Al-Risala · December 2005

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

Al-Risala, December 2005, pp. 509–517

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا ہوگا مانوتا کا آہوان تبھی بنےگا پھر سے وہی ’اپنا ہندوستان‘ ۱۹ ستمبر کو صبح کی چائے کے بعد دوبارہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو دوپہر بعد تک جاری رہا۔ بہت سے ہندو اور مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں سے مدرسہ جمعیۃ القریش کے چار اساتذہ بھی تھے جن کے نام یہ ہیں: مولا نا بشیر احمد، مولا نا محمد ہاشم رضا اشرفی، مولانا محمد ظہیر عالم، مولا نا محمد منظور عالم۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ ایک دینی مدرسے میں پڑھاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ مسجد و مدرسے کا کام کرتے ہو اور اس دینی کام کا معاوضہ لیتے ہو۔ تم لوگ دین کو فروخت کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس پر ہم کو ندامت کا احساس رہتا ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں بالکل غلط کہتے ہیں۔ آپ لوگ تعلیم دین کا معاوضہ نہیں لیتے بلکہ آپ لوگ اپنے وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔ اور یہ بلا شبہ جائز ہے۔ میں نے کہا کہ دورِ اول میں دین کے خادم کے لیے معاوضہ لینے کی بھی مثال ہے اور معاوضہ نہ لینے کی بھی مثال ہے۔ اول ابوبکر صدیق نے معاوضہ نہیں لیا اور خلیفۂ دوم عمر فاروق نے بقدر ضرورت معاوضہ لیا۔ اور بلا شبہ دونوں اسلام میں یکساں طور پر معیاری نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ علماء مدرسے اور مسجد کی خدمت کرتے ہیں۔ اس کام میں ان کو جو کچھ

دیا جاتا ہے اس سے ان کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ حکومت لوگوں کا مالی تعاون کرے۔ میں نے کہا کہ ہم کو مالی وسعت کے لیے حکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہم کو خدا کی طرف دیکھنا چاہیے۔ قرآن میں آتا ہے کہ: الیس اللہ بکاف عبدہ (الزمر : ۳۶) میں نے کہا کہ خدا جب کسی انسان کو پیدا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کو خاص صلاحیتیں بھی عطا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی اس خداداد صلاحیت کو دریافت کرے۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو کوئی ہنر سیکھنا چاہیے۔ کوئی نئی زبان سیکھنا چاہیے تاکہ ہم اپنے آپ کو نئی ضرورتوں کے مطابق بنا سکیں۔ محنت اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اس سے لوگوں کے اندر نیا عزم اور نیا حوصلہ پیدا ہوگا اور ان کے تمام مسائل فطری طور پر حل ہو جائیں گے۔

کچھ مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل میڈیا کے اثر سے سارے مسلمانوں کو آتھک وادی سمجھا جانے لگا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ کچھ مسلمان آتھک واد میں لگے ہوئے لیکن زیادہ مسلمان وہ ہیں جن کو ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ شانتی کے ساتھ اپنے کام دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر سارے مسلمانوں کو کس لیے بدنام کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بدنامی کی بات نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو ہو رہی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مجرم صرف وہی نہیں ہے جو خود جرم کر رہا ہے۔ بلکہ وہ بھی مجرم ہے جو جرم کرنے والوں کی مذمت صرف الگ رہنا کسی کو بے قصور ثابت نہیں کرتا۔ اسلامی اصول کے مطابق ، آپ صرف اس وقت اس سے الگ قرار پائیں گے جب کہ آپ اس کے خلاف منھ سے بول کر یہ ظاہر کریں کہ آپ اس میں شریک نہیں ہیں۔

اسلم شیر خان جیولر ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ایک سنجیدہ آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شمیم جے پوری کا ایک شعر مجھے پسند ہے اور اس کو لکھ کر میں نے اپنے آفس میں لگایا ہے۔ وہ شعر یہ ہے : یا مصلحت ہے کچھ کہ جو ملتا نہیں اسے یا پھر کمی ہے عجز و عبادت گزار میں ان سے میں نے پوچھا کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بزنس میں

سب سے زیادہ ضروری ہے کہ جو کام آپ کر رہے ہیں اس میں آپ کو پوری سمجھ ہو۔ ہم جواہرات کا کام کرتے ہیں تو ہمیں پتھر کی پہچان ہونی چاہیے۔ ہم کو یہ جاننا چاہیے کہ کس طرح کی کوالٹی فائدہ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسلم مسائل کی جڑ مسلمانوں کا مزاج ہے۔ جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو مسلمان فوراً تشدد شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے امن و اخلاق پر مبنی جو طریقہ ہے اس میں کامیابی یقینی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے خاندان میں جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کو ضبط و درگزر اور اخلاق سے طے کرتے ہیں۔ مسٹر فیروز خاں ایک تجربے کار لیڈر ہیں۔ انھوں نے مسلم مسائل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا یہ مزاج بن گیا ہے کہ مسلمان کسی مسلمان کی زندگی میں اس کو لیڈر نہیں مانتا۔ کے بعد وہ اس کو لیڈر مان لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کو عام طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ کہنے والوں کو یہ کہنا چاہیے کہ مسلمان کسی لیڈر کو نہیں مانتا۔ اس لیے اس کا کوئی لیڈر بھی نہیں۔ فطرت کی طرف سے ہر قوم میں لیڈر پیدا ہوتے ہیں لیکن کوئی شخص لیڈر شپ کا رول صرف اس وقت ادا کر سکتا ہے جب کہ لوگ اس کو اپنا لیڈر مان لیں۔ لیڈر دعویٰ کر کے لیڈر نہیں بنتا۔ بلکہ وہ لوگوں کی طرف سے قبولیت پانے کے بعد لیڈر بنتا ہے۔ ویمل اگروال اور مکیش آرا ایس ایس کے ممبر تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آرا ایس ایس کا مقصد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہندوؤں کو سنگٹھت کرنا تھا۔ اس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈ گوار کا خیال تھا کہ ہندوؤں پر ظلم اسی لیے ہوتا ہے کہ ہندو سنگٹھت نہیں ہیں۔ آرا ایس ایس کے کچھ لوگوں سے میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ آرا ایس ایس کے لوگ مہاتما گاندھی کو پسند نہیں انھوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ پسند نہ کرنے کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آرا ایس ایس کا یہ ماننا ہے کہ اگر گاندھی نہ چاہتے تو دیش کا بٹوارہ نہ ہوتا۔ میں نے کہا کہ اگر یہ بٹوارہ ہوتا تو دوبارہ وہ آپ کی پسند کے خلاف ہوتا۔ میں نے کہا کہ اکھنڈ بھارت میں انڈیا، پاکستان، کشمیر، بنگلہ دیش سب ایک ہوتے۔ اس طرح اکھنڈ بھارت میں مسلمان تقریباً میجارٹی

میں ہو جاتے۔ پھر آپ اکھنڈ بھارت میں اپنا ہندو ایجنڈ اکیسے چلاتے ۔ اس کا انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

۱۹ دسمبر کو جے پور کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک بینر دکھائی دیا۔ یہ جماعت اسلامی راجستھان کی طرف سے تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ جماعت اسلامی آج کل حقوق انسانی کی مہم چلا رہی ہے اور یہاں اس موضوع پر اس کی کانفرنس ہونے والی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ۱۹۵۰ کے زمانے میں، میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اس وقت ہر ماہ ایک ضلعی اجتماع ہوا کرتا تھا۔ ان ضلعی اجتماعات میں اکثر مولانا صدر الدین اصلاحی کی تقریر ہوتی تھی۔ ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ اس دنیا میں مومن کی صرف ذمے داریاں ہیں۔ اس دنیا میں مومن کا کوئی حق نہیں۔ میں بھی اس اجتماع میں موجود یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے جب کہ جماعت اسلامی کی تحریک ایک فعال تحریک کی حیثیت رکھتی اب جب کہ جماعت اسلامی ایک بے روح ڈھانچہ بن چکی ہے تو اب اس کی بولی بھی بدل گئی جاننے والے اسے جانتے ہیں کہ حقوق انسانی (human right) کی تحریک چلانا صرف ایک سستی لیڈری ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ فرائض انسانی (human duties) کی تحریک چلائی سماج کو فرض شناس (duty conscious) بنایا جائے ۔ حقوق شناس (right conscious) سماج میں صرف جنگ کلچر وجود میں آتا ہے نہ کہ ذمے دارانہ کلچر۔

تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جو ابدی اصول کی بنیاد پر چلائی جائے، دوسرے وہ جو لوگوں کے اندر چھپے ہوئے جذبات کی بنیاد پر چلائی جائے۔ نتیجہ خیز تحریک صرف پہلی قسم کی تحریک دوسری قسم کی تحریک سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اصول کی بنیاد پر تحریک چلانا بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں لمبی مدت تک بظاہر کوئی نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کی تحریک عوامی جذبات کو غذا دینے والی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے ارد گرد بہت جلد بھیڑ اکٹھا ہو جاتی اسلامی تحریک احتساب خویش کی بنیاد پر اٹھتی ہے اور غیر اسلامی تحریک احتساب غیر کی بنیاد پر۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ کو اقوام متحدہ کے تحت یونیورسٹی ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کے منشور پر تمام

قوموں کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے۔ اسی نسبت سے ہر سال ۱۰ دسمبر کو، حقوق انسانی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ ۲۰۰۲ میں اس موقع پر جماعت اسلامی نے حقوق انسانی کا ہفتہ منایا۔ مختلف مقامات پر جلسے کیے۔ آخر میں پانچ نکاتی قرارداد منظور کی گئی۔ وہ قرارداد یہ تھی : (الف) جو افراد اور گروہ فسادات کے اور انسانوں کے قتل عام کے مجرم ہوں، ان کو ملکی قانون کے تحت سخت سزا دی جائے، تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک میں امن و امان بحال ہو سکے۔ (ب) محکمہ پولیس میں شہریوں کے مختلف طبقات کو مناسب نمائندگی دی جائے اور فرضی مڈبھیڑ، زیر حراست اموات اور ملزموں کی تعذیب کے ہر واقعے کے ذمے دار پولیس اہل کاروں کو سخت سزا دی (د) کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے عملے کو سخت سزا دی جائے ۔

یہ جلسہ حکومت ہند کو توجہ دلاتا ہے کہ انصاف کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ انصاف کرکے اس کی رفتار تیز کی جائے، نیز جن افراد پر مقدمے چل رہے ہیں اور وہ پانچ سال سے زائد عرصہ جیل میں کاٹ چکے ہیں، انھیں رہا کیا جائے۔

یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ پوٹا کے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے اور unlawful activities act میں جو اضافے کیے گئے ہیں، انھیں واپس لیا جائے نیز پوٹا کا مزید استعمال بند کیا جائے۔ مطالبہ کرتا ہے کہ ایس آئی ایم پر لگی ناروا پابندی اٹھائی جائے اور تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔ یہ جلسہ، عراق کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی ہم دردی اور یک جہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے اس اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ اپنے ملک کی آزادی کے لیے ان کی جد و جہد اللہ کی نصرت و تائید سے بالآخر ان شاء اللہ کامیاب ہوگی۔ یہ اجلاس بین اقوامی فورموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکا کا عراق سے تسلط ختم کرنے کے لیے اپنے اثرات کا استعمال کریں۔ یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ عراق کے عوام کو آزادی دلانے کے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرے۔

یہ جلسہ، شرکاء اجلاس کے اس عہد اور عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خود کسی پر ظلم نہیں کریں گے،

ظلم کو برداشت نہیں کریں گے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور مظلوموں کی حمایت کریں گے۔ (ماہنامہ: اللہ کی پکار، جنوری ۲۰۰۵ء، صفحہ ۷۔

جماعت اسلامی نے اپنا ہفتہ حقوق انسانی کے نام پر منایا تھا۔ مگر اس میں جو تجویزیں پاس کی گئیں وہ حقوق مسلم سے تعلق رکھتی ہیں، نہ کہ حقوق انسانی سے۔ اس تضاد میں موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما مبتلا ہیں۔ حقوق کے نام سے وہ صرف مسلم حقوق کو جانتے ہیں۔ یہ سوچ اتنا زیادہ غالب ہے کہ اگر کوئی حقوق انسانی کا نام لیتا ہے تو عملاً اس کی مراد اس سے حقوق مسلم ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انسانیت عامہ ان کا کُنسرن (concern) نہیں۔ نزدیک احترام سے مراد احترام مسلم ہوتا ہے۔ وہ حقوق کے نام سے حقوق مسلم کو جانتے ہیں۔ تقریریں اور تحریریں مسلمانوں کے خلاف ظلم سے بھری ہوتی ہیں۔ لیکن خود مسلمان دوسروں کے خلاف جو ظلم کرتے ہیں اس سے ان کی تقریریں اور تحریریں خالی ہوتی ہیں۔ قرآن کی زبان میں وہ ”تطفیف‘‘ ہے، یعنی اپنی رعایت تو خوب جاننا مگر دوسروں کی رعایت سے بے خبر رہنا۔

کچھ نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس کے دل میں سب کے لیے پیار ہو۔ کامیابی یقینی ہے بشرطیکہ آپ صبر کے ساتھ جدوجہد کر سکیں۔ ایک مسلمان نے کہا کہ ہم لوگوں کی عورتیں گھروں میں رہتی ہیں وہ باہر جا کر کوئی کام نہیں کیا اسلام کا حکم یہی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں صحابہ کو ماڈل کا درجہ دیا گیا ہے۔ کی خواتین گھر کے باہر نکلتی تھیں اور باہر کے کام کرتی تھیں۔ یہی صحیح اسلامی نمونہ ہے۔ عورتوں کو ضروری حدود کے اندر رہتے ہوئے ہر وہ کام کرنا چاہیے جو شریعت میں جائز ہے۔ پردے کے سلسلے میں نے کہا کہ فقہاء نے عورت کو وجہ، کفّین اور قَدَمین کے کھولنے کی اجازت دی ہے۔ عورتوں کو سادہ اور ڈھیلا کپڑا پہننا چاہیے۔ ان کو بناؤ سنگار سے بچنا چاہیے۔ وہ ہر ضروری اور جائز کام باہر جا کر کر سکتی ہیں۔ فاروق احمد خاں آئی ایس افسر ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ آتنگ و آداب ایک انڈسٹری بن چکا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے مگر کون سی چیز ہے جو انڈسٹری نہ

ہو تا ہم یہ ایک نا قابل معافی جرم ہے کہ ایک غیر اسلامی کام کو اسلام کے نام پر کیا جائے۔ مادی اور قومی لڑائی چھیڑی جائے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ بتایا جائے۔

اس سفر میں مجھے ایک ذاتی تجربہ کا ہوا جس کو ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ (black & white) میں دیکھنا اور تیسرے انتخاب (third option) سے بے خبر رہنا۔ بجے پور کے اس سفر کے دوسرے دن (۱۹ دسمبر) کو اتوار تھا۔ ہمارے دہلی کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ میں اتوار کو دو پہر تک دہلی واپس آجاؤں تا کہ اتوار کی کلاس حسب معمول ہو سکے ۔ مگر اس وقت میرے ذہن میں صرف دو صورتیں تھیں۔ ایک ہوائی جہاز کا سفر اور دوسرے ٹرین کا سفر۔ ہوائی جہاز سے جانے میں دہلی ایئر پورٹ کی کہر (fog) کا مسئلہ تھا۔ اور ٹرین سے جانے کی صورت میں یہ مسئلہ تھا کہ واپسی میں ٹرین تاخیر سے شام کو دہلی پہنچتی تھی۔ میرے ذہن میں اس وقت صرف دو ہی صورتیں تھیں۔ یا دونوں طرف جہاز سے جانا یا دونوں طرف ٹرین سے سفر کرنا۔ بعد کو سمجھ میں آیا کہ یہاں ایک تیسری صورت بھی تھی اور اس کو اختیار کرنے کی صورت میں باسانی یہ ممکن تھا کہ میں اتوار کو دو پہر تک دہلی واپس آجاؤں اور معمول کے مطابق کلاس کر سکوں۔ تیسری صورت یہ تھی—دہلی سے ۱۸ ستمبر کی صبح کو ٹرین سے بجے پور جانا، اور ۱۹ ستمبر کی صبح کو جہاز کے ذریعے دہلی مگر یہ تیسری صورت اس وقت میرے ذہن میں نہ آسکی۔

مکیش میناراجستھانی نے بتایا کہ راجستھانی کلچر یہ ہے کہ ہمارے یہاں مہمان آ جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے پاس بھگوان آ گیا ہے۔ مجھے اپنے اس سفر میں اس کا ذاتی تجربہ ہوا۔ لوگوں کی طرف سے جس عزت اور حسن سلوک کا تجربہ ہوا وہ بہت غیر معمولی تھا۔ مکیش مینا سے گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ یہ اسی ریگستانی ریاست کا کلچر ہے جو اس سفر کے دوران میرے حصے میں آیا۔ غور کیا کہ راجستھان میں اس قدیم کلچر کا سبب کیا ہے۔ میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میرے بچپن میں خود میرے گاؤں میں یہ کلچر موجود تھا۔ مگر اب اختلافات کے نتیجے میں یہ کلچر ٹوٹ چکا ہے۔ میں ایسا ہوا کہ یہ ریاست چونکہ ایک ریگستانی ریاست تھی۔ یہاں پانی کی کمی تھی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا

کہ یہاں صنعتیں قائم نہ ہوسکیں۔ چنانچہ راجستھان میں باہر کے لوگ نہیں آئے۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ یہاں کے کچھ لوگ باہر چلے گئے۔ اس واقعے کی بنا پر ایسا ہوا کہ راجستھان کا روایتی کلچر اپنی قدیم حالت میں محفوظ رہا۔

۱۹ ستمبر کی شام کو جے پور سے دہلی واپسی تھی۔ ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل سے روانہ ہوا۔ مشورے کے مطابق یہ طے ہوا کہ اسٹیشن جاتے ہوئے راستہ بدل کر سفر کیا جائے اور جے پور کے مختلف اہم مقامات کو دیکھتے ہوئے اسٹیشن پہنچیں۔ اس طرح جے پور کے اہم اور تاریخی مقامات پر ایک نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ جے پور ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہاں سیاح کافی تعداد میں آتے ہیں۔ جے پور کو خوبصورت بنانے میں سر مرزا اسماعیل کا بہت بڑا دخل ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے وہ جے پور کے ایڈمنسٹریٹر سر مرزا اسماعیل اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اسی کے ساتھ انتظام اور منصوبہ بندی کی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی۔ سر مرزا اسماعیل کی یہ صلاحیت جے پور کی شہری تعمیر میں بہت کام آئی۔ اس شہر کو ہر اعتبار سے ایک خوبصورت شہر بنا دیا۔ جے پوری کی خوبصورتی کی ایک جھلک میں نے واپسی کے سفر میں دیکھی۔ جے پور راجستھان کی راجدھانی ہے۔ جے پور میں مختلف قسم کی صنعتیں ہیں۔ جیولری یہاں کی مشہور صنعت ہے۔ اس صنعت سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد جڑی ہوئی جے پور ایک باحصار شہر (walled city) ہے۔ یہ قدیم دیوار اب بھی موجود ہے۔ البتہ اس کے باہر نیا جے پور دور تک آباد ہو گیا ہے۔

جے پور کی بنیاد ۱۷۲۷ میں ڈالی گئی۔ اس سے پہلے انبر یہاں کی راجدھانی تھا۔ جے پور پنک سٹی(Pink City) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اکثر سیدھی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ راج کا محل اب بھی یہاں کی خاص عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دوسری کچھ خاص عمارتیں یہ ہیں: ہوا محل، رام باغ پیلیس، نہر گڑھ، ٹائیکر فورٹ اور میوزیم، وغیرہ۔ یونیورسٹی بہت بڑی یونیورسٹی ہے۔ وہ ۱۹۴۷ میں قائم کی گئی۔ جے پور شہر کے اہم مقامات کو دیکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اسٹیشن صاف ستھرا نظر آیا۔ جو لوگ مجھے پہنچانے کے لیے آئے تھے ان سے

دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔ ٹرین تقریباً آدھ گھنٹہ لیٹ ہر کر پلیٹ فارم پر آئی۔ اس تاخیر کا راز بعد کو معلوم ریزرویشن کے مطابق، میں اپنے کوچ میں داخل ہوگیا۔ ایگزیکٹیو کلاس میں آج خلاف معمول زیادہ مسافر نظر آئے۔ ٹرین روانہ ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اس میں کئی مسلم افراد سفر کر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے سترہ ممبران تھے جو لوک سبھا کے اسپیکر کی دعوت پر دہلی آئے یہ لوگ آج صبح اجمیر گئے تھے تاکہ وہ لوگ وہاں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت وہاں سے فارغ ہوکر اب یہ لوگ دوبارہ دہلی جارہے تھے۔

معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی ممبران مجھ سے واقف تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو میری کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ ایک صاحب نے میرے پاس آکر سنجیدہ انداز میں کہا: ”میری چھ بیٹیاں ہیں۔ ایک کی شادی ہوچکی ہے۔ آپ دعا فرمائیں کہ باقی کا بھی اچھا رشتہ ہوجائے ۔ خواجہ غریب نواز کے یہاں میں نے اپنی درخواست لگادی ہے“ معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا لکچ حکومت کی طرف سے اجمیر میں رکھا گیا تھا۔ لُنج سے فارغ ہونے میں کچھ دیر ہوگئی اس لیے ٹرین کو لیٹ کردیا گیا۔ میرے ساتھ کچھ پرچے تھے۔ راستے میں ان کو پڑھوا کر سنا۔ انگریزی ہفت روزہ ریڈینِس ( ۱۹- ۲۵ دسمبر ۲۰۰۲ ) میں ایک تفصیلی مضمون شامل تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Islamic Resurgence in 21st cetury:

Printed page