اجتماعِ بھوپال
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
بھوپال ایک تاریخی شہر ہے۔ وہ ہندوستان کے وسط میں واقع ہے۔ ایک افغانی سردار دوست محمد خاں نے ۱۷۲۳ء میں بھوپال کی بنیاد ڈالی۔ یہاں مختلف اہم مقامات ہیں۔ اُن میں سے ایک تاج المساجد ہے جو انیسویں صدی میں بنائی گئی۔ بھوپال یونیورسٹی ۱۹۷۰ء میں قائم ہوئی۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپال یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں ریڈر ہیں۔ وہ تحریک الرسالہ کے سینئر ترین ممبر ہیں۔ کئی سال سے ان کا اصرار تھا کہ بھوپال میں تحریک الرسالہ کا اجتماع رکھا جائے ۔ یہ طے ہوا کہ ۱۱۔ ۱۳ مارچ ۲۰۰۵ء کو یہ اجتماع منعقد کیا جائے۔ تاہم میں نے یہ تاکید کردی کہ اس اجتماع کا عام اعلان نہ کیا جائے بلکہ محدود طور پر کچھ منتخب افراد کو اس کی اطلاع دی جائے۔ ایک بڑے جلسہ کی حیثیت اختیار نہ کرے۔
اس پروگرام کے مطابق، بھوپال کا سفر ہوا۔ ۱۱ مارچ ۲۰۰۵ء کو جیٹ ایرویز کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی اور ۱۴ مارچ کو دوبارہ جیٹ ایرویز کی فلائٹ کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ میرے ساتھ سفر میں جو لوگ شریک تھے ان کے نام یہ ہیں: ڈاکٹر محمد اسلم خاں، دیش بھگت جی، محمد خالد انصاری، ڈاکٹر محمد اقبال پردھان، رجت ملہوترہ، نغمہ صدیقی، عصمت خاں، اُستتھی ملہوترا، ڈاکٹر فریدہ خانم، سعدیہ خان، منجور مانی۔
۱۱ مارچ کو ۲ بجے میرے ساتھ جانے والے لوگ ہمارے آفس میں اکٹھا ہو گئے۔ مجھ کو لے کر کل تعداد ۱۳ تھی۔ سب سے پہلے میں نے انہیں برکت کے طور پر ایک چیز پیش کی۔ میرے بیگ میں ایک ڈبہ تھا۔ اس کے اندر بھُنا ہوا چنا تھا۔ اس چنے کے ساتھ گُڑ ملا ہوا تھا۔ اُس کو ’’گُڑ چنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ میں نے سب لوگوں کو یہ چنا پیش کرتے ہوئے کہا: یہ پرشاد ہے۔ سادہ پرشاد نہیں۔ بلکہ وہ پرشاد پلس ہے۔ یعنی اس چنے کے ساتھ میری دعائیں شامل ہیں۔ ایک مسلمان نے کہا کہ آپ اس کو پرشاد کیوں کہتے ہیں، آپ اس کو تبرک کیوں نہیں۔
میں نے کہا کہ میرا مشن لوگوں کے درمیان دوئی کو مٹانا ہے اور دوئی کو مٹانا وسیع المشربی کے بغیر نہیں میں نے کہا کہ صوفیاء کا مشن بھی دوئی کو مٹانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہی کیا کہ انہوں نے کئی لفظ دوسروں کی مذہبی روایات سے لیے اور ان کو اپنے یہاں رائج کر دیا۔ صوفیا کے اس لبرل مسلک کی وجہ سے ان کو استہزاء کا موضوع بنایا گیا۔ ایک اردو شاعر نے اسی صورت حال کو مبالغہ کے انداز میں اس طرح بیان کیا ہے:
میر کے دین و مذہب کی کیا پوچھ رہے ہو ان نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا اس کے بعد لوگوں کے مشورہ سے محمد خالد انصاری کو اس قافلہ کا امیر اور نغمہ صدیقی کو نائب امیر مقرر کیا گیا۔ اس سلسلہ میں میں نے امارت کے مسئلہ کی مختصر وضاحت کی۔
حدیث میں سفر کے بارہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے: اذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا احدهم (سنن ابی داؤد، کتاب الجهاد، باب فى القوم يسافرون يؤمرون احدهم)
یعنی جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا امیر بنالیں۔ یہ بے حداہم تعلیم ہے۔ اسلام میں ہر حال میں اجتماعیت مطلوب ہے۔ نماز میں اجتماعیت، سفر میں اجتماعیت، ادارہ میں اجتماعیت، حکومتی نظام میں اجتماعیت، وغیرہ۔
اس اجتماعیت کو قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ جب بھی کئی لوگ کسی کام میں اکٹھا ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنالیں۔ اس امارت کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی دو خاص شرطیں امیر کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ امارت کو ایک ذمہ داری سمجھے، نہ کہ کوئی اعزاز۔ مامورین یا ماتحت افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اطاعت کے جذبہ کے تحت امیر کی ماتحتی قبول کرلیں ۔ امیر سے اگر انہیں کوئی اختلاف یا شکایت پیدا ہو تب بھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اپنی اطاعت کو جاری رکھیں۔ امیر کی اطاعت کو کسی قسم کی مجبوری نہ سمجھیں بلکہ اس کو عبادت سمجھتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ نبھائیں۔
اس کے بعد دو گاڑیوں میں ہمارا قافلہ ائر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ اس دنیا میں تمام چیزیں سفر کرتی ہیں۔ حیوانات بھی اور غیر حیوانات بھی۔ مگر یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وہ سواری پر سفر کرتا ہے۔ انسان کے سوا اس وسیع کائنات پر کوئی دوسری چیز نہیں جو اپنے سفر کے لیے سواری کو استعمال کرے۔ انسان کے ساتھ خدا کا یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہمارے سینہ کو شکر کے جذبات سے بھر جانا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ولقد كر منا بني آدم وحملناهم في البر والبحر (الاسراء (۷۰) یعنی اللہ نے انسان کو عزت دی اور اس کو خشکی اور تری میں سفر کرنے کے لیے سواریاں عطا کیں۔ اس آیت میں بظاہر اگر چہ صرف خشکی اور تری کی سواریوں کا ذکر ہے مگر تبعاً اس میں فضائی سواریاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قرآن میں دعائیہ انداز میں آیا ہے : سبحان الذى سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين (الزخرف (۱۳)۔
قرآن کی یہ آیت سادہ معنوں میں صرف آداب سفر کو نہیں بتاتی بلکہ وہ بتاتی ہے کہ انسان کو کن ربانی احساسات کے ساتھ سفر کرنا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں مختلف مواقع کے لیے جو دعائیں آئی ہیں وہ بطور آداب (etiquettes) نہیں ہیں بلکہ وہ روح دین کو بتاتی ہیں۔ مثلاً مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے وقت اللهم افتح لى ابواب رحمتك اور اللهم انى اسألك من فضلك کہنا صرف آداب مسجد نہیں ہے بلکہ یہ کلمات ان مواقع کے لیے ایمانی احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ مومن کی قلبی حالت کا لفظی اظہار ہیں۔
ہمارا قافلہ دہلی کی سڑکوں سے گزرتا ہوا ائر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ قافلہ کا ہر ممبر اپنے اندر ایک نیا جوش محسوس کر رہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے کہ وہ اس کو پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ انسان کے ساتھ جب تبدیلی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس کی شخصیت کو نئے تجربات سے دوچار کرتا ہے۔ پھر میں نے لوگوں کو بتایا کہ اسلام میں سفر کی خاص بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن میں سفر کو اسلامائز کیا گیا ہے۔ قرآن میں مومن مردوں کے لیے السائحون (التوبہ ۱۱۲) کا لفظ آیا ہے۔
مومن عورتوں کو قرآن میں السائحَات (التحریم (۵) کہا گیا ہے۔ یعنی سفر کرنے والے مرد اور سفر کرنے والی عورتیں۔
اس سے مراد مجرد سفر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صاحبِ ایمان کا سفر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ السائحون اور السائحَات سے مراد وہ مومنین اور مومنات ہیں جن کا سفر ان کی ربانی سوچ کی بنا پر معرفت کا سفر بن جائے۔ سفر کے دوران جو تخلیقی مشاہدات اُن کے سامنے آئیں، وہ اُن کے مومنانہ ذہن کی بنا پر اُن کے لیے معرفتِ حق میں ڈھلتے چلے جائیں۔ وہ مخلوق میں خالق کا جلوہ دیکھیں ۔ فطرت کے مظاہر میں خالق کے کرشموں کا ادراک کریں۔ اسی حقیقت کو ایک عربی شاعر ابو العتاہیہ نے اس طرح بیان کیا ہے: