Al-Risala · June 2005

Anil visits Tirupati with wife and sons.

Al-Risala, June 2005, pp. 34–39

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ ریلائنس انڈسٹری کے وائس چیرمین اور مینیجنگ ڈائرکٹر انل امبانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تروپتی کے ونکٹیشور مندر میں گئے۔ وہاں انہوں نے یہ پرارتھنا کی کہ ان کے خاندان میں امن آئے۔ کمپنی کی اونرشپ کے بارے میں اپنے بھائی مکیش امبانی کے ساتھ انل امبانی کی نزاع پیدا ہوگئی ہے۔ ریلائنس گروپ کا سرمایہ تو نے ہزار کروڑ روپیہ ہے۔ انل امبانی مندر میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مندر میں یہ پرارتھنا کی کہ میرے خاندان میں امن اور عافیت قائم ہو۔ میرے باپ دھیرو بھائی امبانی کے زمانہ کی روایات خاندان میں باقی انل امبانی نے حال میں اپنے بھائی مکیش امبانی کے خلاف کمپنی کا چیف بننے پر سوال اٹھایا ہے اور خود کمپنی کے چیف بننے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ پرارتھنا (دعا) کا ہندو تصور ہے۔ ہندو مذہب میں دیوتا عملاً لوگوں کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ لوگ اپنے دنیوی مسائل کے لیے مندروں میں جاتے ہیں۔ اسی کے اثر سے بہت سے مسلمان بھی اپنی دنیوی حاجتوں کے لیے درگاہوں میں جانے لگے ہیں۔ مگر یہ اسلام کا طریقہ

اسلام میں دعا خدا اور بندے کے درمیان ربط کا ذریعہ ہے۔ کوئی بندہ جب خدا سے مربوط ہو جائے تو اس کے اندر تواضع اور بے غرضی کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ایسا آدمی، اپنی نفسیات کے مطابق، کسی تنظیم کے ادنر بننے سے بھاگتا ہے نہ کہ وہ اس کے حصول کے لیے دعا کرے ۔ اسلام کے مطابق، اس قسم کی اونرشپ ایک ذمہ داری کا عہدہ ہے نہ کہ بڑائی کا عہدہ ۔ حقیقی خدا پرست کبھی ایسی ذمہ داری کا خواہش مند نہیں ہو سکتا جو اس کی مسئولیت (accountability) کو بڑھاتا ہو۔ اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا (۲۸ نومبر ۲۰۰۳) کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: امریکا میں پہلا مسلم ٹی وی چینل شروع ۔ اس عنوان کے نیچے یہ خبر درج تھی :

"امریکا میں پہلا مسلم ٹی وی چینل شروع ہو گیا ہے۔ انگریزی زبان میں دکھایا جانے والا یہ چینل کیبل کے ذریعہ ٹیلی کاسٹ ہوگا ۔ اس کا نام "برج ٹی وی (Bridge T.V.)" ہے۔ اس کے بانی مسٹر مزمل پاک نژاد امریکی شہری ہیں ۔ وہ ۱۹۷۹ میں پاکستان سے امریکا انہوں نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ دسمبر ۲۰۰۱ کو ایک ریڈیو پروگرام کے ذریعہ مسلمانوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں سنتے ہوئے میں نے یہ عزم کر لیا تھا کہ ہمیں ایک مسلم ٹی وی چینل شروع کرنا ہے۔ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد یہ عزم اور راسخ ہو گیا ۔ بتایا کہ آغاز میں کیبل کے ذریعہ اسے ۵۰ ہزار ناظرین کے پاس پہنچایا جائے گا۔ اس کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ہے۔ " (صفحہ ۱)

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس قسم کا مسلم ٹی وی اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز ممکن ہے وہ یہ کہ کچھ مسلمان اس کو دیکھنے لگیں ۔ جہاں تک مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں کا تعلق ہے، ان کا ازالہ اس سے ہونے والا نہیں۔ اس لیے کہ اس قسم کا ٹی وی غیر مسلموں کی نظر میں وکالت ٹی وی ہو گانہ کہ برج ٹی وی۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی نفسیاتی کمزوری ہر حال میں اپنے کو درست سمجھنا (self-righteousness) ہے۔ اس قسم کا ٹی وی صرف یہ کام کرے گا کہ وہ مسلمانوں کی اس نفسیاتی کمزوری کو بڑھا کر اصل مسئلہ کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دے گا۔

میں نے کہا کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمی کا نہیں ہے بلکہ خود مسلمانوں کی غلط روش کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کچھ مسلمان عملاً تشدّد کی کارروائی میں مبتلا ہیں۔ مسلمان ان غلط کارروائی کی مذمت نہیں کرتے اس لیے وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی تائید ایسی حالت میں موجودہ زمانہ کے سارے ہی مسلمان اسلام کی غلط نمائندگی کے مرتکب اب کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی منفی سوچ اور ان کی متشدّدانہ کارروائی کو کھلے طور پر غلط بتایا جائے اور کسی عذر کے بغیر ان کی تصحیح کی جائے۔ مذکورہ قسم کا وکیلانہ انداز کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ کسی حال میں اصل مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں۔ ایک صاحب نے سعودی عرب کے اخبار العالم الاسلامی کا شمارہ ۲۲ نومبر ۲۰۰۳ دکھایا۔ اس کے صفحہ اول کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: تحریر فلسطین عاجلاً لا آجلاً ۔ آزادی جلد نہ کہ بدیر) یہ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی تقریر کے الفاظ تھے۔ نے اپنی ایک تقریر میں یہ کہا تھا کہ یاسر عرفات کے خواب انصاف پر مبنی تھے اور وہ خواب ضرور پورے ہوں گے، جلد نہ کہ بدیر: مادام ان احلامه بنيت على العدالة فانها ستحقق عاجلاً لا آجلا (صفحه ۱)

یہ محض ایک لفظی خطابت ہے۔ ۱۹۴۸ میں جب اسرائیل کا قیام وجود میں آیا اور صہیونی مسئلہ پیدا ہوا اس وقت عرب کے اندر اور عرب کے باہر بہت سے مقرر اور محرّر پیدا ہوئے جو اسی قسم کے الفاظ پر جوش طور پر لکھتے اور بولتے تھے۔ مگر آدھی صدی سے زیادہ مدت کی قربانی کے باوجود فلسطینیوں کا خواب پورا نہیں ہوا بلکہ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوگئے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی کام نہیں کہ انہی الفاظ کو دہرایا جاتا رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ آزادی فلسطین کی تحریک پر نظر ثانی کی جائے۔ اب ضرورت اس معاملہ کے ازسر نو جائزہ (re-assessment) کی ہے نہ کہ پرجوش الفاظ بول کر لوگوں کو خوش کرنے کی۔ اس دنیا میں کسی مہم کی کامیابی کی شرط امکان ہے نہ کہ انصاف۔ میں نے کہا کہ ہر شخص اپنے ذاتی معاملہ میں بار بار یہی کرتا ہے کہ جب اس کا ایک منصوبہ

نا کام ہو جاتا ہے تو وہ پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیتا ہے۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مگر جب معاملہ ملی مسئلہ کا ہو تو یہی لوگ اپنے ذاتی تجربہ کو بھول جاتے ہیں۔ ملی معاملہ میں ہر آدمی بار بار انہی الفاظ کو دہراتا ہے جو ماضی کے تجربہ میں اپنی نا کامی کو ثابت کر چکے ہیں۔ شاید لوگ ملی معاملہ میں اس طرح سنجیدہ نہیں جس طرح وہ اپنے ذاتی معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ۲۸ نومبر کے تقریباً تمام اخبارات میں میرے سہارن پور کے پروگرام کی خبریں چھپی یہاں ان کی تفصیل درج نہیں کی جاسکتی۔ البتہ کچھ اخبارات کی رپورٹنگ کی سرخیاں یہاں نقل کی جاتی ہیں :

کر تبوں کا بودھ کرانا ہمارا مشن (امر اجالا)

شنکر آچاریہ کے ساتھ ستمان جنگ بیو ہار ضروری (دینک ودھ مانو)

فکر انا سمیا کا سمادھان نہیں (شاہ ٹائمس)

باہمی گفتگو بابری مسجد تنازعہ کا حل نہیں (راشٹریہ سہارا)

کیوں استھانانترت نہیں ہو سکتی بابری مسجد (سہارن پور جاگرن)

واپسی کا سفر دہرہ دون روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ درمیان میں ہم لوگ چیتل گرائند (ریستوران) میں ٹھہرے ۔ یہاں مغرب کی نماز ادا کی گئی۔ ساتھیوں نے چائے پی۔ یہ ریستوران اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک خوبصورت گارڈن معلوم ہوتا ہے۔ اس کی صفائی اور اس کے خوبصورت ماحول کی وجہ سے یہاں لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں ہی کثرت سے یہاں آتے ہیں۔ ہماری گاڑی اونچی نیچی سڑکوں پر ہلتی ہوئی چل رہی تھی اور ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ میرے لیے یہ سفر ایک مصیبت کا سفر بن گیا کیوں کہ میں ایک کار سک (carsick) آدمی ہوں۔ میں لمبے سفر سے میرے سر میں چکر آنے لگتا ہے۔ چنانچہ اس سفر میں بھی سر کا چکر شروع ہو گیا۔ جس گاڑی سے ہمارا یہ سفر ہوا اس میں پیچھے کی طرف لیٹنے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ چنانچہ میں نے سفر کا زیادہ حصہ لیٹ کر طے کیا۔ لیٹنے کی صورت میں میرے چکر میں کافی کمی آ جاتی ہے۔ اس کے لیے میں

نے کئی دوائیں استعمال کیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ عجیب بات ہے کہ مجھے کسی دوسرے سفر میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ پیدل کا سفر، بیل گاڑی کا سفر، گھوڑے گاڑی کا سفر، کشتی کا سفر، ریل کا سفر، جہاز کا سفر، غرض کسی بھی دوسرے سفر میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ مگر کار خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، اس سے میرے سر میں چکر آنے لگتا ہے۔

چیتل گرانڈ میں کچھ دیر قیام کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے ۔ غازی آباد کے پاس پہنچ کر سڑک پر بھیڑ بہت بڑھ گئی۔ ہر طرف بس کاریں ہی کاریں دکھائی دے رہی تھیں ۔ یہ سفر تقریبا رینگتے ہوئے طے ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہندو عقیدہ کے مطابق آج مبارک دن تھا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں شادیاں کیں تاکہ ان کی شادی با برکت رہے۔ روزنامہ اخبار مشرق (۲۸ نومبر ۲۰۰۴) میں اس واقعہ کی خبر حسب ذیل الفاظ میں درج تھی :

"شادیوں کے اس موسم میں جب دہلی کے چودہ ہزار جوڑے یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ سب سے زیادہ مبارک دن پر شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے تو پھر یہ ایک قدرتی بات ہے کہ پنڈتوں، ہوٹلوں کے مالکوں، کھانے بنانے والوں اور پھول اور گلدستے فراہم کرنے والوں کی خدمات بہت مہنگی ہو جائیں گی۔ لیکن دہلی کے بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک جام کے مدنظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پنڈت، بارات یا مہمان مقررہ وقت پر مقررہ جگہ پر نہیں پہنچ سکے تو پھر کیا ۲۸ نومبر شادیوں کے لیے سب سے مبارک دن مانا گیا ہے۔ اسی لیے اس ایک دن میں شادیوں کی اتنی تقریبات ہو رہی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس دن ایک سے زیادہ شادیوں میں شرکت کرنا چاہتا ہے تو اس کو ٹریفک کی وجہ سے کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی۔ ٹریفک جام ہوا تو یہ دوڑ بیکار ثابت ہوگی اور بندھن کی نیک ساعت گزر جائے گی۔ رگھو ناتھ شاستری کو دہلی کے مختلف علاقوں میں تین شادیوں میں مذہبی فرائض انجام دینے انہیں اس بات کی بہت فکر ہے کہ کیا وہ تین جگہوں پر وقت پر پہنچ سکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال بھی انہوں نے تین جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا تھا

لیکن ہر جگہ وہ بہت مشکل سے مہورت کے وقت پہنچ سکے تھے۔ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا ایک انجینئر راہل سنگھ کو ہے جو جمنا پار کے علاقہ میں رہتا ہے۔ اس کے دو قریبی رشتہ داروں کے ہاں شادیاں دہلی شہر کے دو مختلف محلوں میں ہوں گی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے وہ ان تقریبوں میں کیسے شرکت کر سکے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان شادیوں میں نہ جائے۔ مختلف اندازوں کے مطابق، ہر شادی پر تقریباً دس لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔ اس طرح اتوار کے روز چودہ ہزار شادیوں پر کل چودہ ارب روپیہ خرچ ہوں گے۔ “ (صفحہ ۱)

دہلی سے سہارنپور کا فاصلہ ۱۶۵ کلومیٹر ہے۔ جاتے ہوئے ہم لوگ دہلی سے صبح ۸ بجے روانہ مگر سہارنپور پہنچے تو گھڑی میں ڈیڑھ بج چکے تھے۔ یہی صورتِ مزید اضافہ کے ساتھ واپسی میں بھی پیش آئی۔ مختصر سفر میں اتنا زیادہ وقت اس لیے لگا کہ سڑک شروع سے آخر تک بہت خراب تھی۔ ہماری گاڑی مسلسل ہچکولوں کے درمیان چل رہی تھی۔ میرے سر میں درد ہونے لگا۔ ایک دیش بھکت شاعر کا شعر ہے: میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔

یہ شعر مجھے یاد آیا اور پھر اپنے موجودہ تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو میں نے اس طرح

میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی میرے دیش کے لیڈر کانٹا بوئیں، بوئیں ٹوٹی سڑکیں ۲۸ نومبر کی رات کو میں دہلی واپس آگیا۔ ۲۹ نومبر کی صبح کو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے۔ یہ بھگوان تھے جو ہماری اس کرایہ کی گاڑی کے ڈرائیور تھے۔ جس کے ذریعہ ہم لوگ دہلی سے سہارن پور گئے اور سہارن پور سے دہلی واپس آئے۔ جے بھگوان نے کہا کہ سہارنپور میں آپ کے بھاشن میں نے سنے تھے۔ ان سے میں بہت پر بھاوت ہوا تھا۔ آپ اپنی ہندی کی کچھ پستک پڑھنے کے لیے مجھے دیجیے ۔ تاکہ میں اور زیادہ جانکاری لے سکوں۔ چنانچہ ان کو ہندی کی دو کتابیں دی گئیں۔

Printed page