سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
Al-Risala, October 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈین ائر لائنز کے ٹرمنل پر خلافِ معمول کافی بھیڑ دکھائی دی۔ اس سے پہلے یہاں اتنی بھیڑ نہیں ہوتی تھی۔ یہ مقابلہ (competition) کا کرشمہ تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے زمانہ میں سرکاری کمپنیوں (پبلک سیکٹر) کے لیے تحفظ (protection) کا اصول اختیار کیا گیا تھا۔ اس نے تمام سرکاری شعبوں میں لتھارجی (lethargy) کا مسئلہ پیدا کر دیا۔ ہر شعبہ سستی اور بے عملی کا شکار ہو گیا۔ برسوں سے اس پالیسی کو بدلا گیا ہے اور اس کے بجائے مقابلہ کرو یا مر جاؤ (compete or perish) کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے زبردست فرق آیا ہے۔ انڈین ائر لائنز کا معیار ہر اعتبار
سے بہتر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈین ایئر لائنز پر سفر کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ ائیر پورٹ پر مجھے ٹائلٹ جانا تھا۔ میں بوڑھے اور معذور لوگوں کے ٹائلٹ میں گیا۔ جگہ زیادہ کشادہ ہوتی ہے۔ اور دوسری مزید سہولتیں موجود رہتی ہیں۔
یہ احترامِ انسان کی ایک علامت ہے۔ جدید تہذیب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انسان کے احترام کو بے حد اہمیت دی ہے۔ ہر شعبہ میں جدید تہذیب کا یہ مزاج نمایاں ہے۔ زمانہ میں معذوروں (disabled) کے احترام کا جو اہتمام ہر جگہ کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال تاریخ کے پچھلے دور میں غالباً موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پچھلے زمانوں میں وہ سہولتیں پائی نہیں جاتی تھیں جو آج صنعتی انقلاب کے بعد پائی جارہی ہیں۔
ائیر پورٹ پر ایک صاحب نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے بعد دوسری سب سے بڑی انڈسٹری سلمنگ انڈسٹری (slimming industry) یعنی موٹے مُردوں اور عورتوں کو ڈبلا کرنا۔ آج کل ایک طبقہ کے پاس بہت زیادہ پیسہ آ گیا ہے۔ یہ لوگ کھانے پینے اور آرام و عیش میں اتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں کہ وہ موٹے ہوجاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ اس موذی بیماری سے بچنے کے لیے لوگ موٹا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو بلا کرتے ہیں۔ اور اگر وہ دبلے نہ ہوسکیں تو وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اس کے علاج کے لیے انہیں ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے بھاری بل دینے پڑتے ہیں۔ مجھے ایک واقعہ یا دآیا کہ ایک بار ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کو زیادہ پیسہ کمانے کا جنون ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ لوگ زیادہ پیسہ کما کر آخر کرتے کیا انہوں نے ہنس کر کہا: اپنے علاج پر خرچ کرتے ہیں۔
ہوائی جہاز کے اندر مختلف اخبارات مطالعہ کے لیے موجود تھے۔ ایک عرصہ سے میں اخبارات کو پڑھوا کر سنتا ہوں۔ یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ اس تجربہ سے اندازہ ہوا کہ خود پڑھنے کے مقابلہ میں پڑھوا کر سننا نسبتاً زیادہ مفید ہوتا ہے۔ اس طرح زیادہ یکسوئی حاصل رہتی ہے اور بات زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔
اردو روزنامہ اخبار مشرق کا شمارہ ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ بھی جہاز کے اندر موجود تھا۔ اس شمارہ میں جو خبریں شائع ہوئی تھیں اُن میں سے ایک خبر وہ تھی جس کا دوسری عنوان یہ تھا: ’لندن میں محمد ﷺ کی حیات طیبہ پر بنی فلم ریلیز ہوگئی۔ فلم کا مقصد غیر مسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے۔ عنوان کے تحت حسب ذیل خبر درج تھی:
لندن ۱۶ نومبر (یو این آئی) امریکی معاشرہ سے مسلمانوں کا رابطہ بہتر بنانے کی سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ پر ایک اینیمیٹڈ فلم بنائی دستی تصاویر سے بنائی جانے والی اس فلم ’محمد دی لاسٹ پروفیٹ‘ کی نمائش عید کے دن شروع ہوئی ہے۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹروں کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اسلام اور اسلام کی تاریخ کی بابت بتانا اور ان کو تفریح مہیا کرنا ہے۔ بی بی سی نے فائن میڈیا گروپ کے اسامہ جمال کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ فلم باکس آفس پر کیاکمال دکھاتی ہے سوال یہ ہے کہ لوگ فلم سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔ اسامہ جمال نے بتایا کہ پہلے اس فلم کی نمائش پورے امریکا میں ۲۰۰۲ میں کی جانی تھی لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کی وجہ سے روک دی گئی کیوں کہ لوگ اس وقت فلم کے موڈ میں نہیں تھے۔ مسلمانوں کو امید ہے کہ اس فلم کے ذریعہ مسلمانوں اور امریکیوں کے درمیان رابطہ قائم ہو سکے گا۔ پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی کی تعلیمات پر مبنی ۹۰ منٹ کی یہ فلم امریکا اور کناڈا کے ۴۰ شہروں میں دکھائی جائے گی۔
پیغمبر اسلام کی زندگی پر بنائی جانے والی اس فلم کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان تعلقات درست ہوں گے۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر عملی سوچ مذکورہ قسم کی فلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مغربی قوموں میں مسلمانوں کے بارہ میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ خود مسلمانوں کی اپنی روش کو دیکھ کر ہوئی ہیں، نہ کہ پیغمبر اسلام کی تاریخ کی بنا پر ہوئی
ایسی حالت میں مسلمانوں کے بارہ میں مغربی قوموں کی غلط فہمی کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی روش کو بدلا جائے۔ اگر یہ مسلمان اپنی روش کو نہ بدلیں تو پیغمبر اسلام کی زندگی کی فلم کو دیکھ کر مغربی قوموں کی سوچ مسلمانوں کے بارہ میں ہرگز بدلنے والی نہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کا یہ مزاج بڑا عجیب ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے قابلِ شکایت باتوں کو دیکھ کر دوسری قوموں کے درمیان ان کے بارہ میں منفی رائے قائم ہوتی ہے تو یہ دانشور قرآن کی تعلیمات یا پیغمبر اسلام کی زندگی کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک غیر متعلق بات اس معاملہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو نصیحت کی جائے۔ مسلمانوں کی زندگیوں کی اصلاح کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے اُسوہ حسنہ سے کسی کو شکایت نہیں۔ لوگوں کو اصل شکایت مسلمانوں کے اُسوۂ سیئہ سے ہے۔ جب تک مسلمانوں کی موجودہ روش باقی ہے، لوگوں کی غلط فہمی دور ہونے والی نہیں۔
اس معاملہ کے دو پہلو ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک ہے مسلمانوں کی ذاتی زندگی۔ دوسری چیز مسلمانوں کی زندگی کا وہ پہلو جو میڈیا میں آتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اسلامی دعوت کے سلسلے میں اصل اہمیت دوسرے پہلو کی ہے۔ یعنی مسلمانوں کی اخباری تصویر یا اُن کی میڈیا جہاں تک کسی مسلمان کی ذاتی زندگی کا تعلق ہے، وہ آخرت کے اعتبار سے بلاشبہ اہم ہے۔ جہاں تک دوسروں میں اسلام کی تصویر بننے کا معاملہ ہے۔ وہ مسلمانوں کی میڈیا امیج سے زیادہ تعلق
یہ صورت حال جدید میڈیا کے دور کی بنا پر پیدا ہوئی ہے۔ میڈیا کے ذریعہ بہت جلد باتیں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ مگر میڈیا یا انتخابی نیوز (selective news) کی انڈسٹری ہے۔ اُن باتوں کو منتخب کرتا ہے، جن میں کوئی سنسنی خیز پہلو ہو۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِن معاملات میں سخت احتیاط کا رویہ اختیار کریں جو میڈیا میں نمایاں ہونے والے ہیں۔ اگر مسلمان اس بارہ میں حساس ہو جائیں اور ایسی خبر وجود میں لانے سے سخت پرہیز کریں جو میڈیا میں نمایاں ہو کر
اسلام کی بدنامی کا سبب بننے والی ہوں تو دعوت کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو جائے گی ۔ ٹائمس آف انڈیا (۷ نومبر ۲۰۰۲) میں ایک خبر اس عنوان کے تحت چھپی تھی ۔ جے این یو میں سنٹر برائے مطالعہ امن کا قیام :
JNU to launch centre for peace & conflict resolution. خبر میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کی دو یونیورسٹیوں ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں امن کا شعبہ کھولا جارہا ہے۔ جس کا مقصد امن سے متعلق موضوعات کا مطالعہ ہوگا اور یہ کہ باہمی اختلافات کس طرح حل کیے جائیں ۔ اس سلسلہ میں دونوں یونیورسٹیوں میں سرٹیفکٹ کورس اور ڈگری کورس اور ایم فل کورس تک تعلیم کا انتظام ہوگا (صفحہ ۹)
اس قسم کے کورس دوسری عالمی یونیورسٹیوں میں بھی موجود ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس قسم کے تعلیمی کورس سے امن (peace) کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ میرے تجربہ کے مطابق ، یونیورسٹی کی تعلیم صرف فنی موضوعات کے لیے کارآمد ہے۔ امن کا تعلق سیرت و کردار کی اصلاح سے ہے۔ اور انسان کی سیرت و کردار کی اصلاح غیر رسمی تعلیم (informal education) کے ذریعہ ہوتی ہے، نہ کہ رسمی تعلیم (formal education) کے ذریعہ۔
مصلحین (reformers) نے موجودہ زمانہ میں دنیا بھر میں اپنے بہت سے تعلیمی ادارے بنائے جن کا مقصد اصلاح یافتہ انسان تیار کرنا تھا۔ بنگال کی شانتی نکیتن (یونیورسٹی) کا مقصد بھی یہی تھا جس کو نوبیل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور نے بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ قائم کیا تھا۔ مگر عملاً وہ دوسری یونیورسٹیوں کی طرح ایک عام یونیورسٹی بن کر رہ گئی ، وہ ٹیگور کے مطلوب انسان کو پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ میرے نزدیک تعلیمی اداروں کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر کام کرنا چاہیے۔ تک انسان سازی کا تعلق ہے ، وہ روحانی اور مذہبی رہنماؤں کو انجام دینا چاہیے۔ ہندوستان ٹائمس (۷ نومبر ۲۰۰۲) میں ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں اہل پاکستان کو خطاب کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان کے مسلمانوں
سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے تمہارے ملک اور افغانستان پر حملہ کر رکھا ہے۔ تم کو امریکا سے جنگ کرنے کے لیے اُٹھ جانا چاہیے (صفحہ ۱۷)
القاعدہ کے چیف کا یہ بیان مستند ہے یا نہیں ، یہ ایک اضافی بات ہے۔ اس لیے کہ لمبی مدت سے اس قسم کے مجاہدانہ بیانات مسلمانوں کے درمیان بے حد مقبول رہے ہیں۔ اس مدت میں کسی بھی قابلِ ذکر شخص نے ان جارحانہ بیانات کی کھلی مذمت نہیں کی — ڈاکٹر اقبال، مسٹر محمد علی جناح ، سید ابُو الاعلیٰ مودودی اور دوسرے تمام لوگ خود بھی اسی قسم کی بولی بولتے رہے اور دوسرے لوگ جو اس قسم کی بولی بول رہے تھے، اُن کی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر بالفرض یہ بیان اسامہ بن لادن کا نہ ہوتا تب بھی وہ موجودہ مسلمانوں کے مزاج کے عین مطابق ہوگا۔
اس معاملہ میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف جہاد کریں بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ لمبی مدت تک جہاد کرنے کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ ایسی حالت میں کہنے کی بات یہ ہے کہ اب ہم کو چاہیے کہ اپنے نقشۂ کار پر نظر ثانی ’’دشمن کے خلاف جہاد‘‘ کے الفاظ کو چھوڑ کر وہ الفاظ بولیں جن کی تعلیم قرآن میں دی گئی ہے۔ وہ یہ کہ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ امن اور دوستی کا معاملہ کریں۔ اور فطرت کے قانون کو موقع دیں کہ وہ ہمارے دشمن کو ہمارے دوست میں تبدیل کردے (فإذا الذي بينک و بينہ عداوة كانہ ولي حميم)۔
تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز بمبئی ائیرپورٹ پر اُترا۔ یہاں کئی ساتھی ملنے کے لیے ائیرپورٹ سے روانہ ہو کر میں ہارون شیخ صاحب کے آفس پہنچا۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا اور کچھ لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
۱۷ نومبر کی شام کی اس ملاقات میں اے ۔ جی خاں سرگروہ ایڈوکیٹ (26504363 .Ph)
سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے الرسالہ میں ہیمرنگ کی بابت پڑھا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ ہیمرنگ کیا
اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ہر مرد اور عورت کنڈیشننگ کا کیس ہیں۔ جب تک اس کنڈیشننگ کو توڑا نہ جائے وہ کھلے ذہن کے ساتھ باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور ہیمرنگ کا مقصد اس کنڈیشننگ کو توڑنا ہے تا کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ چیزوں کو دیکھنے کے قابل ہو جائیں۔ کے اس طریقہ کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ جو شخص ہیمرنگ کر رہا ہے اس کے دل میں انسان کے لیے گہری محبت کا جذبہ ہو۔ اس کی ہیمرنگ محبت کی ہیمرنگ ہو۔ کے بغیر ہیمرنگ ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ نصیحت۔
۱۷ نومبرکی شام کو میں مسٹر ہارون شیخ کے مکان پر گیا۔ بمبئی میں میرا قیام زیادہ تر یہیں تھا۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ۴ بجے نیند کھلی۔ نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر ہارون شیخ صاحب کے ساتھ باہر نکلا۔ لوگ قریب کے ایک پارک میں گئے اور وہاں دیر تک ٹہلتے رہے۔ صبح کے وقت ٹہلنا میری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔
میرے لیے صبح کے وقت ٹہلنا صرف ورزش نہیں ہے بلکہ وہ میرے لیے خدا کی یاد کا ایک لمحہ قرآن میں ہے: انّ قر آن الفجر کان مشهودا (بنی اسرائیل ۷۸) لوگ سمجھتے ہیں کہ اس آیت سے مراد صرف صبح کے وقت نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ بلاشبہہ آیت کا ابتدائی مفہوم یہی مگر حدیث میں آیا ہے کہ لكل آية منها ظهر و بطن۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ابتدائی مفہوم ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ایک تو سیعی مفہوم۔
اس اعتبار سے صبح سویرے کھلے آسمان اور تازہ ہوا اور قدرتی مناظر کے درمیان ٹہلنا بھی اسی قسم کا ایک تجربہ ہے۔ اس قیمتی وقت میں ایک مومن جب ٹہلتا ہے تو وہ گویا کتاب معرفت کا مطالعہ کر رہا وہ اس وقت يتفكرون فی خلق السموات والارض کا تجربہ کر رہا ہوتا ہے۔ "قرآن مشہود" وہ ہے جس کا تجربہ مومن کو مسجد کے اندر ہوتا ہے، اور دوسرا قرآن مشہود' وہ ہے جس کا تجربہ مومن کو مسجد کے باہر ہوتا ہے۔
میں ہارون شیخ صاحب کے دفتر میں تھا۔ وہاں ایک وکیل صاحب ملاقات کے لیے آئے۔
انہوں نے کہا کہ میں دور سے آیا ہوں اور مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ اس کے بعد وہ نان اسٹاپ بولنے خاص بات یہ تھی کہ ان کی اکثر باتیں، میرے نزدیک، غیر منطقی (illogical) تھیں مگر وہ پورے یقین کے ساتھ اپنی باتوں کو دہراتے رہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ اسلام میں یکشنبہ سے پنجشنبہ تک کے ایام ہیں (یوم الاحد ، یوم الاثنين ، یوم الثلاثاء ، یوم الأربعاء ، یوم الخميس ) جمعہ کا دن سرے سے اسلام میں موجود نہیں۔ میں نے قرآن کی سورہ الجمعہ کی یہ آیت پڑھی: اذا نودی للصلوة من يوم الجمعة ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد کوئی ہفتہ واری دن نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صرف اجتماع کا دن ہے۔ وہ اس طرح کی بے ربط باتیں دیر تک کرتے آخر میں وہ یہ کہہ کر چلے گئے کہ آپ نے مجھے گوارا کیا، اس کا شکریہ ! Thank you, very much for tolerating me. ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر 9 ، پارہ نمبر 11 ، آیت نمبر ۱۰۷ میں مدینہ کی ایک عمارت (مسجد ضرار) کو ڈھانے کا ذکر ہے۔ اس کو لے کر کچھ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹاور کو توڑنا قرآن کے مطابق، درست تھا۔ وہ اس طرح کہ ہم ان تینوں اعداد کو لیں۔ ہم سورہ توبہ کا نمبر 9 لیں اور پارہ کا نمبر 11 لیں اور آیت کا نمبر ۱۰۷لیں تو اس سے تین باتیں نکلتی ہیں۔ وہ یہ کہ نویں مہینہ کی 11 تاریخ کو ایک ایسی بلڈنگ ڈھائی جائے گی جس کی منزلیں ۱۰۷ یعنی انہوں نے آیت نمبر ۱۰۷ سے ورلڈ ٹاور کی 7 + 10 منزلیں مراد لیں اور سورہ نمبر 9 سے یہ مطلب نکالا کہ نویں مہینہ کی گیارہویں تاریخ کو یہ واقعہ ہوگا۔ اس طرح گویا 11 ستمبر کو ورلڈ ٹاور کو ڈھانا قرآن کے بیان کے مطابق تھا۔
میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد استدلال ہے۔ ماضی میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ لوگ اعداد کے ذریعہ ایسی باتیں ثابت کرتے رہے ہیں جن کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ مثال کے طور پر ایران کے بہاء اللہ خاں نے اعلان کیا کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک ہزار سال پر نبوت کو بدل دیتا ہے۔ اسلام کی نبوت کو ایک ہزار سال پورے ہو گئے ہیں اس لیے اب اس خدائی قانون کے مطابق ، ان کی
نبوت منسوخ ہوگئی اور اب میں اگلے ہزار سال کے لیے خدا کی طرف سے انسانیت کا گائڈ مقرر ہوا اس بے بنیاد نظریہ کو انہوں نے قرآن کی اس آیت سے نکالا :
ثم يعرج اليه في يوم كان مقداره ألف سنة مما تعدون (السجدہ ۵)
بہاء اللہ خاں نے اس آیت سے ’’ہزار سال‘‘ کا لفظ لیا اور پھر اس کے ساتھ ایک خود ساختہ مفروضہ کو جوڑ کر ایک ایسا نظریہ نکال لیا جو قرآن کے سراسر خلاف تھا۔ یہی حال مذکورہ استدلال کا ہے۔ اس میں تین عدد کو لے کر اس کے ساتھ خود ساختہ طور پر ایک مفہوم وابستہ کر دیا گیا۔ اور پھر بے بنیاد طور پر ان اعداد کے حوالہ سے ایک ایسا مفہوم نکالا گیا جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس قسم کا استدلال یقینی طور پر باطل ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہ علمی اعتبار سے اور نہ شرعی اعتبار سے۔ بمبئی کا یہ سفر مسٹر ہارون شیخ کی دعوت پر ہوا تھا۔ انہوں نے نیو بمبئی کے علاقہ میں دواؤں کی ایک فیکٹری کھولی ہے۔ اس فیکٹری کے افتتاح کے سلسلہ میں یہ سفر ہوا۔ ۱۹ نومبر ۲۰۰۴ کو ہم لوگ قافلہ کی صورت میں روانہ ہو کر نیو بمبئی پہنچے۔ یہاں سے ہم لوگوں کو فیکٹری لے جایا گیا۔ بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔
یہاں ایک نشست سوال و جواب کی تھی۔ ایک ہندو انجینئر نے کئی سوالات کئے ۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ انسان کی نجات صرف اسلام مذہب میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مسلمان کی تقریر سنی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایک آیت کا ریفرنس دیا اور اس کا ٹرانسلیشن اس طرح بتایا :
If anyone desires a religion other than Islam, never will it be accepted of him and in the Hereafter he will be in the ramps of those who have lost. (3:85)
میں نے کہا کہ یہ کنفیوژن ترجمہ کی غلطی سے ہوا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ مسلم اسپیکر نے کیا تو انہوں نے یہ کیا کہ آیت کے دوسرے الفاظ کا تو انگریزی ترجمہ کیا مگر انہوں نے اسلام کے لفظ کا ترجمہ نہیں کیا۔ اس آیت میں اسلام کا لفظ کسی مذہب کے نام کے طور پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے لغوی
معنی میں ہے۔ اسلام کا لغوی مفہوم سرینڈر ہے۔ اگر مسلم اسپیکر اس کا ترجمہ سرینڈر کے لفظ سے کرتے تو آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔
مزید سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ خدا کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ سرینڈر یا سب مشن ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے ٹیسٹ (امتحان) کے لیے بنایا اسی ٹیسٹ کی مصلحت کی بنا پر خدا نے انسان کو پوری آزادی عطا فرمائی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ ممکن نہیں۔
یہ ٹیسٹ کس بات کا ہے۔ یہ ٹیسٹ اس بات کا ہے کہ انسان حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرے، وہ آزادی کے با وجود اپنے آپ کو بے آزاد کرلے۔ وہ آزادی کے با وجود اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ وہ اختیار رکھنے کے با وجود اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ یہی سرینڈر ہے، یعنی آزادی کے با وجود خدا کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سرینڈر ہے۔ شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میں جہنم میں داخل ہوگا۔ قرآن اس سلسلے میں گویا گائڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے با وجود سرینڈر کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن میں اس مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیے گئے ہیں، اور حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
یہاں نیو بمبئی میں ایک اجتماع ہوا۔ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے تجارت کے بارہ میں اسلام کا نظریہ بیان کیا۔ یہ تقریر موقع کی مناسبت سے کی گئی۔ اس تقریر کا خلاصہ اگلی سطروں میں درج کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تسعة أعشار الرزق في التجارة (رزق کا نوے فیصد حصہ تجارت میں ہے) provision lies in trade 90%۔ یہ کوئی مذہبی عقیدہ کی یہ فطرت ایک اٹل اصول ہے۔ خدا نے جس تخلیقی نقشہ کے تحت اس دنیا کو بنایا ہے، اس کے
مطابق یہی ہونا ہے کہ معاشی وسائل کا بیشتر حصہ تجارت کے دائرہ میں رہے۔ یہ خالق کا مقرر کیا ہوا قانون ہے، اس کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں وہ لوگ صرف اپنی بے خبری کا اعلان کر رہے ہیں جو یہ شکایت کریں کہ ملک کا سرکاری نظام ہمارے ساتھ تعصب برتتا ہے، وہ ہم کو سرکاری ملازمت نہیں دیتا۔ میں ذاتی طور پر اس شکایت کو بے بنیاد مانتا ہوں۔ تاہم بالفرض اگر وہ درست ہو تب بھی میں کہوں گا کہ کوئی سرکاری نظام صرف اتنا کر سکتا ہے کہ وہ ایک سے رزق کا دس فی صد حصہ چھین لے مگر خدائی نظام کے تحت رزق کا نوّے فیصد حصہ پھر بھی آپ کے لیے قابل حصول رہے۔ ایسی حالت میں شکایت اور احتجاج کی کیا ضرورت۔ پیغمبر اسلام کے ابتدائی ساتھیوں کو صحابہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا طرز فکر اور جن کا مزاج براہ راست پیغمبر کے ذریعہ بنا تھا۔ اس طرح ان لوگوں کے اندر جو صفات پیدا ہوئیں ان کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ معاشی معاملات میں کسی کی شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ تجارت کے کھلے ہوئے میدان کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول خشکی اور تری میں تجارت کرتے تھے (إن الصحابة كانوا يتجرون في البر والبحر) :
Companions of the Prophet were trading in land and sea. پیغمبر اسلام کے بعد کے زمانہ میں اسلام کو جو عالمی توسیع حاصل ہوئی اس میں سب سے زیادہ اسی کا دخل تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی وفات کے بعد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ان میں سے ہر ایک ون مین ٹو مشن (one man two mission) کا مصداق بن انہوں نے دعوت کو اپنا مقصد بنایا اور معاشی ضرورت کے لیے تجارت کو اپنا وسیلہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نصف صدی کے اندر تاریخ کا دھارا بدل گیا۔ درست طور پر کہا گیا ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ