Al-Risala · October 2005

یک من علم را دہ من عقل می باید

Al-Risala, October 2005

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے۔ کتابوں کے مطالعے سے آدمی کو معلومات حاصل ہوسکتی ہیں، لیکن آدمی جب تک صحیح تجزیہ کر نا نہ جانے وہ اپنے مطالعے یا تعلیم سے عارفِ حقیقت نہیں بن سکتا۔ ظاہری قسم کے مسئلے مسائل کو بتانے کے لیے معلومات کافی ہو سکتی ہیں، مگر دین کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے معرفت درکار ہے۔

اس سفر میں ایک بڑا عبرت ناک واقعہ معلوم ہوا۔ بمبئی میں ایک ڈاکٹر نیتو مائڈ کے تھے۔ ۲۰۰۳ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ امراضِ قلب کے بہت بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ سرجری میں اُن کو کمال حاصل تھا۔ انہوں نے بہت سے دل کے مریضوں کی کامیاب سرجری کی تھی۔ آخر میں اُن کو اپنے فن پر بہت غرور آ گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے منکر بن گئے۔

ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار ایک مسلم خاتون کے دل کا آپریشن کیا۔ بعد کو مسلم خاتون نے ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب

ڈاکٹر صاحب نے کہا اس میں خدا کی کیا بات ہے۔ تم پیسہ دو اور میں تم کو صحت دوں گا: Give me money and i will give you cure. وہ ایک آپریشن کا معاوضہ تین لاکھ روپے لیتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود اُن کا انتقال دل کے دورے میں ہوا۔ وہ اپنی قیمتی کار میں سفر کر رہے تھے، ہندو جا ہاسپٹل پہنچے کہ اچانک اُن پر دل کا اُن کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، اتفاق سے وہاں اُس وقت جو عملہ تھا وہ اُن کو پہچانتا نہ تھا۔ چنانچہ اسپتال میں اُن کے ساتھ بہت زیادہ بے توجہی کا معاملہ ہوا۔ وہ بے بسی کے ساتھ چلاتے رہے کہ میں ڈاکٹر مانڈ کے ہوں۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر وہاں بروقت اُن کا صحیح علاج نہ ہوسکا اور اسپتال ہی میں اُن کا خاتمہ ہو گیا۔

ہر انسان مکمل طور پر عاجز ہے مگر وہ اپنے کو قادر سمجھ لیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ غور و فکر سے کام نہیں لیتا۔ بمبئی میں ایک سرجن ڈاکٹر کامران نے مجھے بتایا کہ انسان کے جسم میں ایک خاص عنصر یہی آپریشن کے بعد اندمال کا سارا کام کرتا ہے۔ اگر یہ عنصر نہ ہو تو تمام سرجن بے روزگار ڈاکٹر مانڈ کے اگر اس پوری حقیقت پر غور کرتے تو وہ ہر سرجری کے بعد اپنے عجز کو دریافت لیکن غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے وہ برعکس طورپر سرجری کے واقعے میں اپنی مہارت دیکھتے اس لیے ایسا ہوا کہ جس واقعے میں انہیں عجز کی غذا مل رہی تھی، اُس سے وہ غلط طور پر کبر کی غذا لیتے رہے اور آخر کار اس بے خبر کے ساتھ اُن کا خاتمہ ہو گیا۔

ایک مجلس میں میں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں سفر دعوت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں میں نے مولانا محمد ذکوان ندوی کا ایک تجربہ بتایا۔ یہ تجربہ ان کے بیان کے مطابق یہ ہے : ” جون ۲۰۰۵ء کو میں نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ایک سفر کیا۔ یہ سفر گومتی ایکسپریس کے اس سفر میں کچھ دعوتی تجربات ہوئے جن کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ میں اپنی عادت کے مطابق سفر کے دوران اپنی ڈائری لکھ رہا تھا۔ میرے ہم سفر مسٹر ہریش نے سوال کیا: آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا: ڈائری۔ اس طرح بات شروع ہوئی۔

پھر میں نے ہندی اور انگریزی کے کچھ پمفلٹس انہیں دیے۔ وہ کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا میں آؤں (Center for Peace and Spirituality towards God Realization) CPS مسٹر ہریش دہلی کے ایک ٹی وی (آنکھوں دیکھی) کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو جب بھی کوئی پروگرام دینا ہو فون کیجئے ۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آؤں گا اور پروگرام ریکارڈ کر کے نشر کروں گا۔ دوسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب مسٹر شنکر رونیار (غازی آباد) نے بھی بڑھ کر ایک پمفلٹ لیا اور اس کو پڑھنے کے بعد کہا: بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر اس میں کچھ کٹّر پنتھ ہے۔ میں نے کہا کہ پمفلٹ میں لکھی ہوئی کوئی ایک بات بتائیے جس سے آپ نے یہ جانا کہ اس میں کٹر پنتھ ہے؟ اس پر وہ پھر انہوں نے کہا: اسلام میں چار شادی کا حکم ہے جس کی کوئی لاجک میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ میں نے کہا: آپ کی عمر مجھ سے بہت زیادہ ہے آپ مجھے کسی ایک مسلم فیملی کا نام بتائیے جس نے چار شادیاں کی ہوں ۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا: میرے علم میں تو ایسا کوئی میں نے کہا: جو چیز عملاً موجود نہیں اس میں الجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد وہ دوسرے پمفلٹ دیکھنے لگے۔ پھر کافی اختلاط شروع ہو گیا اور کئی لوگوں نے سوالات شروع کر دیے ۔ مسٹر شنکر رونیار نے بابری مسجد کے متعلق بتایا کہ وہ سرا سر نادانی اور ہٹ دھرمی کا کیس تھا۔ اڈوانی اور دوسرے لوگوں نے صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے یہ ڈرامہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد وہاں بنائے جانے والے عارضی مندر میں درشن کے لیے ایودھیا حاضر ہوا تو میں نے وہاں کی صورت حال دیکھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا: پربھو! ہم آپ سے کیا مانگیں آپ تو خود ہی مظلوم ہیں۔ اس سے اچھے تو آپ پہلے ہی تھے۔ جھوٹی سیاست کے نام پر لوگوں نے اب آپ کو ایک سائے دار مکان سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے کیمپ میں لاکر رکھ دیا ہے۔ پڑھا اور کہا: اس کا لکھنے والا تو ایک فلاسفر معلوم ہوتا ہے۔ وہ کافی متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس رائٹر سے تو ملنا چاہیے۔ میں ضرور دہلی آکر ان سے ملوں گا، اور آشیر واد لوں گا۔ سامنے بیٹھی ہوئی دو "غیر مسلم خواتین نے بھی دوسرے ہندی

انگریزی پمفلٹس کے علاوہ ’سفلتا کے سوتر‘ دیکھا اور بہت پسند کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کتابچے سے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا مجھے اس سے حوصلہ ملا۔ اور میں نے سیکھا کہ آدمی کو کسی بھی حال میں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔

دورانِ گفتگو بہت سے لوگوں نے شوق سے CPS کے کتابچے لیے، ایک صاحب مسٹر ہریش کمار (پنجاب، 9814589292:Tel) اپنی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آئے اور کچھ کتابچے حاصل میں نے ان سے کچھ باتیں کیں اور پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نغمے گاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ نغمے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سچا نغمہ اور دوسرا جھوٹا نغمہ۔ آپ جو نغمہ گاتے ہیں وہ جھوٹا وہ اس جھوٹی دنیا میں جھوٹی زبان سے گایا جاتا ہے تاکہ کچھ جھوٹے کان اسے سن سکیں ۔ چیزیں ایک دن مٹی ہو جانے والی ہیں۔ سچا نغمہ ایک خدائی نغمہ ہے۔ آپ سچے نغمے گائیے اور جھوٹے نغمے اس پر وہ مسکرائے اور کتابچے لے کر اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور کہا میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آپ سے محبت محسوس ہو رہی ہے۔ آپ برائے کرم میری اس کتاب پر ’اُردو‘ میں میرا نام اور اپنا فون نمبر لکھ دیں۔ میں نے کہا آپ اُردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں، بس آپ کی یادگار ہو جائے گی۔ دورانِ سفر ان حضرات سے دعوتی انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح نو گھنٹے کا یہ سفر خدا کے فضل سے ایک دعوتی سفر بن گیا۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ”آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ اس سفر میں ہمیں سچائی ملی، یہ سفر ہمارے لیے ایک تاریخی سفر بن گیا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوت کے امکانات کتنے بڑھ گئے ہیں۔ سفر اور دوسرے مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اگر آدمی کے اندر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ ان ملاقاتوں کو کامیابی کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ایک واقعہ پیش آیا۔ اس پر میں نے کہا کہ کسی کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔

ایک وہ جس کو تنقیدی انداز کہا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ تنقیدی انداز کو پسند نہیں کرتے۔ کا فائدہ صرف تنقیدی انداز میں ہے۔ تنقید و تجزیہ کا انداز آدمی کے اندر صحیح سوچ پیدا کرتا ہے۔ سوچ سے صحیح عمل ظہور میں آتا ہے۔ اگر لوگ تنقید کو معتدل انداز میں لیں تو حقیقی تنقید سے زیادہ بڑی نعمت کوئی دوسری چیز نہیں۔ غلطی پر ٹوکنے کا دوسرا طریقہ لطیفے کا طریقہ ہے۔ لطیفے کے طریقہ میں آدمی بات کو کہہ دیتا ہے مگر اصلاح کے نقطہ نظر سے اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں میں نے ڈاکٹر عندلیب شادانی کا ایک واقعہ بتایا۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی اردو کے شاعر اور ادیب تھے۔ عندلیب شادانی کا اصل نام وجاہت حسین تھا۔ وہ ۱۸۹۷ میں سنبھل (مراد آباد) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۹۲۵ میں انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا۔ وہ ہندو کالج دہلی میں اردو اور فارسی کے لیکچرر ہوئے۔ جنوری ۱۹۲۸ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو اور فارسی میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۳ میں ہندوستان کے مسلم مورخ‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر لندن یونیورسٹی سے پی۔ ڈی کی سند حاصل کی۔ ۱۹۴۵ میں اپنے شعبہ میں ریڈر اور ۱۹۴۷ میں پروفیسر اور صدر شعبہ مقرر ہوئے۔ جولائی ۱۹۶۹ میں ڈھاکہ ہی میں ان کا انتقال ہوا۔

عندلیب شادانی ایک شگفتہ مزاج آدمی تھے۔ ان میں مزاح کا ذوق پایا جاتا تھا۔ زمانہ قیام میں ایک دفعہ چند طلبہ ان کے پاس یہ شکایت لے کر آئے کہ طلبہ کے نماز پڑھنے کا کمرہ طالبات کے کامن روم کے مقابل ہے، اس لیے لڑکیوں کی آوازوں سے نماز میں خلل پڑتا ہے۔ صاحب نے ان کو یقین دلایا کہ یا تو نماز کا کمرہ بدل دیا جائے گا یا طالبات کا کامن روم۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ تاہم آپ لوگ ایک لطیفہ سن لیجئے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کسی میدان میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کے سامنے سے مجنوں کا گزر ہوا۔ نمازی جلدی سے نماز ختم کر کے مجنوں کو ملامت کرنے لگا کہ دیکھتا نہیں میں نماز پڑھ رہا ہوں اور تو میرے سامنے سے گزر گیا۔ اس پر مجنوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اپنے مجازی محبوب (لیلیٰ) کے خیال میں اس قدر محو تھا کہ مجھے اپنے ارد گرد کا احساس نہ تعجب ہے کہ تجھے محبوب حقیقی کے حضور میں کھڑے ہونے کے باوجود میرے گزرنے کا احساس ہوا۔

فن لطیفہ کے اعتبار سے یہ ایک اچھا لطیفہ ہے مگر نصیحت اور اصلاح کے اعتبار سے وہ کوئی اچھی کیوں کہ اس لطیفہ کو سن کر آدمی صرف یہ کرے گا کہ وہ ہنس دے۔ اس قسم کے لطیفے سے کسی شخص کے اندر اصلاح کی تڑپ پیدا ہونے والی نہیں۔

ایک مسلم اخبار میں پاکستان کے بارے میں ایک خبر تھی جس کی سرخی یہ تھی:”دینی مدارس سے غیر ملکی طلبہ کا انخلاء“ خبر میں بتایا گیا تھا کہ :

”صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں زیر تعلیم دینی مدارس کے غیر ملکی طلبہ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ غیر ملکی اور دوہری شہریت رکھنے والے طلبہ کو مدارس میں تعلیم کے لیے ویزا نہیں دیا جائے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے دینی مدارس میں تقریباً ۱۴۰۰ غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں، ان کے پاکستان سے انخلاء کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان نے موجودہ زمانہ میں برعکس نہند نام زنگی کا فور کی مثال پیش کی ہے۔ پہلے برصغیر ہند کے مسلم رہنماؤں نے یہ کہا کہ ہم کو ایک علاحدہ لینڈ چاہیے جہاں ہم اسلام پر مبنی نظام قائم کر سکیں ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ تقسیم کے بعد اپنے آپ ایسا ہو جائے گا۔ مگر جب ایسا نہیں ہوا تو اس کے حصول کے لیے ہنگامہ خیز الیکشنی سیاست شروع کی گئی۔ الیکشنی سیاست بھی اسلام نظام کے قیام میں ناکام رہی تو اس کے بعد اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کی سیاست شروع کر دی گئی۔ یعنی ایک پاکستانی بزرگ کے الفاظ میں مسلح ٹکراؤ (armed conflict)۔ جب متشددانہ جہاد نا کافی ثابت ہوا تو اس کے بعد خود کش بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس نام نہاد اسلامی جہاد میں پاکستان کے تقریباً تمام مدرسے اور مسجدیں اور ادارے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہو گئے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس معاملہ میں مسلم رہنما اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نئی سمت سفر طے کریں۔ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہوائی جہاز بھی اسی کا ایک حصہ

ہوائی سفر کو واقعہ بنانے کے لیے بہت سے فطری عوامل کے علاوہ مختلف قسم کے زمینی اور ہوائی انتظامات لازمی طور پر ضروری ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے میں خشکی پر بیل گاڑی کا سفر یا سمندر میں کشتی کا سفر ایک سادہ نوعیت کا سفر ہوتا تھا۔ ان سفروں کے لیے کسی پیچیدہ نظام کی ضرورت نہ تھی۔ مگر آج ہوائی جہاز کے سفر کے لیے بہت سے انتظام ضروری ہوتے ہیں۔ آدمی اگر ان باتوں پر غور کرے تو سفر کا رہی ہے، ہاں یہ بات بھی ضروری ہوتی ہے کہ اس کی باڑی پر واقعہ اس کے لیے معرفت کی غذا بن جائے۔ الرسالہ کی نئی مطبوعات ۲۰۸ صفحات ٭ رہنمائے حیات ۳۸۸ صفحات ٭ ڈائری ۱۹۹۲- ۱۹۹۳ ۱۷۲ صفحات ٭ سیرتِ رسول ۲۰۸ صفحات ٭ امنِ عالم ۲۵۰ صفحات ٭ عورت: معمارِ انسانیت ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیح (The Spiritual Message) ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے : دی اسپرچول میسیج ، فی کاپی 15/- روپے ، سالانہ 165/- روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے :

302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 28341654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323

Printed page