہ بناتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، میڈیا سنسنی خیز خبروں (sensational news) کی انڈسٹری ہے۔ چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نسبت سے کوئی سنسنی خیز نیوز وجود میں آئے تو میڈیا اس کو نمایاں کرتا ہے حالاں کہ عین اسی وقت مسلمانوں میں بہت سی تعلیمی اور تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر میڈیا میں ابھی تک ان کو جگہ نہیں اس سلسلہ میں میں نے ان کو کئی تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں کا حوالہ دیا جو ابھی تک میڈیا میں جگہ میں نے اپنی گفتگو میں بیڈنیوز کا استعمال کر دیا تھا اس پر ایک اخبار نویس نے بیڈ نیوز کے لفظ پر اعتراض کیا۔ میں نے اس کے جواب میں اپنے بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ بیڈنیوز سے میری مراد سنسنی خیز خبر (sensational news) تھی۔ میری اس مراد کو اخبار نویس حضرات نے تسلیم کر لیا اور گفتگو معمول کے مطابق چلنے لگی۔
ایک سوال بابری مسجد کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمانوں کے نمائندے آپس میں بات چیت کر کے طے کر لیں وہ ایک خیالی بات کرتے ہیں۔ کہ دونوں فرقوں میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کو اس کے فرقہ کی طرف سے نمائندگی کا سرٹیفیکٹ دیا گیا میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا قابل عمل حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عدالت اس معاملہ میں ایک واضح
فیصلہ دے اور دونوں فریق اس فیصلہ کو مان لیں۔ مثال کے طور پر اگر عدالت اس معاملہ میں جگہ کی منتقلی (re-location) کا فیصلہ دے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس فیصلہ کو مان لیں اور مسجد کے ری لوکیشن پر راضی ہو جائیں۔
سہارن پور کی جرنلسٹ یونین کے صدر مسٹر چرن جیولال شام کو دوبارہ آ کر مجھ سے ہوٹل میں انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں آپ کے بارے میں اور مسلمانوں کے بارے میں نیگیٹیو خیالات رکھتا تھا۔ مگر آج پریس کانفرنس کے موقع پر آپ نے جس طرح تمام باتوں کی وضاحت کی اس کے بعد میرا مائنڈ بالکل صاف ہو گیا۔ اب میں آپ اور مسلمان دونوں کے بارے میں پازیٹیو مائنڈ سے سوچنے لگا ہوں۔ سہارن پور میں آپ مجھ سے جو کام چاہیں لے سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے بعد میں اپنے کمرہ میں آگیا۔ یہاں دوبارہ بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ نشست کی صورت میں یہ سلسلہ رات کے بارہ بجے تک جاری درمیان میں صرف کھانے اور نماز کا وقفہ ہوا۔ ان نشستوں میں لوگوں کی طرف سے جو سوالات آئے وہ مختلف اور متنوع قسم کے تھے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی سب باتیں ہم کو ٹھیک معلوم ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے دل کو اپیل پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ مسلمان آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی حقیقت ہم کو سمجھائیے کیوں کہ ہم اس کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ جو شخص بھی آپ کو میری مخالفت کرتا ہوا ملے آپ اس سے پوچھیں کہ کیا تم کبھی ان سے ملے ہو اور اختلافی بات پر ان سے ڈسکشن کیا ہے۔ مخالف یہ کہے گا کہ ہم ان سے کبھی نہیں ملے۔ البتہ دوسروں سے سن کر یا اخباروں میں پڑھ کر ان کے بارے میں رائے بنائی ہے۔ اس کے بعد آپ ان لوگوں سے بھی گفتگو کیجئے جو مجھ سے ملے ہوں اور براہ راست طور پر میری باتیں سنی ہوں۔ پھر آپ ایسے لوگوں سے پوچھیے کہ ان کو کیا اختلاف ہے۔ یقین ہے کہ ان میں سے ہر ایک یہ کہے گا کہ مجھے تو ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ اسی
ذاتی تجربہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مخالفین کس حد تک درست ہیں۔ یہ لوگ سنی سنائی باتوں پر اپنی رائے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے آپ صرف یہ کہیں کہ تم جا کر ان سے ملواور براہِ راست ان سے ان کے نظریہ کو سمجھو۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ہم لوگوں نے ہوٹل میں جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ہمارے قافلہ کے لوگ میرے کمرے میں بیٹھ گئے۔ اس کے بعد حسبِ معمول دین کے مختلف موضوعات پر گفتگو جاری ہو گئی۔ سب سے پہلے میں نے کہا کہ اس وقت فجر کی نماز میں میں نے سورہ الکہف کی آیتیں تلاوت کی ہیں۔ ان میں آپ نے وہ آیت سنی جس کا ترجمہ یہ ہے: کہو کیا میں تم کو بتاؤں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں اکارت ہو گئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسے عمل میں مشغول ہو سکتا ہے جو اُس کے اپنے نزدیک بظاہر ایک اچھا عمل ہو۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ایسا عمل ہوگا جو خدا کے نزدیک سرے سے کوئی قیمت نہ رکھتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں سب سے پہلا کام یہ جاننا ہے کہ پسندیدہ عمل کا معیار (criterion) کیا ہے۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ بطور خود ایک معیار مقرر کر لیتے ہیں جو ان کے اپنے عمل پر صادق آتا ہو اور پھر اپنے ذہن کے مطابق، خود ساختہ طور پر ایک پسندیدہ عمل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے عمل کے معاملہ میں خدائی معیار کو دریافت کرے اور پھر اُس کے مطابق اپنے عمل کو بنائے۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق، سوشل سروس کو بہت اچھا کام ان لوگوں کے نزدیک مدر ٹریسا اس معاملہ میں ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن وحدیث کے مطابق، سماجی خدمت یقیناً اچھا کام ہے۔ جب دعوت آخرت کا کام نہ ہورہا ہو تو ایسی حالت میں سماجی خدمت کی کوئی اہمیت نہ ہوگی۔ مدر ٹریسا کے ماڈل کو لے کر سماجی خدمت میں مشغول ہوں اُن کے بارہ میں کہا جائے گا کہ لوگوں کو
وقتی عذاب سے بچانے کے کام کو تم نے سب سے بڑا کام سمجھا۔ حالاں کہ سب سے بڑا کام یہ تھا کہ لوگوں کو ابدی عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔
کمرے کے دروازہ پر دستک ہوئی ۔ دروازہ کھولا گیا تو سہارن پور کے مسٹر شکیل احمد شمسی ملنے کے لیے آئے تھے۔ وہ ہماری مجلس میں شریک ہو گئے ۔ انہوں نے کئی سوالات کئے ۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ قرآن کے متن اور اس کے حاشیہ (تفسیر) میں فرق ہے یا دونوں ایک انہوں نے کہا کہ آج کل ہر گروہ کی ایک پسندیدہ تفسیر ہے جو ان کے اکابر نے لکھی ہے۔ اپنی پسندیدہ تفسیر کو اسی طرح مقدس سمجھتا ہے، جس طرح وہ قرآن کے متن کو مقدس سمجھتا ہے۔ کہا کہ اس قسم کا عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے۔ کسی بھی شخص کی تفسیر قرآن کے متن کا بدل نہیں ہوسکتی۔ وہ مفروضہ اکابر کی لکھی ہوئی ہو، یا دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہرتفسیر کی حیثیت مفسر کے اجتہاد کی ہے۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ مجتہد کی رائے صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے۔ (المجتهد يخطئ ويصيب)
ان کے کچھ سوالات فقہی اختلافات کے بارے میں تھے۔ مثلاً انہوں نے پوچھا کہ قرأت فاتحہ خلف الامام کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں دو فریقوں کے درمیان جو نزاع ہے وہ بالکل غیر ضروری ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ لا صلوة إلا بقرأة فاتحة الكتاب (الترمذی، احمد) یعنی ہر نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں یہ آیت ہے کہ : واذا قری القرآن فاستمعوا له وانصتوا (الاعراف ۲۰۴) دونوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حدیث میں فاتحہ کا عمومی حکم بتایا گیا ہے۔ یعنی ہر نماز میں فاتحہ ضروری ہے۔ اور قرآن کی آیت میں اس صورت حال کا حکم ہے جب کہ قرآن بلند آواز سے پڑھا جا رہا ہو۔
ان دونوں حکموں کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ عام حالات میں ہر نمازی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو پڑھے۔ یہ عام حکم ہے لیکن جب جماعت کی نماز ہو رہی ہو اور امام جہری
قرآت کر رہا ہو تو اس وقت امام کی قرأت تمام مقتدیوں کی طرف سے نمائندہ قرأت ہوگی۔ فاتحہ کا سننا کافی ہو جائے کہ اس کو اپنی زبان سے دہرانا۔ گویا کہ ایک قرأت اگر اصالہ قرأت ہے تو دوسری قرأت نیابۃً قرأت۔
میں نے کہا کہ امام کی قرأت کے وقت جلدی جلدی فاتحہ کے الفاظ کو دہرانا ایک غیر سنجیدہ فعل ایسے غیر سنجیدہ فعل کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری بات یہ کہ سری نمازوں میں مقتدی خاموشی کے ساتھ فاتحہ کی قرأت کر سکتا ہے۔ اس قرأت کے لیے قرآن کی آیت مانع نہیں۔ قرآن کی آیت میں اس صورت حال کا ذکر ہے جب کہ مقتدی اپنے امام کی زبان سے قرأت کی سماعت کر رہا ہو۔ سماعت نہ کرنے کی صورت میں حدیث کا حکم قابلِ عمل ہو جائے گا، یعنی مقتدی کا خاموشی کے ساتھ فاتحہ کی قرأت کرنا۔
اس موقع پر ایک بات میں نے یہ کہی کہ ملاقات کے کچھ آداب ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی سے ملے تو اس کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کیا آپ نے مجھ کو پہچانا۔ اس قسم کا سوال آداب ملاقات کے خلاف ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے لیے آنے والا آدمی خود ہی اپنا تعارف بتائے یا اپنا کارڈ دے دے۔ اکثر لوگ اس معاملہ میں آداب ملاقات کا لحاظ نہیں کرتے اور ایسے سوالات کرنے لگتے ہیں جو دونوں ہی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوں۔
ہوٹل کے کمرہ میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور مختلف دینی موضوعات پر باتیں ہو رہی تھیں۔ ساڑھے سات بجے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ہوٹل کے رسیپشن سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ صبح کے ناشتہ میں کیا لیں گے۔ ہمارے ساتھی اپنے اپنے چوائس کے مطابق مختلف فرمائش کرنے لگے۔ نے لوگوں کو سختی سے روکا۔ میں نے کہا کہ ناشتہ یا کھانا بھوک مٹانے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ لذت اور پسند کے لیے۔ آپ لوگ لذت اور ضرورت میں فرق کرنا سیکھیے اور فارسی مقولہ کے مطابق، اس اصول کو پکڑ لیجئے کہ: خوردن برائے زیستن نہ زیستن برائے خوردن (کھانا جینے کے لیے ہے، نہ کہ جینا کھانے کے لیے)۔
پھر میں نے لوگوں کو اصولِ تفسیر کی نسبت سے ایک بات بتائی۔ میں نے کہا کہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے : فاقرء وا ما تیسّر من القرآن (المزمل ٢٠) یعنی قرآن سے پڑھو جتنا تم کو اس آیت کا براہِ راست تعلق تہجد کی نماز سے اس کا براہِ راست مفہوم یہ ہے کہ تہجد کی نماز میں قرأت کے معاملہ میں تیسیر کا اصول اختیار کرو۔ یعنی بہ آسانی جتنا ممکن ہو اتنا قرآن سے پڑھو۔ اس آیت میں تیسیر کا لفظ آیا ہے۔ تیسیر کے لفظی معنی ہیں، آسان کرنا۔ یہاں تیسیر کا لفظ اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے تہجد کی قرأت کے لیے ہے۔ مگر اپنے توسیعی مفہوم کے لحاظ سے اُس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ مثلاً کھانے میں تیسیر یہ ہے کہ وہ کھانا کھایا جائے جس کی فراہمی آسان سونے میں وہ بستر استعمال کیا جائے جو آسانی سے میسر ہو سکے۔ سفر میں وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو مسافر کے لیے آسانی کے ساتھ قابلِ عمل ہو، وغیرہ۔ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ قرآن کے معانی کا بہت بڑا حصہ قاری کے لیے غیر معلوم ہو کر رہ جائے گا۔
۱۸ نومبر کی صبح کو ۱۰ بجے ہم سب کو ہوٹل سے دہرہ دون روڈ کے اس مقام پر لے جایا گیا جہاں نیشنل میڈیکل کالج بنایا گیا ہے۔ آج اس کالج کا افتتاح تھا اور اسی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مجھے سہارنپور بلایا گیا ہے۔ یہ کالج یونانی اور آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ کے بانی اور روحِ رواں ڈاکٹر محمد اسلم ہیں۔ یہ اُن کی خوش قسمتی ہے کہ سہارنپور میں اُن کو بہت سے ہندوؤں اور مسلمانوں کا تعاون حاصل ہے۔ ان معاونین میں گروجی کا نام سر فہرست ہے۔ نے اپنی پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی ہے۔
یہ میڈیکل کالج ایک خوبصورت علاقہ میں قائم ہے۔ اُس کے ایک طرف ندی بہہ رہی ہے اور اُس کے دوسری طرف دور تک سر سبز درختوں کے مناظر ہیں۔ تعمیرات کا ایک حصہ بن چکا ہے اور بقیہ حصوں پر کام ہو رہا ہے۔ میں نے اُس کے مختلف حصوں کو چل کر دیکھا۔ میرے دل سے دعا نکلی کہ خدایا، اس ادارہ کی خصوصی مدد فرما اور اس کو ترقی دے کر ایک بڑا ادارہ بنادے۔
کالج کے گراؤنڈ میں شامیانہ کے نیچے ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں یہاں موجود تھے۔ پہلے افتتاح کی رسم ادا کی گئی جس کی صورت یہ تھی کہ میں نے ایک اس کے بعد ایک پردہ ہٹا اور دیوار میں لگی ہوئی سنگی تختی سامنے آگئی۔ اُس کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا کہ خدایا، اس ادارہ کی خصوصی مدد فرما اور اس کو اعلیٰ ترقی کے منازل
اس کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ میں نے کہا کہ یہ میڈیکل کالج ملک میں ایک نئے دور کی علامت ہے۔ اور وہ یہ کہ اس ملک میں علیحدگی پسندی کا دور ختم ہو گیا۔ اب ہندو اور مسلمان دونوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا ہے کہ وہ باہم مل کر ملک کی تعمیر کریں گے۔
یہ میڈیکل کالج یونانی اور آیورویدک دونوں کی تعلیم اور ریسرچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں طبی تعلیم حاصل کریں گے اور قومی اتحاد کی ایک نئی تاریخ کا آغاز کریں گے۔ اعتبار سے یہ کالج صرف ایک کالج نہیں بلکہ وہ ملکی تعمیر کے لیے گویا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ شامیانہ کے تحت بنے ہوئے اسٹیج پر آگئے۔ یہاں مختلف لوگوں کی تقریریں میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم زندگی کا اہم ترین شعبہ ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے بارہ میں مولا نا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں بجاطور پر یہ کہا تھا کہ:
بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے پھر میں نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارہ صرف تعلیمی ادارہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی کے ساتھ اس کے بہت سے مزید فائدے ہیں۔ مثلاً تعلیمی ادارہ انٹرایکشن (اختلاط) کا میدان ہے۔ یہاں مستقل طور پر ہر مہیب ادارے کے نوجوان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے ڈسکسن کر کے باتیں ایک
دوسروں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ایک عجیب رجحان پیدا ہوا ہے کہ ہر جگہ وہ اپنا علیحدہ پاکٹ بنانے کی تحریکیں چلا رہے ہیں جس کو پاکستانیزیشن کہا جا سکتا یہ رجحان ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظریہ کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ۵۷ مسلم ممالک ہیں۔ مگر مسلمان جس تیزی سے ہندوستان میں ترقی کر رہے ہیں، ویسی ترقی کسی بھی مسلم ملک میں اب تک ممکن نہ ہو سکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں دو موافق چیزیں موجود ہیں—بڑا ملک اور چیلنج۔ اور ترقی کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر محمد اسلم صاحب نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پہلے میں سیاسی ذہن کا آدمی تھا۔ ایم ایل اے، ایم پی اور منسٹر بننے کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔ مگر میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے میری زندگی کو بدل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کلینک میں ایک مریض آیا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ماہنامہ الرسالہ ہے۔ میں نے اس رسالہ کے صفحہ اول کی مختصر عبارت پڑھی اور پھر مجھے اُس سے دلچسپی ہوگئی۔ میں نے مریض سے وہ رسالہ لے لیا اور ایک ہی نشست میں اس کو پڑھ ڈالا۔
اس کے بعد مجھے الرسالہ سے اتنی دلچسپی ہوئی کہ میں نہ صرف اُس کا مستقل قاری بن گیا بلکہ اُس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلانے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ کے مطالعہ نے میرا ذہن مکمل طور پر میرا سیاسی ذہن ختم ہو گیا اور میں پر امن تعمیر کی لائن پر سوچنے لگا۔ اسی فکری انقلاب کا ایک مظہر یہ ہے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے یہ میڈیکل بنایا۔ یہ کارروائی ایک بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد کالج ہی کے اندر دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے دوران مختلف لوگوں سے اس کے بعد دو بجے ہمارا قافلہ کار کے ذریعہ سہارنپور سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ ۲۸ نومبر کو ظہر کی نماز میڈیکل کالج کے گراؤنڈ میں بنے ہوئے پختہ چبوترہ پر ادا کی گئی۔ کے بعد ہمارا قافلہ بذریعہ کار سہارنپور سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد میں نے لوگوں سے کہا کہ مومن کے لیے ہر واقعہ آخرت کی یاد دہانی ہے۔ ہم لوگ دہلی سے سہارنپور آئے اور
اب سہارنپور سے دہلی جا رہے ہیں۔ یہ گویا علامتی طور پر آخرت سے دنیا میں آنا تھا اور اب ہم گویا دنیا سے آخرت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ قرآن کی زبان میں یہی تو سم ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ آپ اپنی ذہنی تربیت اس طرح کریں کہ زندگی کے ہر تجربہ میں آپ کو خدا اور آخرت کی یاد آئے۔ آپ کو بار بار جنت اور دوزخ کا منظر دکھائی دے۔ مادی واقعات میں آپ کو روحانیت کی غذا حاصل ہو۔ ایسا محسوس ہو گیا کہ آپ کی ملاقات بار بار اپنے رب سے ہو رہی ہے۔ آپ کے لیے ہر سفر ایک ایسا سفر بن جائے جیسے کہ آپ اپنے خدا کی طرف جا رہے ہیں۔
اس کے بعد ہم لوگوں نے حسب پروگرام آج کے اخبارات کا اجتماعی مطالعہ شروع کیا۔ آف انڈیا (۲۸ نومبر ۲۰۰۴) میں مختلف خبریں تھیں۔ ان میں سے ایک خبر وہ تھی جس کا عنوان یہ تھا— انل امبانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مندر گئے: