Succesful are those who purify their souls and
Al-Risala, October 2005
By Maulana Wahiduddin Khan
failures are those who pollute their souls (91: 9-10)
اس معاملے کی وضاحت حدیث سے ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ:
إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء . قيل وما جلاءها ؟ قال : كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن (دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو پانی سے زنگ پوچھا گیا اس زنگ کی صفائی کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا: موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن کو پڑھنا) دل میں زنگ کی عملی صورت کیا ہوتی ہے اس کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه . فإن تاب واستغفر صقل قلبه، وإن زاد زادت حتى يعلو قلبه (مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ پھر اگر وہ توبہ اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ دھبے بڑھتے رہیں تو وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتے ہیں)
اس معاملے کو جدید نفسیاتی تحقیق کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ کے تین حصے ہیں: کانشس مائنڈ، سب کانشس مائنڈ اور ان کانشس مائنڈ۔ مطابق یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کوئی بُرائی کرتا ہے تو پہلے دن وہ اس کے کانشس مائنڈ میں ہوتی اگر وہ اس کو لے کر رات کو سو جائے تو فطری پراس کے تحت وہ اس کے سب کانشس مائنڈ میں چلی جاتی ہے۔ اگر وہ اسی حالت پر باقی رہے تو اگلی رات یا کئی راتوں کے بعد وہ ان کانشس مائنڈ میں
چلی جاتی ہے۔ کوئی چیز جب تک کانشس مائنڈ میں ہو، وہ پوری آدمی کے کنٹرول میں ہوتی ہے لیکن سب کانشس مائنڈ میں جانے کے بعد اگر مزید تاخیر ہو اور وہ فطری پر اس سے گزرتے ہوئے اُن کانشس مائنڈ میں پہنچ جائے تو اس کے اوپر سے آدمی کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بُرائی یا دوسرے لفظوں میں نگیٹیو آئٹیم (negative item) آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً اس کی تطہیر کرے تا کہ وہ اس کے حافظے میں پازیٹیو آئٹیم کے طور پر اسٹور (store) ہو۔ اگر آدمی نے ایسا نہیں کیا تو دھیرے دھیرے اس کا اُن کانشس مائنڈ نگیٹیو آئٹیم کا اسٹور بن جائے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے انسان کا قول و عمل زیادہ تر اس کے اُن کانشس مائنڈ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جس آدمی کا لاشعور نگیٹیو آئٹیم سے بھر جائے وہ گویا کثیف روح بن گیا اور جو آدمی اپنے لاشعور کو مطہر کر سکے وہی خدا کے نزدیک مطہر روح قرار پائے گا۔
۱۱ جون ۲۰۰۵ کی شام کو ہم لوگ دوبارہ جوگیش وری کے فلیٹ میں واپس آئے۔ حسب معمول لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کارآمد انسان وہ ہے جس میں دو میں سے ایک صفت ہو۔ یا تو وہ باتوں کو خود گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا اور اگر اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو تو اس کے اندر یہ صفت ہونی چاہیے کہ وہ سمجھ دار آدمی کی بات فوراً مان لے۔ جن لوگوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات موجود نہ ہو، ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مولا نا اسماعیل میرٹھی نے اس بات کو سادہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے: جو نہ دانا ہو، نہ داناؤں کا مانے کہنا میرے نزدیک یہ بات درست ہے مگر اسی کے ساتھ میرا تجربہ ہے کہ دونوں ہی میں ایک بات مشترک ہے اور وہ تواضع (modesty) ہے۔ دانش مندی دانش مندی اُسی وقت کارآمد ہے جب کہ اس کے اندر تواضع کی صفت کامل طور پر موجود ہو۔ اسی طرح غیر دانش مندی کی غیر دانش مندی اُس وقت مفید ہے جب کہ وہ دل سے یہ مانتا ہو کہ میں دانش مند نہیں ہوں۔
عشاء کی نماز کے بعد لوگوں کو بتایا کہ نماز اصلًا ایک انفرادی عمل ہے۔ نماز کا مقصد خشوع ہے اور خشوع کسی ایک فرد کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کیوں نماز کو جماعت کے ساتھ لازم کر دیا گیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے اندر اجتماعیت کی اسپرٹ پیدا کرنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر باجماعت نماز کی دھوم مچی ہوئی ہے، مسجدیں باجماعت نمازیوں سے بھری رہتی ہیں، مگر اجتماعیت کی روح مسلمانوں کے اندر بالکل موجود نہیں۔ گروہی عصبیت کے تحت وہ اپنے بنائے ہوئے حلقے کے ساتھ وابستہ رہ سکتے ہیں، مگر وسیع تر معنوں میں اسلامی اجتماعیت اُن کے اندر سرے سے موجود نہیں۔
۱۲ جون ۲۰۰۵ کو بمبئی سے واپسی کا دن تھا۔ صبح کو فجر کی نماز میں نے ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ادا کی۔ پھر اُن کے ساتھ قریب کے ایک پارک میں گیا۔ بمبئی میں پارک اتنے کم ہیں کہ یہاں صبح کو اس میں داخلے کے لیے اس کی فیس دینی پڑتی ہے۔ چنانچہ جس پارک میں ہم لوگ گئے اس میں فی کس پانچ روپے ادا کرنا پڑا۔ کافی دیر ہم لوگ یہاں ٹہلتے رہے۔ اس کے بعد ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ان کے گھر پر چائے پی۔ اور پھر ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہو گیا۔ ڈاکٹر ریکھانے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ وہ ائیر پورٹ آکر مجھ سے ملیں گی اور اسلام کے بارہ میں مجھ سے کچھ سوالات پر گفتگو کریں گی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وقت پر ائیر پورٹ نہ پہنچ سکیں۔ کچھ دیر ان کا انتظار کرنے کے بعد میں ائیر پورٹ کے اندر داخل ہو گیا۔
بمبئی سے دہلی کے لیے دوبارہ جیٹ ایر کی فلائٹ سے سفر کیا۔ یہ بڑا جہاز تھا، مگر اس کی بیش تر سیٹیں خالی تھیں۔ میں نے ایک ایئر ہائٹس سے پوچھا کہ آج کیوں ایسا ہے کہ جہاز میں بہت کم مسافر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ آج اتوار کا دن ہے اور اتوار کے دن دہلی اور بمبئی دونوں جگہ کاروبار بند رہتا ہے۔ اس لیے آج مسافر بہت کم ہیں۔ کیوں کہ آج کل ہوائی سفر میں زیادہ تجارتی لوگ ہوتے ہیں۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز گیارہ بجے دہلی کے ائیر پورٹ پر اُتر گیا۔
کچھ ساتھی موجود تھے، ان کے ساتھ روانہ ہو کر گھر پہنچا۔ بمبئی کے لوگ مزید قیام کے لیے کہہ رہے تھے مگر اتوار کی شام کو ہماری ہفتہ وار کلاس ہوتی ہے، اس لیے مجھے صبح کی فلائٹ سے واپس آنا پڑا۔ گفتگو کی روداد ایک سوال کے جواب میں میں نے کیا کہ کچھ لوگ قرآن کی آیت سے اقامت دین کا لفظ لیتے ہیں اور اس کے معنی یہ بتاتے ہیں کہ اس سے مراد ہے: اقامتِ سیاست۔ یعنی سیاسی اقتدار پر قبضہ کرکے قوانینِ شرعی نافذ کرنا۔ یہ قرآنی آیت کی تفسیر نہیں ہے، بلکہ قرآنی آیت کو اپنے خود ساختہ نظریے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس قسم کا غیر منطقی استدلال تمام باطل فرقے کرتے رہے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ سورۂ شوریٰ کی آیت أقيموا الدين (۱۳) میں اقامتِ دین سے مراد دین کی پیروی ہے۔ یعنی دین کی ابدی تعلیمات کو ذاتی زندگی میں اپنانا۔ اس آیت کا کوئی تعلق قانون اور سیاست سے نہیں ہے۔ میں نے حوالوں کے ذریعہ دکھایا ہے کہ اس آیت میں تمام مفسرین یہی مفہوم لیتے ہیں۔ پوری تاریخ میں کوئی ایک مفسر ایسا نہیں جو اس آیت میں اقامتِ دین کا وہ مفہوم لیتا ہو جو موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے منکرین نے پیغمبر کا انکار اس لیے کیا کہ وہ انہیں بشر دکھائی دیے۔ بعد کو پیغمبروں کے مومنین نے یہ کہا کہ اپنے پیغمبروں کو غیر بشر ثابت کر ڈالا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا کوئی استثناء نہیں ہے۔ الطاف حسین حالی نے بہت پہلے مسلمانوں کے بارہ میں کہا تھا کہ: نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں۔ یہ مزاج مزید اضافے کے ساتھ آج تک جاری ہے۔ اس کا مظاہرہ نعتیہ اشعار میں بخوبی طور پر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں دو شعر یہ ہیں :
مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بلا عین کے ایک عرب ہم نے دیکھا وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر نعت گوئی ایک بدعت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے نعت خواں حضرت حسان تھے۔
نزدیک یہ بدعت پر جھوٹ کا اضافہ ہے۔ میرے نزدیک حضرت حسان نعت خواں نہیں تھے بلکہ وہ اسلام کے دفاع میں شعر کہا کرتے تھے۔
ایک تفسیری مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (محمد ۶) میں نے کہا کہ اس آیت میں ’’عرّفہا لہم‘‘کی کی وضاحت اکثر مفسرین نے بینھا لھم جیسے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی اللہ مومنین کو جنت میں داخل کرے گا جس کو اُنہیں معلوم کرا دیا ہے۔
میرے نزدیک یہ اس آیت کی ایک ناقص تفسیر ہے۔ اس آیت پر غور کرنے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ اس آیت میں عرفھا لھم سے مراد یہ ہے کہ اُن کو جنت کی پیشگی پہچان یا معرفت کرا دی ہے۔ سے مراد غالباً یہ ہے کہ جنت میں داخلہ اُن خوش قسمت انسانوں کو ملے گا جو جنت کی سوچ میں اتنا غرق ہوئے کہ اُنہیں دنیا ہی میں جنت کی معرفت مل گئی۔ گویا کہ وہ موت سے پہلے ہی جنت کا تصوراتی مشاہدہ کرنے لگے۔
اس سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص جنت کا اتنا زیادہ طالب بن جائے کہ وہ جنت کے علم سے گذر کر جنت کی معرفت کا درجہ حاصل کر لے تو اس قسم کا عارفانہ ادراک اُس کے لیے غالباً جنت میں داخلے کا سرٹیفکیٹ بن جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پچھلے تقریباً ایک سو سال سے مسلمانوں کے درمیان ایک تحریک چلتی رہی ہے کہ مسلمان مخلوط علاقے میں نہ رہیں بلکہ ان کی آبادیاں غیر مسلموں کی آبادی سے الگ بنائی جائیں۔ تقریباً تمام مسلم رہنما اس سوچ کا شکار رہے۔ نزدیک یہ بدترین رہنمائی تھی۔ جس کا مسلمان شکار ہوئے۔ ان مسلم رہنماؤں نے ایک عظیم تاریخی حقیقت کو نہیں جانا وہ یہ کہ اختلاط (interaction) ہر قسم کی ترقیوں کا راز ہے۔ علیحدہ پاکٹ بنانا ترقی کے راستہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں صحابہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل جائیں۔
اسلام کی وفات کے بعد صحابہ کی اکثریت نے ایسا ہی کیا۔ وہ اطراف کے عرب ملکوں میں چلے گئے۔ حالاں کہ ان ملکوں کی زبان اور ان کا کلچر صحابہ کے لیے بالکل اجنبی چیز کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک موقع پر میں نے ایک حدیث کی وضاحت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرے اوپر نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی کے اعتبار سے پیغمبروں کی فہرست مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی اور پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ وہ اسباب ختم ہو گئے، جس کی وجہ سے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے تھے۔
میں نے کہا کہ پیغمبر کا مقصد ہدایت الہی کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے پیغمبر کا شخصاً موجود ہونا ضروری نہیں۔ اگر ایک ایسا گروہ موجود ہو جو پیغمبر کے نمائندے کی حیثیت سے امر حق لوگوں تک پہنچاتا رہے تو ایسی حالت میں پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کا کلام (قرآن) اپنی اصلی حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ یہ حفاظت اس بات کی ضمانت بن گئی کہ ہر نسل میں اور ہر زمانہ میں ایسے افراد موجود ہیں جو ہدایت الہی کی صحیح معرفت حاصل کرکے اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔ پیغمبر آخرالزمان سے پہلے اس قسم کی ضمانت موجود نہ تھی اس لیے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب (India Wins Freedom) میں بتایا ہے کہ تقسیم کی ذمے داری کانگریس کی قیادت پر ہے۔ کا الیکشن آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں ملک کر لڑے تھے۔ اس الیکشن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ اتفاق ہو گیا تھا کہ مسلم وزرات کا کوٹہ مسلم لیگ سے پُر کیا جائے گا۔ الیکشن کے خاتمے پر جب کانگریس کو امید سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی تو اس نے اپنا موقف بدل لیا۔ اس نے یوپی کی وزارت میں یہ کیا کہ مسلم لیگ کے نمائندہ عبدالرحمن نشتر کو چھوڑ کر کانگریسی امیدوار حافظ محمد ابراہیم کو وزیر بنا دیا۔ یہ واقعہ مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے لیے بامب شیل (bomb
(shell ثابت ہوا۔ وہ ہمیشہ کے لیے کانگریس سے الگ ہوگئے اور تقسیم ملک کی تحریک میں شدت کے ساتھ سرگرم ہوگئے ۔ جس کا نتیجہ پاکستان کا قیام تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا تعلق کانگریس سے تھا اور مسٹر محمد علی جناح کا تعلق مسلم لیگ سے۔ سیاسی بصیرت کے اعتبار سے دونوں ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ سب سے بڑی سیاست یہ ہے کہ عذر کو عذر نہ بنایا جائے۔ جو لوگ عذر کو عذر بنائیں ان کے لیے سیاست کے میدان میں داخل ہونا ہی جائز نہیں۔
میں نے کہا کہ دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام کی عظیم تاریخ مگر شاید لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ مسلمان تاریخ سازی کا یہ کردار اسی لیے ادا کر پائے کہ انہوں نے عذر کو عذر نہیں بنایا۔ مثال کے طورپر خلیفۂ اول کے انتقال کے وقت انصار کے نمائندہ کو خلیفہ نہیں اس وقت مہاجرین کی طرف سے یہ کہا گیا کہ: نحن الأمراء وأنتم الوزراء۔ مگر بعد کو اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ انصار اگر اس کو عذر بناتے تو یہ واقعہ اُن کے لیے بامب شیل ثابت ہوتا۔ لیکن انہوں نے اس عذر کو عذر نہیں بنایا۔ اس طرح اسلام کی تاریخ آگے بڑھ گئی۔ انسان صرف حال میں دیکھتا ہے، حقیقی لیڈر وہ ہے جو حال کے ساتھ مستقبل کو شامل کر کے دیکھ سکے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ محدثین نے ایک اصول یہ بیان کیا ہے کہ جب بھی کوئی شخص ایسی روایت بیان کرے جس میں چھوٹے عمل پر بڑا ثواب بتایا گیا ہو تو اس کو موضوع میں نے کہا کہ اس مسئلے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ کوئی ”چھوٹا‘‘ عمل ہمیشہ ایک ظاہری عمل ہوتا ہے اور ظاہری عمل پر بڑے بڑے ثواب کی کہانیاں بنانا بلا شبہہ باطل ہے۔ ثواب ہمیشہ داخلی یا قلبی عمل پر ملتا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں فضائل کی کہانیاں داخلی عمل پر نہیں بنتیں بلکہ وہ ہمیشہ ظاہری عمل پر بنتی ہیں۔ میں نے کہا کہ فضائل اعمال کا مطلب فضائل ظاہر اعمال ہے نہ کہ فضائل
بمبئی کے ایک علاقے سے گزرتے ہوئے میں نے وہاں کی مسجد میں نماز پڑھی۔ باہر نکلا تو
میرے ساتھی نے کہا کہ یہ پورا علاقہ مسلمستان ہے۔ میں نے کہا کہ میرے لیے یہ کوئی خوشی کی بات مسلمانوں کا اپنا پاکیٹ بنا کر الگ تھلگ رہنا ان کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر رہنے کی اہمیت کو سمجھیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا سیکھیں۔ اس کے بغیر وہ ترقی نہیں کر سکتے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب تھے جو بار بار درمیان میں بول پڑتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ طریقہ آپ کے ذہنی ارتقا میں رکاوٹ ہے۔ ایک انگریزی مقولہ ہے کہ ”جب میں بول رہا ہوں تو میں سوچ نہیں رہا ہوں‘ جب آپ بولتے ہیں تو اخذ کرنے کا عمل معطل ہو جاتا ہے۔ آپ اگر چاہتے ہیں کہ آپ کو ذہنی ارتقاء کی نعمت حاصل ہو تو آپ اپنی اس روش کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا آج کل درگاہ کلچر کی دھوم ہے۔ کچھ مُردہ شخصیتوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر خدائی کا درجہ دے کر ان کے نام پر دھوم مچی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ درگاہ کلچر کی اس مقبولیت کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے خدا کی معرفت نہ ہونا۔ آج مسلمانوں کے لیے خدا صرف ایک رسمی عقیدہ ہے، خدا اُن کے زندہ یقین کا حصہ نہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے وہ چیز وجود میں آئی ہے جس کو میں بزرگ پرستی کہتا ہوں۔ موجودہ درگاہ کلچر اسلام میں بلا شبہ اجنبی ہے۔ اسلام میں قبر پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خواہ اس کو کتنا خوب صورت نام دے دیا جائے۔ میں نے درگاہ کلچر کے ایک مبلغ کی تقریر ٹی وی پر سنی۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ مُرادیں پوری کرنے کی طاقت تو صرف خدا کو حاصل ہے۔ پھر لوگ قبروں پر جا کر کیوں اُن سے مرادیں مانگتے مقرر موصوف نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ مرادیں پوری کرنے کی طاقت صرف خدا کو حاصل ہے۔ جب خدا اپنی طرف سے کسی کو اپنی عنایت کے طور پر مرادیں پوری کرنے کی طاقت دے دے تو وہ توحید کے خلاف نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک میں اصل طاقت صدر مملکت کو ہوتی ہے، لیکن جب وہ خود اپنی طرف سے اپنے اختیار کا ایک جُزو گورنر کو دے دے تو گورنر بھی اس عطا کردہ اختیار کو استعمال کرنے کا حق دار ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ کسی غیر خدا کو مُراد پوری کرنے کا اختیار
ہونا، صدر و گورنر جیسی غیر متعلق مثال سے ثابت نہیں ہوتا، اس کے ثابت ہونے کے لیے براہِ راست قرآن میں دلیل ہونی چاہیے۔
صدر یا وزیر اعظم کی مثال پر قیاس کر کے خدا کے معاملے کو ثابت کرنا، قیاس مع الفارق کا خدا کے متعلق ایسی مثال دینا، حقیقت بیانی نہیں، بلکہ وہ مجرمانہ جسارت کے ہم معنی ہے۔ صدر یا وزیر اعظم کیوں کسی کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ صدر یا وزیر اعظم بہر حال انسان ہیں۔ ان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی پوری سلطنت کو براہ راست اپنے کنٹرول میں چنانچہ وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔ مگر خدا اپنی ذات میں قادرِ مطلق ہے۔ اس کو اپنے اختیار کے استعمال کے لیے ہرگز کسی اور کی ضرورت نہیں۔ ایک معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صرف کچھ کتابیں پڑھنے سے علم نہیں آتا۔ فارسی کا مقولہ ہے کہ :