Nothing dies, it only changes its form.
Al-Risala, February 2005, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
اس عالمی کلیہ سے انسان کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح مادہ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ جلنے یا پھٹنے یا کسی اور حادثہ سے وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ شکل بدل کر دنیا کے اندر اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ اسی طرح ہم مجبور ہیں کہ انسان کو بھی ناقابل فنا مخلوق سمجھیں اور موت کو اس کے خاتمہ کے ہم معنی قرار نہ دیں۔
محض بالواسطہ قیاس نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو براہ راست تجربہ سے ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر علم الخلیہ (cytology) بتاتا ہے کہ انسان کا جسم جن چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) سے مل کر بنا ہے وہ مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ایک متوسط قد کے انسان میں ان کی تعداد تقریباً ۲۶ پدم یہ خلیے کسی عمارت کی اینٹوں کی طرح نہیں ہیں جو ہمیشہ وہی کے وہی باقی رہتے ہوں۔ ہر روز بے شمار تعداد میں ٹوٹتے ہیں اور غذا ان کی جگہ دوسرے تازہ خلیے فراہم کرتی رہتی ہے۔ پھوٹ ظاہر کرتی ہے کہ اوسطاً ہر دس سال میں ایک جسم بدل کر بالکل نیا جسم ہو جاتا ہے۔ گویا دس برس پہلے میں نے اپنے جس ہاتھ سے کسی معاہدہ پر دستخط کئے تھے وہ ہاتھ اب میرے جسم پر باقی نہیں رہا۔ پھر بھی پچھلے ہاتھ سے دستخط کیا ہوا معاہدہ میرا ہی معاہدہ رہتا ہے۔ جسم کی تبدیلی کے باوجود اندر کا انسان پہلے کی طرح اپنی اصل حالت میں موجود رہتا ہے۔ اس کا علم، اس کا حافظہ، اس کی تمنائیں، اس کی عادتیں، اس کے خیالات بدستور اس کی ہستی میں شامل رہتے ہیں۔ اسی لئے ایک حیاتیاتی عالم نے کہا ہے کہ انسانی شخصیت تغییر کے اندر عدم تغییر کا نام ہے: