Al-Risala · September 2005

اجتماعی معاملات

Al-Risala, September 2005, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کے معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق مسلمانوں اور مسلمانوں کے باہمی معاملات سے ہو۔ دوسرا وہ جس کا تعلق مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معاملات سے ہو۔ جو معاملات مسلمانوں اور مسلمانوں کے باہمی معاملات سے تعلق رکھتے ہوں ان کے فیصلہ کی بنیاد ہمیشہ کے لیے صرف ایک ہے، اور وہ قرآن اور سنت ہے۔ اس قسم کے باہمی معاملات میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ابدی طور پر قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کریں اور جو کچھ وہاں سے ملے اُس پر دل کی رضا مندی کے ساتھ قائم ہو جائیں (النساء: ۶۵۔

معاملات کی دوسری قسم وہ ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پیش آنے والے مسائل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس دوسرے قسم کے معاملات میں فیصلہ کی بنیاد وہ ہوگی جو دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ دوسرے لفظوں میں، اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معاملات میں فیصلہ کی بنیاد وہ بین اقوامی معیارات (international norms) ہوں گے جو کسی زمانہ میں رائج ہو جائیں۔

مثال کے طور پر، ایک ایسے سماج کو لیجئے جس میں کئی مذاہب کے ماننے والے ہوں۔ میں باہمی تعلقات کی بنیاد وہ ہوگی جو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر قابل قبول ہو۔ یہ بنیاد صرف ایک ہے، اور وہ ہے باہمی احترام (mutual respect)۔ اسی اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: لكم دينكم ولى دين (الکافرون)۔ یعنی تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ اسی طرح مثال کے طور پر قدیم زمانہ میں مسلم حکومتوں کے تحت رہنے والے غیر مسلموں کو ذمی کہا گیا اور ان پر جزیہ عائد کیا گیا۔ اب موجودہ زمانہ میں اگر اسلامی ریاست قائم ہو تو اس میں ایسا نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس معاملہ میں اُسی بین اقوامی معیار کو اختیار کر لیا جائے گا جو آج کی دنیا میں عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

یہ اصول پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ کے زمانہ میں یمن کے علاقہ میں ایک مُدّعیِ نبوت ظاہر ہوا۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں مُسیلمہ کذّاب کہا جاتا ہے۔ نے اپنی طرف سے دورکنی وفد مدینہ بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام دیا کہ آپ میری نبوت کو تسلیم کریں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ عالمی رواج نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کیے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا (لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ کسی اجتماعی معاملہ میں جو بین اقوام اصول ہو، وہی اصول اسلامی ریاست میں بھی تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام میں بھی اُسی معیار کو مان لیا جائے گا جو کسی زمانہ میں بین اقوام طور پر مُسَلَّمہ معیار بن چکا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بین اقوامی معاملات میں اس کے سوا کوئی اور قابلِ عمل اصول نہیں۔ دنیا میں اپنا کوئی علیحدہ سیاسی جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ بین اقوامی زندگی کا نظام باہمی احترام اور باہمی رضامندی کے اصول پر چلتا ہے۔ یہ اصول جس طرح دوسری قوموں کے لیے قابل قبول ہے اُسی طرح وہ اسلام کے لیے بھی قابلِ قبول ہے۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کا تعلق محدود طور پر سفیر کے معاملہ سے متعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے۔ اس سنت میں ایک ایسی رہنمائی ملتی ہے جس کی روشنی میں تمام بین اقوامی معاملات کو قائم کیا جاسکے۔

Printed page