فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
Al-Risala, January 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۸ دسمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء اشبیلیہ سے قرطبہ لے جائے گئے۔ یہ پورا سفر سرسبز وادیوں میں طے ہوا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی۔ درمیان میں بعض تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے ہم لوگ رکے۔ اسپین کا پورا ملک، خاص طور پر اندلس تاریخی یادگاروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاح لوگ نہایت کثرت سے آتے ہیں۔
اسپین کی آب و ہوا بھی بہت اچھی ہے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں اسپین نسبتاً معتدل آب و ہوا کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ راستہ میں ہم ایک مقام پر ٹھہرے۔ یہاں ایک بہت بڑی تاریخی عمارت تھی۔ یہ عمارت سیاحوں سے بھری ہوئی تھی۔ خاص طور پر لڑکے اور لڑکیاں کثرت سے دکھائی دیتی تھیں۔ مگر وہاں کوئی شور نہ تھا۔ یہ لوگ متحرک مجسموں کی طرح ادھر ادھر جاتے ہوئے نظر
یہ منظر ہندوستان کے سیاحتی مقامات سے بہت مختلف تھا۔ ہندوستان میں عام طور پر ایسے مقامات پر دو چیزیں عام ہیں۔ ایک، شور و غل، اور دوسرے، کھانے پینے کی چیزوں کے خالی پیکٹ۔ اس طرح چلتے ہوئے ہم لوگ قرطبہ پہنچے تو وہاں دوپہر بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ قرطبہ میں بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں مگر سب سے زیادہ مشہور مسجد قرطبہ اور مسیحی کیتھیڈرل ہے۔
قرطبہ میں ہم کو سیاحت کے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے مختلف لٹریچر دئے گئے۔ کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:
Brief Guide to the Holy Cathedral Church Former Mosque of Cordoba. اس میں بتایا گیا تھا کہ قرطبہ میں مسلم عہد سے پہلے ایک گرجا ہال (basilica) تھا۔ اول نے اس کو توڑ کر اس کی جگہ مسجد قرطبہ بنائی۔ جو پمفلٹ کے مطابق، مغربی دنیا میں پہلی مسلم عبادتی مسلم عہد کے خاتمہ پر عیسائی بشپ انچلو (Martin Fernandez de Angulo) کے حکم سے سولہویں صدی میں اس مسجد کو دوبارہ کیتھیڈرل میں تبدیل کیا گیا۔
اس مسجد کو میں نے تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی اور تعمیر کے اعتبار سے نہایت خوبصورت اور پر شکوہ انداز میں بنائی گئی تھی۔ دیکھنے کے بعد جہاں تک میں نے اندازہ کیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مسلم عہد کے خاتمہ کے بعد مسجد کو توڑا نہیں گیا البتہ اُس کے تقریباً نصف حصہ کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا اور بقیہ نصف حصہ مسجد کی صورت میں باقی رہا۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ اب بھی پہلے کی طرح ہے اور نہایت شاندار انداز میں بنائی گئی ہے۔ وسیع محراب پر سونے کا کام بنا ہوا تھا۔ اُس کے قریب جانے پر پابندی تھی۔
قرطبہ میں ہم کو ایک گلی میں لے جایا گیا۔ اس گلی میں کار نہیں گزر سکتی۔ یہاں پیدل جانا ہوتا اس گلی کے اندر ہم کو ایک گھر دکھایا گیا۔ یہ مسلم عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس گھر کو ایک فرانسیسی نو مسلم خاتون نے خرید لیا ہے۔ ان خاتون کا نام عائشہ ہے۔ اس گھر میں قدیم عربی انداز میں ہماری تواضع کی گئی۔
قدیم طرز کے بنے ہوئے اس گھر کے ہر حصہ میں مسلم عہد کی یادگاریں نمائش کے لیے رکھی گئی لوگ دیر تک اُن کو دیکھتے رہے۔ اس گھر کو اس کی قدیم صورت پر برقرار رکھا گیا ہے۔ صاف ستھرا تھا مگر اُس کے کمرے چھوٹے تھے۔ کھڑکیاں بہت کم تھیں۔ فرش بھی آج کل کی طرح ہموار
گھر کے افراد میں کوئی عربی جاننے والا نبیس ملا۔ یہ لوگ اپنی زبان بولتے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بھی بول سکتے تھے۔ تاہم ترجمان نے یہ کمی پوری کر دی۔ قرطبہ ایک قدیم شہر ہے جو اندلس کے علاقہ میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بائبل میں ترشیش (Tarshish) کے نام سے جس بستی کا ذکر ہے وہ یہی قرطبہ ہے۔ قرطبہ ۱۵۲ ق م میں رومی نوآبادیات کے طور پر قائم کیا گیا۔ جولیس سیزر (Julius Ceaser) نے ۴۵ ق م میں اس شہر پر حملہ کیا اور وہاں کے بیس ہزار افراد کو مار ڈالا۔ لوکان (Lucan) اور بشپ ہاسیس (Hosius) اسی قرطبہ میں پیدا ہوئے جنہوں نے شاہ قسطنطین کو مسیحی بنانے میں اہم رول ادا کیا۔
قرطبہ میں مسلمانوں کی حکومت ۷۵۶ سے ۱۲۳۶ تک رہی۔ عبدالرحمن اول نے ۷۵۶ میں قرطبہ کو اپنی اپنی سلطنت کی راجدھانی بنایا۔ مسجد قرطبہ کی بنیاد اسی عبدالرحمن اول نے رکھی جس کو اس کے جانشینوں نے ۷۹۷ میں مکمل کیا۔ اموی سلطنت کے زمانہ میں قرطبہ یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر سمجھا جاتا تھا۔
اُس زمانہ میں قرطبہ مشرق و مغرب کے لیے علم کا مرکز بن گیا تھا۔ اس نسبت سے میں تقریباً ہر دن قرطبہ کو یاد کرتا ہوں ۔ اس لیے کہ قرطبی علماء کی دوسری کتابوں کے علاوہ میرے پاس ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی (وفات ۶۷۱ھ) کی عربی تفسیر الجامع لأحکام القرآن موجود ہے جس کو میں تقریباً روزانہ دیکھتا ہوں۔ یہ تفسیر ہیں جلدوں میں ہے اور جامع تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ تفسیر کافی پسند ہے۔ یہ تفسیر مجھے ایک عرب شیخ نے تحفہ میں دی تھی۔ سید رشید رضا نے اپنی کتاب میں مسلم اسپین کی شان و شوکت بتاتے ہوئے لکھا ہے: ’’شہر قرطبہ کا تصور کیجیے جسے ’’یورپ کی دلہن‘‘ کہنا بجا ہوگا۔ یہاں کی جامع مسجد کی وسعت کا اندازہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ اس کے اندرونی حصے میں پچاس ہزار اور صحن میں تیس ہزار لوگ آسانی سے نماز پڑھ سکتے تھے۔ جامع مسجد کے علاوہ باقی مسجدوں کی تعداد سات سو تھی‘‘۔ جوش اور فخر سے بھری ہوئی اس قسم کی سطروں کے بعد سید رشید رضا لکھتے ہیں:
”جب میں غرناطہ کے الزمرا محل کو دیکھنے گیا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، گویا میں نے محل نہیں دیکھا بلکہ ایک مکمل شہر دیکھا۔ اس کی لمبائی نو سو میٹر اور چوڑائی آٹھ سو میٹر تھی۔ اہلِ ہسپانیہ اس محل کو ”شہرِ زہراء“ کے نام سے پکارتے ہیں۔
اگر ہم دوسرے شہروں کو چھوڑ کر صرف غرناطہ ہی کو لے لیں جو یورپ میں مسلمانوں کی سب سے چھوٹی سلطنت کا دار الخلافہ تھا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ پندرہویں صدی عیسوی تک یورپ میں اتنا عظیم الشان اور بارونق شہر کوئی نہ تھا۔ جس زمانے میں ہسپانیوں نے اس شہر کو فتح کیا تھا، اس کی آبادی پچاس ہزار تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ تمام یورپ میں ایک بھی ایسا شہر نہ ملتا جو غرناطہ کی نصف آبادی ہی کے برابر ہوتا۔ پھر الحمراء کے عظیم الشان محل کی طرف توجہ کیجئے ۔ اس کی تعریف میں صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ تمام روئے زمین پر اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنما اسی قسم کی بات لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ مگر یہ طریقہ خود مسلمانوں کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ یہ لوگ مشترک طور پر یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ قدیم یورپی قوموں کا تقابل قدیم مسلمانوں سے کر کے مسلمانوں کو فخر کی غذا دیتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس صحیح طریقہ یہ ہے کہ قدیم عہد کی مسلم ترقیوں کا تقابل جدید یورپ کی ترقیوں سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدیم مسلمان آج کی یورپی ترقی سے اتنا ہی پیچھے ہیں جتنا کہ قدیم زمانہ میں دوسری قومیں مسلمانوں سے پیچھے تھیں ۔ سید رشید رضا اور دوسرے لوگوں کے تقابل میں یہ غلطی ہے کہ وہ مسلم تاریخ کے زمانہ اختتام کو لے رہے ہیں اور یورپی تاریخ کے زمانہ آغاز کو۔ یہ ایک غیر منصفانہ تقابل ہے۔ ایسا تقابل دین کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ یہ غلط تقابل مسلمانوں کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ غلط تقابل سے آج کے مسلمانوں کو فرضی فخر کی غذا ملتی ہے۔ وہ غیر حقیقی طور پر پدرم سلطان بود کی فرضی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس
اگر صحیح تقابل کیا جائے تو آج کے مسلمانوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ اپنے پھڑے پن کو دور کرنے کی کوشش کریں گے نہ کہ مفروضہ طور پر اپنے کو آگے سمجھ کر اس پر بے بنیاد فخر کرتے رہیں۔ کارمونا (Carmona) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ ۱۷ دسمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء یہاں لے جائے گئے اور یہاں کے میئر کی طرف سے انہیں الوداعی خطاب کیا گیا۔ یہاں قدیم زمانہ کا ایک بہت بڑا قلعہ ہے۔ یہ قلعہ مسلم عہد میں بنا تھا۔ اس قلعہ کے اندر الوداعی تقریبات انجام پائیں۔ کو از سر نو آراستہ کر کے اس کو شاندار بنا دیا گیا ہے۔
۱۳۷۱ء میں موسیٰ بن نصیر نے کارمونا کو فتح کیا۔ اس کے بعد سے وہ مسلم اندلس کا ایک حصہ یہاں آباد ہونے والے عرب اور بربر نے اس کا نام کارمونا رکھا۔ کارمونا کے میئر کی طرف سے ہمیں جو کبیں اور پمفلیٹ دئے گئے ان میں سے ایک میں یہ لکھا ہوا تھا۔ اس فتح کے بعد شہر کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ فاتح اور مفتوح امن کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔ یہاں تک کہ اکثریت نے اسلام کے کلچر کو اختیار کر لیا:
Thus began a new golden age for the city which became a cultural crossroad where the Arabs and Berber conquerors lived peacefully beside the conquered Hispano-Visigothic population untill the majority finally embraced the culture of Islam. اشبیلیہ کی کانفرنس (۱۴ تا ۱۷ دسمبر ۲۰۰۳) کے خاتمہ پر ایک ڈکلیریشن جاری کیا گیا۔ ڈکلیریشن کے پانچ پوائنٹ تھے۔ اس میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پانچ بڑے عالمی مذاہب کے نمائندے جو اشبیلیہ میں جمع ہوئے تھے وہ مشترک طور پر یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہر مذہب کے ذمہ دار ایسے اقدامات کریں جو مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والا ہو۔
یہ ڈکلیریشن بجائے خود بلاشبہ اچھے جذبات کا اظہار تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے سینکڑوں ڈکلیریشن جاری کیے گئے مگر مذاہب کے درمیان مطلوب فضا اب تک قائم نہ ہوسکی۔ میرے تجربہ کے مطابق، اس مقصد کے لیے کانفرنس کے اجتماعی خطاب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ افراد کے اندر
مطلوب ذہن بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ مقصد حقیقتاً افراد کی ذہن سازی کے ذریعہ حاصل ہوگا، نہ کہ اجتماعی خطابات سے۔
۱۸ دسمبر کی شام کو اشبیلیہ سے واپسی کا سفر ہوا۔ اشبیلیہ ایئر پورٹ سے آئبیرین ایئر لائنز کے ذریعہ ہم لوگ بارسلونا پہنچے۔ یہ سفر ایک چھوٹے جہاز کے ذریعہ طے ہوا۔ اس کے مسافر تقریباً ۹۹ فیصد یورپی لوگ تھے۔
ہماری پہلی منزل بارسلونا تھی۔ بارسلونا میں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد ہم کو آگے جانا تھا۔ بارسلونا کا ایر پورٹ یورپی انداز کا ایک خوبصورت ایر پورٹ تھا۔ وہ نہایت صاف ستھرا اور منظم دکھائی یہاں کے لوگ انگریزی زبان کم اور اسپینی زبان زیادہ جانتے تھے۔ کسی مرحلہ پر بھی ایر پورٹ پر ہم سے کوئی پو چھ گچھ نہیں کی گئی۔ ایر پورٹ کی دیواروں میں لگے ہوئے بڑے بڑے شیشے کے باہر شہر بارسلونا کا ایک منظر دکھائی دے رہا تھا۔ اس قسم کے بڑے بڑے شیشے یورپ کے ایر پورٹوں میں عام مگر انڈیا کے ایر پورٹوں پر ایسا بہت کم نظر آتا ہے۔
بارسلونا میڈیٹیرینین سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ وہ ایک تجارتی سنٹر ہے اور اسپین کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ یہاں کی قدیم تاریخی عمارتیں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ بارسلونا ایک قدیم وہ مختلف سلطنتوں کے تحت رہا ہے۔ تیسری صدی کے آخر میں اس کی پہلی شہری دیوار بنائی ۷۱۷ء میں بارسلونا مسلم سلطنت کے تحت آیا۔ ۸۰۱ میں شہنشاہ لوئی اول نے عربوں کو یہاں سے نکال دیا اور اس شہر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔
Barcelona fell, around 717, under the sway of the Islamic world. In 801 the Carolingian emperor Louis I the Pious expelled the Arabs and added the city to his domains.
سید رشید رضا مشہور عرب عالم ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ اور بھی کئی زبانیں جانتے تھے۔ فرانسیسی زبان بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ سید رشید رضا نے تقریباً ۷۰ سال پہلے ایک سلسلہ مضامین اپنے مجلہ المنار میں شائع کیا تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں چھپا۔ اس کتاب کا نام یہ تھا: لماذا
تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور ان کے سوادوسرے کیوں آگے ہو گئے)۔
اس کتاب میں مصنف نے قدیم مسلمانوں کی شجاعت کے کئی واقعات پر جوش طور پر بیان ماضی کے ان واقعات کو بیان کر کے موجودہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ وہ بھی اپنے اسلاف کی اس بہادرانہ تاریخ کو دہرائیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اسپین کے شہر بارسلونا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا:
”افسوس ہے کہ ہم وہ زمانہ بھول گئے ہیں جب کہ محض ہیں مسلمان بارسلونا سے فرانس کے جنوب میں فراکسیمہ کو آئے اور پہاڑ پر قبضہ کر کے اور ایک قلعہ بنا کر رہنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ اُن کی تعداد بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ ایک سو ہو گئے۔ تب انہوں نے ایک باقاعدہ حکومت قائم کی، اور فرانس کے جنوبی حصہ کے علاوہ اٹلی کے شمالی حصہ پر بھی قبضہ مسلمانوں کی تعداد صرف ایک سو تھی۔ مگر اس حال میں بھی گردونواح کے بادشاہ اُن کی دوستی کے طلب گار تھے۔ کوہ الپ کی چوٹی اور فرانس اور اٹلی کے وسطی پہاڑوں کی شاہراہیں ان کے قبضہ میں تھیں اور ان راستوں سے جس قدر بھی قافلے گزرتے تھے، وہ اُن سب سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی جماعت نے یہاں تک ترقی کی کہ وہ یورپ اور سوئٹزرلینڈ کے وسط میں بحیرۂ کونستانزہ تک پہنچ گئی اور پورے پچانوے سال تک ان علاقوں پر حکمراں رہی۔ آخر کار تمام اہل فرنگ متحدہ قوت سے ان کو مٹانے پر کمر بستہ ہوگئے، یہاں تک کہ وہ مسلسل لڑائیوں کے بعد مٹا دئے گئے۔ اس وقت مسلمان عربوں کی تعداد ۱۵۰۰ سے زیادہ نہ تھی۔ سید رشید رضا نے اپنے خیال کے مطابق، اس کو دردناک بزدلی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ”مسلمانوں کے تنزل کا ایک بڑا سبب بزدلی ہے۔ ہمارے اسلاف تمام اقوام عالم میں
شجاعت و شجامت کے لیے مشہور تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک مسلمان تن تنہا دس آدمیوں کا اور بعض دفعہ سو کا مقابلہ کرتا تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ وہ موت کے نام سے بھی ڈرتے ہیں۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے دشمن اپنی قوم اور وطن کے لیے کس کس طرح موت سے کھیل رہے ہیں۔ لیکن ہم پھر بھی شرم نہیں کرتے۔ پرانے زمانہ کی یہ روایات بدل گئی ہیں۔ اب ان کے چند آدمی مسلمانوں کی بڑی تعداد کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کو شکست دے دیتے ہیں۔ سید رشید رضا اور ان کے جیسے دوسرے رہنماؤں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ غلط تقابل کا شکار ہیں۔ زوال یافتہ قوم کا تقابل عروج یافتہ قوم سے کر رہے ہیں۔ دورِ اول میں مسلمان عروج پر تھے اور یورپی قومیں زوال پر۔ بعد کو یہ ہوا کہ یورپی قوموں میں احیاء کا عمل ہوا اور وہ عروج پر پہنچ گئیں۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں مسلمان قانونِ فطرت کے تحت اپنے زوال کے دور میں پہنچ چکے تھے۔ اس فرق کو نہ رشید رضا اور شکیب ارسلان نے سمجھا اور نہ اقبال اور شبلی نعمانی اس کو سمجھ سکے۔ بے خبری کی بنا پر ان لوگوں نے مسئلہ کا حل صرف یہ سمجھا کہ ہدی خوانی کر کے مسلمانوں کو ابھارا جائے۔ مگر یہ ہدی خوانی یا بانگِ درا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے احیاء نو کا مسئلہ تھا۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ بنجر زمین کو دوبارہ محنت کر کے زرخیز بنانے کا مسئلہ تھا یہ تشخیص کی غلطی تھی۔ تشخیص کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوسال سے بھی زیادہ لمبی جدوجہد بے نتیجہ ہو کر رہ گئی، وہ کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچی۔
بارسلونا سے اگلے جہاز کے ذریعہ استنبول کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ نسبتاً مختصر سفر تھا۔ میں عام طور پر ڈائرکٹ فلائٹ نہیں ہوتی۔ مسافر کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایرپورٹ سے دوسرے ایرپورٹ پہنچے اور جہاز کو بدل کر اپنا سفر جاری رکھے۔
جہاز کو بدلنے کا یہ معاملہ میرے ذوق کے سخت خلاف ہے۔ تاہم اس کا ایک فائدہ ہے۔ ہی جہاز کے ذریعہ زیادہ لمبا سفر کرنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، خواہ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا ہو۔
کیوں کہ سفر بہر حال سفر ہے۔ جہاز بدلنے کی صورت میں مسافر کو ایک قسم کی راحت مل جاتی ہے۔ ائیرپورٹ پر چڑھنے اترنے اور نقل و حرکت کی وجہ سے سفر کی اکتاہٹ بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ استنبول پہنچے تو دوبارہ وہی دیکھا ہوا منظر سامنے تھا۔ استنبول یورپ کا ایک شہر ہے مگر یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں ابھی وہ بہت پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی ابھی تک یورپین یونین کا ممبر نہ بنایا جا سکا۔
مسلمان عام طور پر اس کو تعصب کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ ملانے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی غریب شخص ایک امیر شخص سے کہے کہ آؤ ہم اور تم اپنے دسترخوان کو ملا لیں اور مشترک طور پر ایک ساتھ کھائیں۔ یورپ کے ناقدین خود اپنے معاملہ میں کبھی ایسی غیر مساوی مشارکت کو قبول نہیں کریں گے پھر وہ کیوں کر امید کر رہے ہیں کہ ترقی یافتہ یورپ اس کو قبول کر لے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو یورپی یونین سے ملانے کے عمل کا آغاز ترکی کو ہر اعتبار سے مغربی معیار کے مطابق ترقی یافتہ بنانے سے ہوتا ہے نہ کہ ترکی کو اس کی موجودہ حالت پر باقی رکھتے ہوئے دونوں کو یکساں طور پر ایک درجہ دینے کا۔
استنبول سے دہلی کا سفر ایک لمبا سفر تھا۔ یہ سفر ایرا انڈیا کے ذریعہ طے ہوا۔