تقدیر انسانی
Al-Risala, November 2005, pp. 461–464
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور مسیحی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) نے بتایا ہے کہ ایک بار وہ سفر میں تھے۔ اس دوران اُن کو ایک دولت مند امریکی کا پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ فوراً مجھ سے ملو۔ گراہم اپنا سفر ملتوی کرکے مذکورہ امریکی دولت مند کے پاس پہنچے۔
امریکی دولت مند کے گھر پہنچتے ہی اُن کو ایک علیحدہ کمرہ میں لے جایا گیا۔ یہاں مذکورہ امریکی دولتمند اُن کا انتظار کر رہا تھا۔ ملاقات ہوئی تو امریکی دولت مند نے بلی گراہم سے کہا کہ تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔ میں جلد ہی ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں۔ کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو: You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leaf into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. یہ صرف ایک امریکی دولت مند کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا آدمی۔ ہر شخص آخر کار اسی احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ شخص اپنے لیے ایک پسندیدہ دنیا بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنا سارا وقت اس میں لگا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مختصر زندگی کا آخری وقت آ جاتا ہے اور وہ اس احساس مجبوری کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ پانا چاہتا تھا اس کو وہ پا نہ سکا۔
ایسا کیوں ہے۔ اس وسیع کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو اپنے سینے میں بے شمار خواہشیں (desires) رکھتا ہے۔ کیا یہ خواہشیں اسی لیے ہیں کہ وہ کبھی پوری نہ ہوں اور ہر انسان خود اپنی خواہشوں کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے۔ ہر عورت اور مرد کے ذہن میں خوابوں کی ایک دنیا بسی کیا سہانے خوابوں کی یہ دنیا صرف اس لیے ہے کہ وہ محض خواب بن کر رہ جائے اور کبھی اُس کی تعبیر نہ نکلے۔ ہر انسان تمناؤں کا ایک باغ اپنے سینے میں اُگاتا ہے، مگر کسی انسان کو یہ خوشی نہیں ملتی
کہ وہ اس خوبصورت باغ میں داخل ہو سکے۔
فطرت میں یہ تضاد کیوں ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں ایسا تضاد کہیں موجود نہیں۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی پوری دنیا اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ پھر یہ تضاد استثنائی طور پر صرف انسان کی زندگی میں کیوں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی دوسری چیزوں کے درمیان ایک بے حد بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں— موت سے پہلے کا مرحلہ حیات اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات۔ اس کے برعکس کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا صرف ایک مرحلہ ہے یعنی وجود میں آنا اور پھر ایک دن مٹ جانا، پیدا ہونا اور پھر مر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا۔ اصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ اپنے پہلے مرحلۂ حیات میں پانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے دوسرے مرحلۂ حیات میں مقدر کیا گیا ہے۔ اور جو چیز سفر حیات کے اگلے مرحلے میں ملنے والی ہو وہ سفر حیات کے ابتدائی مرحلے میں کبھی کسی کو نہیں ملتی۔ اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ انسان کے لیے فطرت کا ایک خصوصی قانون ہے جو اس کائنات کی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کو عمل اور جزا کے اصول کے تحت رکھا گیا ہے۔ یعنی موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں عمل کرنا اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں اس کا انجام پانا۔
یہی قانون انسان کی زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے بعد انسان کی پوری زندگی با معنی بن جاتی ہے۔ یہ قانون انسان کی زندگی کے تمام سوالات کا کامل جواب فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کو جاننے کے بعد پوری انسانی زندگی کی تشفی بخش توجیہہ مل اس قانون کے مطابق موت سے پہلے کی دنیا انسان کے بیج ڈالنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا اس کے نتیجے میں ہر ہرا درخت اور پھول پھل پانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا میں پھول اور پھل حاصل کرنے کی لا حاصل کوشش نہ کرے بلکہ وہ اپنی ساری توجہ بہترین طور پر تخم ریزی میں لگا دے۔ یہ وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت کی صورت میں وہ سب کچھ پالے گا جس کو وہ موت سے پہلے کی دنیا میں نہ پا سکا تھا۔
انسان کا دریافت خدا تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔
God is the eternal source of all kinds of beauty and goodness. خدا نے انسان کو بنایا۔ انسان اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ انسان کے دماغ (brain) میں 100 million billion billion یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں رکھ دی ہیں۔
اسی کے ساتھ انسان کو ایک ایسی انوکھی چیز دی گئی ہے جو وسیع کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔ یہ ہے احساس مسرت۔ انسان اس کائنات میں واحد مخلوق ہے جو pleasure کا احساس رکھتا ہے اور pleasure سے انجوائے کرنے کی لامحدود capacity کا مالک ہے۔ انسان کے لیے ہر چیز امکانی طور پر خوشی کا ذریعہ ہے۔
خدا نے اسی قسم کی انوکھی صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد خدا نے ایک حسین دنیا بنائی جس کا نام اس نے جنت رکھا۔ جنت ایک perfect world ہے جس میں ہر قسم کی pleasure اپنی آخری perfect صورت میں موجود ہے۔ انسان اور یہ جنت دونوں گویا ایک دوسرے کا ثنیٰ (کاؤنٹر پارٹ) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے اور جنت انسان کے لیے۔ جگہ ہے جہاں انسان کو پورا fulfilment ملے۔ جنت گویا انسان کی تکمیل ہے۔ جنت کے بغیر انسان بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت بے معنیٰ ۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے اور انسان کے بغیر جنت ادھوری۔
انسان اس جنت کا امکانی باشندہ ہے مگر یہ جنت کسی انسان کو پیدائشی یا نسلی حق کے طور پر نہیں ملتی۔ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا مستحق ہے۔
موجودہ دنیا کو خدا نے اسی مقصد کے لیے selection ground کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جز ء انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول وعمل کا record تیار کر رہا اسی record کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طور پر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشہ کے مطابق درست طور پر استعمال کریں ان کو جنت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ day of judgement میں قابل رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔
انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت دور (pre-death period) اور بعد از موت دور (post-death period)۔ قبل از موت دور امتحانی دور (trial period) ہے اور بعد از موت دور انعام پانے کا دور (reward period)۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو کرتاروز | پاتے | reward period ) ہیں ، وہ | جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔