B. Leela Ram & Sons
Al-Risala, December 2005, pp. 506–509
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر قریشی اور بی لیلا رام دونوں مجھ سے اس طرح ملے جیسے کہ وہ میرے سگے بھائی ہوں۔ لوگوں کے ساتھ میں دو ہفتے لاہور میں رہا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی طرف سے میرا ٹکٹ لے کر دوبارہ اسی ایکسپریس ٹرین پر بٹھا دیا اور میں واپس اپنے گھر آگیا۔
یہ تقسیم ہند سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ اس وقت میرا احساس یہ تھا کہ اعظم گڑھ اور لاہور دونوں میرے اپنے دیش کے شہر ہیں۔ مسٹر قریشی اور بی لیلا رام یکساں طور پر میرے بھائی ہیں۔ کے دامن میں پھیلا ہوا پورا علاقہ میرا اپنا ملک ہے۔ یہی وہ آفاقی احساس ہے جس سے میں نے اپنی زندگی شروع کی اور آج بھی میں اس احساس میں جی رہا ہوں۔ گلوبلائزیشن کے دور نے میرے اس احساس کو اور زیادہ پختہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ اسی آفاقی احساس کو میں انسانی فطرت کے مطابق سمجھتا ہوں اور یہی میرے نزدیک اسلام کا تقاضا بھی ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن زمین کے سارے باشندوں کو انسان کے لفظ سے خطاب کرتا ہے۔ گویا کہ قرآن کے نزدیک ساری دنیا دار الانسان ہے۔ یہی میرا عقیدہ ہے اور یہی میری تمنا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے سیاسی معنوں میں ’’ہر ملک، ملک ما است، کہ ملک خدائے ما است‘‘ کو تو دریافت کیا۔ مگر وہ اس حقیقت کو آفاقی فطرت کے اعتبار سے دریافت نہ کر سکے۔
جلسے کے بعد جن ہندوؤں اور مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی ان سب نے اتفاق یہ کہا کہ برلا آڈیٹوریم میں اتنا بڑا جلسہ ایک مسلم عالم کے لیے کبھی نہیں ہوا۔ یہاں جو ہندو اور مسلمان آئے تھے وہ اصلاً آپ ہی کی تقریر سننے کے لیے آئے تھے۔ آپ ہی سب کے لیے مکھیہ اٹریشن تھے۔ 19 دسمبر کو جے پور کے اخبارات میں جلسے کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس نے اس کی تصدیق کردی۔ ہر اخبار کی رپورٹ میں میری تقریر کو نمایاں کیا گیا تھا۔
18 دسمبر کو برلا آڈیٹوریم کے پروگرام کے بعد میں اپنے ہوٹل میں پہنچا۔ یہاں شام کے کھانے
پر شہر سے دور جن ممتاز افراد مدعو کیے گئے تھے۔ ان کے ساتھ شام کو خالص راجستھانی کھانا کھایا۔ لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ملک کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک آشا وادی آدمی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک نیا پراس شروع ہو چکا ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ دونوں دو بھائیوں کی طرح مل کر ملک کا مستقبل بنائیں ۔ اس پر ایک صاحب نے شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی زیادہ اثر دکھائی نہیں ایک اور صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک تالا آپ توڑ رہے ہیں اور وہ سویں چوٹ پر ٹوٹے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ 99 چوٹیں بیکار تھیں۔ کیوں کہ 99 چوٹ کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ 100 ویں چوٹ لگنے پر تالا ٹوٹ جائے۔ ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ سویں چوٹ سے پہلے کا مرحلہ سویں چوٹ کے لیے آپ کو ابھی تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔
ایجوکیشن منسٹر دونانی جی نے بتایا کہ راجستھان میں تعلیم بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ میں ہم نے ریاست میں 12 ہزار نئے اسکول کھولے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر گاؤں کے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اسکول موجود ہو۔ انھوں نے کہا کہ پہلے راجستھان، ایجوکیشن میں پورے ملک کے اعتبار سے ۲۲ ویں نمبر پر تھا۔ اب وہ اس اعتبار سے چٹے نمبر پر آگیا ہے۔
19 دسمبر کی صبح کو سو کر اٹھا تو باہر سے تیتر کی آواز سنائی دی۔ ہوٹل کے قریب ایک بہت بڑا پارک ہے جس میں کثرت سے درخت لگے ہوئے ہیں۔ اسی پارک کی طرف سے یہ آواز آ رہی تھی۔ سن کر میں نے سوچا کہ دنیا میں لاکھوں قسم کے پرندے اور حیوانات ہیں۔ مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ آدمی صرف آواز سن کر پہچان سکتا ہے کہ یہ آواز کس پرندے یا کس جانور کی ہے۔ طرح دنیا میں اربوں کی تعداد میں عورت اور مرد بستے ہیں مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ آوازوں کے اس تنوع (diversity) پر سوچتے ہوئے میں نے کہا کہ خالق کی قدرت کا یہ کیسا عجیب نمونہ ہے کہ بے شمار قسم کی زندہ چیزیں زمین پر موجود ہیں۔ مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ یہ تنوع اور اس قسم کے دوسرے واقعات خدا کی اتھاہ قدرت کا حیرت ناک ثبوت ہیں۔
کے ان مظاہر پر غور کرے تو وہ شدت تأثر سے سجدے میں گر پڑے اور یہ کہے: تبارک الله احسن الخالقین (المؤمنون: ۱۴)
اس ہوٹل کے چاروں طرف کھلی جگہ تھی۔ ہوائی کثافت یہاں تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ کی نماز سے فراغت کے بعد میں باہر نکلا اور دیر تک کھلی فضا میں ٹہلتا رہا۔ کھلی فضا اور فطرت کے ماحول میں ٹہلنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ میرے لیے خدا سے نفسیاتی قربت کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کہ میں یوپی کے ایک دور افتادہ گاؤں میں رہتا تھا۔ کے کنارے ایک ندی تھی جس کے اوپر غالباً ۱۹۳۶ میں ایک پل بنایا گیا تھا۔ یہ پل جب بنا تو میں نے اس پر یہ شعر کہا تھا:
بحمد الله کہ ایں جسر عظیم الشاں مکمل شد سعی مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد اس پل کے چاروں طرف دور تک درختوں اور کھیتوں کے مناظر تھے۔ میں جب گاؤں میں ہوتا تو میں روزانہ صبح اور شام جاکر اس پل کے اوپر بیٹھ جاتا اور دیر تک فطرت کے مناظر کو دیکھتا رہتا۔ ندی میں پانی کا بہنا، سر سبز مناظر، فضا میں اڑنے والی چڑیاں، صبح اور شام کا سورج، آسمان کی وسعت، میں دیر تک ان مناظر میں کھویا رہتا۔ یہ مشاہدہ میرے لیے ایک روحانی خوراک کے ہم معنی ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس روحانی سیر میں ہمیشہ میں اکیلا رہتا تھا۔ گاؤں کا کوئی دوسرا شخص میرے ساتھ نہیں ہوتا یہ پل گویا میرے لیے ایک فطری اسٹیج تھا جہاں سے میں خدا کے تخلیقی کرشموں کو دیکھ سکوں۔ جے پور کے مسٹر اسوتوش اپادھیائے ایک ہونہار طالب علم ہیں۔ انہوں نے ہندی میں ایک کویتا لکھی اور مجھ کو سنایا۔ پھر میرے کہنے پر انہوں نے اس کویتا کی ایک نقل مجھے دی۔ اُن کی یہ کویتا یہاں نقل کی جاتی ہے:
प्रेरणास्त्रोत ताऊजी को ‘बटवारा नहीं’ के विमोचन के अवसर पर सादर समर्पितः है मेरा एक सपना, हो वही ‘अपना हिन्दुस्तान’ जहाँ ज़ात-पात से किसी को न हो वास्ता।
جہاں پڑھیں سبھی ملکر گِیتا اور کوران رام اور رحیم دونوں ہی ہوں بھگوان۔ جہاں نہ ہو کسی کو راجا اور رنک کا بھان بنے وہی ’دنیا کی شان‘ ہو وہی ’اپنا ہندوستان..... جیوتی پریم-سدبھاو کی لےکر اپنی منزل چنی ہوگی۔
بٹوارے کی ’بھول‘ بھلاکر نئی کہانی لکھنی ہوگی۔