Al-Risala · December 2005

Prospects and Challenges.

Al-Risala, December 2005, pp. 517–520

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ اسلام بہت تیزی سے ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مضمون نگار نے اس سلسلے میں مختلف حوالے دیے تھے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ آج دنیا کے ہر چار آدمی میں سے ایک مسلمان ہے۔ مغربی جرائد سے نقل کیے ہوئے چند جملے یہ تھے:

Islam is the fastest growing religion in the world. The religion of Islam is growing faster than any other religion in the

ساری دنیا میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت کی بات بالکل درست ہے۔ مگر مضمون نگار نے اس واقعے کا جو سبب بتایا تھا وہ درست نہ تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں کچھ مفکر پیدا ہوئے ۔ مثلاً علامہ اقبال ، سید مودودی ، حسن البنا، سید قطب وغیرہ۔ ان صاحبان کا لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپا اور وہ جنگ کی آگ کی طرح ہر جگہ پھیل گیا :

مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ مسلم مفکرین کا لٹریچر ہے جس کی وجہ سے اسلام دنیا میں پھیل رہا ہے۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ مذکورہ لٹریچر تمام تر مسلمانوں کے لیے لکھا گیا۔ وہ صرف مسلم ذہن کو مخاطب کرتا تھا۔ وہ نہ غیر مسلموں کے لیے لکھا گیا اور نہ وہ غیر مسلم ذہن کو ایڈریس کرتا تھا۔ لٹریچر صرف مسلمانوں میں پڑھا گیا۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی سوال ہی نہیں کہ ان حضرات کے لٹریچر کی وجہ سے یہ غیر مسلم اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ان نو مسلموں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے مذہب سے غیر مطمئن تھے۔ انھیں سچائی کی تلاش تھی۔ پھر انھوں نے قرآن کو پڑھا۔ نے ان کی فطرت کو مطمئن کیا اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ کسی نے اپنے جذبہ تلاش کے تحت بطور خود انٹرنیٹ سے یا کسی اور ذریعے سے معلومات حاصل کیں اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے دعوت پر مبنی لٹریچر درکار تھا۔ مگر مذکورہ حضرات کی لٹریچر میں دعوت کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ ان تمام حضرات کا لٹریچر جہاد اور سیاست پر مبنی لٹریچر تھا۔ اس نے مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ مسلمانوں کی سیاسی عظمت کو واپس لائیں۔ چنانچہ اس انقلابی لٹریچر سے متاثر ہونے والے مسلمان جہاد میں اور سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ اس انقلابی لٹریچر کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یا تو مسلح جہاد میں مشغول ہیں یا وہ ان کی تائید کرتے ہیں۔ اس لٹریچر کا یہ نقصان ہوا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ہر جگہ سیاسی طرز فکر غالب آگیا۔ دعوتی طرز فکر ان کے اندر پیدا ہی نہ ہو سکا جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے۔

جے پور میں ایک بڑا مدرسہ ہے جس کا نام جامعۃ الہدایہ ہے۔ اس مدرسے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔ اس نقشے پر وہ کامیابی کے ساتھ چلایا جارہا ہے۔ اس ادارے کی طرف سے ایک ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام ہدایت ہے۔ اس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲) دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت چھپا تھا: سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔ صاحب مضمون نے جو باتیں لکھی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی: ’’تیونس کے صدر زین العابدین بن علی وائٹ ہاؤس کے دورے سے واپس آئے۔ بعد تیونس میں منعقد ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس (۲۲۔ ۲۳ مئی ۲۰۰۲) میں تیونس کے صدر نے سارے عربوں سے اپیل کی کہ وہ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے شہات پسندی کی کارروائی کی مذمت کریں‘‘ (صفحہ ۲۵)

صاحب مضمون نے تیونس کے صدر کی اس تجویز کی سخت مذمت کی تھی۔ اور اس کو اسرائیل کے حق میں ایک مؤیدانہ کوشش قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس تجویز کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ تیونس کے صدر نے اپنی تجویز میں جس چیز کی مذمت کی تھی وہ خودکش بمباری (sucide bombing) مگر اس کو مضمون میں شہادت طلبی کا نام دیا گیا ہے۔ عرب علماء اس کو استشہاد کہتے ہیں۔ نزدیک یہ عین وہی چیز ہے جس کو تحلیل الحرام کہا گیا ہے۔ یعنی ایک حرام فعل کو خوبصورت نام دے کر اس کو حلال بتانا۔ میرے نزدیک یہ دہر اجرم ہے۔ ایک یہ کہ خودکشی کا حرام فعل کرنا اور دوسرے اس حرام فعل کو استشہاد اور شہادت طلبی کا نام دینا۔ یہ بلاشبہ کسی قوم کے زوال کی آخری علامت ہے۔ ماہنامہ میثاق (دسمبر ۲۰۰۲) میں ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اقامت دین کی جدوجہد فرض عین ہے (صفحہ ۸۷) موجودہ زمانے کے کچھ مسلم مفکرین بار بار یہ بات کہتے رہے ہیں مگر اس میں ایک شدید مغالطہ پایا جاتا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ سورہ الشوریٰ کی آیت نمبر ۱۳ کے مطابق، الدین کی اقامت فرض عین ہے۔ مگر یہاں دین کی اوقات سے مراد غیر سیاسی دین کی اقامت ہے نہ کہ سیاسی دین کا جھنڈا بلند کرنا۔ ان انقلابی مفکرین نے یہ نا قابل معافی جسارت کی ہے

کہ انہوں نے قرآن سے اقامت دین کا لفظ لیا اور اس کو خود ساختہ طور پر اقامت سیاست کے بہم معنی بنایا اور پھر دعویٰ کیا کہ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی نظام کی اقامت فرض عین ہے۔ عین وہی گمراہی ہے جس کو قرآن میں یحرفون الکلم عن مواضعه (الننساء: ۴۶) کہا گیا ہے۔ یعنی کلام کو اس کے موقع محل سے پھیر دینا، کسی بات کی غلط تشریح کر کے اس سے اپنا خود ساختہ مفہوم نکالنا۔ قرآن میں اقیموا الدین (الشوریٰ: ۱۳) سے مراد واضح طور پر غیر سیاسی احکام کی اقامت کلام کے سیاق کی بنا پر تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں اقامت دین سے مراد ان احکام الہی کی کامل پیروی ہے جو ایک فرد سے ہر حال میں مطلوب ہوتے ہیں۔ گویا اس آیت میں اقامت سے مراد انفرادی احکام کی اطاعت ہے۔ جہاں تک اجتماعی اور سیاسی احکام کا تعلق ہے وہ اس آیت میں مذکور کلام کے سیاق و سباق سے یہی ثابت ہوتا ہے اور یہی بلا استثناء تمام مفسرین کی رائے ہے۔ ۱۹ دسمبر ۲۰۰۴ کی شام کو میں دہلی پہنچا۔ شتابدی ایکسپریس جس بجے پور میں آدھ گھنٹے لیٹ تھی۔ مگر راستے میں اُس نے میک اپ کیا اور دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر تقریبا اپنے ٹھیک وقت پر پہنچی۔ میں نے سوچا کہ اس میں بھی ایک سبق ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کرنے میں دیر کر دے تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ خدا نے اپنی دنیا میں ایسے امکانات رکھے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی منزل پر ٹھیک وقت پر پہنچ سکے۔ آغاز سفر میں کمی کی تلافی وہ تکمیل سفر کے وقت کرلے۔ زندگی میں اصل اہمیت خاتمے کی ہے، نہ کہ آغاز کی۔

حدیث میں آیا ہے: وإنما الأعمال بالخواتيم (البخاری، کتاب القدر) یعنی اعتبار خاتمے کا ہے۔ یہ روایت ایک مخصوص واقعے کے پس منظر میں آئی ہے۔ مگر اس کا ایک عمومی پہلو بھی اور وہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ کسی بھی معاملے میں اصل دیکھنے کی چیز اس کا آغاز نہیں ہے بلکہ اس کا اختتام ہے۔ یہ دراصل اختتام ہے۔ جو یہ بتاتا ہے کہ عمل درست تھا یا وہ درست نہ تھا۔

Printed page