انسان کا المیہ
Al-Risala, February 2005, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں زندگی کی حقیقت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: لقد خلقنا الانسان في كبدہ أيحسب أن لن يقدر عليه أحد (البلد ۴- ۵) یعنی بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کیا وہ گمان رکھتا ہے کہ اس پر کسی کا قابو نہیں چلے گا۔ We have created man into a life of hardship. Does he think that no one has power over him. قرآن کی اس آیت میں کبد کا لفظ آیا ہے۔ کبد کے معنی شدت اور مشقت کے ہیں۔ عمومی قانون کے تحت بتایا گیا ہے کہ انسان کو خدا نے ایسے حالات میں پیدا کیا ہے کہ اس کو اپنی پوری زندگی مشقتوں میں گزارنی پڑے۔ اس کے مطابق، مشقت اور رنج خدا کے تخلیقی منصوبہ کا ایک لازمی کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندگی کے پر مشقت کورس سے گزرنے سے
دنیا کی زندگی میں رنج و مشقت قادر مطلق کے تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہیں۔ وہ اس لیے ہیں کہ آدمی کو یاد دلایا جائے کہ موجودہ دنیا تمہارے لیے عیش گاہ کے طور پر نہیں بنائی گئی بلکہ وہ امتحان گاہ کے طور پر بنائی گئی ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے ہے تا کہ آدمی مختلف احوال سے گزرے۔ انہی احوال کے درمیان یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔ شخص ان احوال کے دوران صحیح اور مطلوب رد عمل نہ پیش کرے اس کو الگ کر کے جہنم کے کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے۔
موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی ”کبد“ کی یہ صورت حال بدستور باقی ہے۔ لیکن خدا کے تخلیقی نقشہ سے بے خبری کی بنا پر لوگ اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے اور غلط رد عمل پیش کر کے اپنے آپ کو خدا کی نظر میں ایسا انسان ثابت کرتے ہیں جو امتحان کے کورس سے گزر اگر وہ اپنے آپ کو کامیاب نہ کر سکا۔
موجودہ زمانہ میں مذکورہ صورت حال کی نسبت سے لوگوں کے جو مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں ان میں سے تین ایسے ہیں جو زیادہ اہم ہیں۔ ان تینوں قسم کے ردعمل کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک ردعمل یہ ہے کہ جو عورت یا مرد زندگی کی فطری ناخوشگوار یوں سے دوچار ہوتے ہیں وہ برداشت کو کھو دیتے ہیں اور پھر یا تو دل شکستہ ہو کر رہ جاتے ہیں یا خودکشی کر
مایوسی کی حالت میں اس قسم کے انتہا پسندانہ ردعمل کی دو مثالیں ہندوستانی میڈیا میں حال میں سامنے آئی ہیں۔ انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲۲ اگست ۲۰۰۴ میں مشہور ہندستانی صنعت کار گوتم سنگھانیہ کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوتم سنگھانیہ ایک ہزار کروڑ روپیہ کے بزنس کے مالک ہیں۔ لیکن بعض حادثات کی وجہ سے وہ اتنا زیادہ دل شکستہ ہیں کہ وہ عوام کے سامنے نہیں آتے۔ وہ زیادہ تر اپنے گھر کے اندر رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت کسی بھی شخص کو خوشی نہیں دے سکتی: