Everything falls into place.
Al-Risala, June 2005, pp. 44–46
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ خدا نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، دنیا کو ایک جوڑ دنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں۔ دوسری وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ اس طرح انسانی زندگی کے دو حصے ہیں، ایک قبل از موت پریڈ (pre-death period) اور دوسرا بعد از موت پیریڈ (post-death period)۔ انسانوں کو اس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از موت اور بعد از موت۔
موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دار الجزاء (world of reward) کے طور پر۔ موجودہ دنیا چونکہ ٹسٹ کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگزمبینیشن ہال (examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بقذر ضروری سامان موجود ہیں مگر پر مسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگزمبینیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہورہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) پاسکے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کے منشا کے مطابق استعمال کرے۔
بعد از موت زندگی کے لیے خدا نے ایک مکمل دنیا بنائی ہے جس کا نام جنت ہے۔ یہ جنت ہر اعتبار سے آئیڈیل اور پرفیکٹ ہے۔ اس جنت میں بسانے کے لیے خدا کو ایسے عورت اور مرد درکار ہیں جو جنت کی اس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ موجودہ دنیا میں جو آدمی اپنے آپ کو خدائی معیار کے مطابق کوالیفائی (qualify) کرے گا وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔ یہ کوالیفائڈ عورت اور مرد کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے خدا کی معرفت حاصل کریں۔ جو فکری کنفیوژن سے باہر آ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو غیر خدا کی پرستش کو چھوڑ کر خدا کے پرستار بنیں۔ جو آزادی کے باوجود اپنے آپ کو خدائی ڈسپلن میں دینے کے لیے تیار جو منفی حالات میں اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ جو دوسروں کے ساتھ بھی وہی اخلاقی معاملہ کریں جو وہ اپنے ساتھ چاہتے تھے۔
خدا کے کریشن پلان کے مطابق، یہی معیار (criterion) ہے۔ جو عورت یا مرد اس معیار پر پورے اتریں وہ موت کے بعد ابدی جنت میں بسائے جائیں گے۔ اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں وہ موت کے بعد ابدی جہنم (hell) میں ڈال دئے جائیں گے جہاں ان کے لیے حسرت اور مایوسی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اہل جنت کا کیس ان لوگوں کا کیس ہے جنہوں نے آج کی دنیا کے مواقع (opportunities) کو استعمال (avail) کیا اور اہل جہنم ان لوگوں کا کیس ہے جو موجودہ دنیا کے مواقع کو استعمال (avail) نہ کر سکے۔ ان کا کیس محروم مواقع (missed opportunities) کا کیس قرار
کہا جاتا ہے کہ کوئی موقع صرف ایک بار تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ ابدی کامیابی کے معاملہ میں یہ قول پوری طرح درست ہے۔ کیوں کہ یہ موقع کسی کو بھی دوسری بار ملنے والا نہیں۔ جن لوگوں کا کیس مواقع کو استعمال کرنے والے (opportunities availed) کا کیس قرار پائے گا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا اور جن لوگوں کا کیس مواقع کو کھونے والے (opportunities missed) کا کیس ہوگا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ اس معاملہ میں ہر ایک کے لیے نا کامی بھی ابدی ہوگی اور کامیابی بھی ابدی۔
الرسالة کی نئی مطبوعات سیرتِ رسول صفات ۱۷۲ امنِ عالم صفحات ۲۰۸ عورت : معمارِ انسانیت صفحات ۲۵۰ مطالعہ حدیث صفحات ۳۲۰ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسیج ، فی کاپی -/ 15 روپے ، سالانہ -/ 165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400099 (India) Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323 ناگپور میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: Khalil Kirana Store Teka Badi Masjid, Siddarth Nagar Teka, Nagpur-440017, MS