Al-Risala · September 2005

خدا اور انسان

Al-Risala, September 2005

By Maulana Wahiduddin Khan

انتھراپالوجی ایک ڈسپلن ہے۔ اس ڈسپلن کے تحت انسان کی اسٹڈی کی جاتی ہے۔ کے تحت قدیم ترین معلوم زمانہ سے لے کر اب تک کی تفصیلی اسٹڈی کی گئی ہے۔ اس اسٹڈی کے ذریعہ جو باتیں معلوم ہوئی ہیں ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ خدا کا تصور انسان کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد پیدائشی طور پر خدا کے تصور کو لے کر اس دنیا میں وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مجبور ہیں کہ اس تصور کے ساتھ زندگی گزاریں۔ مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ انسان ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation seeking animal) ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے وجود اور اپنے اردگرد کی دنیا کی توجیہہ کرے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ اسی طرح انسان اپنی محدودیت کی بنا پر اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اس احساس کی تلافی بھی صرف خدا جیسی ایک ہستی کو جاننے سے ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر انسان نا تمام خواہشوں (unfulfilled desires) میں جیتا ہے۔ یہ صرف خدا ہے جس کے ذریعہ اس کو تکمیل کی امید ہوسکتی ہے۔ انسان اپنے مخصوص نیچر کی بنا پر یقین (conviction) میں جینا چاہتا ہے۔ اس یقین کا سور س بھی خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ انسان کو اپنی سرگرمیوں کے لیے ایک نشانہ درکار ہے تا کہ وہ مطمئن ہو کر اس کی طرف اپنا سفر یہ نشانہ بھی اس کو صرف خدا کے عقیدہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کے تمام عورت اور مرد کسی نہ کسی طور پر خدا کو مانتے ہیں۔ حتی کہ بظاہر منکر خدا (atheist) لوگوں کا بھی یہ حال ہے کہ جب ان پر کوئی کرائسس (crisis) آتا ہے تو وہ بے اختیارانہ طور پر خدا کو پکار اٹھتے ہیں۔ معلوم طور پر اس معاملہ میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی

اب سوال یہ ہے کہ جب ہر شخص خدا میں عقیدہ رکھتا ہے تو اس کو وہ نتیجہ کیوں نہیں ملتا جو خدا میں عقیدہ رکھنے کی صورت میں ملنا چاہیے۔ خدا کو مانتے ہوئے بھی ہر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ ربانی احساس (divine inspiration) سے محروم ہے۔ اس کو ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں (We trust in God) کا بورڈ لگانے والے بھی حقیقی معنوں میں گاڈ میں ٹرسٹ کرنے کی نعمت سے محروم ہیں۔ لوگ خدا کو مانتے ہیں مگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کے ساتھ ان کا ربط (communion) قائم نہیں ہوتا۔ خدا کو ماننے کے باوجود لوگوں کی زندگیوں میں خدا کی رحمت (blessing) کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ خدا کے نام پر غیر خدا سے اپنے آپ کو وابستہ (associate) کئے زبان سے وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر عملاً وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی غیر خدا کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے رہتے ہیں۔

کوئی کسی زندہ یا مردہ انسان کو خدا کی جگہ بٹھائے ہوئے ہے۔ کوئی سورج دیوتا (Sun god) اور چاند دیوتا (Moon god) جیسے خداؤں میں اٹکا ہوا ہے۔ کوئی ہیومنزم کے نام پر وہ کر رہا ہے جس کو عہدہ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہونا کہا جاتا ہے:

Printed page