Al-Risala · November 2005

This number does not exist.

Al-Risala, November 2005, pp. 459–460

By Maulana Wahiduddin Khan

ایکسینج کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان بر یا ہوگیا ہے۔

اسپیچ کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ سوچا کہ اس مادی واقعہ میں ایک بہت بڑا روحانی سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی انسان خدا سے ربط قائم کرنا چاہے اور وہ اپنے غلط ذہن کی بنا پر خدا کے سوا کسی اور کو اپنا خدا سمجھ بیٹھے اور خدا سمجھ کر اس کو پکارنے لگے تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کہ براہِ راست خدا کی طرف سے تو اس کو کوئی جواب نہیں ملے البتہ ایک آواز کو سنائی دے گی جو اس سے کہہ رہی ہوگی کہ تم نے جس خدا کو پکارا ہے وہ خدا خدا کی طلب انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے یہ غلطی کی کہ خدا کے سوا کسی اور کو خدا کا درجہ دے دیا۔ سے رشتہ قائم ہونا انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس عورت یا مرد کا رشتہ خدا کے ساتھ قائم ہو جائے اس کی زندگی میں ہدایت کی روشنی آجائے گی۔ اس کے اندر روحانی شخصیت پیدا ہوگی۔ ذہنی ارتقاء کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص کسی غیر خدا کو خدا کا درجہ دے دے وہ ہمیشہ اس ارشار کی رو سے اس دنیا میں انسان کے لئے ہدایت کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اور اس کے بغیر وہ زندگی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی خدا کا نام لیتا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کو خدا کا درجہ دے کر اس کو اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جہاں تک روحانی شخصیت کا تعلق ہے، اس کا حقیقی معنوں میں کہیں وجود نہیں۔ اس کا سبب واضح طور پر یہی ہے کہ لوگ غیر خداؤں کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں۔ کسی نہ کسی غیر خدا کو ٹیلی فون کر رہے ہیں۔ مگر جواب میں ہر ایک کے پاس یہ آواز آ رہی ہے کہ جو نمبر تم نے ڈائل کیا ہے وہ نمبر موجود نہیں، جس کو تم خدا سمجھ کر پکار رہے ہو اس خدا کا کہیں وجود ہی نہیں، اس لیے تم کو اس کی طرف سے کوئی جواب بھی ملنے والا نہیں۔

ہر آدمی کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے ربط قائم کرنے کا ذریعہ اس کے لیے کیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسانی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے، یہی انسان کی جدوجہد کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتی جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلاشبہ سب سے بڑا مفلس ہے، خواہ بظاہر اس نے مادی چیزوں کا ڈھیر اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔

خدا کی دریافت سے مُراد بَرتر سچائی (higher truth) کی دریافت ہے۔ اور اس برتر سچائی کی دریافت اور اس سے تعلق قائم کرنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ دریافت نہیں تو زندگی بامعنی بھی نہیں۔

مزید سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ موقع صرف قبل از موت مدت حیات میں ملتا بعد از موت کی مدت حیات میں کسی انسان کو یہ موقع ملنے والا نہیں۔ انسان کے لیے اُس کے خالق کا بنایا ہوا قانون یہ ہے ؀موت سے پہلے کی زندگی میں کرنا، اور موت کے بعد کی زندگی میں اُس کا انجام پانا۔

Printed page