Universal Friendship and Forgiveness
Al-Risala, January 2005, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے بتایا کہ ہر مذہب میں اور اسی طرح اسلام میں ان دونوں باتوں پر کافی زور دیا گیا ہے۔ ایک طرف اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مذہبی یا کلچرل فرق کے باوجود تمام لوگوں کو انسان کے روپ میں دیکھا جائے۔ سچے مومن کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو معاف کرنے والا ہوتا ہے (والعافین عن الناس) لوگوں کے اندر عفو و درگزر کا مزاج بہت ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام انسانوں سے دوستانہ تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ منسٹری آف ہوم افئرس کے تحت قائم شدہ ادارہ نیشنل فاؤنڈیشن فار کمیونل ہارمنی کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کے نام دعوت نامہ (۲۲ ستمبر ۲۰۰۴) موصول ہوا۔ اس میں دعوت دی گئی تھی کہ وہ ادارہ کی گورننگ باڈی کے ممبر کی حیثیت سے ۱۵ اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ میں شرکت کریں۔ یہ میٹنگ ہوم منسٹر شیوراج پاٹل کی صدارت میں اس کا موضوع ملک میں کمیونل ہارمنی کے مسئلہ پر غور کرنا تھا۔ مگر صدر اسلامی مرکز بعض وجوہ سے اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ کمیونل ہارمنی اور پیس کے موضوع پر ان کی تازہ مطبوعہ کتاب امن عالم (صفحات ۲۰۸) بھیج دی گئی جو ہوم منسٹر مسٹر شیوراج پاٹل کو دستی طور پر پہنچائی گئی۔
اسٹار نیوز (نئی دہلی) میں ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ کی شام کو خبروں کی بلیٹن میں ”ماڈل نکاح نامہ“ کی خبر نشر ہوئی جو کچھ لوگوں کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پروگرام کے دوران ایکسپرٹ کے طور پر صدر اسلامی مرکز کی رائے بلیٹن میں شامل کر کے نشر کی گئی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے آفس سے ٹیلی فون پر اپنی رائے بتائی اور وہ بلیٹن کے ساتھ ان کے لائیو ٹیلی کاسٹ میں شامل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل نکاح نامہ موجودہ حالات میں عملاً چلنے والا نہیں۔ اس سے پہلے اسی مسلم تنظیم نے شاہ بانو کے مسئلہ پر ماڈل ایکٹ بنوایا تھا مگر وہ عملاً رائج نہ ہوسکا۔ مسلمان اس کے خلاف عدالتوں سے فیصلے لیتے رہے۔ اس معاملہ میں اصل مسئلہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنا ہے نہ کہ کوئی دستاویز جاری کرنا۔
آج تک ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔
کے انٹرویو ر مسٹر محمد انس زبیر تھے۔ اس کا موضوع ارکان خمسہ تھا۔ اس کے تحت بتایا گیا کہ یہ پانچ ارکان گویا اسلام کے چار بنیادی اقدار (basic values) ہیں۔ اول توحید، توحید کا مطلب ہے خدا رخی زندگی اختیار کرنا۔ نماز، نماز اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی دنیا میں تواضع کے ساتھ رہے، وہ تکبر اور سرکشی سے بچے ۔ سوم روزہ ، روزہ کا مقصد سلَف کنٹرول کی تربیت ہے۔ چہارم زکوٰۃ ، زکوٰۃ کی حقیقت یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے اندر انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ پنجم حج ، حج عالمی اتحاد کا سبق ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھیں ۔
ہندی روزنامہ سہارا سے (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر سنیل کمار نے 11 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع ’’ہندوستان میں فرقہ واریت کا مسئلہ‘‘ تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فرقہ وارانہ اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو اتنا زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور بنا دیا جائے کہ وہ بھڑکانے والوں کے شکار نہ بنیں ۔ سماج میں ہمیشہ اختلاف بھی ہوتا ہے اور اختلاف کو بھڑکانے والے بھی۔ اس کا علاج سماج کو با شعور بنانا ہے نہ کہ اختلاف کو یا بھڑکانے والوں کو مٹانا۔
ہفت روزہ نئی دنیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جمشید عادل نے 18 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا یہ انٹرویو نئی دنیا کے قرآن نمبر کے لیے تھا۔ اظہار خیال کے دوران بتایا گیا کہ قرآن ایک ابدی کتاب ہے اور وہ تمام انسانوں کے لیے ہے۔ قرآن اب بھی اسی اصل حالت میں محفوظ ہے جیسا کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے زمانہ میں
ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 25 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر مسٹر محمد قاسم انصاری تھے۔ سوالات کا تعلق رمضان اور روزہ سے تھا۔ اس سلسلہ میں جو کچھ بتایا گیا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ دراصل صبر کی تربیت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : ہو شہر الصبر ۔ زندگی میں صبر کی اہمیت بہت صبر کے بغیر آدمی نہ دین پر قائم رہ سکتا اور نہ دنیا میں ترقی حاصل کر سکتا۔ اسی لیے سال کے ایک مہینہ کو صبر کی تربیت کے لیے شریعت میں خاص کیا گیا۔
سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں 27 اکتوبر ۲۰۰۴ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب پر اظہار خیال کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور ہیومن ویلو ز اِن اسلام کے موضوع پر تقریر کی۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ کا تھا۔ اس موقع پر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں بھی لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔
نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (انیکسی) میں 2 نومبر ۲۰۰۴ کو دو روزہ سیمینار ہوا۔ اس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا انتظام جس ادارہ کی طرف سے کیا گیا تھا اس کا نام یہ ہے :
Foundation for Universal Responsibility of the Dalai Lama. اس سیمینار کا موضوع Understanding Death تھا۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات کی روشنی میں موضوع پر اظہار خیال کیا۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی دعوت دی گئی کہ ۲ نومبر کے اجلاس میں ان کو حسب ذیل موضوع دیا گیا تھا: