سوال و جواب
Al-Risala, September 2005, pp. 38–43
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کہتے ہیں کہ علم کی کمی انسان کو خدا سے دور کردیتی ہے اور زیادہ علم خدا سے قریب کردیتا ہے، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ جاہل لوگ ہی ہر معاملہ میں اسلامی کام کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو وہ اچھے سے پکڑتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ جب کہ عالم ایسا نہیں کرتے۔ جاہل لوگ فوراً مسجد، مدرسہ اور فقیر کو چندہ دے دیتے ہیں۔ مگر عالم لوگ ایسا بہت کم کرتے ہیں۔ عالم حضرات اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو اس کا خوب پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ تو ایسی حالت میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ علم کی کمی انسان کو خدا سے دور کردیتی ہے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)
علم اور بے علمی کے بارے میں جو بات میں نے لکھی ہے وہ کوئی میری بات نہیں۔ خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً قرآن میں فرمایا کہ اللہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (فاطر ۲۸) اسی طرح قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ہدایت سے محروم وہ لوگ رہتے ہیں جو علم نہیں رکھتے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی لفظ استعمال کیا جائے تو اس میں اپنے آپ وہ چیز شامل ہوتی کوئی بھی لفظ بالکل مجرد معنوں میں صرف ڈکشنری میں استعمال ہوسکتا ہے۔ کسی بامعنی کلام میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔
’’زیادہ علم انسان کو خدا سے قریب کردیتا ہے‘‘ اس جملہ میں یہ بات اپنے آپ شامل ہے کہ وہ علم جس کے ساتھ سنجیدگی بھی شامل ہو۔ سنجیدگی (sincerity) کے بغیر کوئی علم نہیں۔ یہ بات ہر انسان کے بارے میں صحیح ہے۔ مثلاً سوال کرنے والا اگر سنجیدہ نہ ہو تو وہ علم کے باوجود غیر متعلق سوال غیر سنجیدہ آدمی ایک عبارت کو پڑھے گا اور علم کے باوجود اس سے الٹا مطلب نکالے گا۔ غیر علم والے کے سامنے کوئی دلیل لائی جائے گی جو نہایت واضح ہوگی لیکن سننے والا اگر سنجیدہ نہیں ہے تو وہ دلیل کو نہیں مانے گا اور ایک عجیب و غریب شوشہ نکال کر اس کو رد کردے گا۔
علم بلاشبہ تمام انسانی خوبیوں کی جڑ ہے۔ مگر اس سے مراد صرف وہ علم ہے جس کے ساتھ سنجیدگی موجود ہو۔ سنجیدہ عالم کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک قابل پیشین گوئی ردِ عمل (predictable reaction) کا ثبوت دے گا۔ مگر جس شخص کے پاس علم تو ہو لیکن اس کے پاس سنجیدگی نہ ہو تو اس کے بارے میں کوئی بھی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سنجیدگی علم کو بامعنی بناتی ہے۔ اور جہاں سنجیدگی نہ ہو وہاں علم کے باوجود معنویت پائی نہیں جائے گی۔ اگر کسی مسلمان نے اپنی بیوی کو غصے میں ٹیلی فون پر بول دیا کہ میں نے تجھے تین طلاق یعنی طلاق، طلاق اور طلاق دے دیا۔ اور بیوی نے اس کو قبول نہیں کیا اور گواہ بھی کوئی نہیں تھا۔ پھر بعد میں مرد کو غلطی کا احساس ہوا، اس نے توبہ کی۔ تو کیا پھر یہ دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ جواب سے مطلع فرمائیں۔ (ایک قاری، الرساله)
مذکورہ مسلمان نے جو فعل کیا وہ میرے نزدیک طلاق نہیں تھا بلکہ سرکشی تھی۔ اس قسم کے واقعات پر طلاق کا واقع کرنا میرے نزدیک درست نہیں۔ البتہ ایسا شخص شریعت کی بے حرمتی کرنے اور شریعت کو کھلواڑ بنانے کا مجرم ہے۔ ایسا آدمی دراصل سزا کا مستحق ہے۔ اس کو میرے نزدیک ایک سو کوڑے مارے جانے چاہئیں مگر کوڑا مارنے کا کام کوئی فرد یا جماعت نہیں کر سکتی ہے۔ یہ کام ایک اسٹیٹ کے تحت قائم شدہ عدالت کے ذریعہ ہونا چاہیے۔
الرساله دسمبر 1995 میں آپ کا ایک سفر نامہ (بڑودہ کا سفر) پڑھا۔ اس کے صفحہ نمبر ۳۵ کے پیراگراف تین میں آپ نے ایک بات لکھی ختم نبوت کے بعد مسلمان مقامِ نبوت پر ہیں‘ اس سے صاف طور پر یہی معنی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ من حیث القوم مسلمان نبی ہیں اور ان کے اندر روحانی صلاحیت، یہاں تک کہ وحی کا نازل ہونا بھی ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔
کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کریں۔ (نو شاد علی، گورکھپور)
" امت محمدی مقام نبوت پر ہے " اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی ذمہ داری کے اعتبار سے مقام نبوت پر ہے۔ اس جملہ میں امت محمدی کی داعیانہ ذمہ داری کو بتایا گیا ہے نہ یہ کہ امت محمدی خود پیغمبرانہ صفات رکھتی ہے۔ یعنی امت محمدی خود پیغمبر نہیں مگر ختم نبوت کے بعد اس کو دنیا میں پیغمبر والا دعوتی کام انجام دینا ہے۔
اس بات کو قرآن و حدیث میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً حَجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان اللہ بعثنی للناس كافة فادوا عنى۔ یعنی اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے لوگوں تک میرا پیغام پہنچا دو۔ حدیث میں آیا ہے کہ المسلمون شهداء الله في الأرض (مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں)۔ امت محمدی کی یہ حیثیت اس لیے ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی مگر کارِ نبوت بدستور اس لیے امت محمدی پر بیک وقت دو ذمہ داری ہے، ایک یہ کہ وہ اپنے آپ کو پیغمبر کی تعلیم کے اور دوسرے یہ کہ پیغمبر کے بعد وہ پیغمبر کی تعلیمات کو نسل در نسل دوسروں تک پہنچاتی یہی دوگنا ذمہ داری ہے جس کی بنا پر امت محمدی کا ثواب زیادہ رکھا گیا ہے۔ مگر یہ ثواب محض پیغمبر سے انتساب کی بنا پر نہیں ہے۔ اس ثواب کے مستحق صرف وہ لوگ قرار پائیں گے جو فی الواقع مذکورہ دونوں قسم کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔
تبلیغی والے کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ میں نے کہا کہ میں نے قلمی بیعت مولا نا سے کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیعت نہیں۔ کیوں کہ اپنے مُربی کے ساتھ مہینے میں ایک بار ملاقات ضروری ہے۔ اس لیے یہ بیعت کیسے ہوسکتی ہے۔ کیا بیعت کرنا ضروری ہے۔ اگر ضروری ہے تو اس کا شرعی اصول کیا ہے۔
آپ کی معرفت اسلام کے بارے میں بات کرنا لوگوں کو بہت عجیب لگتا ہے۔ کشمیر میں جب بھی جماعت اسلامی کے کسی فرد سے بات کی جاتی ہے تو وہ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے جو صرف بے بنیاد الزام ہوتا ہے۔ مجھے حال میں ایک کتاب پڑھنے کو ملی " وحید الدین خان کی مطالعہ کے بعد ایسا لگا کہ اس کا نام ہونا چاہیے تھا" وحید الدین خان پر بے بنیاد اس میں جو نکتے اٹھائے گئے ہیں ان کا مجھ جیسا کم علم بھی جواب دے سکتا ہے۔ آپ کے متعلق غلط فہمیوں کا شکار کیوں ہیں۔
کیا چمڑے کے موزے پر ہی مسح جائز ہے۔ جیسا کہ تبلیغی جماعت کہتی ہے۔ مجھے یہ تنگ ذہنیت لگتی ہے۔ نیز کیا گھر میں یا مسجد میں فضائل اعمال کا مطالعہ کرنا چاہیے یا قرآن کریم کا۔ آپ کے ہم خیال بہت سارے لوگ یہاں موجود ہیں لیکن غیر منظم ہیں۔ اس کی تنظیم کی کیا صورت ہے۔ اس سلسلہ میں آپ ہماری رہنمائی کیجئے۔ ( محمد یوسف شاہ )
تبلیغی جماعت یا دوسرے حلقوں میں بیعت کا جو طریقہ رائج ہے اس کی کوئی سند کتاب اور سنت میں موجود نہیں۔ یہ طریقہ ظہور اسلام کے کئی سوسال بعد مسلم صوفیاء نے رائج کیا۔ اگر اس کو بدعت نہ کہا جائے تب بھی یقینی طور پر وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ اور یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کوئی اجتہاد صرف ان افراد کے لیے لازم ہوسکتا ہے جنہوں نے یہ اجتہاد کیا ہو یا جو اس کی صحت پر یقین دوسرے لوگوں کے لیے وہ نہ حجت ہے اور نہ کسی کو یہ حق ہے کہ وہ اس سے مذکورہ قسم کا
بعد کے زمانہ میں بیعت کا جو طریقہ رائج ہوا، محتاط طور پر اس کو عملی ضرورت کہا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ اس کو عملی ضرورت کے طور پر اختیار کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جو لوگ اس کو اعتقادی یا شرعی مسئلہ بنائیں انہیں کتاب وسنت سے اس کی واضح دلیل دینا ہوگا۔ اگر وہ قرآن وسنت سے اس کی تائید میں ناقابل انکار دلیل نہ دے سکیں تو وہ خود قصوار وار ٹھہریں گے۔
میرے خلاف جو لوگ بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں اور بے اصل باتیں پھیلاتے ہیں، وہ صرف ہمارے اجر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں کا جواب صرف یہ ہے کہ انہیں کوئی جواب نہ دیا جائے اور ان کے حق میں دعا کی جائے۔
موزہ پر مسح کے بارے میں علماءِ عرب کا فتویٰ آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح چمڑے کے موزہ پر مسح کرنا جائز ہے ٹھیک اسی طرح جدید طرز کے صنعتی موزوں پر مسح کرنا بھی جائز اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ فضائلِ اعمال کے نام سے جو کتاب آج کل رائج ہے وہ دینی تعلیم کے لیے صرف ایک ناقص کتاب ہے۔ دینی تعلیم کے صحیح اور مفید ذریعے صرف تین ہیں— قرآن، سنت رسول اور سنت صحابہ۔ اس کے بعد کوئی بھی چوتھا ذریعہ مستقل حیثیت سے معتبر نہیں۔ چوتھے ذریعہ کو قرآن و سنت پر جانچا جائے گا۔ اگر وہ کتاب وسنت کے مطابق ہے تو وہ قابل اعتبار ہے اور اگر وہ کتاب وسنت کے مطابق نہیں تو یقینی طور پر وہ قابل رد ہے۔ بطور خود اگر کچھ لوگ کسی چوتھے ذریعہ کو مقدس مان لیں تو ان کے ماننے سے وہ ذریعہ مقدس نہیں بنے گا۔ اس بارے میں علمائے راسخین کا مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔
آپ نے تنظیم کی بابت جو سوال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آپ دو چیز سے اپنے کام کا آغاز کریں، ہفتہ وار اجتماع اور الرسالہ کی ایجنسی۔ لوگوں کو منظم کرنے اور مقصد کی اشاعت کا صحیح آغاز یہی ہے۔ اگر آپ یہ دو کام شروع کر دیں تو انشاء اللہ دھیرے دھیرے بقیہ تمام مقاصد حاصل ہو جائیں گے۔
الرسالہ کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۳۲ پر آپ رقم طراز ہیں کہ ایک باریش بزرگ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ وہ عرب امارات میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں رہ کر الرسالہ پڑھا اب چونکہ وطن سے دور عرب امارات میں ان کی آپ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا الرسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ آپ کو یہ بات سن کر بہت غصہ آیا۔ مگر آپ نے صرف جواباً
کہا کہ اگر میں آپ سے کہوں کہ کیا آپ کے فرزند ابھی تک زندہ ہیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا“۔ دراصل آپ کا یہ جواب غصہ کی علامت ہے۔ اگر آپ جواباً فرماتے کہ الحمد للہ ابھی تک جاری وساری ہے تو شاید بزرگ دوسری بات یہ کہتے کہ جناب میں الرسالہ کہاں سے منگواؤں۔ جب آپ کا جواب پڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ جواب مولا نا وحید الدین خان صاحب کا نہیں ہو سکتا کیوں کہ الرسالہ سرے سے نصیحتوں کا رسالہ ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کم از کم اس معاملہ میں آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ آپ جیسے داعی کا اس انداز میں بات کرنا شریعت اسلامی اور خود الرسالہ مشن کے تقاضوں کے برخلاف لگتا ہے۔ یہ جواب سن کر اُس بزرگ کے دل پر کیا بیتی ہوگی۔ اس کی ٹھیس میں یہاں بیٹھے بیٹھے محسوس کر رہا ہوں ۔ کیا آپ اس بزرگ کو معذرت کے ساتھ اس بارے میں تحریر فرمائیں گے ۔ کیوں کہ غصہ کرنا مسلمان پر حرام ہے۔ یہ میں نے الرسالہ میں پڑھا ہے۔ (عبدالرشید بٹ، سوپور، کشمیر)
یہ بات صحیح نہیں کہ اسلام میں غصہ کرنا حرام ہے۔ غصہ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے، وہ حرام کیسے ہو سکتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تھا۔ چنانچہ آپ کے بارہ میں حدیثوں میں اس طرح کے الفاظ آتے ہیں کہ: اشتد غضبه ( آپ سخت غضب ناک ہوگئے ) نامعقول بات پر غصہ آنا ایک فطری امر ہے۔ البتہ غصہ کو انتقام تک نہیں جانا چاہیے ۔ مذکورہ صاحب کو میں نے جو جواب دیا وہ ان کی معروف نفسیات کے مطابق ، معاملہ کو واضح کرنا اصل یہ ہے کہ ایک باپ کو اپنی اولاد سے جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہی ایک صاحب مشن کو اپنے مشن سے ہوتا ہے۔ جس طرح یہ ایک نامعقول روش ہے کہ کسی باپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کے فرزند زندہ ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک سخت نامعقول روش ہے کہ کسی صاحب مشن سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا آپ کا مشن ابھی تک چل رہا ہے۔ الرسالہ صاحب مشن کے لیے ایک مشن ہے، وہ عام معنوں میں ایک پرچہ نہیں۔ ایسی حالت میں مذکورہ سوال کا صحیح ترین جواب وہی ہو سکتا تھا جو اُنہیں دیا گیا۔