Al-Risala · November 2005

Everything falls into place.

Al-Risala, November 2005, pp. 454–455

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اُس کو ایک جوڑادنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں۔ وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ اس طرح انسانی زندگی کے دو حصے ہیں، ایک قبل از موت پیریڈ (pre-death period) اور دوسرا بعد از موت پیریڈ (post-death period)۔ اُس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اُس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از موت دور اور بعد از موت دور۔

موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دار الجزاء (world of reward) کے طور پر۔ موجودہ دنیا چونکہ ٹسٹ کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگزمینیشن ہال (examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بقدر ضروری سامان موجود ہیں مگر پر مسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگزمینیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہورہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) پاسکے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کے منشاء کے مطابق استعمال کرے۔

بعدازموت زندگی کے لیے خدا نے ایک مکمل دنیا بنائی ہے جس کا نام جنت ہے۔ یہ جنت ہر اعتبار سے آئیڈیل اور پرفیکٹ ہے۔ اس جنت میں بسانے کے لیے خدا کو ایسے انسان درکار ہیں جو جنت کی اس دنیا میں بسائے جانے کے اہل ہوں۔ موجودہ دنیا میں جو آدمی اپنے آپ کو خدائی معیار کے مطابق کوالیفائی (qualify) کرے گا وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔ یہ کوالیفائڈ عورت اور مرد کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے خدا کی معرفت حاصل کریں۔ جو فکری کنفیوژن سے باہر آکر سچائی کو دریافت کریں۔ جو غیر خدا کی پرستش کو چھوڑ کر خدا کے پُرستار بنیں۔ جو آزادی کے باوجو د اپنے آپ کو خدائی ڈسپلن میں دینے کے لیے تیار جو منفی حالات میں اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ جو دوسروں کے ساتھ بھی وہی اخلاقی معاملہ کریں جو وہ اپنے ساتھ چاہتے تھے۔

خدا کے کریشن پلان کے مطابق ، یہی معیار (criterion) ہے۔ جو عورت یا مرد اس معیار پر پورے اتریں وہ موت کے بعد ابدی جنت میں بسائے جائیں گے۔ اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں وہ موت کے بعد ابدی جہنم (hell) میں ڈال دئے جائیں گے جہاں ان کے لیے حسرت اور مایوسی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اہل جنت کا کیس ان لوگوں کا کیس ہے جنہوں نے آج کی دنیا کے مواقع (opportunities) کو استعمال (avail) کیا اور اہل جہنم کا کیس ان لوگوں کا کیس ہے جو موجودہ دنیا کے مواقع کو استعمال (avail) نہ کر سکے۔ ان کا کیس محروم مواقع (missed opportunities) کا کیس قرار پائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ کوئی موقع صرف ایک بار تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ ابدی کامیابی کے معاملہ میں یہ قول پوری طرح درست ہے۔ کیوں کہ یہ موقع کسی کو بھی دوسری بار ملنے والا نہیں۔ جن لوگوں کا کیس مواقع کو استعمال کرنے والے (opportunities availed) کا کیس قرار پائے گا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا اور جن لوگوں کا کیس مواقع کو کھونے والے (opportunities missed) کا کیس ہوگا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ اس معاملہ میں ہر ایک کے لیے ناکامی بھی ابدی ہوگی اور کامیابی بھی ابدی۔

Printed page