خلاصہ کلام
Al-Risala, November 2005, pp. 487–491
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ بتاتا ہے کہ وسیع کائنات میں ہماری زمین ایک نادر استثناء ہے۔ وسیع خلا میں انتہائی بڑے بڑے ستارے اس سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں جتنا کہ تمام سمندروں کے کنارے ریت کے مگر یہ تمام ستارے صرف آگ کے گولے ہیں۔ معلوم طور پر ۱۳ بلین سال سے اب تک وہ اسی ایک حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس بظاهر جامد کائنات میں صرف ایک چیز غیر جامد ہے اور وہ ہماری زمین ہے۔ زمین میں استثنائی طور پر ایک ارتقائی عمل (evolutionary process) جاری زمین پر ایک کے بعد ایک مختلف اسٹیج آ رہے ہیں۔ ۱۰ بلین سال پہلے زمین صرف ایک آگ کا گولا (fire ball) تھی۔ اس کے بعد وہ سرد ہو کر ٹھنڈا سیارہ (cool planet) بنی۔ اس کے بعد اس کے اوپر پانی کا دور آیا۔ پھر زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت اگے۔ پھر اس میں حیوانات پیدا ہوئے۔ کے بعد انسان کا ظہور ہوا۔ انسان کے ظہور کے بعد زمین پر تہذیبی ارتقاء کے ادوار آنے شروع ہوئے۔ انسان نے پہلے کم ترقی یافتہ دنیا (underdeveloped world) بنائی۔ اس کے بعد انسان ترقی یافتہ دنیا (developed world) بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ارتقائی عمل مسلسل جاری ہے۔ کہنا بالکل فطری ہے کہ ابھی زمین پر ایک اور زیادہ بہتر دور آنے والا ہے جس کے بعد یہ زمین ایک معیاری دنیا (perfect world) کی صورت اختیار کرلے گی:
It is but natural to believe that one more stage is in the ofting, that of a perfect world. جنت کوئی پراسرار چیز نہیں، جنت معلوم ارتقائی پر اس کا آخری اسٹیج ہے۔ جہاں تک حیوانات میں عضویاتی ارتقاء (organic evolution) کی بات ہے وہ تو بلاشبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر غیر ذی روح دنیا میں دوری ارتقاء (periodic evolution) ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس فطری قانون کے مطابق جنت پوری طرح ایک قابل فہم واقعہ ہے۔ ہے کہ تقریباً ۱۰ ملین سال پہلے ہماری زمین آگ کا ایک گولا (fireball) تھی۔ اس کے بعد وہ ایک سرد
سیارہ (cool planet) بنی۔ پھر انسانی آبادی کے بعد یہاں وہ دنیا بنی جس کو زیر تعمیر دنیا (underdeveloped world) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں ایک اور ارتقائی مرحلہ آیا اور صنعتی انقلاب کے بعد وہ دنیا بنی جس کو ترقی یافتہ دنیا (developed world) کہا جاتا ہے۔ یہ چار دور (periods) زمین پر آ چکے ہیں۔ اب خودارتقائی قانون کے مطابق زمین ایک اعلیٰ تر مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ گویا زمین کا آخری ارتقائی مرحلہ ہوگا۔ اس اعتبار سے اس کو معیاری دنیا (perfect world) کہا جا سکتا ہے۔ اس معیاری دنیا میں ہر قسم کی محدودیتیں (limitations) ختم ہو جائیں گی۔ خدائی اہتمام کے تحت یہاں کامل معنوں میں عادلانہ سماج (just order) بنایا برے لوگوں کو زمین سے ہٹا دیا جائے گا اور صرف اچھے لوگوں کو یہاں بسنے کی آزادی ہوگی۔ کثافت (pollution) کی تمام صورتیں ختم ہو جائیں گی۔ مصیبتوں (calamities) کا خاتمہ ہو جائے بیماری، حادثہ، بڑھاپا اور موت جیسے تمام ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔
موجودہ دنیا میں ہر کام سخت محنت کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں محنت اور کامیابی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنت میں یہ صورت حال ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں ایسی نفیس تبدیلیاں واقع ہوں گی، جس میں ہر کام ایک پُر لطف مشغلے کی حیثیت اختیار کر لے گا جنت میں الگ سے تفریح (entertainment) کی ضرورت نہ ہوگی۔ کیوں کہ خود روزمرہ کا کام ہی تفریح کا ذریعہ بن جائے گا۔
انسان فطرت کے زور پر ہزاروں سال سے جس مطلوب دنیا (desired world) کی نا کام تلاش کر رہا تھا وہ دنیا اپنی کامل صورت میں اس کو مل جائے گی۔ انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں بھری زندگی کو پالے گا۔ جسمانی محنت (physical labour) کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ صرف خوشگوار ذہنی سرگرمیاں (pleasant intellectual activities) تمام مطلوب نتائج کے حصول کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
حادثہ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں اپنی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises) میں نے ۱۹۶۴ میں لکھی تھی۔ کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ کائنات بے حد بامعنیٰ کائنات ہے۔ ایسی بامعنیٰ کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اس میں جو باتیں درج تھیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ: ’’۱۱ اگست ۱۹۹۹ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوگا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جاسکے گا:
On August 11, 1999, there will be a Solar eclipse that will be completely visible at Cornwall". (p. 99)
میں نے یہ بات ۱۱ اگست ۱۹۹۹ سے ۳۵ سال پہلے لکھی تھی۔ اس تحریر کے ۳۵ سال بعد جب ۱۱ اگست ۱۹۹۹ء کی تاریخ آئی تو اس پیشگی بیان کے عین مطابق ٹھیک مقرّرہ وقت پر سورج گرہن اس کے واقع ہونے میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں ہوا۔
میں نے یہ بات بطور خود نہیں لکھی تھی، بلکہ وہ علمائے فلکیات کے حسابات (calculations) کی بنیاد پر لکھی تھی۔ علمائے فلکیات پیشگی طور پر اتنا صحیح اندازہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ کائنات انتہائی محکم قوانین پر چل رہی ہے کہ وروس سال گزرنے پر بھی اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا۔ کی بنا پر ایک سائنس داں (سر جیمس جینز) نے اپنی کتاب ’’مسٹیریس یُونیوَرس‘‘ میں لکھا ہے کہ: کائنات کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ریاضیاتی دماغ (Mathmetical Mind) ہے۔ کسی چیز کے بامعنیٰ ہونے کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ قابلِ پیشین گوئی یا قابلِ التنبُّؤ یہ صفت موجودہ کائنات میں مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا ایک ثبوت اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔
جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ (accident) کے طور پر وجود میں آئی ہے نہ کہ کسی خالق کے ارادے کے تحت۔ یہ جملہ گریمر کے اعتبار سے درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ موجودہ با معنی کائنات ایک حادثے کے طور پر ظہور میں آئی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بے شعور حادثہ بھی ایک ایسا عمل ہے جو با معنی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں حادثے کو لازمی طور پر قابل تکرار (repeatable) ہونا چاہیے۔ اُس کو بار بار وقوع میں آنا چاہیے۔ جس طرح بے شعور حادثے نے ایک بار ایک با معنی کائنات بنائی ، اسی طرح دوبارہ ایسا ہونا چاہیے کہ حادثات کے ذریعے کوئی با معنی چیز وجود میں آ جائے۔
مگر جیسا کہ معلوم ہے، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ سائنسی اندازے کے مطابق، کائنات کی عمر تقریباً پندرہ بلین سال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس لمبے عرصے میں کوئی با معنی کائنات استثنائی طور پر صرف ایک بار وجود میں آئی، اس کے بعد کبھی نہیں ، حتیٰ کہ جزئی طور پر بھی نہیں۔ مثلاً ایسا نہیں ہوا کہ دوبارہ کوئی نیا شمسی نظام بن جائے ، دوبارہ کسی سیّارے پر پانی اور ہوا اور سبزہ جیسی چیزیں وجود میں آجائیں، دوبارہ کوئی ایسی زمین بن جائے جہاں انسان اور حیوان پیدا ہو کر چلنے پھرنے لگیں۔ یہ استثناء واضح طور پر ارادی تخلیق کا ثبوت ہے۔
تمام انسانی علوم کے مطابق، موجودہ دنیا کامل طور پر ایک استثنائی واقعہ ہے۔ موجودات میں ایک نادر استثناء ہے۔ کائنات کا استثناء ہونا منکرین خدا کے مذکورہ نظریے کی یقینی تردید کائنات اگر صرف ایک حادثے کا ظہور ہوتی تو یقینی طور پر وہ قابل تکرار ہوتی۔ اور جب وہ قابل تکرار نہیں تو حادثے کی اصطلاح میں اس کی توجیہہ کرنا بھی سراسر بے بنیاد ہے۔ ایسی توجیہہ علمی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ کسی انسان کے لیے خود اُس کا اپنا وجود۔ شخص اگر اپنے وجود کو مانتا ہے تو ٹھیک اسی دلیل سے اُس کو خدا کے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اپنے وجود کو
ماننا اور خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک فکری تضاد ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ آدمی اس فکری تضاد کا تحمل نہیں کر سکتا۔ سترہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (1650-1596 René Descartes) نے کہا تھا کہ : ”میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:
“I think, therefore I exist.”
یہ اصول بلاشبہ ایک محکم اصول ہے۔ اس اصول کے مطابق، خود شناسی آدمی کو خدا شناسی تک پہنچاتی اس اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ ”میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا وجود بھی ہے: I exist, therefore God exists. کائنات کا قابلِ تکرار نہ ہونا واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کو ایک باشعور وجود نے اپنے ارادے کے تحت بنایا ہے۔ اس طرح پوری کائنات میں زمین ایک نادر استثناء ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم جو زمین پر موجود ہے وہ وسیع کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پہلا انسان چاند پر گیا اور وہاں یہ دیکھا کہ چاند ایک خشک چٹان کے سوا اور کچھ نہیں تو اس کا یہ حال ہوا کہ جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا تو وہ جذباتی ہجوم کے تحت زمین کے اوپر سجدے میں گر پڑا۔ کیوں کہ اُس نے زمین جیسی کوئی موافق حیات (pro-life) چیز خلا میں کہیں اور نہیں دیکھی۔ ایک ثابت شدہ وجود ہے، خدا کو ماننا ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا ہے اور خدا کا انکار کرنا ایک ثابت شدہ چیز کا انکار کرنا۔
حیدر آباد میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں:
حافظ عبد الغفار صاحب مکان 663-8-16 (بی کلاس 160)
فٹبال گراؤنڈ، جدید ملک پیٹھ، حیدر آباد 500024 موبائل : 9440340990