Al-Risala · July 2005

شخصیت کی تعمیر

Al-Risala, July 2005, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں اہل تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون یکسبون(التطفیف ۱۴) یعنی ان کے دلوں پر اُن کے اعمال کا زنگ چڑھ اس آیت میں ایک نفسیاتی معاملہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس معاملہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عن ابی ہریرۃ قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: ان المومن اذا اذنب کانت نكتة سوداء فی قلبه فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى یعلو قلبه (ابن ماجه، كتاب الزهد، مسند احمد، جلد ۲، صفحه ۲۷۹)۔ مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرے اوراُس کو مٹادے اور استغفار کرے تو اس کا دل دھبہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر دھبہ میں مزید اضافہ ہو تو وہ بڑھتار ہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی معاملہ کو بتایا گیا ہے۔ جب کوئی انسان برائی کرے اور پھر وہ جلد ہی متنبہ ہو جائے۔ وہ برائی کے احساس کو اپنے دل سے نکال ڈالے تو اس کا دل پاک وصاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ آدمی ایک کے بعد ایک برائی کرتا رہے۔ وہ اپنا محاسبہ کر کے اپنے دل سے اس کے اثر کو زائل نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کا پورا دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ برائیوں ہی میں جینے لگتا ہے اور سچائی کی بات اس کو متاثر نہیں کرتی۔

جدید نفسیاتی مطالعہ نے اس معاملہ کو مزید واضح کیا ہے۔ اب یہ بات ایک پر اسرار عقیدہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ اب وہ خالص علمی اعتبار سے انسان کے لیے قابل فہم ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طورپر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔

وہ تین حصے یہ ہیں:

شعوری ذہن (conscious mind)

تحت شعور (sub-conscious mind)

لاشعور (unconscious mind)

تجربہ وتحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب وہ ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی دماغ کا حصہ بن جاتا ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، انسانی دماغ ہی دراصل انسانی شخصیت کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی خیال انسان کے دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ اس کو اپنی شخصیت سے الگ کرنا چاہے تو وہ اس کو الگ کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔

جب کوئی بات انسان کے دماغ میں آتی ہے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت تو وہ سب سے پہلے دماغ کے شعوری حصہ میں آتی ہے۔ اس کو زندہ حافظہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو فطری عمل کے تحت اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات شعوری ذہن سے چل کر ذہن کے تحت الشعور حصہ میں پہنچ جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے خیال کے اوپر آدمی کا شعوری کنٹرول صرف پچاس فیصد رہ جاتا ہے۔ پچاس فیصد وہ اس کے شعوری کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اگلی رات کو سوتا ہے تو یہ خیال مزید سفر کر کے ذہن کے لاشعور حصہ میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ خیال اس کے شعوری کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو جاتا ہے۔ انسانی ذہن کے یہ تینوں حصے شعور کے اعتبار سے ذہن کی تین حالتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر جہاں تک انسانی شخصیت کا تعلق ہے، وہ ہر حال میں یکساں طور پر اس کا معمول بنی رہتی ہے۔ خیال جب تک زندہ حافظہ میں ہو تو وہ انسانی شخصیت کا معلوم حصہ ہوتا ہے۔ مگر جب وہ تحت شعور میں پہنچ جائے تو اگر چہ اب بھی وہ مکمل طور پر انسانی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے مگر عام حالات میں وہ انسان کے علم میں تازہ نہیں ہوتا۔

یہی روز مرہ کے افکار جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں وہی اس کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جیسے افکار ویسی شخصیت۔ مثبت افکار سے مثبت شخصیت بنے گی۔ لیکن اگر یہ افکار منفی افکار ہوں تو انسان کی شخصیت بھی منفی بنتی چلی جائے گی۔

آج کل یہ حال ہے کہ آپ جس عورت یا مرد سے ملیے ہر ایک کو آپ منفی سوچ میں مبتلا پائیں اگر کوئی شخص بظاہر باتیں کرتا ہوا نظر آئے تب بھی اس کی یہ بات صرف اوپری طور پر ہوگی۔ آپ مزید گفتگو کر کے اس کی اندرونی شخصیت کو جاننے کی کوشش کریں تو آپ پائیں گے کہ اس کی اندرونی شخصیت بھی اتنی ہی منفی تھی جتنی کہ دوسروں کی شخصیت۔ اس طرح موجودہ زمانہ کا ہر آدمی اپنے آپ کو منفی قبرستان میں دفن کیے ہوئے ہے، اگر چہ اس کو خود بھی اس ہلاکت خیز واقعہ کی خبر نہیں۔ میں غالباً مذہبی انسان اور سیکولر انسان میں کوئی فرق نہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بُری شخصیت منفی شخصیت ہے اور سب سے زیادہ اچھی شخصیت وہ ہے جو مثبت شخصیت ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مثبت شخصیت کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ مذکورہ اسلامی تعلیم اور مذکورہ نفسیاتی تحقیق دونوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اس کی ایک واضح عملی صورت بنتی ہے۔ اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔

اس عمل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی منفی خیال آدمی کے ذہن میں آجائے تو وہ اس کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دے۔ خصوصی تدبیر کے ذریعہ اُس کے منفی پہلو کو مثبت پہلو میں تبدیل کرلے۔ وہ غصہ کو فوراً معاف کر دے تا کہ اس کا غصہ انتقام کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ کسی کی ترقی اٗس کو پسند نہ آئے تو اُسی وقت وہ اس کو نظر انداز کر دے تا کہ وہ اس کی شخصیت میں حسد بن کر شامل نہ ہو سکے، وغیرہ۔

ہر برے خیال کے ساتھ فوراً ہی تبدیلی کا یہ عمل کرنا چاہئے۔ اگر اس میں دیر ہوئی تو جلد ہی ایسا ہوگا کہ وہ آدمی کے تحت شعور میں چلا جائے گا۔ اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو جائے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو وہ آدمی کی شخصیت کا اس طرح لازمی حصہ بن جائے گا کہ آدمی چاہے

بھی تو وہ اس کو اپنے سے جُدا نہ کر سکے۔ لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے اور اس کی یہ بھیانک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عمل تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کر لیں ۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی اور حل موجود نہیں۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے : دی اسپرچول مسیج ، فی کاپی -/15 روپے، سالانہ -/165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے :

302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 28341654/28346079/2821 8609, Fax: 28236323

Printed page