وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ کو ایک فارسی شاعر نے مزید وضاحت کے ساتھ اس طرح نظم کیا ہے:
برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفترے است معرفت کردگار اس طرح بات کرتے ہوئے ہم لوگ ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں میں نے لوگوں کو ایک سبق آموز بات یاد دلائی۔ میں نے کہا کہ اس سفر میں مجھ کو اور میری لڑکی فریدہ کو چھوڑ کر کل گیارہ مرد اور عورتیں یہ تعداد بہت معنی خیز ہے۔ مماثلت کے انداز میں اس کے اندر ایک اہم سبق پایا جاتا ہے۔ آپ انجیل کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ آخر وقت میں حضرت مسیح کے ساتھ (مسیح اور مریم کو چھوڑ کر) گیارہ افراد تھے۔ انہی گیارہ افراد نے مسیح کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلایا۔ اس سلسلہ میں انجیل کا اقتباس یہ ہے:
پھر وہ اُن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اُس نے ان کی بے اعتقادی اور سخت دلی پر ان کو ملامت کی ۔ کیوں کہ جنہوں نے اُس کے جی اُٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا انہوں نے اُن کا یقین نہ کیا تھا۔ اور اُس نے ان سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا اور جو ایمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائے
اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اٹھالیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو انہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائیں گے (مرقس، ۱۶: ۱۲-۱۸) عجیب بات ہے کہ اس تاریخی سفر میں میرے ساتھ میری لڑکی کو چھوڑ کر گل گیارہ افراد تھے۔ گیارہ افراد در اصل علامتی انداز میں نمائندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ مشن اب اللہ کے فضل سے ایک عالمی مشن بن چکا ہے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں اس سے وابستہ افراد میرے اندازے کے مطابق، ان کی تعداد گیارہ ہزار سے کم نہ ہوگی۔ یہ عالمی حلقہ اب اللہ کے فضل سے ایک طاقتور حلقہ بن چکا ہے۔ مزید یہ کہ اس کی پشت پر ایک طاقتور لٹریچر وجود میں آچکا یہ حلقہ اور یہ لٹریچر انشاء اللہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ مشن مسلسل جاری رہے۔ بھوپال کے لیے میرا پہلا سفر غالباً ۴۰ سال پہلے ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کے ذریعہ تنہا بھوپال گیا تھا۔ اب میں بھوپال جا رہا ہوں تو ہمارا سفر ایک قافلہ کی صورت میں ہو رہا ہے جس میں مجھ کو لے کر تیرہ آدمی ہوائی جہاز کے ذریعہ بھوپال جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ علامتی طور پر ہمارے مشن کی رفتار ترقی کو بتا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۴۰ سال میں یہ مشن کہاں سے کہاں تک پہنچا ہے۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ کوئی جاندار مشن کبھی درمیان میں وہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے مشن کے ساتھ انشاء اللہ یہی تاریخ دہرائی جائے گی۔ جیسا کہ لوگ جانتے ہیں، اس دوران میں ہمارے مشن کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑی بڑی مخالفانہ کوششیں کی گئیں۔ مگر یہ کوششیں ناکام رہیں اور مشن آگے بڑھتا رہا، وہ ایک دن کے لیے بھی نہیں رکا۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی مشن جب رکتا ہے تو وہ کسی خارجی رکاوٹ کی بنا پر نہیں رکتا۔ ایسا ہمیشہ خود مشن کی داخلی کمزوری کی بنا پر ہوتا ہے۔ جو مشن جذباتیت یارومانیت کے زیر اثر اٹھایا جائے وہ کبھی دیر تک قائم نہیں رہتا۔ لیکن جو مشن حقائق فطرت کی بنا پر اٹھایا جائے وہ ایک سیل رواں کی مانند ہوتا ہے۔
کوئی چٹان بھی اس کا راستہ روکنے والی نہیں۔
راستہ میں مختلف سوالات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک سوال یہ تھا کہ عورت کا درجہ اسلام میں کیا اس سلسلہ میں میں نے قرآن کے حوالہ سے کچھ باتیں کہیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وللر جال عليهن درجة (البقرہ ۲۲۸) اسی طرح فرمایا: الرجال قوامون علی النساء (النساء ۳۴) قرآن کی ان آیتوں کی تشریح کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں گویا کہ اسلام میں مرد کو حاکم کا درجہ دیا گیا ہے اور عورت کو محکوم کا درجہ۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ بات بجائے خود درست ہے کہ دونوں جنسوں کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ مگر اس فرق کی بنیاد امتیاز نہیں ہے بلکہ صرف انتظام ہے۔ یہ انتظامی تقسیم ہے نہ کہ امتیازی تفریق۔
یہ ایک انسانی ضرورت ہے کہ اجتماعی سرگرمیوں کو ایک ناظم کی ماتحتی میں انجام دیا جائے۔ وجہ ہے کہ ہر اجتماعی ادارہ میں ایک باس (Boss) ہوتا ہے۔ اس باس کی حیثیت انتظام کار کی ہوتی اگر ایسا نہ ہو تو پورے ادارہ میں انار کی پھیل جائے اور کام کو منظم طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے۔ اسی طرح خاندانی ادارہ میں مرد کو انتظام کار کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم وہ مطلق نہیں ہے۔ عورت بھی انتظام کار بن سکتی ہے۔
ایک ساتھی نے کیوٹی وی (Q.T.V) کے بارہ میں میری رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ پچھلے ایک مہینہ کے دوران میں نے کیوٹی وی کو مسلسل دیکھا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کیوٹی وی چوبیس گھنٹہ آتا ہے۔ اس لیے آپ رات دن میں کسی بھی وقت اُس کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر میری رائے کیوٹی وی کے بارہ میں اچھی نہیں۔ میں نے کہا کہ ٹی وی کے دوسرے چینل اگر سیکولر انٹرٹینمنٹ کے اصول پر چلائے جا رہے ہیں تو کیوٹی وی ریلیجس انٹرٹینمنٹ کے اصول پر چلایا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ کیوٹی وی اسلام کی ایک کمتر صورت (reduced form) کو پیش کرتا ہے۔ اس کو برابر دیکھنے والا شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھے گا کہ اسلام کچھ رسوم (rituals) اور کچھ آداب (etiquettes) کا مجموعہ ہے۔ ایک اور چیز جو کیوٹی وی میں
شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ درگاہی کلچر کو اس میں اس طرح نمایاں طور پر مسلسل دکھایا جاتا ہے جیسے کہ وہ اسلام کا ایک اہم حصہ ہو۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ درگاہی کلچر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ کیوٹی وی کے سارے پروگرام مسلم اورینٹیڈ(Insan (Muslim Oriented) ہوتے حالاں کہ قرآن کا پیغام مکمل طور پر انسان اورینٹڈ (Insan Oriented) ہوتا ہے۔ گویا کہ کیوٹی وی اسلام کو ایک کمیونل کلچر کے طور پر پیش کر رہا ہے نہ کہ یونیورسل کلچر کے طور پر۔ دہلی سے بھوپال کا سفر جٹ ایرویز کے ذریعہ ہوا۔ جٹ ایرویز ایک پرائیویٹ ایرویز ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں میں اس کو سب سے بڑی کمپنی بتایا جاتا ہے۔ انڈیا میں جب سے پرائیویٹ کمپنیاں آئی ہیں، ہوائی سفر کا معیار کافی بہتر ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف ایک سرکاری کمپنی تھی ۔ ہوائی سفر میں مقابلہ کا ماحول نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ ترقی کی لازمی شرط ہے۔ (competition) نہیں تو ترقی بھی نہیں۔
عجیب بات ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جو لیڈر ابھرے، دونوں ہی بظاہر اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ دونوں ہی مقابلہ کے بجائے تحفظ (protection) کے اصول کو کامیابی کا ذریعہ سمجھا۔ دونوں میں فرق صرف یہ تھا کہ کانگریس کے لیڈر سیکولر تحفظ کی بات کرتے تھے اور مسلم لیگ کے لیڈر ملی تحفظ کی اصطلاح میں سوچ رہے تھے۔ کانگریسی لیڈروں نے آزاد انڈیا میں اقتصادی تحفظ کے نام پر بیرونی ملکوں کو ہندوستان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ کارسازی کی صنعت میں ایمبیسیڈر کار کے سوا کسی بیرونی کمپنی کو نہ کار بنانے کی اجازت تھی اور نہ کار کو امپورٹ کرنے کی اجازت۔ اس پالیسی کا نتیجہ ملک کو اقتصادی پچھڑے پن کی صورت میں ملا۔ اسی طرح مسلم لیگ کے لیڈروں نے پاکستان کے نام سے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ خطہ بنایا تا کہ وہ مسلمانوں کو بیرونی اثرات سے پاک رکھ سکیں ۔ یہ لوگ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ترقی کا راز تحفظ اور علیحدگی میں نہیں بلکہ مقابلہ اور انٹریکشن میں ہے۔ اس غیر فطری پالیسی کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ پاکستان دنیا کے نقشہ میں صرف ایک پچھڑا ہوا ملک بن کر رہ گیا۔
جہاز کے اندر مختلف اخبارات مطالعہ کے لیے موجود تھے۔ یہاں بعض اخبارات سے کچھ سبق آموز خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (۱۱ مارچ ۲۰۰۵) کے صفحہ اول پر ایک خبر کی تعجب خیز سرخی تھی: دلائی لامہ نے تبتیوں سے کہا کہ وہ آزاد تبت کو بھول جائیں : چین ہمارے مستقبل کے لیے سب سے بہتر ہے : Dalai Lama tells his folk to forget free Tibet: China best for our future. خبر میں بتایا گیا تھا کہ تبتیوں کی اپرائزنگ (uprising) کی ۴۶ ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تبتی آزاد تبت کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں اور چین تبتیوں کی ترقی اور مستقبل کے لیے سب سے اچھا ملک ہے :
The Dalai Lama told Tibetians to give up their dream of an independent Tibet, saying he believed “China is best for Tibetan's progress and future”. (p. 1)
پچھلے ۴۵ سال سے تبتی لوگ چین کے خلاف باغیانہ تحریک چلائے ہوئے تھے۔ کے تعاون سے دلائی لامہ نے دھرَم شالہ میں اپنی جلاوطن حکومت (government-in-exile) بنائی تبتیوں کا نعرہ تھا کہ تبت ہمارا ملک ہے اور ہم اس کو چین سے آزاد کرائیں گے اور وہاں اپنا قومی جھنڈا لہرائیں گے۔ اس باغیانہ تحریک کے نتیجہ میں تبتیوں کو بے شمار نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم تبتی لیڈر شپ کی یہ بات قابل تعریف ہے کہ اس نے معاملہ کا ازسرنو جائزہ لیا اور حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ چین سے لڑائی کو ختم کردیں اور چین کے سیاسی ڈھانچہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ دلائی لامہ نے کہا کہ ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہم درمیانی راستہ اختیار کریں گے : We remain fully committed to the middle way approach of not seeking independence for Tibet and are willing to remain within the People's Republic of China. یہ خبر بہت سبق آموز ہے۔ اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بھی مختلف
مقامات پر ٹھیک اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ وہ بہت سے ملکوں میں انصاف اور اپنے حقوق کے نام پر متشددانہ جدوجہد چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کو جہاد بتاتے ہیں۔ مگر لمبی مدت تک جان و مال کی قربانی دینے کے باوجود وہ مثبت معنوں میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اُن کے خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں اُنہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
بدھسٹ لیڈر کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ مگر نصف صدی کے ناکام تجربہ کو دیکھ کر انہوں نے اپنی رائے بدلی اور تمام اندیشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھلے طور پر اعلان کیا کہ اب ہم ٹکراؤ کا طریقہ ختم کر کے مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ تاکہ اپنی قوم کو مزید تباہی سے بچائیں اور ممکن دائرہ میں اپنی ترقی کا نیا دور شروع کر سکیں ۔ مگر مسلم لیڈروں میں سے کوئی بھی اس دانش مندانہ سیاست کا ثبوت نہ دے سکا۔ وہ اپنی تباہ کن جنگ کو اس آخری حد تک لے گئے کہ خود کش بمباری کر کے اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان مسلم لیڈروں نے خود ساختہ طور پر ایک نظریہ ایجاد کیا ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمان لڑائی میں مارے جائیں تو یہ ان کے لیے کوئی نقصان کی بات نہیں ۔ وہ مرتے ہی سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مگر مسلم نو جوانوں کے ذہن میں یہ مفروضہ اس طرح بھر دیا گیا ہے کہ اب وہ پروانوں کی طرح جنگ کی آگ میں کود رہے ہیں۔ اگر چہ پیشگی طور پر انہیں معلوم ہے کہ اس اقدام کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میرے نزدیک یہ بلاشبہہ خسر الدنیا والاخرة کا مصداق ہے۔ ہندوستان ٹائمز (۱۱ مارچ ۲۰۰۵) کے صفحہ ۹ کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا۔ کلکتہ ائرپورٹ کو انٹرنیشنل معیار پر بنانے کے لیے جاپان کی پیش کش :