History is a witness that man is in loss.
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تمام انسانوں کا کیس گھاٹے کا کیس ہے۔ انسان صرف وہ ہے جو ایمان اور عمل صالح کا ذخیرہ اپنے لیے جمع کرے۔
ماضی اور حال کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر انسان آخر کار احساسِ خسران میں مرتا ہے۔ شخص دولت کماتا ہے، کوئی عزت حاصل کرتا ہے، کوئی سیاسی اقتدار پر قبضہ کرتا ہے، کوئی لیڈر بن کر ابھرتا ہے، لیکن ہر شخص اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے مر جاتا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں خوشیوں کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے۔ وہ اس کو پانے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر ہر آدمی کا خاتمہ آخر کار اس احساس کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مطلوب دنیا کو نہ پا سکا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی خواہشیں لامحدود ہیں۔ مگر موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ محدود اور غیر معیاری دنیا میں لامحدود قسم کی معیاری خوشی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہی فرق خسران کا اصل سبب ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی
مطلوب دنیا موت کے بعد کے دور حیات میں رکھ دی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی تیاری تا کہ جس مطلوب زندگی کو وہ موت سے پہلے نہ پاسکا اس کو وہ موت کے بعد کے عالم میں
ایک صاحب نے ۱۸ صفحات کا ایک پمفلٹ دکھایا۔ اس کا نام تھا سچائی کی دریافت: (Exploring the Truth)۔ یہ پمفلٹ ایک عرب ملک کی طرف سے سیاحوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے چھاپا گیا تھا۔ ایک صاحب نے یہ پمفلٹ پڑھ کر سنایا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں غیرمسلموں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے اس قسم کے بہت سے پمفلٹ چھاپے گئے ہیں مگر یہ کتابیں آج کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں ۔ ایسی کتابیں کچھ روایتی مسلمانوں کو پسند آسکتی ہیں مگر جدید ذہن کی نسبت سے وہ بالکل بے فائدہ ہیں۔
اس کتاب کا پہلا عنوان تھا مسلمان ہونے کے فوائد (Benefits of Becoming a Muslim)۔ یہ دعوت کی زبان نہیں۔ یہ کتاب غیر ملکی سیاحوں میں تقسیم کرنے کے لیے چھاپی گئی ہے۔ ان غیر ملکی سیاحوں کا یہ مسئلہ نہیں کہ وہ مسلم گروہ میں شامل ہونے کے فوائد جاننا چاہتے ہیں۔ البتہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کے متلاشی ہیں۔ وہ روحانیت کی تلاش میں ہیں۔ اسی قسم کی باتیں ان کو اپیل ان لوگوں کے لیے اس طرز خطاب میں کوئی کشش نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو تم کو یہ فوائد حاصل ہوں گے۔
پوری کتاب اس قسم کے غیر فطری انداز میں لکھی گئی ہے۔ موجودہ صورت میں وہ صرف کچھ روایتی مسلمانوں کو پسند آسکتی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ غیر مسلموں کے اعتبار سے کوئی قابل مطالعہ
یہ کتاب بظاہر اسلام کی عمومی دعوت کے لیے لکھی گئی تھی۔ مگر وہ شروع سے آخر تک صرف مسلم ذہن کی نمائندگی کر رہی تھی۔ اس کو پڑھ کر ایک پیدائشی مسلمان تو خوش ہوسکتا تھا مگر عام انسان کے لیے اس میں کوئی اپیل نہ تھی۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم اہل قلم صرف ایسی کتابیں لکھ سکتے ہیں
جو مسلم ذہن کو اپیل کریں۔ اپنے قومی ذہن کی بنا پر وہ اس کے لیے نااہل بن چکے ہیں کہ وہ ایسی کتاب تیار کریں جو عام انسان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔
۱۲ مارچ کو بھوپال کی یونیورسٹی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا عنوان یہ تھا: امن عالم میں بھارت کا رول ۔ یونیورسٹی کے ہال میں طلبہ اور اساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وائس چانسلر اور دوسرے کئی حضرات نے شرکت کی۔
میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امن عالم کے معاملہ میں انڈیا کا رول بہت اہم ہے۔ مہاتما گاندھی انڈیا کے مشہور ترین لیڈر تھے۔ ۱۹۱۹ میں انہوں نے انڈیا کی جدوجہد آزادی کی قیادت سنبھالی ۔ اس سے پہلے انڈیا اور ساری دنیا میں لوگوں کو سیاسی جدوجہد کا ایک ہی طریقہ معلوم تھا اور وہ پرتشدد جدوجہد تھا۔ مہاتما گاندھی نے انڈیا کی جدوجہد آزادی کو نئی شکل دی۔ انہوں نے اس کو مکمل طور پر پرامن طریق کار کی بنیاد پر قائم کیا۔ انڈیا کے تمام لیڈروں، بشمول مسلم لیڈروں نے، مہاتما گاندھی کا ساتھ دیا۔ یہ مہم کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو انڈیا مزید خون بہائے بغیر آزاد ہوگیا۔
انڈیا میں پرامن طریق کار کے اس کامیاب تجربہ کا اثر عالمی سیاست پر پڑا۔ مختلف ملکوں کے لیڈروں نے اس کو اختیار کر لیا ۔ مثلاً ساؤتھ افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا، امریکہ کے سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ، وغیرہ۔ میں نے مزید بتایا کہ پرامن طریق کار کا یہ اصول اسلام میں بہت پہلے بتایا جا چکا مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم)۔ یعنی اللہ رفق پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ عنف پر نہیں دیتا۔ God grants to non-violence what he does not grant to violence. ۱۲ مارچ کی شام کو دو قسطوں میں طویل نشست ہوئی۔ اس نشست کا عنوان یہ تھا: تحریک الرسالہ منزل بہ منزل۔ اس نشست میں میں نے تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن کے ماضی اور حال کو بیان اس پوری تقریر کی باقاعدہ طور پر آڈیو ریکارڈنگ ہوئی تا کہ اس کے کیسٹ تیار کیے جاسکیں۔
میں نے اس تفصیلی تقریر میں جو کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ الرسالہ مشن میری زندگی سے مکمل طور پر جڑا ہوا ہے ۔ اس لیے اس کی وضاحت کے لیے مجھے کچھ اپنے بارے میں بتانا ہوگا۔ کہا کہ میرے نزدیک الرسالہ مشن ۱۹۳۸ سے شروع ہوتا ہے۔ اس وقت میرے گھر کا جو ماحول تھا اُس کے لحاظ سے مجھے انگریزی تعلیم کی طرف جانا چاہیے تھا۔ مگر میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں (وفات ۱۹۴۸) نے اصرار کر کے میرا داخلہ عربی مدرسہ میں کرایا۔ اُنہوں نے شروع سے آخر تک تمام اخراجات کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ میں ایک عربی درسگاہ میں تعلیم حاصل میں سمجھتا ہوں کہ عربی درسگاہ میں تعلیم کے بغیر میرے لیے یہ ناممکن تھا کہ میں الرسالہ مشن جیسی دینی تحریک چلا سکوں۔ اس معاملہ کو میں نے مدرسہ کی کئی مثالوں سے واضح کیا۔ مدرسہ کے بارہ میں مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب، دین وشریعت، باب دینی مدارس۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما تقریباً سب کے سب کسی وقتی ردعمل کے تحت ابھرے ہیں۔ مدرسہ کے تحت میری تعلیم کا یہ نتیجہ ہوا کہ میری سوچ حالات کے ردعمل کے زیر اثر نہیں بنی بلکہ خود مذہب اسلام کی مثبت تعلیم کے تحت بنی۔ اُس زمانہ کی تحریکوں میں سے کسی بھی تحریک سے میں متاثر نہیں میرا ذہن تمام تر قرآن اور حدیث اور سیرت کی روشنی میں بنتا رہا۔
میں نے کہا کہ اپنی پچھلی زندگی میں میں کئی مسلم جماعتوں سے محدود مدت کے لیے وابستہ رہا مگر میری یہ وابستگی تنظیمی اعتبار سے تھی، وہ فکری یا نظریاتی اعتبار سے نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں ایک پیدائشی داعی ہوں۔ آج میری جو سوچ ہے، میری وہی سوچ ابتدائی دور سے میرے اندر موجود رہی مثلاً میں ۱۹۴۸ میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوا۔ مگر یہ وابستگی زیادہ ترتنظیمی وابستگی تھی۔ فکر اُس وقت بھی وہی تھا جو بعد کو الرسالہ کے صفحات میں نمایاں ہوا۔
اس کا ایک ثبوت میری کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ میں جو مضامین ہیں وہ سب کے سب اُس زمانہ میں لکھے گئے اور شائع ہوئے جب کہ میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھا۔ کوئی بھی شخص جو اس کتاب کو پڑھے وہ پائے گا کہ جو ذہن آج الرسالہ کے
صفحات میں نظر آتا ہے، ٹھیک وہی ذہن ان قدیم مضامین کو لکھتے وقت میرے اندر پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر قرآن کا مطلوب انسان میں ایک مضمون ”دعوت اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں“ شامل ہے۔ یہ تحریر جماعت اسلامی کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے شمارہ ۵ ستمبر ۱۹۵۵ میں شائع ہوئی تھی۔ کوئی آدمی اس مضمون کو پڑھے اور اس کے بعد وہ اس کے پچاس سال بعد چھپنے والے اِس مضمون کو پڑھے جو الرسالہ دسمبر ۲۰۰۴ میں اِس عنوان کے تحت چھپا ہے: ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا، قاری محسوس کرے گا کہ لکھنے والے کا ذہن پچاس سال بعد بھی وہی ہے جو کہ پچاس سال پہلے اُس کا تھا۔
یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میری تعلیم ایک ایسے عربی مدرسہ میں ہوئی جہاں پورا قرآن بطور نصاب پڑھایا جاتا تھا۔ اس بنا پر فطری طور پر ایسا ہوا کہ میرا ذہن ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلہ کا حل قرآن سے اخذ کرنے لگا۔ میری ذہنی ساخت کے مطابق، کوئی اور چیز میرے فکر کا ماخذ نہ بن سکی۔ یہ عربی درسگاہ مدرسۃ الاصلاح تھی۔ اس مدرسہ کے بانی مولانا حمید الدین فراہی نے اس کا نصاب قرآن کی بنیاد پر وضع کیا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ اس میں مولا نا حمید الدین فراہی کا تفسیری اصول شامل ہو گیا۔ مولا نا فراہی کا ماننا تھا کہ نظم، فہم قرآن کی کلید ہے۔ چنانچہ مدرسہ میں قرآن کی تعلیم ”نظام القرآن“ کے اصول پر دی جاتی تھی۔ ابتداء میں بھی اس سے متاثر ہوا۔ مگر بعد کو میرے ذہن نے اس کو رد کر دیا۔
اس تعلیم کے نتیجہ میں میرے اندر فکری طور پر قرآنی شاکلہ بنا۔ میں تمام معاملات کو قرآن کی روشنی میں دیکھنے لگا۔ ہر مسئلہ کا جواب قرآن میں تلاش کرنے لگا۔ مسلمانوں کے لیے راہ عمل کیا ہو، اس سوال کا جواب قرآن میں ڈھونڈھنے لگا۔ مدرسہ کی تعلیم کا یہ بلا شبہہ بہت بڑا فائدہ تھا جو مجھ کو اپنی ابتدائی عمر میں حاصل ہو گیا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 1947 کے بعد ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ صرف ایک ہی بات لکھنا اور بولنا جانتے تھے اور وہ یہ کہ
حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا لفظی ہنگامہ کھڑا کرنا۔ نے بتایا کہ اس مسئلہ کا یقینی حل قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس معاملہ میں صبر اور تقویٰ کمی روش اختیار کریں، اس کے بعد دوسروں کی سازش انہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی (آل عمران ۱۲۰) اسی اصول کو اختیار کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اب ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔
میں نے مزید کہا کہ کسی کے لیے بھی مدرسہ کی تعلیم کافی نہیں ہو سکتی۔ رسمی تعلیم کسی کو معلومات دے سکتی ہے۔ مگر ایک اور چیز ہے جو مدرسہ کی تعلیم سے نہیں ملتی۔ وہ ہمیشہ ذاتی مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ منطقی تجزیہ (logical analysis) ہے۔ تجزیہ اور تحلیل کے ذریعہ آدمی حاصل شدہ معلومات کو با معنی بناتا ہے۔ تجزیہ کی صلاحیت کے بغیر معلومات کا فائدہ بہت کم ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امیر شکیب ارسلان کی کتاب لماذا تاخر المسلمون و تقدم غيرهم کو میں نے مدرسہ کے زمانہ میں پڑھا تھا۔ مگر اس کتاب میں کیا کی ہے، اس کو میں اُس وقت دریافت نہ کر سکا۔ بہت دنوں کے بعد حال میں میں نے اس کتاب کو دوبارہ پڑھا۔ اب میں نے جانا کہ یہ کتاب اپنے شاندار ٹائٹل کے باوجود ایک سطحی کتاب ہے۔ اس کی زبان یقیناً بہت عمدہ ہے۔ مگر وہ حقیقی معنویت سے خالی ہے۔
حالیہ مطالعہ کے بعد میں نے غور کیا کہ اس کتاب میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے تقدم اور تاخر کا ایک ہی معیار تسلیم کیا گیا ہے، اور وہ سیاسی اور مادی ہے۔ مصنف دونوں گروہ کو اسی کسوٹی پر جانچ رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے لوگ ایک طرف مسلمانوں کو خیر الامم اور افضل الامم بتاتے ہیں اور دوسری طرف وہ ان کو اُسی معیار سے جانچنے لگتے ہیں جو دوسری قوموں کے نزدیک ترقی اور تنزل کا معیار ہے۔ جب کہ دونوں کا معیار ایک نہیں ہو سکتا۔ الرسالہ مشن کے بارہ میں جو تفصیلات میں نے بتائیں اُس سے حاضرین بہت زیادہ متاثر کئی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو یہ معلوم نہ تھا کہ الرسالہ مشن
کے سلسلہ میں آپ کو اتنے سنگین مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ اس تقریر کو دو کیسٹ میں ریکارڈ کیا گیا تھا مگر وہ مکمل نہ ہوسکا۔ اس سلسلہ میں تیسرے کیسٹ کی ریکارڈنگ ابھی باقی ہے۔ انشاء اللہ کسی اور موقع پر اس سلسلہ کا تیسرا کیسٹ تیار کیا جائے گا۔ اس کے بعد تینوں کیسٹ کی نقلیں تیار کی جائیں گی تاکہ مختلف مقامات کے لوگ اس کو حاصل کر سکیں۔
ایک مجلس میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کا ایک دردناک تجربہ یہ ہے کہ پوری تاریخ میں کبھی مثبت معنوں میں کوئی زیادہ بڑا اور گہرا کام نہ ہوسکا۔ اس عموم میں صرف ایک ہی استثناء ہے اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ کے ذریعہ مسلمہ طور پر ایک عظیم انقلاب برپا ہوا، ایک ایسا انقلاب جو اپنے مثبت نتائج کے اعتبار سے نہ آپ سے پہلے پیش آیا اور نہ آپ کے بعد۔
مسلمان عام طور پر اس معاملہ کو فضیلت اور تقدس کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں۔ اس لیے اس واقعہ کے سبق آموز پہلو کو وہ سمجھ نہیں پاتے۔ میرے مطالعہ اور تجربہ کے مطابق کسی مشن کی حقیقی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے افراد کی ایک ٹیم حاصل ہوجائے۔ مگر تاریخ میں بار بار ایسا ہوا کہ ایک شخص نے ایک دور رس مشن شروع کیا۔ ابتداء میں اعلیٰ صلاحیت والے لوگ اس مشن سے جڑے مگر جلد ہی وہ اس سے الگ ہوگئے۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ صلاحیت کے افراد کے اندر جلد ہی یہ سوچ آ جاتی ہے کہ ہم دوسرے کا ضمیمہ کیوں بنیں۔ کیوں نہ ہم خود اپنا ایک مستقل مشن کھڑا کریں۔ یہی واقعہ تاریخ کے تمام صاحب مشن افراد کے ساتھ پیش آیا ہے۔ خود الرساله مشن کے بارے میں بھی میرا تجربہ یہی ہے۔ ابتدائی زمانہ میں کم از کم ایک درجن ایسے افراد ہمارے ساتھ جڑے جو نہایت اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ مگر بعد کو ان سب نے یہ کیا کہ ہم سے کٹ کر اپنی علیحدہ دنیا بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے کچھ نے خاموشی کے ساتھ اپنا الگ کام شروع کر دیا اور کچھ نے الگ کام کے ساتھ ہماری مخالفت کو بھی ضروری سمجھا، شاید اس لیے کہ وہ اپنی علیحدگی کو جائز ثابت کر سکیں۔ تاہم ہمارے کئی ساتھی ایسے ہیں جو اعلیٰ صلاحیت کے باوجود ہمارے
ساتھ مسلسل جڑے رہے۔ انہی میں سے ایک نام بھوپال کے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ندوی کا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے درسِ میںقرآن کا ایک کیسٹ سنا۔ اُس قرآن کی یہ آیت آئی: یا ایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط (النساء ۱۳۵) انہوں نے کہا کہ اس کیسٹ میں قرآن کی اس آیت کی تشریح یہ کی گئی تھی کہ اے ایمان والو، تم قسط کو قائم و نافذ کرنے والے ساری دنیا میں قسط اور عدل کا نظام قائم کرو۔ اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت پیش آئے تو تم کو جنگ کر کے ساری دنیا میں قسط کا نظام برپا کرنا چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آیت کی یہ تشریح
میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد تشریح ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ قوامین بالقسط کا مطلب، خود قسط کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ خارجی دنیا میں قسط کا نظام نافذ کرنا۔ اس قسم کی تفسیروں سے نہایت غلط ذہن بنتا ہے۔ قرآن کے مطالعہ یا درس کا اصل فائدہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر خود احتسابی کا وہ اصلاحِ خویش کے عمل میں مصروف ہوجائے۔ مگر مذکورہ قسم کے درسِ قرآن سے اُلٹی سوچ بنتی ہے۔ اس سے لوگوں کے اندر سیاسی اور خارجی ذہن بنتا ہے، نہ کہ داخلی ذہن، جو کہ اصلاً
اصل یہ ہے کہ عربی زبان میں دو لفظ الگ الگ ہیں، قائم اور مقیم۔ قائم کا لفظ لازم کا صیغہ ہے اور مقیم کا لفظ متعدی کا صیغہ۔ اس آیت میں قوام کا لفظ قائم کا مبالغہ ہے، وہ مقیم کا مبالغہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو، تم خوب خوب قسط پر قائم ہوجاؤ، اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ قسط کی پیروی کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم قسط کو زمین پر نافذ کرنے والے بنو۔ میرے نزدیک اس قسم کی تفسیر نحوی انحراف کا واقعہ ہے۔ قرآن میں اس قسم کا نحوی انحراف سخت جسارت کی بات ہے۔ نے اپنے مطالعہ میں اس قسم کا نحوی انحراف صرف اردو تفسیروں میں پایا ہے۔ قدیم عربی تفسیروں میں البتہ سید قطب کی فی ظلال القرآن میں ایسے نحوی انحراف کی مثالیں موجود ہیں۔ کچھ لوگوں سے مسلم صحافت کے بارہ میں بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانان
ہند کے درمیان جو ملّی صحافت پیدا ہوئی اس کو لکھنؤ کے ایک سابق روز نامہ قائد نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ ہندوستان کی مسلم صحافت احتجاجی صحافت ہے (۱۹۷۶) بدقسمتی سے مسلم صحافت کا یہ انداز ابھی تک جاری ہے۔ حالاں کہ اب حالات اتنے زیادہ بدل چکے ہیں کہ اب ایسی صحافت کا ہندوستان میں کوئی مستقبل نہیں۔
میں نے اُسی زمانہ میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کی احتجاجی صحافت صرف اُس وقت تک چلے گی جب تک مسلمان بے خبری کے دور میں جی رہے ہیں۔ میں نے لکھا تھا کہ انڈیا مسلمانوں کے لیے عظیم مواقع (opportunities) کا ملک ہے۔ مگر نام نہاد رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں وہ انڈیا کو اپنے لیے ایک پرابلم کنٹری سمجھ رہے ہیں۔ جس دن ایسا ہوگا کہ مسلمان انڈیا کو امکانات کے ملک کی حیثیت سے دریافت کریں گے اُسی دن شکایت اور احتجاج پر مبنی صحافت اور سیاست ختم ہو جائے گی۔ یہ دور اب انڈیا میں خاموشی کے ساتھ آچکا ہے۔ اب انڈیا کے مسلمان جان چکے ہیں کہ یہاں ان کے لیے ترقی کے بھرپور مواقع موجود ہیں، حتیٰ کہ اس سے بھی زیادہ جتنا کہ پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب انڈیا کا مسلمان تیزی سے تعلیم و ترقی کے راستہ پر سرگرم سفر ہوگیا ہے۔ اب اس ملک میں قدیم طرز کی احتجاجی سیاست کامیاب ہونے والی نہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ نہایت ذہین تھے اور رسمی تعلیم کے علاوہ انہوں نے اسلامیات کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اسلام کو فائنل مذہب بتاتے مگر مجھے تو اسلام ایک دُشوار گذار جنگل معلوم ہوتا ہے جس سے گذر کر اپنی منزل تک پہنچنا سخت
انہوں نے کہا کہ قرآن بلا شبہ ایک محفوظ کتاب ہے۔ مگر قرآن میں صرف اُصولی تعلیمات اس بنا پر قرآن میں ایک سے زیادہ تعبیر (interpretation) کی گنجائش ہو گئی ہے۔ ذخیرہ میں ضعیف اور موضوع احادیث شامل ہو گئی ہیں۔ کتب صحاح بھی اس سے پاک نہیں۔ عملاً مغازی کی داستان بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ بھی سیاسی واقعات کی تاریخ بنی ہوئی ہے۔
اختلافى بحثوں کا مجموعہ ہے۔ کتبِ عقائد بھی اختلافات سے خالی نہیں۔ ایسی حالت میں ایک طالبِ علم کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ اسلام حقیقت میں کیا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات بطورِ واقعہ ایک حد تک درست ہے۔ مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں، یہ کوئی نقص کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تقلیدی اسلام مطلوب نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو وہ انسان مطلوب ہے جو اسلام کو ایک ڈسکوری کے طور پر دریافت کرے۔ اس کو قرآن میں معرفتِ حق (المائدہ ۸۳) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ وہ ہے جو کسی کو معرفت کی سطح پر ملے، نہ کہ تقلید کی سطح پر۔
اسلام کی موجودہ صورت ہی کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے اندر غور وفکر کا عمل وہ گہرے مطالعہ اور تجزیہ کے مراحل سے دوچار ہو۔ وہ ابہام کی وادیوں سے گزرے۔ اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تلاش کو یافت بنائے۔ وہ شک کے پردوں کو پھاڑ کر یقین کا مقام حاصل کرے۔ وہ اپنی بصیرت کو اس حد تک بیدار کرے کہ وہ نہ دکھائی دینے والے عالم کو وہ خدا کا اس طرح پرستار بن جائے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ وہ افکار کے جنگل میں روشنی کے مینار کو پالے۔ اسی کا نام عارفانہ ایمان ہے، اور خدا کو عارفانہ ایمان مطلوب ہے، نہ کہ
میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ارشاد ہوا ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اُٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران ۱۹۰۔
اس قرآنی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی غور وفکر کے ذریعہ سچائی تک پہنچتا ہے۔ اگر سچائی کو پانے کے لیے غور وفکر کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن کو ایک مینول (manual) کے روپ میں اتارا جاتا۔
اس میں ریاضیات کی زبان میں کچھ قانونی احکام ہوتے آدمی کسی ذہنی کاوش کے بغیر سادہ طور پر صرف اس کو پڑھ کر جان لیتا۔
مگر اس قسم کا رسمیاتی ایمان خدا کو مطلوب ہی نہیں۔ ایسا ایمان کسی روبوٹ جیسی مخلوق کا ہو سکتا مگر وہ انسان جیسی مخلوق کے لیے نہیں ہو سکتا۔ انسان ایک زندہ اور صاحب فکر ہستی ہے۔ سے یہی مطلوب ہے کہ وہ اپنی فکری صلاحیت کو متحرک کر کے حقیقت کو پائے۔ اس طرح کی تلاش کے بعد جو حقیقت آدمی کو ملے وہ اس کی پوری ہستی میں شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ مینول یا آداب (etiquette) جیسا ایمان آدمی کے وجود کا صرف ایک خارجی ضمیمہ ہوتا ہے۔ ایسا بے روح ضمیمہ خدا کو مطلوب نہیں۔ ۱۲ مارچ کو ایک خصوصی پروگرام تھا۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر کی دعوت پر میں اُن کی سرکاری رہائش گاہ پر گیا۔ میرے ساتھ پندرہ افراد تھے۔ تعداد کو محدود رکھنا تھا اس لیے کئی ساتھی اس میں نہ جاسکے۔ اُن میں سے دو کے نام یہ ہیں: سنتھی مہوتراہ اور منجو ورمانی۔ جب جب میں چیف منسٹر کی رہائش گاہ سے واپس آیا تو معلوم ہوا کہ دونوں خواتین بہت غم زدہ ہیں اور اس محرومی پر رو رہی ہیں۔ میں نے دونوں کو بلایا اور کہا کہ آپ کا یہ منفی تاثر ہمارے مشن کی اسپرٹ سے مطابقت نہیں ہمارا مشن یہ ہے کہ ہر منفی تجربہ کو مثبت سوچ میں تبدیل کیا جائے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی سوچ کو اس معاملہ میں آپ اس طرح سوچئے کہ اس موقع پر دوسروں کو اگر شرکت (participation) کا موقع ملا تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ قربانی (sacrifice) کا ثبوت دے کر زیادہ بڑے انعام کے مستحق یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور دونوں خواتین محرومی کے احساس کو بھلا کر یا فت کے احساس سے خوش ہوگئیں۔