آخری خطاب
Al-Risala, August 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک پیدائشی داعی ہوں۔ دعوت ہمیشہ سے میرا نشانہ رہا ہے۔ ۱۹۵۰ء میں جب کہ ابھی میں پختہ عمر کو نہیں پہنچا تھا، میں نے قرآن کے ایک لفظ کو لے کر، من انصاری إلی الله کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ پھر اس کام کے لیے ادارۂ اشاعتِ اسلام کا نام اختیار کیا۔ اُس وقت میں اپنی فیملی کے ساتھ اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ اُس زمانہ میں میں نے کئی چھوٹی کتابیں شائع کیں ۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام یہ تھا: نئے عہد کے دروازہ پر (On the Threshold of a New Era)۔ میرا دعوتی سفر مختلف صورتوں میں مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۶ میں میں نے دہلی سے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا اور اسلامک سنٹر قائم کر کے اس کے تحت دعوتی کتابوں کی اشاعت شروع اب خدا کے فضل سے ان دعوتی کتابوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ کتابیں مختلف ملکی
اور عالمی زبانوں میں شائع ہوئی ہیں۔ وہ جدید وسائلِ ابلاغ کے تحت ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ لمبے مطالعہ اور تجربہ کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ دعوتِ حق کا صحیح طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یعنی ایک ایک فرد کو بدلنا، ایک ایک ذہن کے اوپر ڈی کنڈیشننگ اور ری انجینئرنگ کا عمل کرنا۔ میرے مطالعہ کے مطابق ، یہی پیغمبروں کا طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار کے دو مستند تاریخی نمونے ہیں۔ ایک کو مسیحی ماڈل اور دوسرے کو محمدی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ کسی تحریک کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے، عوام کو خطاب کرنا، اور دوسرا ہے، افراد کو عوام سے خطاب کرنے کے لیے تحریک کو ایک عوامی اشو لینا پڑتا ہے، یعنی ایسا ایشو جس کے بارے میں پہلے سے عوام کے اندر شدید جذبات موجود ہوں۔ مثلاً برصغیر ہند میں ۱۹۴۷ سے پہلے مہاتما گاندھی کا بیرونی راج کے خلاف عوام کو پکارنا۔ یا محمد علی جناح کا ہندو خطرہ کے خلاف مسلمانوں کو
اس طرح کی عوامی تحریک میں یہ ہوتا ہے کہ بہت جلد لیڈر کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی مگر ایسی کسی تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ ایسی تحریک تخریب غیر کے لیے تو مفید ہوتی ہے مگر وہ تعمیر خویش کے لیے بالکل مفید نہیں ہوتی۔
تحریک کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں سارا فوکس فرد کی اصلاح پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نشانہ افراد سے چل کر عوام تک پہنچنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے افراد کو اپنے قبضہ میں لینا۔
کسی مشن کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جس کو سیاسی ماڈل کہا جا سکتا ہے اور دوسرا وہ جس کو روحانی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی کا مائنس پوائنٹ اور پلس پوائنٹ ہے۔ سیاسی ماڈل میں کراؤڈ کو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ اس میں ہمیشہ کسی ایسے منفی اشو کو لیا جاتا ہے جو کیوں کہ کوئی خارجی اشو ہی کراؤڈ کا اشو بن سکتا ہے۔ سیاسی ماڈل کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ لیکن سیاسی ماڈل کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں
individual ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ اس لیے اس میں فرد کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔ کمیاتی اعتبار سے مشن بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن کیفیاتی اعتبار سے وہ بالکل nill ہوتا ہے۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا ماڈل روحانی ماڈل ہے۔ روحانی ماڈل میں فرد کے ذہن کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ کسی کراؤڈ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی ماڈل کے تحت بھیڑ اکٹھا البتہ اس میں فرد کی تعمیر گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ مشن سے وابستہ ایک ایک فرد prepared mind اور purified soul بن جاتا ہے۔ روحانی ماڈل کوانٹی کے اعتبار سے بظاہر کم دکھائی دیتا ہے۔ مگر کوالٹی کے اعتبار سے وہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی ماڈل صرف تخریبی واقعہ وجود میں لاتا ہے۔ جب کہ روحانی ماڈل تعمیری واقعہ کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ الرسالہ مشن میں سیاسی ماڈل کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں روحانی ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔ میں ساری کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ ایک ایک فرد کا ذہن بنایا جائے ۔ تیار افراد کی ایک ٹیم بنائی ایسے افراد جن میں سے ہر شخص ایک طرف سنجیدہ ہو اور دوسری طرف وہ آرٹ آف تھنکنگ کو بخوبی طور پر جانتا ہو۔ الرسالہ مشن کا فطری کورس یہ ہے کہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم بنے اور پھر یہ ٹیم مشن کے پیغام کو وسیع تر انسانیت تک پہنچا دے۔
مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: ۱۵۱ ھ۔ ۷۶۸ء) نے ایک روایت نقل کی ہے۔ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۃ الحدیبیہ (۶۲۳ء) کی ادائیگی کے بعد، اپنے منتخب اصحاب کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ: ”اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میرے بارے میں اختلاف نہ کرو، جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے اختلاف کیا۔ اصحاب نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول! حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ: عیسیٰ بن مریم نے انہیں اس چیز کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تمہیں بلایا ہے۔ پس جس کو انہوں نے قریب کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس پر راضی ہو گیا اور اس کو مان لیا۔ اور جس کو انہوں نے دور کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس کو پسند نہیں آیا اور اُس نے گرانی محسوس کی۔ عیسیٰ بن مریم
نے اللہ سے اس کی شکایت کی۔ تو جن لوگوں کو نا گواری ہوئی اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن میں سے ہر ایک اس قوم کی زبان بولنے لگا جس کی طرف اس کو جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ قاصد بھیجے اور ان کو بادشاہوں کے نام مکتوب لکھ کر دیا۔ اس میں ان بادشاہوں کو اسلام کی طرف بلایا گیا تھا۔ (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجزء الرابع، ۷۲۷-۷۲۹) مذکورہ روایت میں حضرت مسیح کے جس واقعہ کا ذکر ہے، اُس کا ذکر قرآن میں بھی اجمالی طور پر اس کا ترجمہ یہ ہے:
”اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار! پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے۔
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد اطراف عرب کے تقریباً ایک درجن حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور اُنہیں اپنے سفیروں کے ساتھ متعلقہ حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔ ان حکمرانوں میں سے کچھ نے آپ کے مکتوب کا مثبت جواب دیا اور کچھ نے ان کو پڑھنے کے بعد منفی رویہ اختیار کیا۔ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے (ملاحظہ ہو، سیرت ابن کثیر، جلد ۳)
اس روایت سے دعوتی تحریک کا پیغمبرانہ ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ یعنی دعوتی مہم کا تین مرحلوں سے گزر کر اپنی تکمیلی منزل تک پہنچنا۔
بندۂ خدا پر حقیقت کا کھلنا، اس کا سچائی کو مکمل طور پر دریافت کرنا۔ اس طرح ایک عارف یا باخبر انسان کا وجود میں آنا۔
پھر یہ انسان دوسرے کاموں کے علاوہ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معمولی جدوجہد کے ذریعہ افراد کی ایک ٹیم بناتا ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہیں۔ ان کے اندر مشنری
اسپرٹ کمال درجے میں موجود ہوتی ہے۔ وہ گویا عارفین حق کا منتخب کردہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ٹیم اس پیغام کو لے کر آگے بڑھتی ہے اور کمیونیکیشن کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اُس کو تمام انسانوں تک پہنچادیتی ہے۔
سہ گانہ مرحلے کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ مسیحی ماڈل اور محمدی ماڈل دونوں اسی کی تائید حضرت مسیح کے زمانہ میں اسی ترتیب سے کام ہوا۔ اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی۔ یعنی ایک فرد سے کام کا آغاز، اور پھر ایک ٹیم کا بننا، اس کے بعد دعوت کی عمومی توسیع۔ یہ ترتیب دعوتی کام کی فطری ترتیب ہے۔ اس لیے یہی ترتیب بعد کے زمانہ میں بھی اس کام کے لیے باقی رہے گی۔
الرسالة مشن کے مستقبل کے بارے میں میں اکثر سوچتا تھا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۵ کی صبح کو میں اس موضوع پر غور وفکر کر رہا تھا کہ اچانک مجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ دعوتی مشن بھی اسی فطری ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عمل فطرت کے زیر اثر پہلے سے جاری تھا۔ مگر مئی ۲۰۰۵ میں اس واقعہ کو میں نے شعوری طور پر دریافت کیا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، میں نے اپنا دعوتی مشن ۱۹۵۰ء میں شروع کیا تھا، اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا۔ تحریر وتقریر کے ایک مسلسل عمل کی صورت میں وہ برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اس تحریک کی پشت پر ایک طاقت ور لٹریچر تیار ہوگیا۔ یہ لٹریچر اسلام کے تمام پہلوؤں کو عصری اسلوب میں بیان کرنے والا تھا۔
اس کے بعد تیسرا تاریخ ساز واقعہ یہ ہوا کہ جنوری ۲۰۰۱ء میں ہمارے دہلی کے دفتر میں اسپرچول کلاس کے نام سے ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان ہفتے وار اجتماعات کے دوران خدا کی غیر معمولی نصرت ظاہر ہوئی۔ چند سال کی مدت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم تیار ہوگئی۔ میں سے ہر شخص دعوتی اسپرٹ سے بھرا ہوا تھا اور عمل کا بے پناہ جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ ۲۰۰۵ میں یہ تاریخ یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہونا چاہیے اس کا عمل بھی خدا
کی خصوصی نصرت سے شروع ہو چکا ہے۔ یعنی دعوتِ حق کی اشاعت و توسیع۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل رکنے والا نہیں۔ خدا کی نصرت اس بات کی ضامن ہے کہ یہ عمل رُ کے بغیر مسلسل جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
مذکورہ حدیث پر غور کیجئے تو اس معاملہ کا ایک عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ جب مذکورہ تقسیم کے مطابق، ایک ٹیم وجود میں آجائے تو اس کے بعد دعوت کی توسیع واشاعت ایک یقینی امر بن جاتی اس کے بعد ممکن طور پر صرف ایک چیز ہے جو اس عمل کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکے، اور وہ حدیث کے الفاظ میں اختلاف کا معاملہ ہے۔ باہمی اختلاف ایسی بُری چیز ہے جو پورے نقشے کو تباہ کر سکتا ہے۔ ٹیم بن جانے کے بعد باہمی اختلاف کے سوا کوئی بھی چیز نہیں جو اس دعوتی سیلاب کو اس کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ فکر کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ ہر انسانی مجموعے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے افراد کے درمیان فکری اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ فکری اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اُس فن کو نہ جانتے ہوں، جس کو ’’ آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ کسی بھی ٹیم میں رائے کا اختلاف پیدا ہونا لازمی ہے۔ البتہ ٹیم کے افراد کو ذہنی طور پر اتنا زیادہ پختہ ہونا چاہیے کہ وہ رائے کے اختلاف اور عملی ٹکراؤ میں فرق کرنا جانیں۔ کے باوجود متحد ہو کر اپنا کام جاری رکھیں۔ رائے کا اختلاف ایک صحت مند علامت ہے۔ کیوں کہ وہ ڈائیلاگ کا سبب بنتا ہے اور ڈائیلاگ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔
الرسالة مشن کے تحت جو پر امن دعوت کا کام کرنا ہے وہ بنیادی طور پر اشاعتِ کتب کا کام یہ کام سب سے پہلے انگریزی کتابوں کی اشاعت سے ہوگا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ٦٠ فیصد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اس کے بعد حالات کے مطابق یہ کام دوسری زبانوں تک نظریاتی اشاعت کے اس کام کے بنیادی طور پر چند اجزاء ہیں:
قرآن کا صحیح انگریزی ترجمہ کم قیمت پر ساری دنیا میں پھیلانا (قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدا کے فضل سے الرسالہ مشن کے تحت زیر تیاری ہے)۔
الرسالہ مشن کی مطبوعہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا۔ مثلاً: God Arises ، تذکیر القرآن ، مطالعہ سیرت ، مطالعہ حدیث ، وغیرہ وغیرہ۔
چھوٹے چھوٹے دعوتی پمفلٹ، مثلاً ان سرچ آف گاڈ، کریشن پلان آف گاڈ وغیرہ جو کئی درجن کی تعداد میں چھپ چکے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا، یہاں تک کہ وہ تمام تعلیم یافتہ انسانوں تک پہنچ جائیں۔
الرسالہ مشن مکمل طور پر ایک غیر سیاسی مشن ہے۔ اس کا مقصد کوئی اقتدار قائم کرنا نہیں ہے بلکہ صرف خدا کے پیغام کو پرامن طور پر اور فکری طور پر تمام انسانوں تک پہنچانا ہے اور لوگوں کو خدا کے کریشن پلان سے دلائل کی زبان میں باخبر کرنا ہے تا کہ لوگ حقیقت کو سمجھیں اور صحیح رخ پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنائیں ۔ دعوت الی اللہ کا یہ فکری مشن خدا کا سب سے زیادہ مطلوب مشن ہے۔ اس مشن میں خدا کی نصرت ہمیشہ یقینی ہوتی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ خدا کی نصرت کا وعدہ اس مشن پر پورا ہوگا۔ اور وہ وقت آئے گا جب کہ تمام انسانوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچ جائے گا جس کے پہنچنے کا ساری کائنات کو انتظار ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام سے زیادہ بڑا کوئی اور کام نہیں اور خدا کی مدد حاصل کرنے کے لیے دعوت الی اللہ سے زیادہ اور کوئی یقینی ضمانت نہیں۔ یہ خدا کا ابدی قانون ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں جب کہ خدا کا یہ وعدہ اپنی کامل صورت میں پورا ہو جائے۔
میں نے اپنی کتاب پیغمبر انقلاب میں لکھا تھا کہ اسلام کے دور اول میں جو لوگ توحید کا انقلاب لائے وہ ایسے لوگ تھے جن پر پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اب دوبارہ اسی طرح ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اہل ارادہ اپنے
اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے اور بالآخر یقینی کی منزل تک پہنچیں گے
میری دعا ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے والے لوگ اس کا مصداق ثابت ہوں۔
۱۴ مارچ کی صبح کو بھوپال سے دہلی کے لیے واپسی تھی۔ صبح کو نمازِ فجر کے بعد ایک نشست ہوئی جس میں میں نے لوگوں کو کچھ آخری نصیحتیں کیں۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ آپ میں سے ہر شخص کو ون مین، ٹومشن (one man, two mission) کی مثال بننا ہے۔ آپ میں سے ہرایک کو اپنے وقت اور طاقت کا ایک حصہ معاشی کاموں میں لگانا ہے اور اس کا دوسرا حصہ دعوتی مشن کے لیے وقف کرنا ہے۔ یہ دونوں کام یکساں طور پر ضروری ہیں اور ہرایک کو اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ دعوتی عمل کے لیے کوئی لگا بندھا پرو گرام نہیں ہوتا۔ دعوتی عمل دراصل ایسے افراد کا طالب ہے جن کے اندر دعوت کا گہرا جذ بہ پیدا ہو چکا ہو۔ یہ جذ بہ یا اسپرٹ اپنے آپ پرو گرام بنا قرآن پورے معنوں میں ایک دعوتی کتاب ہے۔ مگر قرآن میں کہیں بھی وہ چیز نہیں بتائی گئی ہے جس کو دعوتی پرو گرام کہا جاتا ہے۔ اس کے بجائے قرآن میں یہ کیا گیا ہے کہ مختلف انداز سے دعوت کی روح جگائی گئی۔ اسی دعوتی روح کا یہ نتیجہ تھا کہ دورِ اول کے اہل ایمان نے اتنا بڑا دعوتی عمل کیا کہ زمین کے ایک بڑے حصے میں اسلام پھیل گیا۔ دورِ اول میں جو عظیم دعوتی عمل ہوا اس کی پُشت پر کوئی لگا بندھا دعوتی پرو گرام نہ تھا بلکہ دعوتی اسپرٹ تھی جوان لوگوں کو مسلسل متحرک کیے ہوئے تھی۔ بھوپال کے اجتماعات میں کتابوں کا بک اسٹال رکھا گیا تھا۔ لوگوں نے کتابوں میں بہت بیشتر کتابیں لوگوں نے خرید کر حاصل کیں اور کچھ کتابیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی گئیں۔ بک اسٹال کا طریقہ بہت مفید طریقہ ہے۔ اس کو ہر اجتماع کے موقع پر استعمال کرنا چاہیے۔ بھوپال کے قیام کے دوران یہاں کے اخبارات اور ٹی وی کے مختلف چینل نے انٹرویو کیے ۔
انٹرویو کے موقع پر لوگوں کی کافی بھیڑ اکٹھی رہتی تھی۔ لوگوں کا تأثر یہ تھا کہ ہر انٹرویو کافی کاماورب رہا۔ یہ انٹرویو کے ساتھ اخباروں میں چھپے اور ٹی وی چینلوں میں دکھائے گئے۔ ۱۴ مارچ کی صبح کو ہم لوگ روانہ ہو کر بھوپال ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں کافی لوگ پہنچانے کے لیے آگئے تھے۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے آج کے اخبارات دکھائے۔ اخبارات میں میرے خطابات کی رپورٹیں شائع ہوئی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ زمانہ کیسا عجیب زمانہ قدیم زمانہ میں اگر آپ کوئی مشن لے کر اُٹھیں تو اس کی پبلسٹی آپ کو خود کرنی پڑتی تھی۔ سوا کوئی دوسرا ادارہ اس کام کے لیے موجود نہ تھا۔ آج یہ حال ہے کہ آپ ایک مشن چلائیں تو آپ کو خود اُس کی پبلسٹی کرنے کی ضرورت نہیں۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا آپ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ہر جگہ موجود رہتا ہے۔ آپ سے کوئی قیمت لیے بغیر وہ آپ کے پیغام کو عمومی طور پر پھیلانے میں لگ جاتا ہے۔ ایسا ادارہ پہلے زمانہ میں موجود نہ تھا۔
ائیر پورٹ کے مراحل سے گزر کر ہم لوگ جٹ ایروویز کے جہاز میں داخل ہوئے۔ وقت پر بھوپال سے روانہ ہوا۔ ڈاکٹر اقبال پردھان نے کہا کہ ہم جہاز کے اندر بھی دعوہ ورک کریں چنانچہ انہوں نے اور دوسرے ساتھیوں نے مسافروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انگریزی کے پمفلٹ مطالعہ کے لیے دیے۔ لوگوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ جہاز کے اندر انگریزی روزنامہ ایشین ایج کا شمارہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۵ دیکھا۔ اس میں ایک رپورٹ کے تحت بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں کانووکیشن ایڈریس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے معتدل طبقہ کا انتہا پسندانہ طاقتوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری ہے تا کہ دنیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے:
He urged moderates in Pakistan to unite against extremist forces to remove "misperceptions" about Islam in the world. Misperceptions about Islam need to be removed through the strategy of enlightened moderation for durable and lasting peace in the world. (p. 5)
مسلم ملکوں کے خلاف امریکا کے تباہ کن آپریشن کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں کی رائے بدل اب دنیا بھر کے مسلمان امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالاں کہ ایک وقت تھا جب کہ ساری مسلم دنیا میں راقم الحروف تنہا امن کی بات کر رہا تھا۔ بقیہ تمام لکھنے اور بولنے والے تقریباً بلا استثناء متشددانہ جہاد کی باتیں کر رہے تھے۔ عرب دنیا کا پریس الجهاد هو الحل الوحید جیسے نعروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور بر صغیر ہند کے مسلمان لڑا دے ممولے کو شہباز سے کارِ جز یہ ترانہ گا رہے تھے۔ یہ لوگ ہر جگہ امن کے علم بردار بنے ہوئے ہیں۔
میرے نزدیک یہ عین وہی روش ہے جس کو قرآن میں انا کنا معكم (العنكبوت ۱۰) کے الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو امن پسندی کا کریڈٹ صرف اُسی وقت مل سکتا ہے جب کہ وہ اعلان کے ساتھ یہ کہیں کہ اس سے پہلے ہم دیوانے تھے کہ ہم نے جنگ پسندی کی پالیسی اختیار کی۔ اب ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے امن کے راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ غلطی کا اعتراف کیے بغیر ان لوگوں کو امن پسندی کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ اعتراف کے بغیر اس قسم کی باتیں ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران ۱۸۸) کا مصداق ہیں۔
مسلم دنیا میں’’کاروان امن‘‘ کے اس نئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے بھوپال کے حاجی محمد ادریس صاحب نے کہا کہ یہ واقعہ مجھے بنی اسرائیل کے اس واقعہ سے مشابہ نظر آتا ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے۔ نے گمان کیا کہ وہ اُن پر آپڑے گا۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے، اور یاد رکھو جو اس میں ہے تا کہ تم بچو (الاعراف ۱۷۱) حاجی محمد ادریس صاحب نے کہا کہ مسلم دنیا میں امریکا کی جارحانہ مداخلت اسی قسم کا ایک واقعہ تھی۔ خدا نے امریکا کے فوجی پہاڑ کو مسلمانوں کے اوپر مسلط کر کے کہا کہ الرسالہ کے پیغام امن کو مانو ورنہ یہ پہاڑ تمہارے اوپر گرا دیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کا رویہ بدل گیا۔
۱۴ مارچ ۲۰۰۵ کی دوپہر کو ہمارا جہاز دہلی ایرپورٹ پر اترا۔ لینڈ نگ نہایت ہموار تھی۔
سے نکل کر ہم لوگ ائیر پورٹ میں داخل ہوئے۔ انڈیا میں بہت دنوں سے یہ چرچا ہے کہ ائیر پورٹ کو ورلڈ کلاس ائیر پورٹ بنایا جائے مگر ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔ میرے نزدیک اس معاملے میں اصل رکاوٹ گورنمنٹ ائیر پورٹ اور اس قسم کے دوسرے اداروں کی تعمیر پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتی ہے، مگر مطلوب نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گورنمنٹ اس مقصد کے لیے جو رقم مختص کرتی ہے اس کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔
میرے نزدیک انڈیا میں اصل مسئلہ عالمی معیار کی تعمیر نہیں ہے بلکہ ملک سے کرپشن کو دور کرنا انڈیا میں کرپشن اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ غالباً اب کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گوشہ اس سے خالی نہیں۔ ہر نئی حکومت بڑے بڑے وعدے کرتی ہے۔ مگر کرپشن میں کوئی کمی نہیں آتی۔
دہلی ائیر پورٹ پر جو لوگ آئے تھے ان میں مسٹر نو دیپ کپور بھی تھے۔ وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان میں ۱۳۰ سال سے کتابوں کا بزنس ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھے اپنے بزنس میں کافی ٹینشن رہتا تھا۔ مگر اب میں نے آپ کی صحبت کے نتیجہ میں یہ کیا کہ قناعت کو اپنا اُصول بنا لیا ہے۔ جب سے میں نے ایسا کیا ہے میرا ٹینشن بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب میں سکون کی زندگی گزار رہا ہوں۔
بھوپال کے اجتماع میں شریک ہونے والوں میں سے ایک سعدیہ خان بھی تھیں۔ واپسی کے بعد اُن سے اُن کا تاثر پوچھا گیا۔ انہوں نے کئی باتیں بتائیں۔ اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں کالج میں پڑھتی ہوں۔ مجھے گھر اور کار اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔ پہلے میں دوسری لڑکیوں کی طرح سمجھتی تھی کہ یہ سہولتیں انجوائے کرنے کے لیے ہیں۔ مگر اب میں یہ سوچنے لگی ہوں کہ یہ چیزیں دراصل سپورٹ سسٹم ہیں۔ اُن کو خدا نے مجھے اس لیے دیا ہے کہ میں ان کو ذریعہ کے طور پر استعمال کروں اور اپنی زندگی کو اعلیٰ مقصد میں لگاؤں۔
بھوپال کے اجتماع میں میں نے اپنی تقریروں میں یہ بات نہیں کہی تھی۔ پھر سعدیہ خان کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اگر آپ کسی کے ذہن کو
مثبت رخ پر متحرک کر دیں تو اس کے ذہن کی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ گہرائی کے ساتھ سوچنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی باتوں کو دریافت کر لیتا ہے جو کہنے والے نے اُس سے نہیں کہی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے دماغ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ انسان کے اندر تبدیلی لانے کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ انسان کے ذہن میں امکانی طور پر تمام باتیں مگر عام طور پر وہ سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ اس سوئے ہوئے ذہن کو جگا دے۔ اس کے بعد یہ بیدار مسافر اپنے آپ زندگی کی راہوں میں رواں دواں ہو جائے گا۔ الرسالہ کی نئی مطبوعات ۱۷۲ صفحات سیرتِ رسول ۲۰۸ صفحات امنِ عالم ۲۵۰ صفحات عورت: معمارِ انسانیت ۳۲۰ صفحات مطالعہ حدیث ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرپچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرپچول میسیج، فی کاپی -/15 روپے، سالانہ -/165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:
302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323