سوال و جواب
Al-Risala, December 2005, pp. 521–530
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری، کتاب الفتن میں یہ روایت آئی ہے: مَن رأی من أمیره شیئاً یکرهه فليصبر علیه، فإنه من فارق الجماعة شبراً فمات إلا مات میتة جاهلیة (فتح الباری، جلد ۱۳، صفحہ ۷) یعنی جو شخص اپنے امیر میں کوئی چیز دیکھے جو اس کو ناگوار ہو تو وہ اس پر صبر کرے۔ کیوں کہ جو شخص جماعت کو ایک بالشت کے برابر بھی چھوڑے اور اسی حال میں مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ایک دوسری روایت (صحیح مسلم، کتاب الامارة) میں یہ حدیث الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ آئی ہے جس میں ”جماعت“ کے بجائے ”بیعت“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس حدیث کو لے کر مسلمانوں میں کئی جماعتیں بنائی گئیں مثلاً جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون وغیرہ۔ ان بانیاں جماعت نے کہا کہ جماعتی زندگی لازمی طور پر ضروری ہے۔ انھوں نے یہ تاثر دیا کہ لوگ یا تو ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں یا کوئی اور جماعت بنا کر اس کے تحت جماعتی زندگی گذاریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، ان کا وہ انجام ہوگا جو حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: مَن شَدَّ شُذَّ إِلَى النّار (الترندی، کتاب الفتن) یعنی جو شخص جماعت سے الگ ہو وہ آگ میں جائے گا۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی) حدیث کی یہ تشریح سخت گمراہ کن ہے۔ اس حدیث میں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت جماعتی نہیں بلکہ وہ بیعت سیاسی ہے۔ حدیث کا یہ مفہوم بخاری کی دوسری روایت سے واضح ہورہا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: مَن کره من أميره شیئاً فليصبر، فإنه من خرج من السلطان شبراً، مات میتة جاهلية (فتح الباری، جلد ۱۳، صفحہ ۷) یعنی جس کو اپنے امیر کی کوئی چیز ناگوار ہو تو وہ صبر کرے۔ کیوں کہ جو شخص سلطان سے ایک بالشت بھی دور ہوا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ دوسری روایت کے الفاظ سے واضح ہورہا ہے کہ ان روایتوں میں التزام جماعت یا بیعت جماعت سے مراد سیاسی التزام یا سیاسی بیعت ہے نہ کہ جماعتی التزام یا جماعتی بیعت۔ جن لوگوں نے جماعت بنا کر اس سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ بتایا، انھوں نے یہ غلطی کی کہ اُس روایت کو لے لیا جس میں
جماعت کا لفظ آیا ہے، اور اس روایت کو چھوڑ دیا جس میں سلطان کا لفظ آیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں کا تعلق دور فتنہ سے ہے۔ یعنی ایسے زمانے سے جب کہ لوگ سیاسی حا کم کو لے کر اختلاف کی باتیں کریں اور حاکم کی اطاعت پر راضی نہ ہوں۔ ایسے موقع کے لیے مختلف حدیثوں میں جو بات آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک حاکم کی حکومت جب قائم ہو جائے تو امت کے ہر فرد کو اس کی اطاعت کرنا چاہیے۔ سیاسی شکایتوں کو لے کر اس کے خلاف خروج جائز نہیں۔ حکمراں سے خروج کی یہ حرمت کوئی حرمت اعتقادی نہیں ہے، بلکہ وہ حرمت سیاسی ہے۔ حاکم کی حکومت قائم ہو جائے اور اجتماعی معاملات میں اس کا کنٹرول ہو جائے تو ایسے وقت میں اس سے خروج کرنا، نتیجے کے اعتبار سے صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوگا۔ حدیث کے مطابق، ایسے حالات میں کسی شخص کے لیے جو انتخاب ہے وہ صرف دو میں سے ایک کا ہے۔ یا تو وہ صورت حال پر صبر کرے یا وہ مکمل طور پر پر امن رہتے ہوئے خیر خواہانہ نصیحت کا طریقہ اختیار کرے۔ ان دو کے علاوہ تیسرا انتخاب لینا، یعنی اصلاح سیاست کے نام پر وقت کے حکمراں سے ٹکرانا، اسلام میں سراسر حرام ہے۔ حدیث کے اس مفہوم کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی جماعت بنانے والوں نے یہ سنگین غلطی کی کہ جس فعل سے پیغمبر نے منع کیا تھا اس کو جائز کرنے کے لیے ایک اور ممنوع فعل کا ارتکاب کر لیا۔ یہ ممنوعیت نتیجے کے اعتبار سے تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ان نام نہاد اسلام پسندوں نے جن ملکوں میں اسلامائزیشن کی تحریک چلائی وہ عملاً ڈی اسلامائزیشن کے ہم معنی بن گئی۔
حدیث (عليكم بالسواد الأعظم، مسند احمد، ۲ / ۲۸۷) کو لے کر یہ کہا جاتا ہے کہ سوادِ اعظم ہمیشہ حق پر ہوتا ہے۔ اس لیے آدمی کو سوادِ اعظم کا اتباع کرنا چاہیے۔ آپ اس کی وضاحت کریں (محمد ذکوان ندوی) اس حدیث میں سوادِ اعظم سے مراد اکثریت ہے۔ یعنی اکثریت کا ساتھ دو۔ یہ ساتھ دینا بطور
عقیدہ نہیں، بلکہ وہ عملی ضرورت کے طور پر ہے۔ جب کسی معاملے میں مسلمانوں کی اکثریت ایک طرف ہو جائے تو اُس وقت ایسا کرنا درست نہیں کہ آدمی حق اور ناحق کی بحث چھیڑ کر لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکائے اور اکثریت سے جُدا ہو جائے۔ اجتماعی معاملات میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آئیڈیل ازم کے مطابق، کیا درست ہے اور کیا درست نہیں۔ بلکہ اس کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی طور پر کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر آدمی کو پریکٹیکل بن جانا چاہیے نہ کہ آئیڈیلسٹ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سوادِ اعظم ہمیشہ حق پر ہوتا ہے اس لیے اس کا ساتھ دینے کا حکم یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے، ایسا سمجھنا درست نہیں۔ اجتماعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک حکم بیان کیا جاتا ہے مگر وہ حکم عقیدے کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وہ عملی ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے۔ معاملہ علیکم بالسواد الأعظم کا ہے۔ یہ حکم عملی مصلحت کی بنا پر دیا گیا ہے نہ کہ اعتقادی مسئلے کی بنا یہی معاملہ اُس مشہور قولِ رسول کا ہے جس میں آپ نے خلافت کی بابت فرمایا تھا: الأئمة من اجتماعی نزاعات کے موقع پر آدمی کو زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ ناصحانہ قول ہے نہ کہ تشدّدانہ اقدام۔
اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ إنّ من أمتی لا تجتمع على ضلالة (ابن ماجه، کتاب الفتن) میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ امت کے افراد جب بڑی تعداد میں کسی بات پر متحد ہو جائیں تو وہ بات درست قرار پاۓ گی ۔ بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ میں ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کے تمام افراد گمراہی کی ایک بات پر متفق ہو جائیں ۔ ہمیشہ ایسے کچھ افراد ضرور موجود رہیں گے جو گمراہی کو گمراہی سمجھیں اور اس کا اعلان کریں۔ اس حدیث کو عام طور پر امت مسلمہ کی فضیلت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اس قسم کا عقیدہ بالکل اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت مسلمہ کو خدا کی طرف سے جو کتاب دی گئی ہے وہ چوں کہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گی ۔ اس لیے ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ساری امت گمراہی میں پڑ جائے ۔ امتوں کی گمراہی کا سبب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اپنی محفوظ حالت میں ان کے
پاس نہ رہے۔ کتاب اللہ کی عدم محفوظیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سچائی کو جاننے کے لیے ریفرنس بک موجود ریفرنس بک کے محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں رہتا کہ اختلاف کے وقت اس کا تعین کیا جائے کہ سچائی کیا ہے۔ لیکن جب ریفرنس بک محفوظ حالت میں موجود ہو تو یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت اس کو دیکھ کر صحیح نقطہ نظر معلوم کیا جا سکے۔ قرآن کی یہی صفت، آخری امت کو اس سے بچائے گی کہ اس کے تمام افراد گمراہ ہو جائیں، اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو جو سچائی کو جاننے والا ہو۔ الرسالمہ اگست ۲۰۰۵ کے صفحہ ۲۹ سوال نمبر ۶ کے حوالے سے عرض ہے: حضرت موسیٰ نے بھی ایک بگڑی ہوئی مسلم قوم کو ایک علیحدہ ملک میں آباد کیا۔ اور تقسیم ملک کی مانگ کرنے والوں نے بھی تقریباً یہی کچھ کیا۔ آپ ایک کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور دوسرے کو غلط ، وجہ کیا ہے۔ کیا یہ وجہ ہے کہ ایک کام ایک اولوالعزم پیغمبر حضرت موسیٰ کے ذریعے انجام پایا، اور دوسرا چند مسلمانوں کے ہاتھوں۔ (غلام قادر، سری نگر)
آپ کا یہ قیاس ، قیاس مع الفارق ہے۔ قدیم مصر میں بنی اسرائیل ایک بلائے عظیم میں مبتلا تھے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یذبحون أبناءكم ويستحيون نساءكم (البقرہ: ۴۹) ہندوستان میں جب اقبال اور جناح جیسے لوگوں نے تقسیم کی مانگ کی تو اُس وقت ہندوستان میں ہرگز یہاں قدیم مصر جیسے حالات نہ تھے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو بلا شبہ وہ خلاف واقعہ بات کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت کے مسلمانوں کو ہندوستان میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ایسی حالت میں تقسیم ملک کا مطالبہ کرنا، ایک ناجائز فعل تھا، نہ کہ اُسوہ موسیٰ کی پیروی۔ دوسری بات یہ کہ حضرت موسیٰ سارے بنی اسرائیل کو مصر سے باہر لے گیے۔ جب کہ تقسیم کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کو کہیں باہر نہیں لے جارہے تھے بلکہ وہ صرف ایک ملک کو دو ملک میں بانٹ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے عمل کا اُسوۂ موسیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
تیسری بات یہ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ایک صحرا میں تربیت کے لیے لے گئے تھے۔ جب کہ تقسیم کے لیڈر فرضی طور پر اپنے بنائے ہوئے پاکستان میں ایسی صورت پیدا کر رہے ہیں جہاں مسلمان فرقوں میں بٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں۔
آپ ایک کشمیری مسلمان ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کے لیے ایسا کہنا اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ آپ لوگوں نے کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے لیے ہندوستان سے لڑائی چھیڑ دی۔ حضرت موسیٰ نے قدیم مصر میں ایسا نہیں کیا کہ مصر کے ایک خطے کو بقیہ ملک سے الگ کرنے کے لیے فرعون سے لڑائی چھیڑ دیں۔ اس کے برعکس، حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر ملک کے باہر، صحرائے سینا میں چلے گئے۔ اس لحاظ سے آپ لوگوں کے لیے حضرت موسیٰ کے نمونے کی پیروی یہ ہوگی کہ آپ کشمیر کو چھوڑ کر چلے جائیں اور کسی بیرونی علاقے میں آباد ہو جائیں۔ میں ایک طالب علم ہوں اور چھ مہینوں سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ آپ نے غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا، اور امت مسلمہ کو اس کا بھولا ہوا مقصد یاد دلایا ہے۔ اس حقیقت کو قبول کر کے میں نے دعوت الی اللہ کی بات اپنے مسلمان بھائیوں سے خاص طور پر تبلیغی جماعت کے لوگوں سے کہی تو انھوں نے کہا’’ارے بھئی ہم تو سدھر جائیں، ابھی ہمارے اعمال خراب ہیں جب ہمارے اعمال اچھے ہو جائیں گے تو لوگ خود بخود اسلام میں داخل ہونے لگیں گے‘‘۔ اس کا واضح جواب چاہتا ہوں۔ (ریحان خان، بھوپال)
اصولی اعتبار سے یہ بات غلط ہے کہ’’مسلمانوں کی اصلاح کرو، اور جب ان کی اصلاح ہو جائے گی تو لوگ خود بخود اسلام قبول کر لیں گے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ دعوت اپنے آپ میں ایک ذمے دعوت کا کام ہر حال میں کرنا ہے، جس طرح نماز ہر حال میں پڑھنا ہے۔ کوئی بھی عذر دعوتی فریضے کی ادائیگی سے باہر رہنے کے لیے کافی نہیں۔ یہ حضرات اگر اپنے نظریے کو درست سمجھتے ہیں تو وہ
تارکین صلوٰۃ سے نماز پڑھنے کے لیے بھی نہ کہیں، وہ یہ کریں کہ وہ خود نماز پڑھیں اور یہ یقین کریں کہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنے آپ نماز پڑھنے لگیں گے۔
تبلیغ کا کام کئی نسل سے چل رہا ہے۔ یہ لوگ اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ’ ’اس کام کی برکت سے ساری دنیا میں کروڑوں لوگ دین دار بن چکے ہیں۔ ‘ ‘ پھر یہ کروڑوں لوگ کیوں نہیں دعوت کے میدان میں آتے۔ ایسی حالت میں یا تو تبلیغ والوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انھوں نے ’’ساری دنیا میں دین کی ہوائیں چلادی ہیں‘‘ یا ان کے اندر یہ جذبہ ہی نہیں کہ دنیا کے لوگوں کو ہدایت ملے، اور وہ جہنم کے راستے کو چھوڑ کر جنت کے راستے پر چلنے لگیں۔
تبلیغی جماعت کا کام اگر صرف مسلمانوں کی اصلاح ہے تو ان کو دعوت کا لفظ ہر گز نہیں بولنا پھر انھیں اصلاحِ المسلمین کا لفظ بولنا چاہیے۔ تبلیغ و دعوت کا لفظ قرآن میں، غیر مسلموں میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ موجودہ حالت میں تبلیغی جماعت کا یہ نام ’’برعکس نہند نام زنگی کافور‘‘ کا مصداق ہے۔ تبلیغی جماعت، مسلم عوام میں ایک اچھا کام کر رہی ہے۔ لیکن یہ اصلاحِ المسلمین کا کام ہے، وہ دعوت کا کام نہیں۔ تبلیغی جماعت ’’مسجد و تحریک‘‘ ہے، وہ دعوت وار تحریک نہیں۔ تبلیغی جماعت کا کام مولانا الیاس صاحب کے زمانے سے آج تک ایک ہی نہج پر ہو رہا ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں میں نقل و حرکت کر کے ان کو مسجد میں لانا اور انھیں کلمہ اور نماز سکھانا، فضائل کے قصے سنا کر انھیں تبلیغ میں جوڑنا۔ اس جماعت کے عین مزاج کے مطابق، اس میں اکرامِ مسلم کا تصور تو ہے مگر اس میں اکرامِ انسان کا تصور نہیں۔ اس میں اصلاحِ امت کا تصور تو ہے مگر اس میں اصلاحِ انسانی کا بظاہر یہ کام ایک درست کام نظر آتا ہے مگر وہ اثمهما اكبر من نفعهما (البقرہ ۲۱۹) کا مصداق ہے۔ جماعت کے اس نہج کی بنا پر مسلمانوں میں دعوتِ عام کا تصور، شعوری طور پر حذف ہوگیا جو کہ امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ ایک عالم جو تبلیغی جماعت کو بہت قریب سے جانتے ہیں، انھوں نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’تبلیغی جماعت نے دعوت کو ہائی جیک کر لیا ‘ ‘ ان کا یہ تبصرہ بلاشبہ جماعت کی مذکورہ صورتِ حال کے عین مطابق ہے۔
یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ مسلمان اگر سدھر جائیں تو غیر مسلم ان کو دیکھ کر اسلام کو اختیار کر لیں گے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر آئے، اور یہ پیغمبر مسلمہ طور پر اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ پیغمبروں کو دیکھ کر لوگ خدا کے دین کو اختیار کر لیں۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کا وہ حال ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یا حسرۃ علی العباد ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزؤن (يٰس : ٣٠)
اصل یہ ہے کہ آدمی جب کسی کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ وہ خود بھی اس پر کار بند ہو۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل، دعوت کی شرط ہے۔ دعوت کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، خواہ داعی عامل ہو یا نہ ہو۔ ابن کثیر نے سورۃ البقرہ آیت ۲۴ کے تحت لکھا ہے کہ ’’معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا دونوں واجب ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔ علماء سلف اور علماء خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عالم معروف کی تلقین کرے گا اگر چہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو، اور وہ منکر سے روکے گا اگر چہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔ ’’اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اُس وقت معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے جب کہ اس کے اندر کوئی چیز نہ پائی جارہی ہو تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتا‘‘۔ (سعید بن جبیر تابعی، تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۸۵)
اصل یہ ہے کہ دعوت احساس ذمے داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے نہ کہ احساس صالحیت مدعو جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا کرتا ہے، نہ کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر۔ اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیا کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی۔ مگر معلوم ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکٹھا نہیں ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال صرف امریکا میں تقریباً ایک لاکھ غیر مسلم اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر یہ درست ہے کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر لوگ اسلام میں
داخل ہوتے ہیں، تو کیا امریکا اور دوسرے مقامات پر رہنے والے مسلمان ایسے ہی باعمل ہیں جنھیں صرف دیکھ کر غیر مسلموں کی اتنی بڑی تعداد اسلام میں داخل ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں اور ہر شخص کو دینا ہے۔ اس کے لیے مذکورہ قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی جاسکتی۔ البیہقی اور ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حذیفہ نے ہم سے کہا کہ ہم اس علم (دین حق) کے حامل بنائے گئے تھے، اس کو ہم تمھیں دے رہے ہیں، اگرچہ ہم خود اس پر عمل نہ کر سکے (انا حَمَلنا هذا العلم، وإنَّا نؤدّيه اليكم وان كنا لا نعمل به، حياة الصحابة، ٢٦٨/٣) میرے ذہن میں اکثر یہ سوال آتا ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے خواہ وہ ہندو کے گھر میں ہو یا مسلمان کے گھر میں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے۔ وہ بچہ اسی ماحول کے مطابق بڑا ہو کر ہندو یا مسلمان بنتا اس میں اُس کا کیا قصور۔ (محمد شار احمد، جھارکھنڈ)
آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا تعلق صرف غیر مسلم گھر میں پیدا ہونے والے بچے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق خود مسلمان خاندان میں پیدا ہونے والے بچے سے بھی ہے۔ اس معاملے میں دونوں کا کیس بالکل یکساں ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد ہر انسان کی کنڈیشننگ شروع گھر کے اندر اور گھر کے باہر کا ماحول مسلسل طور پر ہر ایک کی کنڈیشننگ کرتا رہتا ہے۔ اس لیے ہر ایک انسان کنڈیشنڈ مائنڈ کا حامل ہوتا ہے۔ غالباً اسی کنڈیشننگ کے معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ثمّ رددناه أسفل سافلین۔ ہر آدمی کی یہ ذمے داری ہے کہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ اس طرح وہ دوبارہ اپنے آپ کو اُس حالتِ فطری پر واپس لے جائے جس کو قرآن میں لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم کہا گیا اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخلے کا مستحق نہیں بن سکتا۔ جو شخص اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے وہ قد افلح من زکّھا کا مصداق ہے اور جو شخص اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ
کرے وہ قد خاب من دښھا کا مصداق۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا آغاز کسی شخص کے لیے مسلم خاندان میں پیدا ہونے سے نہیں ہوتا، بلکہ معرفت یا ڈسکوری سے ہوتا ہے۔ غیر مسلم اگر حق کا مسافر اسلام کی ڈسکوری سے بنتا ہے تو مسلمان اُس وقت حق کا مسافر بنتا ہے جب کہ اسلام اس کے لیے ری ڈسکوری بن جائے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے قرآن میں اِنّ الانسان لفی خسر إلا الذین آمنوا کے الفاظ آئے ہیں اور دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یا أيهها الذين آمنوا آمنوا (النساء: ۱۴۶) میں نے ایک حدیث پڑھی جس میں لکھا تھا’’جنت تلواروں کی چھاؤں میں ہے‘‘۔ اس کا کیا (ایک قاری، الرسالہ)
حدیث (ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف) ایک ایسے موقع کی حدیث ہے جب کہ عملاً جنگ چھڑی ہوئی ہو، اور اسلام کے خلاف جارحیت کا، میدان مقابلہ میں بالفعل دفاع کیا جارہا ہو۔ ایسے غیر معمولی وقت میں اہلِ ایمان پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کی صفوں میں داخل ہو کر دشمن سے دفاعی مقابلہ کریں اور اسلام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ آپ کو اس حدیث کے بارے میں اشکال اس لیے پیدا ہوا کہ آپ نے اس کو امن کی حالت یا عام حالت سے متعلق سمجھ لیا۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ حالت کے بارے میں اسلام کی جو پالیسی ہے، اس کا بیان پیغمبر اسلام کے اس قول میں ملتا ہے: لا تمنوا لقاء العدو، واسئلوا الله العافية (دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو، اللہ سے ہمیشہ امن و عافیت مانگو)۔ نومبر ۲۰۰۳ء کا الرساله آپ کے امریکا کے سفر پر مشتمل ہے آپ نے صفحہ انیس پر لکھا ہے کہ برصغیر کے مسلمان، ہندوستان کے ہندوؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ ‘‘ میرے خیال سے یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ۔ ہو سکتا ہے چند لوگ ہوں ، اور اگر کوئی ان سے نفرت کرتا بھی ہے تو ان سے نہیں
بلکہ ان کے عمل سے کرتا ہے (عبد الغفار ندوی ، مہاراشٹر )
فعل سے نفرت ہی کا دوسرا نام فاعل سے نفرت ہے۔ فعل اور فاعل کو نظری منطق میں ایک دوسرے سے جدا کیا جا سکتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اگر فعل اور فاعل دونوں الگ الگ ہوتے تو آخرت میں خدا کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ صرف فعل کو سزا دے اور فاعل کو اس سے جدا کر کے چھوڑ دے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی نفسیات کے بارے میں مذکورہ بیان کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخبارات ہندوؤں کے خلاف شکایت سے بھرے ہوتے ہیں مگر ان میں مسلمانوں کی اس دعوتی ذمے داری کا کوئی چرچا نہیں ہوتا کہ ہندوؤں کی شکایتوں کو بھلا کر اُن لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔
آپ نے اپریل ۲۰۰۵ء کے الرسالہ کے صفحہ ۳۹ پر لکھا ہے ”کہ شعر ایک لفظی آرٹ ہے۔ انسان کے لیے صرف ذہنی تفریح کا سامان بن سکتا ہے۔ شعر کسی حقیقی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ جب کہ میں نے ایک حدیث پڑھی جس کا ترجمہ ہے ”بلا شبہ بعض شعر حکمت ہوتے ہیں“۔ جب کہ نہ میں نے ایک حدیث پڑھی اس کا ترجمہ ہے بلا شبہ (ایک قاری، الرسالہ، بہار)
الرساله اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۳۹ میں جو بات کہی گئی، سر اس کو آ.. کہ زحمت ہوتے ہیں ۔