دوسرا سفر
Al-Risala, October 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
بمبئی میں ایک دعوتی ادارہ قائم ہے۔ وہ خاص طور پر اسلام کے عمومی تعارف کے میدان میں کام کر رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو الرسالہ کی دعوتی تحریک سے متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے دعوت کے لیے منظم کام شروع کیا ہے۔ اس ادارے کا نام اور پتہ یہ ہے:
Islamic centre for research & awareness (ICRA)
3, Shantaram Patil Bldg., Gauthan 4th Lane, S. V. Road, Behind Firdaus Mithaiwala, Near Andheri Station (W.) Mumbai-58 Tel. 2628 6223-email: icra@islamsmessage.com
اس ادارے کی دعوت پر بمبئی کا سفر ہوا۔ ۹ جون ۲۰۰۵ کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۱۲ جون ۲۰۰۵ کو بمبئی سے واپس آیا۔ یہ ایک دعوتی اور تربیتی سفر تھا۔
اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ گھر سے ائیر پورٹ تک ایک صاحب مجھے پہنچانے کے لیے گیے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ خدا کی معرفت کا طریقہ کیا ہے اُن کا خیال تھا کہ صوفیانہ اور اوراد و وظائف اور تبلیغی چلّے معرفتِ خداوندی کا ذریعہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ان چیزوں کا معرفتِ خداوندی سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا کی معرفت نہ کسی قسم کے تکرار الفاظ سے حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ کسی نقل و حرکت کا نتیجہ ہے۔ معرفت کے حصول کا ذریعہ قرآن کے الفاظ میں تفکر اور تدبر ہے۔ تفکر اور تدبر کیا ہے۔ تفکر اور تدبر سوچنے کے عمل کا نام ہے۔ معرفت دراصل ذہنی سرگرمی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے نہ کہ جسمانی ورزش کے ذریعہ۔ خدا نے انسان کو لامحدود ذہنی صلاحیت دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک سو ملین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ یعنی انسان کے دماغ میں سوچنے کی جو طاقت ہے وہ لامحدود ہے۔ اس ذہنی صلاحیت کو استعمال کر کے آدمی کو آفاق و انفس میں خدا کی نشانیوں کو دریافت کرنا ہے۔ یہی ذہنی عمل معرفتِ الہی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑوں کے علم سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ میں قرآن کی آیت کا ترجمہ یہ ہے:
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اُس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے ۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگوں کے ٹکڑے ہیں۔ اور گہرے سیاہ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ سے اُس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں پہاڑ جیسی چیزوں کا ذکر ہے۔ اور پھر فرمایا کہ : اللہ سے صرف علم والے ڈرتے ہیں۔ اس سیاق میں واضح طور پر علم سے مراد پانی، نباتات اور پہاڑ کا علم ہے۔
چیزوں کے علم سے خدا کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی قرآنی ’’سلوک‘‘ ہے اور یہی معرفت ربانی کا اصل ذریعہ ہے۔
میرے سفروں میں اکثر کوئی مددگار میرے ساتھ ہوتا ہے۔ اس بار میرا یہ سفر تنہا تھا۔ میرے ساتھ نہ تھا۔ میں سوچتا تھا کہ راستہ میں کوئی مشکل نہ پیش آئے مگر یہاں عجیب معاملہ ہوا۔ پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایر کمپنی کی ایک خاتون کارکن نے آگے بڑھ کر مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کہاں جانا ہے اور پھر میرا بیگ اور میرا ٹکٹ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد ایر پورٹ کے تمام مراحل اسی خاتون نے طے کرائے۔ انتظار گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی تو انہوں نے ایک خصوصی کرسی کا انتظام کر کے مجھے بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ یہاں بیٹھیے، جب جہاز کا وقت ہو گا تو میں خود آ کر آپ کو لے جاؤں گی۔
میرا تجربہ ہے کہ بڑھاپا ایک اعتبار سے کمزوری ہے مگر وہ دوسرے اعتبار سے ایک نعمت ہے۔ نوجوان آدمی جب ایک بوڑھے انسان کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے روپ میں اپنے باپ یا اپنے دادا کو یاد کرتا ہے، وہ اپنے خاندانی بزرگ سے اُس کو سوسبیٹ کر لیتا ہے۔ چنانچہ وہ ایسے کسی آدمی کی خدمت کر کے ایک قلبی سکون حاصل کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے بزرگ کی خدمت کر رہا ہوں ۔ یہی تجربہ مجھے اجتماعات میں بھی ہوا۔ دو سال پہلے نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر کے ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ تعلیم یافتہ ہندو یہاں کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔ حاضرین میں سے ایک مسلمان نے بتایا کہ ان کے قریب کی سیٹ پر ایک ہندو پروفیسر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مسلمان نے اُن کے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا کی بزرگانہ باتوں کو سُن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میرے دادا مجھ سے خطاب کر رہے ہیں۔ دہلی سے بمبئی کا سفر جیٹ ایرویز کی فلائٹ سے ہوا۔ فلائٹ پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ بیش تر تاجر لوگ تھے جو اپنے تجارتی مقاصد کے لیے بمبئی جا رہے تھے۔ راستہ میں مختلف اخبارات اور میگزین مطالعے کے لیے موجود تھے۔ جیٹ ایر کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کے شمارہ
جون ۲۰۰۵ء میں بتایا گیا تھا کہ جیٹ ایرویز ہر دن 270 فلائٹ 72 مقامات کے لیے روانہ کرتی یہ بتاتے ہوئے اس میں درج تھا کہ پانچ منٹ کے اندر ہم انڈیا کے کسی نہ کسی مقام کو مربوط
میں نے سوچا کہ ربط کا اس سے بھی بڑا ایک واقعہ ہر لمحہ ہوتا ہے، مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔ ہے خدا اور اس کے بندے کے درمیان غیر مرئی سطح پر ہر لمحہ ربط قائم ہونا۔ لوگوں کو مادی سفر کا پتہ ہے لیکن لوگوں کو روحانی سفر کا پتہ نہیں۔
جیٹ ونگس کے ایک صفحے پر گوا کے ایک ہوٹل کا اشتہار تھا۔ اس اشتہار کے الفاظ یہ تھے: ایک ایسی جنت کا تصور کیجئے جہاں ہر قسم کے آرام اور سہولتیں موجود ہوں جن کا آپ نے کبھی خواب ایسی جنت کے لطف کے لیے آپ گووا میں ہمارے ہوٹل میں آئیے یہاں آپ کو صحت، خوشی اور سکون ہر چیز ملے گی:
میں اس قسم کے ’’جنتی ہوٹلوں‘‘ میں باربار ٹھہرا ہوں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق کوئی بھی ہوٹل ’’جنتی ہوٹل‘‘ نہیں ۔ اس قسم کے کسی ہوٹل میں جب آپ داخل ہوں تو وقتی طور پر بظاہر وہ آپ کو اچھا لگے گا، لیکن اگلے ہی دن آپ بورڈم کا شکار ہو جائیں گے۔ وہاں کے بظاہر تعیشاتی انتظامات آپ کو مصیبت معلوم ہونے لگیں گے۔ جلد ہی آپ اس سے بے رغبت ہو کر اس طرح واپس آئیں گے کہ یہ جنتی ہوٹل آپ کے لیے ایک تلخ یاد کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ اس قسم کے ہوٹل میں صرف اُن لوگوں کو خوشی مل سکتی ہے جو بظاہر تو انسان ہوں مگر ذہنی اعتبار سے وہ بھیڑ بکری کی سطح پر زندگی گزارتے ہوں ۔ جہاز ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد بمبئی پہنچا۔ میرے پاس کوئی لگیج نہ تھا۔ اس لیے میں فوراً ہی ایر
پورٹ کے با آگیا۔ یہاں کئی لوگ موجود تھے۔ مسٹر ہارون شیخ، مسٹر محمد حنیف ، ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر اویس، مسٹر سید جاوید۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مسٹر ہارون شیخ کے آفس میں پہنچا۔ یہ جگہ ائیرپورٹ سے بہت قریب ہے۔ یہاں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے ۔ ظہر کی نماز تک یہیں قیام رہا۔
لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ ایک صاحب نے کہا کہ پہلے زمانہ میں آدمی نا ہموار راستوں پر اونٹ اور خچر سے سفر کرتا تھا۔ اس لیے پہلے زمانہ میں شکر کی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ اب لوگ موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرتے ہیں اس لیے اب شکر کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ نے کہا کہ یہ ناواقفیت کی بات ہے۔ شکر بالفاظ دیگر ربانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ خداوند برتر کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ عبدیت کو دریافت کرنا ہے۔ جو لوگ اس احساس عبدیت سے خالی ہوں اُن کو نہ پچھلے زمانہ میں ربانی کیفیت کا تجربہ ہو سکتا تھا اور نہ وہ موجودہ زمانہ میں اس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کر سکتے تھے، جس کو شکر کہا جاتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ دنیا کی نعمتوں کو کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ اس سے تو خدا کے مُنعم ہونے کا تصور پیدا ہوتا ہے اور آدمی خدا کا شاکر بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ نعمتوں پر شکر کا یہ بہت ناقص تصور ہے۔ شکر کا اعلیٰ تصور یہ ہے کہ آپ سورج اور چاند کو دیکھ کر شکر گذار بندے بنیں ۔ روانی اور ہوا کے جھونکوں میں آپ کو شکر خداوندی کا پیغام پہنچ رہا ہو۔ درخت کی ہر ہریالی اور زمین کی گردش آپ کے اندر شکر کا طوفان برپا کر دے۔ حقیقی شکر کا ماخذ ذاتی آرام نہیں، بلکہ قدرت خداوندی کی پھیلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ یہ بات قرآن کے ہر صفحے پر موجود ہے۔
ایک صاحب اقبال کے بہت پرستار تھے۔ میں نے کہا کہ اقبال کی شاعری غیر حقیقت پسندانہ جذباتیت پیدا کرتی ہے۔ جس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مثلاً اقبال کا ایک شعر ہے: مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ یہ شعر آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا کرتا ہے جس کو فارسی میں "پدرم سلطان بود" کہا جاتا ہے۔
یعنی آباؤ اجداد کی گذشتہ عظمت پر فخر کرنا۔ حقیقت یہ تھی کہ سابق مسلم علماء کی کتابوں کے جو غیر مطبوعہ مسودات یورپ کے کتب خانوں میں رکھے ہوئے ہیں، اب وہ صرف تاریخی میوزیم کی چیز ہیں۔ زمانہ اتنا ہی آگے بڑھ چکا ہے جتنا کہ قدیم غیر مطبوعہ کتابوں کے مقابلہ میں جدید طرز کی مطبوعہ اور مجلد اقبال کو چاہیے تھا کہ وہ مسلمانوں کے اندر حال اور مستقبل کا شعور پیدا کرتے مگر انہوں نے مسلمانوں کو فخر ماضی کی مریضانہ نفسیات میں مبتلا کر کے چھوڑ دیا۔
مزید عبرت ناک بات یہ ہے کہ اقبال نے یورپ کی لائبریریوں میں اپنے آبا کی کتابوں کو دیکھا تو اُن کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، مگر اُسی یورپ میں لاکھوں لوگ سچائی سے محروم ہو کر جہنم کی طرف جا رہے تھے لیکن اقبال اس اندوہ ناک صورت حال پر نہیں تڑپے اور نہ انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ تم یورپی قوموں کو جنت کا راستہ دکھا کر دعوت الی اللہ کا اہم ترین فریضہ ادا کرو اور پھر آخرت میں اللہ کے بڑے بڑے انعامات حاصل کرو۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ عرب دنیا میں جب مغربی استعمار کا دور آیا اور یہود فلسطین کی سرزمین میں غالب ہو گئے تو سارے عرب ، عربی شاعر کا یہ شعر دھوم کے ساتھ پڑھنے لگے : هَاتِ صلاح الدين ثانيةً فينا جَدّدَى حِطّين أو شبه حطّینا یہ شعر گوئی یا اس قسم کی خطابت بے معنی جوش کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلاح الدین (وفات ١١٩٣ء) دوبارہ جدید تاریخ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دوبارہ حطین جیسے معرکے برپا مگر یہ سراسر بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ مثلاً سلطان ٹیپو (وفات ۱۷۹۹ء) بہادری کے اعتبار سے صلاح الدین سے کم نہ تھے۔ یاسر عرفات بھی اسی قسم کی ایک عسکری مثال تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمانہ علم کا زمانہ ہے نہ کہ تلوار کا زمانہ۔ مسلم رہنماؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ علم کے دور میں تلوار کے ذریعہ جیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔
بمبئی میں جوگیش وری کے علاقے میں ایک نو تعمیر فلیٹ چند دن کے لیے حاصل کیا گیا تھا، میرا قیام اسی فلیٹ میں رہا۔ ہارون شیخ صاحب کے آفس سے روانہ ہو کر ہم لوگ یہاں آگئے۔
حلقہ الرسالہ کے کئی لوگ برابر میرے ساتھ مقیم رہے۔ اُن سے برابر گفتگو جاری رہی۔ ان لوگوں نے عام رواج کے مطابق دعوتی کھانے کا انتظام کیا تھا۔ میں نے ان دعوتی کھانوں میں شرکت نہیں کی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اس نوابی تہذیب میں کب تک جیتے رہیں گے۔ جو لذیذ اور دعوتی کھانے مسلمانوں میں رائج ہیں وہ دراصل مسلمانوں کے پچھڑے پن کی علامت ہیں۔ الرسالہ کے ایک قاری اپنے گھر سے سادہ کھانا لاتے رہے اور میں نے بمبئی کے قیام کے دوران اسی کھانے کو ترجیح دی۔ جوگیش وری کا یہ فلیٹ عملاً ایک قسم کی تربیت گاہ بن گیا۔ یہاں رات دن لوگ آتے رہے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔
ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانیں۔ مثال کے طور پر آپ لوگ اکثر ڈیبیٹ (debate) کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ ڈیبیٹ اور دعوت میں بنیادی فرق ہے۔ ڈیبیٹ اپنے مقابل میں دوسرے کو زیر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ڈیبیٹ دراصل ایک قسم کی تقریری پہلوانی ہے۔ مقابلہ میں دعوت ایک دردمندانہ عمل ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو دل سوزی کے انداز میں سچائی کا پیغام پہنچایا جائے تا کہ وہ اُسے اپنے دل کی بات سمجھے اور اُس کو قبول کرلے۔ ڈیبیٹ (مناظرہ) اور دعوت دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈیبیٹر کے اندر فخر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف فریق ثانی کے اندر وہ نفرت کا جنگل اُگاتا ہے۔ ڈیبیٹ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دعوت کا قاتل ہے۔ دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دراصل محبت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ داعی کے اندر احساسِ ذمے داری کو جگاتی ہے اور دوسری طرف مدعو کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر نظر ثانی کرے اور سچائی کا متلاشی بن جائے، یہاں تک کہ سچائی کو اپنا کر وہ خدا کے ان بندوں میں شامل ہو جائے جن سے خدا قیامت میں راضی ہوگا۔ ایک صاحب نے معترضین اسلام کا سروے کر کے ساٹھ سوالات بنائے تھے۔ انہوں نے یہ سوالات مجھ کو لکھ کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان سوالات کا جواب تیار کردیں تو ہم ان کو شائع
کر کے بڑی تعداد میں پھیلائیں گے تا کہ اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں۔ یہ سوالات ہمیشہ سنی سنائی باتوں پر ہوتے ہیں۔ وہ کسی گہری سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوال کا جواب دیتے رہتے ہیں مگر اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم نہیں ہوتیں۔ بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر آرٹ آف تھنکنگ پیدا کی جائے۔ لوگوں کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنایا اس کے بعد لوگ خود ہی ہر سوال کا جواب پالیں گے۔
میں پارک میں ٹہل رہا تھا، یہاں ایک صاحب مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو ٹی وی پر دیکھا تھا اس سے میں نے آپ کو پہچانا۔ انہوں نے اپنا نام ابو سفیان بتایا۔ وہ الرسالہ کے قاری تھے اور کچھ کتابیں بھی پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ کے مطالعے سے مجھ کو بہت فائدہ خاص طور پر اس کی وجہ سے میرے اندر حقیقت پسندی آئی۔ ایک اور صاحب (مسٹر خالد) سے انہوں نے بتایا کہ ۱۹۹۳ء میں جب آپ بمبئی آئے تھے اور یہاں آپ نے بابری مسجد کے مسئلے پر تقریر کی تھی، اُس وقت اس کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں میں بھی شریک تھا۔ وقت میں آپ کو دشمنوں کا آدمی سمجھتا تھا۔ مگر اُس کے بعد میں نے الرسالہ اور آپ کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا یہاں تک کہ میری فکر پوری طرح بدل گئی۔ اب میں آپ سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور آپ کے مشن سے جڑ کر کام کرنا چاہتا ہوں۔
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ آپ اکثر ایڈ جسٹمنٹ کی باتیں کرتے ہیں یہ تو بزدلی ہے۔ نے کہا کہ ایڈ جسٹمنٹ بزدلی نہیں بلکہ وہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ میں نے کہا کہ ایڈ جسٹمنٹ تو ہر آدمی ہر روز کرتا ہے ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر کوئی فیملی نہیں چل سکتی ، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ کوئی جاب نہیں کر سکتے، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ بزنس میں کامیاب نہیں ہو سکتے، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ سوسائٹی میں عافیت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
میں نے کہا کہ آپ اور دوسرے لوگ اپنی ذاتی زندگی میں عین یہی طریقہ اختیار کیے ہوئے مگر جب معاملہ مسلم اور نان مسلم یا مسلمان اور ہندو کا ہو تو آپ لوگ اُس کو قومی پرستی (prestige)
کا ایشو بنا لیتے ہیں ۔ یہی وہ منفی نفسیات ہے جس کی بنا پر آپ جیسے لوگوں کو ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ پسپائی اور بزدلی کا طریقہ نظر آنے لگتا ہے۔
۱۰ جون ۲۰۰۵ کو جمعہ کا دن تھا۔ پروگرام کے مطابق ہم لوگ ڈیری فارم کی مسجد میں گئے اور وہاں جمعہ کی نماز ادا کی۔ لوگوں کی فرمائش کے مطابق میں نے خطبہ جمعہ سے پہلے آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے کہا کہ جب میں یہاں پہنچا تو نماز سے پہلے مجھے مسجد کے چیرمین صاحب کے دفتر میں تھوڑی دیر بیٹھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے مجھے آر بری کا انگریزی ترجمہ دکھایا اور بتایا کہ میں اس کو برابر پڑھتا اس واقعہ کو لے کر میں نے بتایا کہ آر بری کی پیدائش ایک مسیحی خاندان میں ہوئی ۔ مرا کو کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران انہوں نے قرآن کی قرأت ٹیپ پر سنی ۔ وہ اگرچہ عربی زبان نہیں جانتے تھے، مگر قرآن کے حسنِ صوت سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے مصر جا کر عربی سیکھی اور پھر قرآن کا براہِ راست مطالعہ کر کے انہوں نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔
میں نے قرآن سے متعلق کئی واقعات بیان کیے اور پھر کہا کہ قرآن خدا کا ایک ابدی معجزہ ہے، ویساہی ایک معجزہ جیسا کہ حضرت موسی کا عصا تھا۔ قدیم مصر میں جب حضرت موسی کا مقابلہ جادوگروں سے ہوا، تو یہ ہوا کہ جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو میدان میں سانپ کی مانند دوڑنے قرآن کے مطابق ، اس کو دیکھ کر حضرت موسی ڈر گئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ ، تم نہ ڈرو بلکہ تم اپنا عصا میدان میں ڈال دو، وہ جادوگروں کے سانپوں کو نگل جائے گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ موسی نے جب اپنا عصا ڈالا تو اس کے بعد وہ معجزاتی واقعہ ظاہر ہوا جس کو قرآن میں : فإذا هي تلقف ما يأفكون کہا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ آج کے مسلمان اگر قرآن کو سمجھیں ، وہ قرآن کے مطابق اپنی سوچ بنائیں ، وہ اپنے حریفوں کے مقابلہ میں قرآن کو استعمال کریں تو آج بھی دوبارہ یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ : فإذا هي تلقف ما يأفكون ۔
۱۰ جون کی شام کو اکراء (ICRA) کے ادارے میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی شریک ہوئے۔ اس اجتماع کے لیے یہ عنوان رکھا گیا تھا: اسلام عالم انسانیت کو کیا دیتا میں نے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام کی عمومی تعلیمات کو بیان کیا۔ لوگ بہت غور سے اُس کو سنتے رہے۔
اس تقرير کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کوئی منفر د یا سُپیریر مذہب نہیں۔ اسلام وہی عالمی مذہب ہے جو خدا ہر زمانہ میں مختلف پیغمبروں کے ذریعہ بھیجتا رہا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذہبوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ اسلام تاریخی اعتبار سے قابل اعتبار مذہب ہے، جب کہ دوسرے مذاہب کی تاریخی اعتبار یت یقینی نہیں۔ اس سلسلے میں میں نے مختلف غیر مسلم اسکالرس کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو علمی طور پر واضح کیا۔
میں نے کہا کہ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے سوا کسی مذہبی رہنما کو تاریخی شخصیت نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح سوامی وویکا نند نے اعتراف کیا ہے کہ یہ صرف اسلام ہے جس نے کامل مساوات پر مبنی انسانی سماج قائم کیا ہے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی نے کہا ہے کہ ہمارے وزیروں کو سادگی اور انصاف کے لیے ابوبکر اور عمر کا نمونہ پکڑنا چاہیے۔ کیوں کہ رام اور کرشن تاریخی شخصیت نہیں۔ اسی طرح آرنلڈ ٹوائن بی نے لکھا ہے کہ جدید سائنس کو مؤحدانہ مذہب (اسلام) نے پیدا کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے لکھا ہے کہ محمد پوری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے، وغیرہ۔
اس طرح کی مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام کا تاریخی پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ غیر مسلم مؤرخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ مگر ایک کمی ابھی تک موجودہ ہے کہ مذہب کی دنیا میں کھلا ڈائیلاگ رواج نہ پا سکا۔
میں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے علمی شعبوں میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔ مذہب جمود کا شکار ہے۔ مذہب ایک ہی روایتی حالت پر مسلسل قائم ہے۔ اس جمود کا سبب یہ ہے کہ
مذہب میں کھلا ڈائیلاگ ممکن نہ ہو سکا۔ جب بھی مذہب میں کھلا ڈائیلاگ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً مناظرے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اور مناظرہ ضد اور تعصب کو بڑھا کر ذہنی ترقی کے عمل کو روک دیتا ہے۔
تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ حاضرین کی طرف سے کئی سوالات سامنے آئے۔ ڈاکٹر ہر لیش کا مد ارامریکاہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ میں خود ایک سیکولر آدمی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب میں اوپن ڈائیلاگ جیسا کہ آپ نے خود کہا۔ آپ حق کے متلاشی تھے۔ پھر آپ نے اسلام کو واحد سچائی (The Truth) کے طور پر دریافت کیا۔ ایسی حالت میں آپ کھلے ذہن کے ساتھ ڈائیلاگ کیسے کر سکتے آپ کہتے ہیں کہ سائنسی علوم کی طرح مذہب میں بھی کھلا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ مگر سائنس میں ڈائیلاگ اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ وہاں کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے آخری سچائی کو پالیا مگر مذہب میں اس قسم کا بے لاگ ڈسکشن ممکن نہیں۔
میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کی صلاحیت کا کمتر اندازہ ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سو ملین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انہی میں سے ایک صلاحیت بلا شبہ یہ ہے کہ وہ خالی الذہن (empty mind) ہو کر سوچ سکے۔ وہ اپنے خیالات سے الگ (detach) ہو کر دوسرے نقطہ نظر کو سن سکے۔
میں نے کہا کہ دماغ کے اس لامحدود امکان کی ایک مثال یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے محبت کرتا ہے مگر عین اُسی وقت وہ اپنے باپ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے۔ آدمی اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ یکساں طور پر اپنی بہن سے بھی محبت کرتا ہے۔ یہ انسانی ذہن کے لامحدود امکانات کی ایک مثال ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مغربی مفکر نے کہا کہ میرا ظرف اتنا زیادہ بڑا ہے جو ان تمام تضادات کو اپنے اندر سمو سکے:
I am large enough to contain all these contradiction.
اس اجتماع میں ایک اور ہندو تاجر شریک تھے وہ جین مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کا نام نیول سنگھوں تھا۔ انہوں نے پوری تقریر سنی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڑک پر اگر کوئی شخص ایک انسان کو قتل کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ میں نے کہا کہ بہت بُرا لگے گا۔ انہوں نے پھر کہا کہ اگر کوئی شخص ایک کُتے کو سڑک پر قتل کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ میں نے کہا کہ بہت پھر اُنہوں نے کہا کہ جب ایسا ہے تو آپ لوگ کیوں ذبیحہ کرتے ہیں اور جانور کو مار کر اُس کا گوشت کھاتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ اخلاقی اور غذائی۔ اخلاقی اعتبار سے آپ اس معاملہ کو نہ دیکھیں بلکہ غذائی اعتبار سے دیکھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کے بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں گوشت اور مچھلی کے سوا کوئی اور غذا نہیں ملتی۔ میں خود روس گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں صرف نان ویجیٹیرین فوڈ دستیاب ہے۔ ایسی حالت میں اگر آپ سارے انسانوں کو ویجیٹیرین فوڈ کھانے پر مجبور کر دیں تو بہت سے لوگ بھوکے مر جائیں گے۔
پھر میں نے کہا کہ بات صرف ویجیٹیرین فوڈ اور نان ویجیٹیرین فوڈ کی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز زندگی سے خالی نہیں۔ ہوا، پانی، دودھ اور سبزی اور پھل ہر چیز میں زندگی ہے۔ آپ خواہ گوشت مچھلی نہ کھائیں تب بھی آپ ہر دن لاکھوں زندگیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ گویا نان و تجیٹیرین فوڈ کا نظریہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔
مذکورہ دونوں صاحبان نے میرے جواب کے وزن کو تسلیم کیا۔ چنانچہ اجتماع کے خاتمہ پر جب لوگ جانے لگے تو پروفیسر ہریش کا مدار نے اعتراف کے طور پر ہندو طریقہ کے مطابق، میرا چَرَن اُنہوں نے اجتماع کے ناظم مسٹر سید جاوید سے کہا کہ مولا نا صاحب کی تقریر میری توقع سے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں اُن کے تمام پروگرام میں شرکت کرتا۔ مسٹر نیول سنگھوں نے اپنے ایک مسلم ساتھی ریاض احمد صاحب سے کہا کہ اسلام ایک پریکٹکل اسلام میں ہر بات بہت کلیر ہے۔
اس اجتماع سے فارغ ہو کر ہم لوگ جوگیش وری کے فلیٹ میں آگئے ۔ یہاں کئی لوگ اکھٹا اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کے اجتماع سے ایک بات یہ واضح ہوتی ہے کہ انڈیا میں دعوتی کام کے مواقع بہت زیادہ آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنی تقریر میں واضح طور پر دوسرے مذہبوں کے مقابلہ میں اسلام کو زیادہ مستند مذہب بتایا ۔ مگر کسی ہندو کی طرف سے منفی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ بلکہ سبھی نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔
ایک اور سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے ہندوؤں میں کام کرنے کے لیے ہم نے بہت سے بروشراور پمفلٹ انگریزی زبان میں شائع کیے ہیں ۔ یہ اس لیے ہیں کہ آپ اور دوسرے تمام لوگ ان کو حاصل کر کے اپنے اپنے حلقے میں پھیلائیں ۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اُن کورکھے اور ملاقات اور انٹریکشن کے دوران وہ انہیں لوگوں تک پہنچاتا رہے ۔ میں اسلام کو عمومی اور آفاقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تیار کی ہوئی تمام کتابیں شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں ۔ اس لیے وہ غیر مسلموں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں ۔ ہم نے ان کتابچوں کو عمومی انسانی انداز میں تیار کیا ہے۔ تا کہ ہر ایک اس میں سے اپنے تجسس کا جواب پاسکے ۔ یہ کتابیں مختصر ہونے کی بنا پر ایسی ہیں کہ آدمی فوراً ہی ان کو پڑھ لے۔
11 جون ۲۰۰۵ کی صبح ہوئی تو میں جوگیش وری کے فلیٹ میں تھا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، محمد حنیف صاحب صبح کو آئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر میں ملت نگر پہنچا۔ یہاں کی مسجد میں فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ مسجد کافی بڑی تھی اور نمازیوں کی تعداد بھی کافی ۔ اس مسجد میں پہلے بھی نماز ادا کر چکا ہوں ۔
اس کے بعد محمد حنیف صاحب کے ساتھ قریب کے پارک میں ٹہلنے کے لیے گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجھ کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ اس لیے وہ مجھ کو دیکھتے ہی
پہچان گئے ۔ اِن کے ساتھ کچھ دیر تک پارک کی بنچ پر بیٹھا۔ ان صاحب نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اس سے پہلے اُن کے مزاج میں شدت تھی۔ وہ دوسروں سے فوراً لڑ پڑتے تھے۔ مگر الرسالہ پڑھنے کے بعد ان کے اندر تحمل کی صفت پیدا ہو گئی ۔ اب وہ زیادہ کامیاب و پر سکون زندگی گزار رہے ہیں ۔
الرسالہ کے اکثر قاری یہی بات کہتے ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں کی منفی سیاست کے نتیجے میں پوری کی پوری قوم شدت پسند بن گئی ۔ ہر مسلمان معمولی بات پر بھڑک اُٹھتا ہے۔ جدید تاریخ میں الرسالہ پہلا پرچہ تھا جس نے مسلمانوں کو صبر اور تحمل کی اہمیت بتائی۔ ایک طرف قرآن اور حدیث اور دوسری طرف عقلی دلائل کے ذریعہ لوگوں کو یقین دلایا کہ ترقی کا راز صبر و تحمل میں ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور احتجاج میں ۔
اس کے بعد ہم لوگ جوگیش وری واپس آگئے ۔ یہاں عصر کی نماز ادا کی۔ کئی لوگ اکٹھا ہوگئے جن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔
مسٹر فاروق فیصل نے کہا کہ الرسالہ میں دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کے عنوان سے آپ کا جو مضمون آیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اس کی اہمیت کی بنا پر ضرورت ہے کہ اس موضوع پر ایک باقاعدہ سیمینار کیا جائے ۔
میں نے پوچھا کہ مختلف موضوعات پر بار بار بڑے بڑے سیمینار ہو رہے ہیں۔ کیا ان سیمناروں کا کوئی مثبت نتیجہ نکلا ہے۔ کسی قدر سوچنے کے بعد انہوں نے کہا: نہیں ۔ انہوں نے کہا میں نے خود کئی سیمناروں میں شرکت کی ہے۔ مگر وہاں "نشستند و گفتند و برخاستند" کے سوا مجھ کو کچھ اور نہیں ملا۔ نے کہا کہ جب آپ کو خود یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ ان سیمناروں کا کوئی فائدہ نہیں تو اب اسی قسم کا ایک اور بے فائدہ سیمنار آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ سیمنار کا لفظ بولنے میں بہت بڑا معلوم ہوتا ہے مگر کم از کم موجودہ حالات میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سیمنار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا ہوتے ہیں۔ میرے تجربے کے مطابق یہ سب کے سب ایگوئسٹ (egoist) ہوتے ہیں ۔
مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کی بات نہ مانیں۔ چنانچہ وہ نیا نیا نکتہ نکال کر مسلسل بحث کرتے رہتے ہیں، ایسی بحث جو کبھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچتی۔ حقیقی علم وہ ہے جو آدمی کے اندر ماڈسٹی پیدا کرے۔ صاحب علم بے حکم یاب ہیں جن کے علم نے ان کو ماڈسٹ بنا دیا ہو۔
الرسالہ کے قارئین کی ایک نشست میں یہ طے ہوا کہ بمبئی کے کسی مناسب مقام پر ایک ماہانہ اجتماع ہر مہینے کے پہلے اتوار کو کیا جائے۔ پھر اجتماع کے آرگنائزر کے طور پر مسٹر سید جاوید کا انتخاب کیا گیا۔
میں نے کہا کہ کسی بھی مشن کی کامیابی کے لیے اجتماعی جدوجہد بہت ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ جماعت بندی اور اجتماعی جدوجہد میں فرق ہے۔ جماعت بندی تعصب اور گروہ پرستی پیدا کرتی اس کے مقابلہ میں اجتماعی جدوجہد ایک عملی ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں نے جماعت بندی میں غلو کرکے اس کو عقیدے کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ یعنی جو جماعت میں نہیں وہ ’’من شَذَّ شَذَّ فی النار‘‘ کا مصداق اس قسم کا نظریہ بلاشبہ بدترین غلو ہے۔ اور غلو، اسلام میں نہیں۔
صحیح یہ ہے کہ اجتماعیت کا تعلق عقیدے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق عملی ضرورت سے ہے۔ کوئی ایک شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ قابلیت رکھتا ہو، کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑے کام کے لیے اجتماعی جدوجہد یا مشترکہ جدوجہد لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتماعی جدوجہد ایک عملی ضرورت ہے۔ شرعی عقیدے کا مسئلہ نہیں۔
۱۱ جون ۲۰۰۵ کو ماہِم میں مسٹر رضوان احمد ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع اس میں تعلیم یافتہ مرد اور عورت شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک سوال کی کسی قدر مفصل وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے مطالعے کے مطابق جنت میں جانے کے لیے مُزکّٰی شخصیت (purified soul) (طٰہ ۷۶)کی کی ضرورت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جنت کے حصول کے بارہ میں جو نظریے بنائے وہ سب کے سب مجھے بے بنیاد نظر آتے ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ کلمہ کے الفاظ دہرالینا جنت میں داخلے کے لیے کافی ہے۔ کوئی کسی وسیلے پر
بھروسہ کئے ہوئے ہے۔ کوئی فضائل کی کہانیوں میں گم ہے۔
میرے مطالعے کے مطابق یہ سب ’’امانی‘‘ (النساء ۱۲۳) کی مثالیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔
میں نے کہا کہ قرآن میں آیا ہے: قد أفلح من زكها وقد خاب من دسها