Every Paradise has its serpent.
Al-Risala, November 2005, pp. 478–480
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر جنت کے ساتھ ایک سانپ کی موجودگی اور آدم کو یہ مثل بائبل کی ایک کہانی پر مبنی ہے۔ اس کہانی کے مطابق آدم کی جنت میں ایک سانپ بھی مگر یہ کہانی درست نہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت میں کوئی ”سانپ“ نہیں۔ بطورِ خود اپنے لیے جو عارضی جنتیں بناتا ہے ان میں سے ہر جنت میں ضرور ”سانپ“ موجود ہوتے انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی جنت سانپ سے خالی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت تو ایک آئیڈیل جنت ہے۔ وہاں نہ حال کی کوئی تکلیف ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ وہاں نہ کوئی ڈس ایڈوانٹیج ہے اور نہ کوئی محدودیت۔ شور ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔ وہاں نہ فساد ہے اور نہ کوئی تشدد۔ یہ مکمل معنوں میں ایک معیاری جنت ہے۔
یہ ابدی جنت اس لیے بنائی گئی ہے تا کہ منتخب لوگوں کو وہاں بسایا جائے۔ انسانوں میں سے جو افراد اعلیٰ خدائی معیار پر پورے اُتریں اُن کو یہ جنت مَوت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں انعام کے طور پر دی جائے گی۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ اس ابدی جنت کی طلب ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ ہر آدمی عین اپنی فطرت کے زور پر اس جنت کا طالب وہ ہر قیمت پر اس کو پانے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں ہر عورت اور مرداسی خوابوں والی ’جنت‘ کو بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ ہر عورت اور مرد کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں میں بسی ہوئی جنت کو بنائے اور اس کے اندر زندگی گزارے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد کے حصے میں صرف جدوجہد آتی ہے، اس کا مطلوب نتیجہ کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ ہر عورت اور مرد اپنی خوابوں والی جنت کو پانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ڈریم لینڈ کو پائیں، اچانک ان کی موت آتی ہے اور وہ نا تمام آرزوؤں (unfulfilled wishes) کے ساتھ اگلی دنیا کی طرف چلے جاتے ہیں۔
کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ہر آدمی یہ جانے کہ اس کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ قبل از موت مرحلۂ حیات اور بعد از موت مرحلۂ حیات۔ خالق نے جس چیز کو بعد از موت مرحلۂ حیات میں رکھ دیا ہو اس کو کوئی شخص قبل از موت مرحلۂ حیات میں پانے والا نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننے کا نام سچائی کی دریافت ہے۔ ہر عورت اور مرد کے لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ حیاتِ انسانی کے ان دو مرحلوں کو جانیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ آج کی دنیا اپنے آپ کو مستحق بنانے کی جگہ ہے اور کل کی دنیا اپنے استحقاق کے مطابق اپنا انجام پانے کی جگہ۔ ہر عورت اور مرد کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ آج کی زندگی کو تیاری کا ایک موقع وہ اپنے وقت اور طاقت کا سب سے بڑا استعمال یہ سمجھے کہ وہ ابدی جنت میں داخلے کا خدائی معیار دریافت کرے۔ اور اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے تا کہ جب اس کو موت آئے تو وہ خدا کی ابدی جنت کا لائق امیدوار (qualified candidate) قرار پائے۔
جنت کے دروازے پر On the Threshold of Paradise جنت کیا ہے ۔ جنت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ جنت دوسرے معلوم سائنسی واقعات کی طرح ایک معلوم سائنسی واقعہ ہے۔ جنت دراصل زمین کا کنورژن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، زمین پہلے آگ کی صورت میں تھی۔ پھر وہ ٹھنڈی ہو کر موجودہ زمین بنی۔ گویا غیر زمین نے کنورٹ ہو کر زمین کی صورت اختیار کی ۔ اسی طرح مستقبل میں ایک اور اعلیٰ درجے کا کنورژن ہوگا۔ اس وقت غیر جنتی زمین کنورٹ ہو کر جنتی زمین بن جائے گی ۔
موجودہ دنیا میں تمام چیزیں کنورژن کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ پانی کیا ہے، دو گیسوں کا درخت کیا ہے، غیر درخت کا کنورژن۔ مشین کیا ہے، لوہے کا کنورژن ۔ صنعتی دنیا کیا ہے، غیر صنعتی دنیا کا کنورژن ۔ اسی طرح مستقبل میں ایک زیادہ بڑا کنورژن پیش آئے گا۔ موجودہ غیر معیاری زمین بدل کر معیاری زمین بن جائے گی، اسی کا نام مذہبی زبان میں جنت ہے۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : یوم تبدل الارض غیر الارض