نہ غالباً اس سے کسی طور پر
Al-Risala, December 2005, pp. 530–531
By Maulana Wahiduddin Khan
الرساله اپریل ۲۰۰۰ صفحہ ۳۹ میں جو بات کہی گئی ہے اس لو آپ نے غالباً سرسری طور پر اگر اس کو زیادہ غور کے ساتھ پڑھتے تو آپ کو خود ہی اس میں اپنے سوال کا جواب مل جاتا۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف اس مفہوم میں ہے کہ شعر میں بعض حکمت کی بات ہوسکتی مگر الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ تاثیر کے اعتبار سے ہے نہ کہ صرف کسی قولِ حکمت کی موجودگی کے اعتبار سے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی شعر میں کوئی ایسی بات ہو جو بظاہر حکمت کی بات ہو، مگر ایسا کبھی نہیں ہوسکتا، اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ شاعرانہ کلام کے ذریعے وہ چیز پیدا ہوجائے جس کو الرسالہ کی میں ہیں، ہار ماننے کا ارادہ نہیں ہے، یہ ان کی راہ کا | ایک اور روپ ہے، جو پیر پیدا
مذکورہ عبارت میں "قوم کے اندر حقیقی بیداری" کا نام دیا گیا ہے۔ اقبال نے اپنے خیال کے مطابق احیاءِ ملت کے مقصد کے تحت شاعری کا طریقہ اختیار کیا تھا مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ لوگوں میں صرف ایک غزل خواں بن کر رہ گئے۔ جیسا کہ خود اقبال نے کہا ہے: مرا یارااں غزل خوانی شمر دند۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الشعراء يتبعهم الغاون (الشعراء :۲۲۴) یعنی شعر کے ذریعے اس کے متبعین کا جو گروہ پیدا ہوتا ہے وہ صرف غیر سنجیدہ لوگوں کا گروپ ہوتا ہے۔ سنجیدہ لوگ کبھی شاعر کے گرد اکٹھا نہیں ہوتے۔