Al-Risala · July 2005

منفی پہلو میں مثبت پہلو

Al-Risala, July 2005, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان میں برٹش راج تھا۔ اُس زمانہ میں برٹش حکمرانوں نے ہندوستان میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا اور پوری طاقت سے انگریزی زبان کو ہندوستان میں رائج کیا۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان کے اعتبار سے امریکا اور برطانیہ کے بعد ہندوستان تیسرا سب سے بڑا ملک

برٹش حکمرانوں نے اپنے خیال کے مطابق، ہندوستان میں انگریزی زبان کو اس لیے رائج کیا تھا کہ وہ اس ملک پر ہمیشہ کے لیے اپنا غلبہ قائم رکھیں۔ برٹش حکومت نے انگریزی زبان کو صرف اپنے مفاد کے لیے یہاں جاری کیا تھا۔ مگر آج یہی انگریزی زبان ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا سرمایہ بن گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی تمام تر انگریزی زبان پر قائم ہے اور انگریزی زبان میں ہندوستان دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں بہت آگے ہے۔ چین اور روس دونوں بہت بڑے ملک مگر دونوں ہندوستان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کو تمہاری انگریزی کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی انگریزی

اس مثال سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کا حریف خواہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کوئی عمل کرے مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل کے لحاظ سے وہ تمام تر آپ کے فائدے میں ہو۔ حریف اگر آپ کے خلاف کوئی سازشی منصوبہ بنائے تب بھی یہ امکان باقی رہے گا کہ اس کی سازش آپ کے لیے ترقی کا ایک زینہ بن جائے۔ حریف کی بنائی ہوئی دنیا آخر کار آپ کے حصہ میں آجائے۔ اس دنیا میں ہر منفی واقعہ میں مثبت پہلو موجود رہتا ہے۔ اگر آپ اس مثبت پہلو کو دریافت کر سکیں تو آپ کو کسی کے خلاف شکایت کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ مثبت پہلو کی دریافت آپ کو اپنی تعمیر میں اتنا زیادہ مشغول کر دے گی کہ آپ کے پاس دوسروں کے خلاف لکھنے اور بولنے کے لیے وقت ہی نہ رہے۔

Printed page