خدا کے گواہ
Al-Risala, June 2005, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا (آل عمران ۱۴۰) قرآن کی ایک اور آیت سورہ نمبر ۴۵ میں آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (المؤمن ۵۱)
ان آیات میں گواہ (witness) سے مراد قیامت میں پیش کیے جانے والے خدائی گواہ قرآن کے مطابق، گواہ یا شاہد کا درجہ پیغمبر کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ پیغمبر کا مقام یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے براہ راست خدا کی وحی وصول کرتا ہے اور اس کو انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ گواہ یا شاہد کا رول یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کا عملی نمونہ بننے کا کام کرتا ہے۔ سڑکوں پر راستہ بتانے کے لیے کھمبے ہوتے ہیں۔ ان کو نشانِ راہ (sign post) کہا جاتا اسی طرح شاہد بھی ایک خدائی نشانِ راہ (sign post of God) کا کردار ادا کرتا ہے۔ انسان گویا خدائی بر ہان ہے۔ وہ اُن عذرات (excuses) کی تردید بنتا ہے جن کو لے کر لوگ سچائی سے دور ہو جاتے ہیں۔ لوگ طرح طرح کے کنفیوژن اور شبہات میں پڑ کر اپنے آپ کو سچائی سے محروم کر لیتے ہیں۔ شاہد بھی انہی شبہات اور کنفیوژن کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ مگر وہ اُن سے باہر آ کر یقین کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ قیامت میں ایسا شخص گواہی کا رول ادا کرے گا۔ سے کہے گا کہ تم شبہات کا عذر لے کر سچائی سے دور رہے۔ مگر اس انسان کی مثال بتاتی ہے کہ تمہارا عذر جھوٹا عذر تھا۔ تم بھی اسی طرح شبہات کے جنگل میں یقین کو دریافت کر سکتے تھے۔ پھر اُس کی طرح تم نے بھی ایسا کیوں نہیں کیا۔
اسی طرح ایک بندہ مومن مصیبتوں کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ مایوسی میں مبتلا
نہیں ہوتا بلکہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی رہ کر اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ قیامت میں خدائی گواہ بنے گا۔ جو لوگ مصیبتوں کا نام لے کر مایوسی اور بے اعتمادی کا شکار ہوئے، خدا ان سے کہے گا کہ میرے اس بندے کو دیکھو، وہ بھی تمہاری طرح مصیبتوں میں مبتلا مگر اُس نے ہر مصیبت کا سامنا مثبت نفسیات کے ساتھ کیا۔ اُس نے اپنے اندر منفی نفسیات کی پرورش نہیں ہونے دی۔
اس گواہی کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ اس کا تعلق ہر اُس صورت حال سے ہے جس کو لے کر لوگ سچائی سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ وہ یا تو کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں یا سچائی کا انکار کر دیتے ایسی حالت میں خدا کا جو بندہ ان حالات سے دوچار ہو۔ مگر وہ اپنے آپ کو منفی احساس سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ اُس کے یقین کو متزلزل نہ کرے۔ وہ دنیا میں خدا کے گواہ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ قیامت کے دن خدائی گواہ (witness of God) کے طور پر کھڑا کیا جائے گا۔ اپنے عمل سے عذرات لنگ کی تردید بن جائے۔ خدا لوگوں سے کہے گا کہ جن باتوں کو لے کر تم بدگمانی اور شک اور انکار میں مبتلا ہوئے وہ سب کچھ میرے اس بندہ کے ساتھ بھی دنیا میں پیش آیا۔ مگر کوئی بھی ناپسندیدہ تجربہ اس کو سچائی کے راستہ سے نہ ہٹا سکا۔
ایسے شاہدین آخرت میں پیغمبروں کے ساتھ جگہ پائیں گے۔ وہ اس بات کی عملی مثال بن جائیں گے کہ دنیا میں لوگ جن شبہات کے حوالہ سے سچائی کو اختیار نہ کر سکے وہ سب بے بنیاد عذرات خدا ایسے لوگوں کے عذرات کو قبول نہیں کرے گا۔ اُن کے حق میں سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت میں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں قرار پائیں گے۔ جب کہ مذکورہ قسم کے گواہ جنت کے ابدی انعامات سے سرفراز کیے جائیں گے۔