جے پور کا سفر
Al-Risala, December 2005, pp. 496–506
By Maulana Wahiduddin Khan
جے پور کے سفر کا فیصلہ میرے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ عین اسی زمانے میں سویڈن میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام ”الرابطة الاسلامية فی استاكھولم“ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ رابطہ عالم اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے۔ یہ رابطے کی طرف سے ہونے والی سالانہ کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں عام طور پر عرب علماء کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس بار خصوصی طور پر مجھے اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ کانفرنس ۲۴۔ ۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ کو سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہوم میں ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس میں خطاب کے لیے مجھے جو موضوع دیا گیا تھا وہ یہ تھا: How to Live in a Multi-religious Society: Islamic Point of View اس سلسلے میں الرابطة الاسلامية (اسٹاک ہوم) کے دفتر (50910900-8-0046:Tel) سے ان کا خط مورخہ ۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ محمود دریدی (چئیرمین) کے دستخط سے موصول ہو چکا تھا۔ میں درج تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں وہاں دو ہفتے قیام کروں۔ ٹیلی فون کے ذریعے مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ عرب شرکاء جو میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں وہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ تبادلہ خیال کرنا انھوں نے میرے مددگار کے ساتھ دو ائیر ٹکٹ کا بھی انتظام کر دیا تھا۔ اسٹاک ہوم سے بار بار ٹیلی فون آتے رہے۔ میں ذہنی طور پر اس سفر کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ اس دوران ایک اور اصرار سامنے آگیا۔ وہ یہ کہ انٹگرل ہیومنزم (Integral Humanism) کے نام سے قائم شدہ تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا جس میں مجھے جے پور (راجستھان) میں منعقد ہونے والے سیمینار میں خصوصی اسپیکر کی حیثیت سے شرکت کی باصرار دعوت دی گئی تھی۔ یہ سیمینار ۱۸۔ دسمبر ۲۰۰۲ کو جے پور میں ہو رہا تھا۔ تاریخوں کی قربت کی وجہ سے میں دونوں میں سے ایک ہی جگہ جا سکتا تھا۔ آخر کار میں نے یہ طے کیا کہ میں سویڈن کا سفر چھوڑ دوں اور جے پور کے سیمینار میں شرکت چنانچہ سویڈن کے دعوت نامے کو ترک کر دینا پڑا۔ میں نے سویڈن کانفرنس کے منتظمین کو متعلقہ
موضوع پر اپنے مختصر خیالات کے ذریعے بھیج دیے اور جے پور کے سفر کا فیصلہ کر لیا۔ دہلی سے جے پور کا فاصلہ ۳۱۳ کلومیٹر ہے۔ اس سفر کے لیے میرے سامنے دو انتخاب تھے، ہوائی جہاز سے جانا یا روڈ کے راستے سے بذریعہ کار سفر کرنا۔ میرے ذہن میں ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب نہ تھا۔ مگر ۱۶ دسمبر کی رات کو غیر متوقع طور پر ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں سفر کر رہا ہوں۔ یہ سفر جدید طرز کی ایک ٹرین میں ہو رہا ہے اور ڈبے کی تقریباً نصف سیٹیں خالی ہیں۔ صبح کو سیمینار کے ایک ذمے دار، مقیم دہلی، مسٹر چاند ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مشورہ کیا ہے کہ آپ کے لیے اور آپ کے ساتھی کے لیے دہلی۔ جے پور شتابدی ایکسپریس میں ایگزیکٹو کلاس سے ریزرویشن کرایا جائے ۔ یہ آپ کے لیے ہوائی جہاز اور کار دونوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوگا۔ شام کو انھوں نے اس کے مطابق دو ٹکٹ بھیج دیے۔
۱۸ دسمبر کی صبح کو ساڑھے سات بجے جب کہ میں ٹرین میں یہ سفر نامہ لکھ رہا ہوں ۔ ہوتا ہے کہ اس سفر کے لیے ٹرین کا انتخاب زیادہ بہتر تھا۔ ہوائی جہاز میں فاگ (fog) کا تقریباً یقینی کار کا سفر بھی اندیشے سے خالی نہ تھا۔ کیونکہ میں کار سک ہوں اور کار کے سفر میں مجھے چکر آنے لگتا ہے۔ تاہم میرے ذہن میں بالکل یہ تصور نہیں تھا کہ مجھے یہ سفر ٹرین سے کرنا چاہیے۔ ذہن اس معاملے میں خالی تھا۔ ۱۶ دسمبر کو ٹرین کے ذریعے سفر کا خواب میرے لیے ایک خدائی رحمت اس خواب میں مجھے غالباً دو بشارتیں دی گئی تھیں ۔ ایک یہ کہ جے پور کا یہ سفر انڈین علاقے میں تھا۔ اس لحاظ سے یہ اس بات کی بشارت تھی کہ سوئیڈن کا سفر چھوڑ کر جے پور کا سفر کرنا میرے لیے ایک صحیح دوسرے یہ کہ جے پور کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا فیصلہ زیادہ درست فیصلہ تھا۔ اس خواب پر میں نے غور کیا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح جیے کہ اس نے خدا کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنا لیا ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا کنسرن بنالے، خدا بھی اس کو اپنا کنسرن بنالیتا ہے۔ اور پھر ہر موقع پر اس کو صحیح رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ کبھی انسپریشن (inspiration) کی صورت میں، اور کبھی خواب کی صورت میں، جس کو
حدیث میں وحی کا چھیا لیسواں حصہ بتایا گیا ہے (مشکوۃ المصابیح 64:8)
جے پور شتابدی ایکسپریس کی جس کو چ میں میں نے سفر کیا اس میں میرے سامنے کی دیوار پر دائیں بائیں دو خوبصورت تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ بائیں طرف کی رنگین تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ ایک بیل کچے راستے پر ایک گاڑی کو کھینچ رہا ہے۔ جس کے مقابلے میں دائیں طرف کی خوبصورت تصویر میں نظر آ رہا تھا کہ ایک ریلوے انجن ٹرین کے ساتھ لوہے کی پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ تصویروں میں گویا انسان کے سفری ارتقاء کو مصوّر کیا گیا تھا۔ وہ تصویر کی صورت میں بتا رہا تھا کہ انسان کس طرح حیوانی سفر کے مرحلے سے گزر کر مشینی سفر کے مرحلے تک پہنچا ہے۔ یہ خدا کی رحمت کا کیسا عجیب نمونہ ہے کہ اس نے انسان کی پیدائش کے ساتھ پیشگی طور پر اس کے لیے حیوانی سواریوں کا انتظام کیا، اور پھر انسان کو یہ موقع دیا کہ اپنی عقل استعمال کرکے مشینی سواریاں ایجاد کرے اور تاریخ کو مشینی دور تک پہنچائے۔ گھوڑا، اس معاملے کی ایک عجیب مثال ہے۔
شتابدی ایکسپریس کی ایگزیکیٹو کوچ غالباً جرمنی سے امپورٹ کی گئی ہے۔ انڈین ریلوے کے معیار سے اس کو ایک اعلیٰ کلاس کہا جاسکتا ہے۔ کوچ کی آدھی سے زیادہ سیٹ خالی تھی۔ اس کوچ میں میرے سو زیادہ تر مغربی سیاح تھے اور کچھ ہندوستانی، جو بظاہر لیڈریا سرکاری افسر معلوم ہوتے تھے۔ لیکن ظاہری مادی سہولتوں کے باوجود مجھے اس کے اندر سکون حاصل نہ تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ عام ذوق کے مطابق، اس کے اندر مسلسل میوزک کی آواز آرہی تھی۔ مسافروں کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی تھی اور وہ اپنے دور کے ساتھیوں سے بات کرنے لگتے تھے۔
مجھے یاد آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں اپنی اہلیہ خدیجہ کے ساتھ رہتے تھے اس وقت آپ کو آپ کے پڑوسیوں کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں پہنچتی تھیں۔ ایک دن جبریل آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ خدیجہ کو خدا نے سلام کہلا یا ہے اور یہ کہا ہے کہ تمہارے لیے جنت میں ایک ایسا مکان تیار ہے جہاں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف (لا صخب فیہ ولا نصب ) (صحیح مسلم ، فضائل الصحابہ ) میں نے سوچا کہ دنیا میں آدمی کے پاس مادی اعتبار سے خواہ سب کچھ
ہو جائے لیکن پھر بھی اس کو یہاں سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے اسباب کے علاوہ اُس کا ایک خاص سبب وہ ہے جس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے : حسن اولئک رفیقا ( النساء ٦٩) جنت کی دوسری امتیازی صفتوں کے علاوہ اس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہاں صرف منتخب لوگ جگہ پائیں جنت سچے انسانوں کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے۔ اس حقیقت کو ایک فارسی شاعر نے کسی قدر طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :
بہشت آں جا کہ آزاری نہ باشد کسے را با کسے ، کارے نہ باشد طبعی طور پر مجھے خاموشی پسند ہے۔ جب میں لوگوں کو غیر ضروری طور پر بولتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میری زبان پر درد کے ساتھ یہ الفاظ آجاتے ہیں۔ یہ زبان کا مصرفانہ استعمال ہے۔ آیا ہے کہ من صمت نجا ( جو چپ رہا اس نے نجات پائی ) اس کا مطلب میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ جو شخص کم بولے گا وہ زیادہ سوچے گا اور جو شخص زیادہ سوچے گا اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ فکری اور روحانی اعتبار سے زیادہ ترقی کرے۔ اور نتیجہ اپنے آپ کو ضیاع سے بچالے۔
موجودہ زمانے میں خدا نے انسان کو نہایت قیمتی چیزیں عطا کیں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، بیش تر لوگ ان کا صرف غلط استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جدید کمیونیکیشن خدا کی ایک عظیم نعمت ہے مگر غالباً اس نعمت کا تقریباً ۹۵ فیصد حصہ صرف بے فائدہ یا غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک کہ اس نعمت پر شکر کا تعلق ہے وہ تو میں نے اپنے تجربے میں حقیقی طور پر کسی کے اندر پایا ہی نہیں، نہ مذہبی لوگوں میں نہ سیکولر لوگوں میں۔ اس معاملے میں دونوں کی حالت ایک ہے۔ میرے آگے کی سیٹ پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے جو بظاہر ایک لیڈر معلوم ہوتے تھے۔ ان کا موبائل ٹیلی فون ہر وقت بجتا رہتا تھا۔ ہر چند منٹ پر ان کے پاس کہیں سے ایک کال آتی تھی۔ سفر کے دوران وہ مسلسل موبائل پر بات کرتے رہے۔ ان کے پاس تین موبائل فون تھے۔ فون بلاشبہ ایک نعمت ہے مگر موجودہ زمانے میں مصنوعی تعلقات کی کثرت نے موبائل فون کو ایک زحمت میں تبدیلی کر دیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں سب سے بڑی نعمت کسی انسان کے لیے یہ ہے کہ اس کا ربط خدا
کے ساتھ قائم ہو جائے۔ اس کے اور خدا کے درمیان وہ تعلق ہو جس کو حدیث میں’’مناجی ربہ‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ ربط کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن انسان نے اپنے آپ کو غیر خدائی تعلقات سے اتنا زیادہ باندھ رکھا ہے کہ اس کے پاس خدائی تعلقات کے لیے وقت اگر چہ یہ غیر خدائی تعلقات اکثر مصنوعی اور غیر ضروری ہوتے ہیں۔ جو شخص ہر وقت مناجاتِ انسانی میں مشغول ہو وہ کبھی مناجاتِ خداوندی کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
ٹرین کے دوران مطالعے کے لیے ۱۸ دسمبر کے دو انگریزی اخبار موجود تھے۔ ایک ٹائمز آف انڈیا اور دوسرے ہندوستان ٹائمز۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۸ دسمبر ۲۰۰۲) کے پہلے صفحے پر یہ خبر تھی کہ ۲۵ سال کولا وینو بینکاٹش (Kolavennu Venkatesh) کا انتقال ۱۷ دسمبر ۲۰۰۲ کو ہو گیا۔ بچپن سے ایک لاعلاج بیماری Muscular dystrophy میں مبتلا تھا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ زندہ نہیں بچے گا تو اس نے چاہا کہ وہ اپنے جسم کو عطیے میں دے دے تا کہ طبعی موت سے پہلے اس کے اعضا ضرورت مندوں کو پیوند کاری کے لیے دیے جاسکیں۔ یہ مسئلہ عدالت میں گیا لیکن عدالت نے نوجوان کو اس عطیے کی اجازت نہیں دی۔
اس واقعے پر ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ۱۸ دسمبر کے شمارے میں ایڈیٹوریل لکھا تھا جس کا عنوان یہ تھا: آخری آزادی (The Final Freedom) اس ایڈیٹوریل میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے مذکورہ نوجوان کو موت سے پہلے اپنے اعضا عطیے میں دینے کی اجازت نہ دے کر اس کو اس سے محروم کر دیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ بینکاٹش چاہتا تھا کہ وہ درخت کی اس پتی کی طرح دنیا سے رخصت ہو جو درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گرتی ہے تا کہ وہ زمین کو زرخیز کر سکے: Venkatesh wished to leave life like a leaf that falls off the tree only to enrich the earth. مگر قانون نے بینکاٹش کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔ اخبار کا یہ تبصرہ اس مفروضے کی بنیاد پر ہے کہ موت کے بعد انسان کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے جس پر اس
تبصرے کی بنیاد قائم کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت انسان کے اگلے وسیع تر مرحلہ حیات میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے وہی روش درست ہے جو اگلے مرحلہ حیات میں اس کے کام آئے۔ یہ بطور خود ایک معیار قائم کر کے اس پر اپنا فیصلہ دینا ہے۔ مگر جب یہ معیار غلط ہو تو فیصلہ بھی یقینی طور پر غلط ہو جائے گا۔
ہندوستان ٹائمس (۱۸ دسمبر ۲۰۰۲) میں مسٹر خشونت سنگھ کا ہفتہ وار کالم شائع ہوا تھا۔ اس کی سرخی تھی: (Spirit is Unwilling) اس کے تحت درج تھا کہ اخباری رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو یہ مشورہ دیا کہ ہندوستان میں ایک روحانی وزارت (ministry of spiritualism) قائم کی جائے۔ یہ تجویز یقینی طور پر بے معنی ہے کیوں کہ روحانیت کے نام پر وزارت قائم کرنے سے ملک میں روحانیت نہیں آتی۔ روحانیت ایک روحانی شخص کے ذریعے آتی ہے نہ کہ کسی سرکاری محکمے کے ذریعے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ روحانیت کے نام پر ملک میں بہت سے لوگ اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سرگرمیوں سے اب تک صرف روحانی پیشواؤں کو فائدہ ہوا ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے آشرام بنائے ہوئے ہیں۔ وہ پورے ملک میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ وہ دولت مندوں کے گھروں میں ٹھہرتے ہیں۔ ان کے پاس کاریں ہیں اور وہ آرام کے ساتھ رہتے ہیں۔ سرگرمیوں کا کوئی اثر عوام تک نہیں پہنچا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم دنیا کی سب سے اچھی قوم بن گئے ہوتے: They have huge ashrams, travel all over the country, stay in homes of the rich, have cars and live in comfort. Does reading sacred texts or listening to sermons have any impact on people? If it did, we should have become the most pious, god-fearing and honest people in the world. یہ مسئلہ روحانیت کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے جدید مواقع نے لوگوں کو پروفیشنل بنا دیا ہے۔ اب ہر چیز ایک پروفیشن بن گئی ہے۔ سیاست، صحافت، ایجوکیشن اور اسی طرح مذہب اور روحانیت ہر چیز نے پروفیشن کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ الفاظ ہر شعبے پر صادق آتے ہیں نہ کہ صرف روحانیت پر۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو پروفیشنلزم اور کیریزم
سے اوپر اٹھایا جائے ۔ فائدے کے بجائے مقصد کو ترجیحی درجہ دیا جائے ۔
ٹرین کے اندر اعلانات ہو رہے تھے ۔ دس بجے یہ اعلان ہوا کہ جلد ہی ہم الور پہنچنے والے الور کی خصوصیات کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنی وائلڈ لائف سینچوری کے لیے مشہور ہے ۔ یاد آیا کہ حال میں اخبارات میں شیروں کے بارے میں ایک رپورٹ آئی تھی ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا کے چڑیا گھر اچھی حالت میں نہیں ہیں ۔ چنانچہ تقریباً ڈیڑھ سو شیر چڑیا گھروں سے نکال کر جنگلوں میں چھوڑے جانے والے ہیں“ تاکہ وہاں وہ اپنی طبعی موت مرجائیں “ ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ شیر وہ ہیں جو افریقی شیر اور ہندوستانی شیر کے کراس بریڈنگ (Cross Breeding) سے پیدا ہوئے ان شیروں کے اندر جسم کا مدافعتی سسٹم (immune system) بگڑ گیا ہے۔ چنانچہ ان کے اندر بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہو گئی ہے ۔ وہ طرح طرح کے عوارض میں مبتلا رہتے کوئی علاج ان کے لیے کار گر ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو چڑیا گھر سے رہا کرکے جنگلوں میں ڈال دیا جائے جہاں وہ اپنے آپ مرجائیں۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیچر کے نظام میں مداخلت کتنی زیادہ خطرناک اس کا ثبوت بار بار ملا ہے ۔ مثلاً مختلف ملکوں میں ڈیم بنا کر پانی کے فطری نظام میں جو مداخلت کی گئی اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔ برطانیہ میں گایوں کی خوراک میں نباتاتی اجزا کے ساتھ لکھی اجزا اس کی وجہ سے ان کا دودھ غیر صحت مند ہو گیا۔ اسی طرح نباتاتی فصلوں میں موجودہ زمانے میں وہ ملاوٹی طریقہ اختیار کیا گیا جس کو ہائی برڈ (hybrid) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو فصلیں حاصل ہوئیں وہ طبی نقطۂ نظر سے ناقص تھیں ۔ اس فہرست میں جدید تباہ کن صورت وہ ہے جو ایڈس کی بیماری کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ خدا نے جنسی تعلقات کے لیے فطری طریقہ شوہر اور بیوی کا ازدواجی طریقہ بنایا تھا۔ موجودہ زمانے میں آزادی کے نام پر ازدواجی زندگی سے باہر جنسی تعلق شروع کر دیا گیا ۔ یہی غیر فطری تعلق ہے جس نے ایڈس کی شکل میں ایک ایسی بیماری کی صورت اختیار کر لی جو دورِ جدید کی سب سے مہلک بیماری تصور کی جاتی ہے ۔
ایڈس کی بیماری کا علاج تلاش کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ اس کا سادہ علاج یہ ہے کہ لوگ غیر فطری تعلقات کو چھوڑ کر ازدواج کا فطری تعلق اختیار کریں۔ کے الفاظ میں وہ غیر مسافحین (النساء: ۲۴) بن جائیں۔
ٹرین کسی قدر لیٹ ہوکر جے پور اسٹیشن پہنچی۔ اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کے مزاج میرے اندر اتنا زیادہ ہے کہ جب بھی میں کوئی سفر کرتا ہوں تو ہمیشہ اپنے داخلی احساس کے تحت مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ اسٹیشن پر یا ائیر پورٹ پر کوئی شخص میری رہبری کے لیے موجود نہ ہو تو کیا ہوگا۔ اس اندیشے کے تحت میں نے دہلی میں کانفرنس کے نمائندے مسٹر چاند سے کہا کہ مجھے جے پور کا نمبر اور پتہ دے دیجیے تاکہ ضرورت ہو تو اسٹیشن پہنچ کر کانٹیکٹ کرسکوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ جے پور ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں گے تو وہاں بہت سے لوگ آپ کا سواگت کرنے کے لیے موجود ہوں چنانچہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ میرے اندیشے کے خلاف اسٹیشن پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ کثرت سے سفر کیے ہیں مگر میرا مذکورہ اندیشہ کبھی درست ثابت نہیں ہوا۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ کیسا بلانکا کا ہے جہاں میں ایک عرب کانفرنس کی دعوت پر اس میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوکر جے پور کے ہوٹل لکشمی ولاس پہنچا۔ یہاں روم نمبر ۵ میں میرے لیے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ یہ ہوٹل عام طریقے کے خلاف فطری انداز میں بنایا گیا ہے۔ کشادہ کمرہ اور ہر طرف کھلی جگہ اس کی امتیازی صفت تھی۔ اپنے فطری انداز کی بنا پر یہ ہوٹل مجھے پسند آیا۔ ہوٹل پہنچا تو وہاں اخبار والے اور ٹی وی والے انتظار کررہے تھے۔ ان کی فرمائش کے مطابق انھیں انٹرویو دیا۔ ای ٹی وی کے نمائندے مسٹر خورشید نے سوال کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ پروبی جے پی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ میں پرو بی جے پی ہوں۔ میں صرف پروانسان ہوں۔ بھارت میرا دیش ہے۔ اور اس دیش کے ہر مرد اور عورت میرے بہن اور بھائی ہیں۔ میں سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہوں۔ میں پولیٹکل آدمی نہیں ہوں بلکہ میں ایک صوفی ہوں۔ صوفیوں کا طریقہ صلح کل (peace with all) کا طریقہ ہے۔ کسی کو اپنا اور
کسی کو غیر سمجھنا، یا کسی کو دوست اور کسی کو دشمن سمجھنا، یہ سب صوفی کلچر کے خلاف ہے۔ ہندی اخبار مہا نگر ٹائمز کے نمائندے نے خاص طور پر یہ سوال کیا کہ شریعت میں طلاق کا مسئلہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں دو بڑے گروپ ہیں۔ ایک حنفی گروپ اور دوسرا سلفی تین طلاق کے معاملے میں، میں سلفی مسلک کو عملاً درست مانتا ہوں۔ اس مسلک کے لوگ ایک بیٹھک میں تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی آدمی طلاق، طلاق، طلاق کہتا ہے تو وہ غصے کی وجہ سے بطور تشدد اس کو بار بار دہراتا ہے۔ لہذا سلفی مسلک والے تین طلاق کو ایک مان کر شوہر سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے طلاق کا فیصلہ کر لیا ہے تو صحیح شرعی اصول کے مطابق، تین مہینے میں اس کی تکمیل کرو۔ یہ انٹرویو اسی دن اخبار کے شام کے ایڈیشن میں شائع ہوٹل کے کمرے میں لوگ مسلسل آتے رہے اور ان سے ملکی اور ملی معاملات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرا مشن مختلف سماجی گروپ کے درمیان میل ملاپ بڑھانا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ انٹریكشن (interaction) اتنا زیادہ مفید ہے کہ اس کو ہر حال میں اور ہر سطح پر جاری رہنا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مفروضہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں ترقی نہیں کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں۔ کے قانون کے عین مطابق ہے۔ یہ کہنا کہ مسلمان ترقی کر رہے ہیں، یہ دعویٰ کرنا ہے کہ فطرت کا قانون یہاں معطل ہو گیا ہے۔ فطرت کا قانون خالق نے مقرر کیا ہے، وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ مسلمانوں کی ترقی بھی رکنے والی نہیں۔
۱۸ دسمبر کی شام کو جے پور کے برلا آڈیٹوریم میں خطاب تھا۔ اسی کے لیے مجھے یہاں بلایا گیا برلا آڈیٹوریم جے پور کا سب سے بڑا آڈیٹوریم ہے۔ شام کو ۶ بجے جب میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا تو وسیع ہال کی تمام سیٹیں بھر چکی تھیں۔ اوپر کی منزل بھی بھری ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ ہال کے باہر کھڑے ہوئے تھے۔ مجمع میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔
لوگوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے جے پور شہر کے باہر سے بھی کافی لوگ آئے تھے۔ اس اجتماع کو پر بھات پرکاشن دہلی اور جے پور کے سنیل کوٹھاری جیولر نے اسپانسر (sponsor) کیا تھا۔ کا مقصد یہ تھا کہ ہندو مسلم تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور انڈیا یا اور پاکستان کی دوری کو کم کیا جائے۔ میں نے تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر علیحدہ قومی شناخت کا نظریہ پیدا ہوا جو روح عصر کے بھی خلاف تھا اور اسلام کے بھی خلاف۔ قرآن کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ قرآن بار بار انسان کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں پوری انسانیت کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، ساری دنیا دار الانسان ہے۔ یہی زندگی کا فطری طریقہ ہے۔ قومی پہچان کو لے کر زندگی کے الگ الگ دائرے بنانا، اسلام کے آفاقی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ بات میرے لیے نئی نہیں ہے۔ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ لیکن نوجوانی کی عمر سے میرے یہی خیالات رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ تقریباً ۶۵ سال پہلے کی بات ہے۔ مدرسے میں اسماعیل میرٹھی کی اردو ریڈر پڑھی۔ اس میں دو چڑیوں، بازندہ اور یا زندہ کا قصہ پڑھا۔ میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ چلو سیر کریں اور دنیا کو دیکھیں ۔ اس نے کہا:
سیر کر دنیا کی غافل! زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو نو جوانی پھر کہاں یہ میری نو جوانی کا زمانہ تھا۔ مجھے شوق ہوا کہ میں بھی دنیا کی سیر کروں۔ (اعظم گڑھ) کے قریب شاہ گنج براڈ گیج کا ایک ریلوے اسٹیشن تھا۔ میں وہاں پہنچا۔ اس زمانے میں انڈیا اور لاہور کے درمیان سفر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ میں نے ۱۲ روپے کا ٹکٹ لیا اور ایک ایکسپریس ٹرین میں بیٹھ گیا جو شاہ گنج سے سیدھے لاہور جاتی تھی۔
میں لاہور اسٹیشن پر اترا۔ اس وقت لاہور میں کوئی بھی شخص میرا جاننے والا نہ تھا۔ قریب ایک مسجد میں اپنا مختصر سامان رکھا اور لاہور کی ایک سڑک پر پیدل روانہ ہو گیا۔ اس دوران میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی جن کا نام مسٹر قریشی تھا۔ وہ ایک ٹیلر ماسٹر تھے۔ میری کہانی سن کر وہ مجھ کو اپنے گھر لے گیے۔ اگلے دن انھوں نے میری ملاقات لیلا رام سے کروائی۔ لاہور کے مال روڈ پر ان
کی ٹیلرنگ کی بڑی دکان تھی جس کے باہر یہ سائن بورڈ لگا ہوا تھا: