Adventure in altitude
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مضمون میں کُلو (Kullu) کی پہاڑیوں میں سفر کا ذکر تھا۔ کُلو ہمالیہ کے کو ہستانی سلسلہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ سر سبز وادیوں اور اونچے نیچے راستوں میں واقع ہے۔ اس کو ہستانی سلسلہ میں سفر بظاہر ایک پر مشقت سفر ہے۔ مضمون نگار کو ان پر مشقت مراحل سے گزرنا پڑا۔ مگر مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس سفر میں ایک کے بعد ایک فتح یابی کا احساس ہوتا رہا اور یہ احساس مجھے برابر آگے بڑھاتا رہا۔ مجھے برابر خوشی کا غیر معمولی احساس ہوتا رہا:
But there was a sense of achievement that kept me going. At the end of the trek, I had a tremendous feeling of joy and accomplishment. (p. 84)
زندگی کے سفر میں یہی احساس کسی عورت یا مرد کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر آدمی حال کے
بجائے مستقبل پر نظر رکھے تو اُس کو بار بار یہ احساس ہوتا رہے گا کہ میں نے ایک منزل اور طے کرلی۔ میں کامیابی کی منزل کی طرف کچھ اور آگے بڑھا۔ یہ احساس اس کی ہمت بڑھاتا رہے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ درمیان میں رُکے بغیر اپنا سفر جاری رکھ سکے۔
پرواز شروع سے آخر تک ہموار تھی۔ دہلی سے بھوپال تک کی یہ مسافت ڈیڑھ گھنٹہ میں طے سروس ہر اعتبار سے اطمینان بخش تھی۔ البتہ بھوپال ایئر پورٹ پر لینڈنگ زیادہ اچھی نہ تھی۔ محسوس ہوا جیسے کہ جہاز اچانک زمین پر گر پڑا ہو۔
جہاز میں ایک بڑے انگریزی اخبار کے ایک جرنلسٹ بھی سوار تھے۔ ایئر پورٹ پر جہاز کی رَف لینڈنگ پر اُنہیں غصہ آگیا۔ وہ کسی جھجھک کے بغیر جہاز کے پائلٹ کے پاس گئے اور اُس سے جرأت مندانہ انداز میں پوچھ گچھ کی۔ گفتگو کے وقت ایک ایئر ہاسٹس وہاں کھڑی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آج صبح ان کا جھگڑا اپنی گرل فرینڈ سے ہو گیا تھا۔ کے بعد پائلٹ خاموش نہ رہ سکا۔ اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، آج میرا ذہن کسی قدر منتشر (upset) تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا۔ اُس نے مذکورہ جرنلسٹ سے اس پر معافی مانگی۔ میں جرأت مندی کے لیے انگریزی جاننا ضروری ہے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جدید تہذیب نے کیسے کیسے پیچیدہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ بات عام ہو گئی ہے کہ کوئی مرد شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کی ایک گرل فرینڈ ہوتی ہے۔ گرل فرینڈ سے اس کا اکثر جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر آدمی جب زندگی کے میدان میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے باہر آتا ہے تو وہ معتدل حالت میں نہیں ہوتا۔ یہ صورتِ حال اکثر اجتماعی زندگی میں فساد کا باعث بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وفادار خاندانی تعلق کوئی سادہ چیز نہیں۔ اُس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ گھر کے اندر ازدواجی مسرت، بچوں کی صحیح تربیت، زندگی کے فرائض کی حسنِ ادائیگی، مثبت طرزِ فکر، قومی زندگی کی تعمیر، تمام چیزوں سے اس کا رشتہ جڑا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندانی زندگی اگر صحیح
اخلاقی اصول پر قائم ہو تو اُس سے پوری زندگی درست ہوتی ہے اور اگر خاندانی زندگی میں اخلاقی بگاڑ آجائے تو پوری زندگی بگڑ کر رہ جائے گی ۔
ائیر پورٹ پر بھوپال کے ساتھی موجود تھے، مثلاً ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، راجیندر سنگھ، ڈاکٹر گوتم، مولا نا محمد صدیق قاسمی، وغیرہ ۔
ائیر پورٹ سے روانہ ہو کر ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ یہاں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میںنے کہا کہ ہندوستان میں سیاسی بگاڑ کا اصل سبب تعلیم میں کچٹرا پن ہے۔ انڈیا میں آزادی کے بعد ڈیموکریسی آئی ہے۔ ڈیموکریسی کو بہتر طور پر چلانے کے لیے تعلیم یافتہ سماج ضروری ہے۔ جن سیاسی پارٹیوں کو ووٹ لینا ہے وہ مجبور ہیں کہ عوام کے معیار فہم کے مطابق وہ ان سے بات کریں۔ ہندوستان میں سطحی سیاست اسی لیے رائج ہوگئی ہے کہ یہاں کے ووٹر اپنی تعلیمی پسماندگی کی بنا پر گہری باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ صرف سطحی باتیں ہی انہیں اپیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں سطحی قسم کی الیکشنی سیاست رائج ہوگئی ہے۔ سیاست بلاشبہ تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اس سیاست کو ختم کرنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ عوام کو ایجوکیٹ کر کے اُن کی ذہنی سطح کو بلند کیا جائے ۔ اس کے بعد یہ سطحی سیاست اپنے آپ ختم ہو جائے گی ۔ شام کو راج ٹی وی کا عملہ آگیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انہوں نے مسلم مسائل کے ضمن میں بہت سے سوالات کئے۔
ایک سوال یہ تھا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بابری مسجد کو ڈھائے جانے کے ذمہ دار سابق کانگریسی پرائم منسٹر نرسمہا راؤ ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات واقعاتی طور پر غلط ہے۔ ہے کہ نرسمہا راؤ نے اپنے زمانہ وزارت میں ایک بہت اہم کام انجام دیا تھا ۔ 1991ء میں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرایا۔ اس کا نام ”عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون“ (Places of Worship Act 1991) تھا۔ اس قانون میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ہندوستان کی تمام عبادت گاہیں اپنی 1947ء کی حالت پر برقرار رکھی جائیں گی ، البتہ اس میں یہ درج تھا کہ باستثناء بابری
مسجد (Excluding Babri Masjid)۔ اس جملہ کی بناء پر کچھ لوگ بھڑک اٹھے اور نرسمہا راؤ کو مسلم دشمن سمجھ لیا، حالاں کہ یہ بالکل غلط تھا۔ اس وقت بابری مسجد کا کیس عدالت میں زیر سماعت تھا، ایسی حالت میں یہ ممکن نہ تھا کہ بابری مسجد کے لیے قانون بنایا جائے۔ چنانچہ قانون میں یہ درج کیا گیا کہ بابری مسجد کے معاملہ میں عدالت جو فیصلہ دے گی اس کو نافذ کرنے کے لیے حکومت پابند ہوگی۔ قانون سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص کہے گا کہ یہ بالکل درست تھا۔ مگر جذباتی افراد نے معاملہ کو سمجھے بغیر اس کی مخالفت شروع کردی۔ اس بناء پر وہ اس قانونی امکان سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔ ۱۱ مارچ کو عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ مفتاح العلوم کے جلسہ میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ یہاں میں نے طلبہ و اساتذہ کے درمیان ایک تقریر کی۔ میں نے قاری محمد قاسم صاحب انصاری کی تلاوت کردہ آیات کو موضوع بنایا۔
انہوں نے اپنی قرأت میں یہ آیت تلاوت کی تھی”والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس‘‘، غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے۔ میں نے کہا کہ اس قرآنی آیت میں ”الکاظمین الغیظ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، نہ کہ ”الفاقدین الغیظ‘‘ کے الفاظ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے یہاں انسان کی پکڑ اس پر نہیں ہے کہ اس کو غصہ آجائے، بلکہ پکڑ اس بات پر ہے کہ اسے جب غصہ آیا تو اس نے اپنے غصہ پر کنٹرول نہیں کیا۔
دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مدارس میں اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں کا نصاب بدلا جائے یا سائنس یا انگریزی پڑھائی جائے۔ میرے نزدیک سیکولر تعلیم اور مذہبی تعلیم دونوں کا نظام الگ الگ ہونا ہی زیادہ صحیح اور مفید ہے۔ پھر میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں مدارس سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہورہے ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان زیادہ تر مدارس ہی کی وجہ سے اسی طرح ۱۹۷۶ء کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی قرأت و تجوید جو مدارس میں سکھائی جاتی ہے وہ اسلام کی ایک عظیم خدمت ہے۔ واقعہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”سفر نامہ جلد اول صفحہ ۱۷۔
۱۲ مارچ کی صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد لوگ اس کمرہ میں جمع ہوگئے جہاں میرے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ دیر تک دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ قرآن کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل ترتیب وار درس قرآن کا طریقہ رائج ہوگیا ہے۔ یہ طریقہ بجائے خود درست مگر میرے تجربہ کے مطابق ، درسِ قرآن کو ترتیب نزولی کے اصول پر چلایا جائے تو وہ زیادہ مفید یعنی حالات کے مطابق ، قرآن کے منتخب حصوں کی تشریح و تفسیر۔ تاہم مارکیٹنگ کے اعتبار سے سلسلہ وار درس قرآن ہی زیادہ مفید ہے۔
پھر میں نے سورہ العصر اور سورہ التین کی روشنی میں ایک درس دیا۔ میں نے کہا کہ والْعَصْرِ ان الانسان لفی خسر کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زمانہ کی قسم، انسان بے شک گھاٹے میں ہے۔ تک میں سمجھتا ہوں، یہاں زمانہ (time) سے مراد انسانی تاریخ ہے۔ یعنی تاریخ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے :