Al-Risala · November 2005

When the earth is turned into another earth.

Al-Risala, November 2005, pp. 480–486

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین پر کنورژن کا یہ عمل بار بار پیش آیا۔ زمین کے لیے کنورژن ایک معلوم فطری پر اسس وہ ایک معلوم فطری واقعہ ہے۔ ایسی حالت میں جنت کو ماننا صرف ایک ہونے والے واقعے کو ماننا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی فیکٹری کے بارے میں کہا جائے کہ اس سے ۹۹۹ پروڈکٹ نکل چکے ہیں اور اب اس سے ہزار واں پروڈکٹ نکلنے والا ہے۔

جنت صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں۔ خود فطرت کے محکم قانون کے مطابق، جنت ایک ہونے

والا واقعہ ہے۔ فطرت کا نظام جس قانون کے تحت چل رہا ہے اُس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا مسلسل ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔ جنت گویا اسی ارتقائی عمل کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ جنت ایک تخلیقی آغاز کی فطری انتہا ہے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات بے حد وسیع ہے، اتنی زیادہ وسیع کہ انتہائی طاقتور دور بینوں کی دریافت کے باوجود ابھی تک اس کی وسعتوں کا اندازہ نہ ہوسکا۔ اس نا قابل پیمائش حد تک وسیع کائنات میں زمین ایک بے حد چھوٹا سیارہ ہے۔ کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین اُس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلے میں ایک ذرّہ۔

زمین کا یہ گہرہ وسیع کائنات کے اندر ایک انتہائی نادر استثناء ہے۔ پوری کائنات میں زمین واحد ایسا مقام ہے جہاں استثنائی طور پر پانی ، سبزہ ، ہوا اور آکسیجن جیسی چیزیں موجود ہیں۔ زندگی ہے اور اسی کے ساتھ وہ چیز بھی موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ زمین کے اندر وہ ساری قیمتی چیزیں رکھ دی گئی ہیں جن کو استعمال کرکے انسان تہذیب و تمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ کے اندر تہذیب کے تمام اجزاء امکانی طور پر موجود ہیں۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual) بنائے۔

اس اعتبار سے دیکھیے تو تہذیب کی تاریخ مسلسل طور پر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جارہی ہے۔ وہ ترقی کے ابتدائی مرحلے سے گزر کر ترقی کے اعلیٰ مرحلے کی طرف اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ تہذیب کے اس سفر کی تفصیل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تیار کردہ کتاب تاریخ البشریہ (The History of Mankind) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

تہذیب انسانی کے اس سفر کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الانشقاق میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر رات اور دن کی صورت میں بار بار تبدیلی کا واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح زمین پر زیادہ بڑا واقعہ بھی پیش آئے گا۔ چنانچہ فرمایا کہ: تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ تو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف نہیں جھکتے :

You will surely move from one stage to another stage. What then is the matter with them, that they believe not? and when the Qur'an is read to them, they don't surrender before God. (84: 19-21)

قرآن کی ان آیات میں انسان کی اسی تہذیبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا ارتقاء معلوم طور پر بتارہا ہے کہ انسانی تہذیب مسلسل ترقی کی طرف بڑھ رہی اس ترقی کا آخری نمونہ وہی ہوگا جس کوروحانی تہذیب یا جنت کہاگیا ہے۔ تہذیب کی تاریخ بتاتی ہے کہ معلوم طور پر، انسانی تہذیب تین بڑے ادوار سے گزر چکی ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ اپنے سفر کے چوتھے اور آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ کے یہ تین بڑے ادوار حسب ذیل ہیں:

حَجری تہذیب (Stone Civilization)

زرعی تہذیب (Agricultural Civilization)

صنعتی تہذیب (Industrial Civilization)

ہر شخص جانتا ہے کہ تہذیب کے یہ تین ادوار وقوع میں آچکے ہیں۔ تاہم فیوچر شاک (Future Shock) کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Taffler) کا کہنا ہے کہ تہذیب کا چوتھا، اور شاید آخری دور مستقبل میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس چوتھے دور کو الون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایج (Super Industrial Age) کہا ہے۔ یہ چوتھا دور، پچھلے ادوار کے مقابلے میں، مادی سے زیادہ غیر مادی ہوگ۱۔ اس لیے زیادہ بہتر ہے کہ اس چوتھے دور کو روحانی تہذیب (Spiritual Civilization) کا نام دیا جائے۔

اب پہلی تہذیب، حجری تہذیب کو لیجئے۔ یہ تہذیب کا وہ دور ہے جب کہ انسان صرف یہ کر سکتا تھا کہ زمین کی سطح پر بروقت جو چیزیں موجود ہیں ان کو اسی خام صورت میں استعمال کرے۔ موجودہ چیزوں میں پتھر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے علامتی طور پر اس دور کو حجری دور کہا گیا۔ اگرچہ ابتدائی تہذیب کے اس دور میں پتھر کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں استعمال میں

آئیں جو پہلے سے زمین کی سطح پر دستیاب تھیں۔ مثلاً لکڑی، حیوانات، باقاعدہ زراعت کے بغیر ملنے والی پیداوار، وغیرہ۔

جہاں تک انسان کا تعلق ہے، حجری تہذیب کے زمانے میں بھی انسان وہی تمام فطری اوصاف رکھتا تھا جو وہ آج رکھتا ہے۔ مثلاً بعد کی تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سوملین بلین بلین پارٹیکل موجود ہیں۔ حجری دور کے انسان کے دماغ میں بھی اتنے ہی پارٹیکل موجود تھے۔ مگر تعلیم و تربیت کی کمی کی بنا پر انسان ابھی اس قابل نہیں بنا تھا کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے ان فطری امکانات کو استعمال کر سکے۔

اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ زمانہ آیا جس کو زرعی دور کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ دور جس کو ہم نے زرعی تہذیب (Agricultural Civilization) کا نام دیا ہے۔ اس دور میں انسان نے مزید آگے بڑھ کر نیچر میں تصرف کا طریقہ دریافت کیا۔ اس دور میں آب پاشی، زراعت، مویشی کی پرورش، لوہے کا استعمال، پہیے دار گاڑی اور اس قسم کی دوسری چیزیں دریافت کیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزار سکے۔

اس کے بعد تیسرا دور وہ ہے جس کو صنعتی دور یا صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ تیسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب کہ انسان نے حیوانی طاقت سے آگے بڑھ کر میکانیکل پاور کو دریافت کیا۔ انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن بنائے ۔ اسی طرح انسان نے پٹرول کو دریافت کیا اور پٹرول سے چلنے والی مشینیں بنائیں۔ اسی طرح اُس نے کمیونیکیشن کے نئے ذرائع دریافت کیے جس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا۔

صنعتی دور میں انسان نے میکانیکل پاور کو استعمال کر کے بہت سی چیزیں بنائیں ۔ مثلاً تیز رفتار سواری، تیز رفتار خبر رسانی، کاغذ اور چھپائی کے طریقے، نئے اصولوں پر شہری تعمیر، تعلیم و ترقی کا نیا نقطہ اس طرح حسن اور معنویت کی ایک نئی دنیا وجود میں آئی جس کو صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ تہذیب کا چوتھا دور وہ ہے جس کوالون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایج کا نام دیا ہے۔

کے بیان کے مطابق، سپر انڈسٹریل ایج کی خاص صفت یہ ہوگی کہ وہاں مکمل طور پر آٹومیشن (automation) کا رواج ہوگا۔ یعنی الیکٹرانکس کا استعمال اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ بیشتر کام خود بخود ہونے لگیں گے۔ عام حالات میں انسان کا چاہنا ہی اس مقصد کے لیے کافی ہو جائے گا کہ اس کی تمام ضرورتیں خود بخود معیاری طور پر پوری ہوتی رہیں۔

آٹومیشن کا یہ نظام عین وہی چیز ہے جس کی پیشگی اطلاع جنت کے بارے میں دی گئی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے: ولكم فيها ماتشتهى انفسكم ولكم فيها ما تدعون (حم السجدہ ۳۱) یعنی تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔

الون ٹا فلر نے مستقبل کے اس دور کو سپر انڈسٹریل ایج کہا ہے۔ وہ گویا جنتی کلچر کا دوسرا نام یہ گویا جنت کی پیشگی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ سپر انڈسٹریل ایج مستقبل کے اُس معیاری دور کو علمی اعتبار سے قابل فہم بنا دیتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں سپر پھول سوئیلائزیشن کا نام دیا گیا ہے۔ بظاہر تہذیب کا یہ چوتھا دور زیر تعمیر ہے۔ یہی چوتھا دور وہ دور ہے جس میں غالباً اُس معیاری دنیا کا ظہور ہوگا جس کو مذہبی اصطلاح میں جنت (paradise) کہا گیا ہے۔ موجودہ تحویلی دور (Transitional Period) گویا وہ حالت ہے جس کو زیر تعمیر جنت (Paradise in the making) کہا جا سکتا ہے۔

جنت گویا تہذیبی سفر کے آخری دور کا نام ہے۔ قانون فطرت کے تحت بننے والی یہ دنیا یقیناً اپنے وقت پر بنے گی۔ یہ دنیا ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہاں نہ خوف ہو گا اور نہ حُزن۔ نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ جنت کی یہ دنیا انسان کے اُن خوابوں کی تعبیر ہوگی جن کو وہ پہلے دن سے دیکھتا

اسی کے ساتھ انسان کی ہستی میں نئی ترقیاں ظہور میں آئیں گی۔ یہ انسان کا نقطۂ عروج ہوگا،

جہاں پہنچ کر انسان ایک کامل انسان بن جائے گا۔ اس کو وہ ابدی زندگی مل جائے گی جو بڑھاپا، حادثہ، بیماری اور موت سے خالی ہوگی ۔ یہ وہ معیاری دنیا ہوگی جہاں انسان اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ اپنی ہستی کے تمام امکانات کو استعمال کرے ۔ وہ کامل فل فل منٹ کا اعلی تجربہ کر سکے۔ جنت گویا انسانی تہذیب کے ارتقائی عمل کا نقطہ عروج (culmination) ہے۔ پرفیکٹ اور آئیڈیل دنیا کا ظہور ہے جس کا خواب ہمیشہ سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ جنت میں پہنچ کر انسان تمام مصائب اور تمام مصیبتوں سے نجات پا جائے گا۔ جنت راحتوں اور خوشیوں کا وہ معیاری مقام ہوگا جس کے لیے کوئی فنا نہیں۔

مزید یہ کہ جنت کوئی ٹھہراؤ کی جگہ نہ ہوگی (الکہف: ۳۱)۔ جنت میں انسان کو ہر وقت نئی نئی دریافتیں ہوں گی ، ایسی دریافتیں جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جنت میں بورڈم نہیں ہوگا۔ کیوں کہ بورڈم وہاں ہوتا ہے جہاں نئی دریافتیں نہ ہورہی ہوں۔ انسان کے لیے نئی دریافت خوشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جنت میں ہر روز لامحدود حقائق کا کوئی نیا دروازہ کھلتا رہے گا۔ اسی لیے جنت کی خوشی ایک ابدی خوشی ہوگی، نہ کہ صرف ایک وقتی خوشی۔

اس جنت کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ زمین کا بننا اور زمین پر مختلف تہذیبوں کا وجود میں آنا۔ قدیم حجری دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ زرعی دور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح زرعی دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ صنعتی دور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر سامنے آیا۔ اسی طرح صنعتی دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ، لطیف اور روحانی دور چھپا ہوا ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اس روحانی دور یا جنتی دور کا ظہور میں آنا عملی طور پر اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ پچھلے ادوار کا ظہور میں آنا۔ جب جدید صنعتی دور آیا تو زمین کو دوبارہ سجایا گیا۔ منصوبہ بند انداز میں اس کی تعمیر کی گئی۔ ترقیوں نے زمین کو ایک نئی، زیادہ بہتر زمین بنا دیا۔ اسی طرح جب تہذیبی ترقی کا آخری دور، روحانی دور آئے گا تو زمین کو مزید زیادہ بہتر اور زیادہ مکمل بنادیا جائے گا۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں واضح اشارے موجود ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ: اُس وقت زمین زیادہ کشادہ کردی جائے گی (الانشقاق ۳) زمین

کے صالح باشندے آزادانہ طور پر اس کے مالک بن جائیں گے (الزمر: ۷۴) حتیٰ کہ پوری کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اہل جنت کے چارج میں دے دی جائے گی (الحدید: ۲۱) اسلامی روایات کے مطابق، زمین اپنی ابتدا میں جنوں کے چارج میں تھی۔ اس کے بعد وہ انسانوں کے چارج میں دی گئی ۔ اب وہ آخری دور آنے والا ہے جب کہ زمین مکمل طور پر فرشتوں کے چارج میں دے دی جائے۔ اُس وقت زمین میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں گی کہ وہ پورے معنوں میں ایک آئیڈیل ورلڈ اور پرفیکٹ ورلڈ بن جائے۔ زمین کے اس ارتقائی دور کی بابت قرآن میں اشارات مثلاً فرمایا کہ: یہ وہ دن ہوگا جب کہ زمین خدا کے نور سے جگمگا اُٹھے گی (الزمر ۶۹) آج زمین امکانی معنوں میں جنت ہے۔ کل یہ امکان واقعہ بن جائے گا۔ اور پھر زمین خوشیوں اور راحتوں کا ابدی مقام بن جائے گی۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین کی موجودہ حالت آئیڈیل حالت نہیں ہے۔ زمین پر نیچر کا قائم کیا ہوا لائف سپورٹ سسٹم بہترین حالت میں موجود ہے۔ زمین پر ہر قسم کے سامان حیات بہترین حالت میں موجود ہیں، مگر اسی کے ساتھ زمین پر ایک غیر آئیڈیل حالت پائی جاتی ہے۔ یہاں اچھے لوگوں کے ساتھ بُرے لوگ بھی موجود ہیں۔ بُرے لوگوں کی یہ موجودگی زمین پر ہر قسم کے فسادات کا سبب ہے۔ جب تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ سامنے آئے گا تو زمین کی آبادی سے تمام برے لوگ چھانٹ کر الگ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد زمین صرف اچھے لوگوں کے چارج میں آجائے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

" اور ہم نے زبور میں موعظت کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے‘‘ (الانبیاء (۱۰۵) یہ بات جو قرآن میں بتائی گئی ہے وہ اب بھی تفصیل کے ساتھ بائبل (زبور) میں موجود ہے۔ اس کا ایک جزو یہ ہے پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ زمین کے وارث ہوں گے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے:

Printed page