سوال و جواب
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
بھوپال کے اجتماع کے موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی۔ ان ملاقاتوں کے درمیان لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کیے۔ اس سوال و جواب کی مختصر روداد یہاں نقل کی جاتی ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور کے مسلم علماء نے جو باتیں کہی ہیں، ان کی ایک قسم وہ ہے جو نص قطعی پر مبنی ہو۔ کوئی عالم جب ایک ایسی بات کہے جو قرآن و حدیث کے ثابت شدہ حوالوں پر مبنی ہو تو ایسی رائے پر کسی کو تنقید کا حق نہیں۔ مثلاً ایک عالم یہ کہتا ہے کہ نماز اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے تو اس پر کوئی شخص تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کیوں کہ یہ رائے ایک معلوم نص پر مبنی ہے۔
رائے کی دوسری قسم وہ ہے جو قرآن و حدیث پر اضافہ کے ہم معنی ہو۔ مثلاً دار الكفر ، دار الحرب دار الاسلام کی اصطلاحیں مقرر کرنا۔ ایسی رائے شرعی اصطلاح کے مطابق ایک اجتہاد ہے۔ اجتہاد کے بارے میں شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی (المجتهد يخطئ ويصيب) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو رائے اجتہادی نوعیت رکھتی ہو اس کے بارے میں ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اس کو جانچ کر دیکھے کہ وہ عالم کا صحیح اجتہاد ہے یا غلط اجتہاد۔ اجتہاد آيا وہاں اس سے اختلاف کرنا ممکن ہوگیا۔ ایسی حالت میں کسی عالم کی اجتہادی رائے پر علمی تنقید کرنا یقینی طور پر جائز ہے۔ جو لوگ ایسی تنقید کو بُرا سمجھیں وہ خود شرعی اعتبار سے ایک غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں اسلامی ریاست کے قیام کا مخالف نہیں میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ریاست سے پہلے ہمیشہ افراد اور ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل افراد ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو قائم کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست کاغذ سے نکل کر زمین پر قائم نہیں ہوتی۔
آج بھی دنیا میں مسلمانوں کی ۵۷ ریاستیں ہیں۔ ان میں وہ ریاستیں بھی موجود ہیں جو اسلامی ریاست کے نام ہی پر قائم کی گئیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ان میں سے کوئی بھی ریاست حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست نہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے کسی ریاست کو کامیاب قومی ریاست بھی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ سنگاپور یا جاپان کو کامیاب قومی ریاست کہا جاتا ہے۔
اسلامی ریاست بلا شبہہ ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے فکری عمل کے ذریعہ اسلامی افراد تیار کیے جائیں۔ اس کے بعد غیر سیاسی تحریک کے ذریعہ اسلامی معاشرہ بنایا جائے۔ اس کے بعد وہ وقت آئے گا جب کہ اسلامی ریاست کسی زمینی خطہ میں قائم ہو۔ اسلامی ریاست کے نام پر جنگجو یانہ تقریریں کرنا یا قائم شدہ حکومتوں کے خلاف سیاسی ہنگامہ کھڑے کرنا بلا شبہہ ایک مجرمانہ فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی اسلامی ریاست کی طرف کوئی اقدام نہیں۔
۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بنا تو وہاں کے ایک مسلم رہنما نے کہا تھا کہ : پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس مفروضہ کی بنیاد پر پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ مگر آخر میں یہ معلوم ہوا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ نہیں ہوا تھا بلکہ وہ صرف ایک بگڑی ہوئی مسلم قوم کے نام الاٹ ہوا تھا۔ یہ تلخ تجربہ کافی ہے کہ اب دوبارہ اس نام نہاد اسلامی سیاست کو نہ دہرایا جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کو ہر قسم کے اعلی مواقع مگر میرے تجربہ کے مطابق ، یہاں شاید کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جو اس کو ایک نعمت سمجھے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سے اب تک مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف بے بنیاد شکایتوں کا دفتر کھولے ہوئے ہیں ۔ یہ بلاشبہہ ناشکری کا ایک واقعہ ہے۔ ناشکری کے اس ناروا فعل میں مسلمانوں کے مذہبی اور سیکولر دونوں قسم کے لوگ مبتلا ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے ایک مسلم اسپیکر نے ملی موضوعات پر ایک تقریر کی۔ آخر میں ایک ہندو نے سوال کیا کہ آپ لوگ کیوں ہم کو کافر کہتے ہیں، حالاں کہ کافر ایک ڈیروگیٹری (derogatory) لفظ ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم مقرر نے کہا کہ ہمارے نزدیک جو شخص مسلم نہیں وہ کافر ہے۔ کافر کا لفظ نان مسلم کے ہم معنی ہے۔ آپ اسلام قبول کر کے مسلم بن جائیں تو ہم آپ کو کافر نہیں کہیں گے۔
یہ بلاشبہہ ایک غلط جواب ہے۔ اس کی غلطی اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں اگر کوئی
ہندو مقرر ہندوازم پر تقریر کرے اور پھر ایک پاکستانی مسلمان اُس سے کہے کہ آپ لوگ مسلمانوں کو کچھ کیوں سمجھتے ہیں اور ہندو مقرر اس کے جواب میں یہ کہے کہ ہمارے نزدیک جو شخص ہندو نہیں وہ مچھ ہے، آپ لوگ اپنا مذہب بدل کر ہندو بن جائیں تو ہم آپ کو مچھ نہیں کہیں گے۔ اگر پاکستان کا کوئی ہندو پبلک اسٹیج پر اس طرح بولے تو اس کو اُسی وقت قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہندوستان کے مذکورہ مسلم مقرر بدستور امن کے ساتھ ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ ان کی تقریر کے ویڈیو کیسیت جگہ جگہ دیکھے اور سنے جا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کے لیے کتنی بڑی نعمت تاہم مذکورہ قسم کا واقعہ ہندوستان کی آزادی کو مس یوز (misuse) کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔ فعل شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔
ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کتا بیں لکھیں۔ مثلاً جسٹس امیر علی اور پروفیسر مجیب، مگر ان لوگوں نے اسلام کی مرعوبانہ تشریح کی۔ وہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش نہ کر سکے۔ مثلاً جسٹس امیر علی نے اپنی کتاب اسپرٹ آف اسلام میں تعدد ازواج کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کی اس تعلیم کو قدیم قبائلی رواج کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، کیوں کہ اس وقت تعدد ازواج کا عام رواج تھا اور اس کو بُرا نہیں مانا جاتا تھا۔ مگر یہ تو جیہہ درست نہیں۔ کی توجیہات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام قدیم زمانہ کے لیے تھا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام قابلِ
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل سوشل ورک اور کمیونٹی ورک وغیرہ کا بہت چرچا ہے مگر اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ سوچ درست نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا قبیلہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے کر آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتا (التوبہ ۲۴) اس آیت کے مطابق، انسانی تعلق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے قلبی تعلق (loving relationship) اور دوسرا ہے عملی تعلق (working relationship) خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق، دلی محبت کا تعلق صرف خالق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کوئی انسان خالق کے سوا کسی اور سے اگر دلی تعلق کرتا ہے تو وہ خالق کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایسا آدمی خدا کی رحمت سے محروم کر دیا جائے گا۔ البتہ جہاں تک عملی تعلق یا ضرورت کے تحت تعلق کی بات ہے، وہ کسی بھی غیر خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کمیونٹی ورک، فیملی لائف، ملی خدمت، قومی تعلق، سوشل ورک وغیرہ اگر ضرورت کے دائرہ میں کئے جائیں تو وہ خدا کی شریعت میں جائز قرار پائیں گے مگر ایسے کام کی حیثیت سکینڈری ہوگی نہ کہ پرائمری۔ لیکن اگر انہی چیزوں کو سب کچھ بنا دیا جائے، آدمی کا ذہن انہی کاموں کے لیے سوچے، اس کا وقت اور پیسہ انہی کاموں پر خرچ ہو، وہ انہی باتوں کا چرچا کرے، وہ انہی باتوں کے لیے تحریکیں چلائے تو خدا کے نزدیک وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہی وہ سرگرمیاں ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ ان کو بہت اچھا کام سمجھتے ہیں مگر خدا کے یہاں وہ حبط اعمال کے خانہ میں ڈال دیے جائیں گے۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں ایک مقام پر پچھلے پیغمبروں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام سے کہا گیا ہے کہ : اولئك الذين هدی الله فبهداهم اقتده (الانعام ۹۰)۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے اعتبار سے تمام پیغمبروں کا درجہ برابر ہے۔ ہر پیغمبر یکساں طور پر قابلِ اتباع ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں پیدا ہوئے ۔ ہر پیغمبر کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ ان حالات میں دینِ خداوندی کی پیروی کا طریقہ کیا پیغمبروں کے درمیان فرق کرنا اس حکمتِ الہیہ کی تردید ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب بھی ایسا ہو کہ کسی پیغمبر کے زمانہ میں جو حالات تھے وہی حالات دوبارہ پیش آئیں تو بعد کے لوگوں کے لیے سابقہ
پیغمبر کے طریقہ کی پیروی عین اسلام قرار پائے گی۔ یہ دراصل حالات کے فرق کا معاملہ ہے نہ کہ پیغمبروں کے درمیان فرق کا معاملہ۔
اس اُصول کو ملحوظ نہ رکھنے کی صورت میں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قابلِ عمل نہ مثلاً اگر یہ مانا جائے کہ فتح مکہ کے بعد کا دور نبوت تکمیلی دور نبوت ہے اور فتح مکہ سے پہلے کا دور نبوت غیر تکمیلی دور نبوت، تو پچھلے دور کے تمام پیغمبرانہ نمونے منسوخ قرار پائیں گے۔ مثلاً مکہ کے ابتدائی زمانہ میں چھپ کر نماز پڑھنا یا خفیہ دعوت دینا، کعبہ میں بتوں کی موجودگی سے تعرض نہ کرتے ہوئے دعوت کا کام کرنا، مخالفین قریش کے ظلم کو سہنا مگر اُن سے ٹکراؤ نہ کرنا، مکہ میں جنگی چیلنج سے اعراض کرتے ہوئے خاموشی سے مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جانا، طائف کے مشرک سرداروں سے پناہ طلب کرنا، ہجرت کے سفر میں دشمنوں کے خوف سے غارِ ثور میں چھپنا، مدینہ کے ابتدائی دور میں یہود کے ساتھ مصالحت کا معاملہ کرنا، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام پیغمبرانہ واقعات بلاشبہ اسلامی زندگی کے مطلوب نمونے ہیں۔ مگر فتح مکہ کے بعد کے زمانہ کو اعلیٰ زمانہ قرار دینے کی صورت میں یہ تمام نمونے منسوخ قرار پائیں گے اور ان نمونوں کی حکمت اہل اسلام کے لیے نا قابل فہم بن جائے گی۔ اسلام میں اصل چیز یہ ہے کہ مختلف حالات میں اہل ایمان نے کیا رسپانس دیا۔ اس لحاظ سے مکی دور اور مدنی دور دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں ہی دوروں میں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ اہل ایمان اپنے حالات کے اعتبار سے وہ رسپانس دے سکیں جو اس وقت ان سے مطلوب تھا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بیسویں صدی پوری تاریخ انسانی کی ایک استثنائی صدی تھی۔ اس صدی میں جدید افکار اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ اس صدی میں دو انتہائی بڑے دماغ پیدا ہوئے ۔ برطانیہ میں برٹرینڈ رسل اور انڈیا میں ڈاکٹر رادھا کرشنن ۔ دونوں کا زمانہ تقریباً ایک ہے۔ برٹرینڈ رسل کی وفات ۱۹۷۰ میں ہوئی اور ڈاکٹر رادھا کرشنن کی وفات ۱۹۷۵ دونوں نے لمبی عمر پائی۔ برٹرینڈ رسل نے الحاد کو ایک منظم فکر کی حیثیت دی، اور رادھا کرشنن نے شرک کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔
یہ دونوں مفکرین بلاشبہ غلط سوچ کا شکار ہوئے۔ برٹرینڈ رسل نے الحاد کے لیے فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے اگر کائنات کو بنایا ہے تو خدا کو کس نے بنایا۔ حقائق، خاص طور پر بگ بینگ کی دریافت، نے اس دلیل کو غیر سائنسی ثابت کر دیا۔ ان دریافتوں کے بعد اب انسان کے لیے بے خدا کائنات اور باخدا کائنات کے درمیان چوائس نہیں رہا ہے بلکہ اب جو چوائس ہے وہ باخدا کائنات یا غیر موجود کائنات میں ہے۔ جدید دریافتوں کے بعد ہم علمی طور پر بے خدا کائنات کا چوائس نہیں لے سکتے۔ اس لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم باخدا کائنات کا انتخاب کریں: Now the choice is not between universe with God and universe without God. The real choice is between universe with God or no universe at all. Since we cannot opt for the second choice, we are compelled to opt for the first choice, that is universe with God. مذکورہ سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بیسویں صدی میں مذہبی نقطۂ نظر سے بڑا دماغ وہ تھا جس کو ڈاکٹر رادھا کرشنن کہا جاتا ہے۔ رادھا کرشنن نے شرک کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے افکار کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جب خدا کی پرستش کے لیے بُت کو سامنے رکھتے ہیں تو وہ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم خود بُت کو خدا سمجھتے ہیں۔ بُت کو علامتی طور پر سامنے رکھنا صرف ذہنی ارتکاز(concentration) کے لیے ہوتا ہے۔
یہ توجیہہ بلاشبہ غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔ یہ اس مفروضہ پر قائم ہے کہ انسان نہ دکھائی دینے والی حقیقت کو ذہنی طور پر فوکس نہیں کر سکتا۔ حالاں کہ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ انسان کی سب سے بڑی صفت تصوراتی فکر (conceptual thinking) ہے۔ اسی صلاحیت کو استعمال کر کے انسان نے تمام بڑی بڑی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود رادھا کرشنن نے اسی انسانی صلاحیت کو استعمال کر کے اپنا مذکورہ فلسفہ بنایا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی اس صلاحیت کو خدا کی پرستش کے معاملہ میں استعمال نہ کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بُت کو سامنے رکھ کر خدا کی پرستش کرنا خدا کی تصغیر ہے۔ یہ پرستش کی ایک کمتر
صورت (reduced form) ہے۔ عبادت کے عمل کو کچھ رسمیات (rituals) کا درجہ دینا ہے۔ عجیب بات ہوگی کہ انسان دوسری اعلیٰ حقیقتوں کو تو اپنی تصوراتی تفکیر کے ذریعہ حاصل کرے۔ سے عبادتی تعلق کے لیے وہ اپنی تصوراتی فکر کی صلاحیت کو استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ مذکورہ مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ بیسویں صدی میں الحاد کو ایسے اعلیٰ ذہن ملے جنہوں نے الحاد کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش اسی طرح اس صدی میں ایسے اعلیٰ ذہن ملے جنہوں نے شرک کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی کوشش کی۔ یہی کام موجودہ زمانہ میں توحید کے نظریہ کے بارہ میں ہونا چاہیے۔ مطالعہ کے مطابق، کوئی بھی بڑا ذہن ایسا نہیں ابھرا جو توحید کے نظریہ کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کا اہم کام انجام دے۔
یہ واقعہ ہے کہ بیسویں صدی میں توحید پرستوں کے حلقہ میں نہایت بڑے بڑے دماغ پیدا مثلاً سید جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، وغیرہ۔ مگر ان دماغوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیت کو دوسرے غیر متعلق کاموں میں ضائع کیا۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہ کر سکا کہ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو برٹرینڈ رسل اور رادھا کرشنن کی سطح پر توحید کے نظریہ کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کے لیے استعمال کرے۔
سید جمال الدین افغانی نہایت اعلیٰ صلاحیت کے آدمی تھے۔ مگر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بے فائدہ سیاست میں ضائع کر دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک عبقری انسان تھے۔ مگر وہ بھی اپنی اعلیٰ صلاحیت کو وقتی سیاست میں ضائع کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دنیا سے چلے گئے۔
ڈاکٹر محمد اقبال نے اس موضوع پر کچھ خطبات دیے جن کا مجموعہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے نام سے چھپا۔ مگر کتاب کے (Reconstruction of Religious Thought in Islam) مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اس معاملہ میں غلط فکری کا شکار ہو کر رہ گئے۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ توحید کے حق میں اعلیٰ فکری استدلال فراہم کریں۔ مگر انہوں نے توحید کو وحدت وجود (monism)
کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالاں کہ وحدتِ وجود ایک منحرف عقیدہ ہے نہ کہ توحید کا پیغمبرانہ نظریہ۔ اس مسئلہ کمی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ الرسالہ مشن اسی کی کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت درجنوں کی تعداد میں جو کتابیں اردو، عربی، انگریزی، وغیرہ زبانوں میں چھاپی گئی ہیں وہ دراصل توحید کے نظریہ کو عصری اسلوب اور عصری دلائل کی صورت میں پیش کرنا ہے تا کہ توحید کی صداقت کو از سر نو وقت کے معیارِ ذہنی پر مدلل کیا جا سکے، اور اس کو وقت کے انسان کے لیے قابل فہم بنایا جا سکے۔
ایک صاحب جو بھوپال کے اجتماع میں شریک ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں الرساله میں آپ کے سفر نامے پڑھتا تھا، مگر مجھے ابھی تک ان سفر ناموں کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ بھوپال کے سفر میں شریک ہو کر میں نے یہ جانا کہ آپ کا سفر عام سفروں سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ میں اتنے زیادہ فائدے ہیں جو کسی سفر نامہ میں نہیں آسکتے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ہر سفر میں شرکت کروں تا کہ آپ کے سفروں سے پورا پورا فائدہ حاصل کر سکوں۔ میں نے کہا کہ عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ اس کے بجائے آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ سطور کے ساتھ آپ بین السطور کو پڑھ سکیں۔ اگر آپ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کر لیں تو انشاء اللہ ہر سفر نامہ کو پڑھنے سے آپ کو وہی فائدہ ہو گا جو بھوپال کے سفر میں شرکت کی وجہ سے آپ کو حاصل
۱۲ مارچ کی شام کو نمازِ عشاء کے بعد میری رہائش گاہ پر کئی ہندو لیڈر اور جرنلسٹ آگئے۔ لوگ تھے جن کو مقامی طور پر کٹر وادی (hardliners) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے جب گفتگو شروع کی تو آغاز میں اُن کے لہجے میں کسی قدر تلخی تھی۔ مگر جب میں نے گفتگو شروع کی تو جلد ہی اُن کی تلخی ختم ہوگئی اور بالکل معتدل ماحول میں ساری گفتگو ہوتی رہی۔ آخر میں وہ لوگ اس طرح رخصت ہوئے کہ لوگوں کے بیان کے مطابق، ان کی آنکھوں میں خوشی اور اطمینان کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ گفتگو کے دوران ایک بنیادی بات میں نے یہ کہی کہ آپ لوگوں کی ساری غلط فہمی کا سبب یہ
ہے کہ آپ مسلمان اور اسلام کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ آپ مسلمانوں کے عمل کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کہ وہی اسلام ہو۔ حالاں کہ دونوں ایک دو سو سے بالکل الگ ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو یہ جاننا ہو کہ گیتا کی تعلیم کیا ہے تو اس کے لیے آپ گیتا کو پڑھیں گے۔ آپ ایسا نہیں کریں گے کہ ہندوؤں کو دیکھ کر یہ رائے بنا لیں کہ اسی کا نام گیتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ایک دستور یہاں بھی آپ ایسا نہیں کریں گے کہ ملک کے لوگوں کو دیکھیں اور یہ مان لیں کہ اسی کا نام دستور میں نے کہا کہ اسی طرح آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مسلمان جو کچھ کریں اُسی کو آپ اسلام کی تعلیم سمجھ لیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ آپ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی روشنی میں :
You have to differentiate between Islam and Muslims. You have to judge Muslims in the light of Islamic teachings and not vice versa. ۱۳ مارچ کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد حسبِ معمول بہت سے لوگ میری رہائش گاہ پر آ گئے۔ یہاں دیر تک مختلف قسم کے دینی اور ملی موضوعات پر بات ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر غیرمسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ ابھی تو خود مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوئی۔ اندر بہت زیادہ خرابیاں موجود ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور اس کے بعد غیرمسلموں میں اسلامی دعوت پہنچانے کی کوشش کریں۔
میں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے اس مسئلہ پر گہرائی کے ساتھ غور نہیں کیا۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے دو سو سال کے درمیان مسلمانوں کے اندر دوسرے سے بھی زیادہ تحریکیں اُٹھی ہیں۔ یہ تمام کی تمام تحریکیں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اُٹھائی گئیں۔ پوری مدت میں کوئی بھی ایسی قابلِ ذکر تحریک نہیں جو حقیقی معنوں میں غیرمسلموں میں دعوتِ اسلام کے لیے اُٹھائی گئی ہو۔ غالباً ہمارا مشن پہلا مشن ہے جو غیرمسلموں کے درمیان باقاعدہ طور پر اسلام کی دعوت پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔
مگر مختلف گروہوں کی دوسوسالہ کوشش کے باوجود مسلمانوں کی مطلوب اصلاح نہ ہوسکی۔ حالت میں سوچنے کی اصل بات وہ نہیں ہے جو آپ فرمارہے ہیں بلکہ سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ غیر معمولی کوشش کے باوجود مسلمانوں کی اصلاح کیوں نہ ہوسکی۔ گویا کہ اصل مسئلہ مسلمانوں کی اصلاح کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کا نتیجہ نہ ملنے کا ہے۔ اصل یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، موجودہ مسلمانوں کی حیثیت ایک زوال یافتہ قوم کی جب کوئی قوم زوال کے درجہ میں پہنچ جائے تو صرف داخلی کوشش اس کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ پرانے خون (old blood) میں نیا خون (new blood) داخل کیا جائے۔ یعنی تبلیغ و دعوت کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے افراد بڑی تعداد میں شامل کیے جائیں۔ موجودہ مسلمانوں کو دوبارہ ایک زندہ قوم بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ بند پانی میں خوشبو ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بند پانی میں جاری پانی کا دھاراداخل کردیجئے، اس کے بعد بند پانی اپنے آپ سیلاب کی صورت اختیار کرلے گا۔
بھوپال میں ملّا رموزی سنسکرتی بھون کے نام سے ایک بڑا ادارہ قائم ہے۔ ۱۳ مارچ کو ۱۱ بجے دن میں الرسالہ اکیڈمی کے زیر اہتمام اس کے وسیع ہال میں ایک پبلک جلسہ ہوا۔ ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس میں خطاب کا موضوع یہ تھا: کثیر المذاہب معاشرہ، مسائل اور حل۔
اس موضوع پر میں نے اسلام کی روشنی میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دنیا تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ اس اصول کا تعلق جس طرح دوسری چیزوں سے ہے اُسی طرح اس کا تعلق مذہب سے بھی ہے۔ لوگ پیدائشی طور پر مختلف ذوق کے ہوتے ہیں۔ اس لیے فطری طور پر ہر سماج میں مختلف مذاہب موجود رہیں گے۔ مذاہب کے اس تنوع کو ہمیں اسی مثبت ذہن کے تحت لینا چاہیے جس کا اظہار ذوق دہلوی نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کیا ہے:
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
میں نے کہا کہ مذاہب کے تنوع کو ختم کرنے کی کوشش جب بھی کی گئی وہ ناکام ہوئی۔ کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا میں امریکی بنانے (Americanisation) کی تحریک شروع کی گئی ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ امریکی معاشرہ میں مذہب اور کلچر کے فرق کو ختم کر کے یکساں سماج بنایا جائے ۔ مگر یہ تحریک مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ امریکا میں ہر مذہب کو قبول کر لیا گیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہر مذہب کو یکساں طور پر آزادی دی جاتی ہے ۔ نظریہ ہے کہ کسی مذہب کے لوگ اپنی مذہبی روایات سے جڑ کر زیادہ اچھا کام کرتے ہیں۔ اگر ان کو ان کی مذہبی روایات سے اکھاڑ دیا جائے تو وہ سماج کے زیادہ بہتر کارکن نہیںبنتے۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد کناڈا میں یونی کلچرزم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر آخر کار وہ ناکام ہوئی اور اس کے بجائے ملٹی کلچرزم کے اصول کو وہاں باقاعدہ طور پر اختیار کر لیا گیا۔ یہ ایک تفصیلی تقریر تھی ۔ میں نے اس تقریر میں اسلامی تعلیمات کو بیان کیا۔ لوگوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ پوری تقریر کو سنا ۔ پروگرام کے خاتمہ پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو خاتون مز شکن تلا نے کہا___ اگر اسلام وہی ہے جو مولا نا صاحب نے اپنی اسپیچ میںبتایا ہے تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں: If it is Islam then where is the problem. ۱۳ مارچ کی شام کو خواتین کا ایک اجتماع کیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے پروگرام میں یہ عام رواج ہو گیا ہے کہ خواتین کا اجتماع الگ سے کیا جاتا ہے۔ مگر مجھ کو یہ طریقہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ میرے نزدیک مرد اور عورت دونوں کا اجتماع ایک ساتھ ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ اسلام کی تعلیمات صنفی فرق پر مبنی نہیں ہیں ۔ دونوں ہی صنفوں کے لیے اسلام کی تعلیم یکساں ہے ۔ کے بعض مسائل ضرور الگ ہیں مگر یہ مسائل انتہائی جزئی ہیں ۔ ورنہ جہاں تک اسلام کی اصل دعوت کا تعلق ہے، وہ دونوں صنفوں کے لیے یکساں ہے۔
ایک بات میں نے یہ کہی کہ آج کل خاندانی زندگی کا بگاڑ عام ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب صرف بے شعوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت جب اپنے میکے میں ہوتی ہے تو وہ خونی رشتہ داروں کے
درمیان ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ سسرال میں جاتی ہے تو وہاں اس کو ایسے لوگوں کے درمیان رہنا پڑتا ہے جن سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا۔ لڑ کی اگر اس فرق کو شعوری طور پر جان لے تو اس کی شادی ہر حال میں کامیاب رہے گی۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری ماں باپ کی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایک کامیاب زندگی کا راز یہ نہیں ہے کہ گھر میں زیادہ آمدنی ہو اور ہر قسم کے ساز وسامان کا ڈھیر گھر کے اندر موجود ہو۔ بلکہ پر سکون زندگی کا راز یہ ہے کہ لوگ سادگی کی اہمیت کو جان لیں۔
ایک بات میں نے یہ کہی کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا راز میرے نزدیک یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری رفیق (intellectual partner) بن جائیں۔ آج کل ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ شادی ایسی ہو جس میں دونوں مل کر زیادہ آمدنی کر سکی تھیں۔ اور مرد دونوں ڈاکٹر ہوں۔ مگر میرے نزدیک یہ کامیاب شادی کی پہچان نہیں۔ کامیاب شادی وہ ہے جس میں عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے فکری شریک اور معاون بن جائیں۔ دونوں آپس میں تبادلۂ خیال کے ذریعہ اپنا فکری ارتقاء کرتے رہیں۔