Money can not make you happy.
Al-Risala, February 2005, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح بمبئی کی مشہور ماڈل گرل نفیسہ جوزف اپنے کیریر کے عروج پر تھیں۔ مگر صرف ۲۵ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے بیڈ روم کے پنکھے میں لٹک کر خودکشی کر لی (ٹائمس آف انڈیا، ۳۰ جولائی ۲۰۰۲)۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے بوائے فرینڈ سے ان کا جھگڑا ہو گیا تھا۔ کو مس انڈیا منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کو زندگی کے جو تجربات ہوئے ان کی روشنی میں انہوں نے کہا تھا_ مشہور ہونا گویا بلبلہ میں رہنا ہے جو کسی بھی لمحہ ٹوٹ سکتا ہے: Being famous is like living in a bubble that can burst any moment. دل شکستگی اور خودکشی دونوں ایک ہی نوعیت کی چیزیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان صرف درجہ کا فرق ہے۔ خدا کے نقشہ کے مطابق، یہ دونوں ہی غیر مطلوب ردعمل ہیں۔ یہ مایوسی کی مثالیں ہیں اور مایوسی خدا کے نزدیک حرام ہے۔ زندگی کے امتحان میں وہ با حوصلہ شخص کامیاب پائے گا جو ہر حال
میں خدا سے امید قائم رکھے۔ جو ہر صورت حال کو وقتی سمجھ کر خدا سے ابدی کامیابی کا امید وار بنا رہے۔ خدا کا عقیدہ آدمی کو یہی اتھاہ حوصلہ عطا کرتا ہے۔
موجودہ زمانہ کی ترقیوں نے ”کبد“ کی صورت حال کو ختم نہیں کیا بلکہ اس میں مزید اضافہ عوام اور خواص دونوں مستقل طور پر ذہنی تناؤ اور دباؤ(stress) میں جینے لگے۔ اس صورت حال نے ایک نئے بزنس کا دروازہ کھول دیا۔ دنیا بھر میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے آپ کو آرٹ آف ڈی اسٹریسنگ(art of de-stressing) کا ماہر بتاتے ہیں۔ اس موضوع پر ہزاروں کی تعداد میں کتابیں چھپی ہیں اور بڑے بڑے ادارے ہر جگہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ڈی اسٹریسنگ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ مخصوص تکنیک کے ذریعہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی سوچ کو معطل کر دیں اور اس طرح انسان کو مصنوعی طور پر ایسا بنا دیں کہ وہ بے فکری کی حالت میں جینے لگے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی اندرونی شخصیت ایک پر امن شخصیت ہے۔ یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو مختلف سوچ کے ذریعہ آدمی کو پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔ یہی ذہنی تناؤ کا اصل سبب ہے۔ حل یہ ہے کہ ذہنی سوچ کو احساس کی دنیا سے الگ کر دیا جائے۔ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں اور مضامین ایک مضمون وہ ہے جو دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا ۱۵ ستمبر ۲۰۰۲ میں چھپا ہے۔ کے لکھنے والے ایکہارٹ ٹال (Eckhart Tolle) ہیں اور اس کا عنوان ہے سوچ کے عمل کو روک دو: یہ بات قابل بحث ہے کہ بے فکری کی یہ مستقل حالت انسان کے اندر پیدا کی جاسکتی ہے یا تاہم بالفرض اگر وہ ممکن ہو تو وہ صرف اس قیمت پر ہو گی کہ انسان کو انسانی مرتبہ سے گرا کر اس کو حیوانی سطح پر جینے والا بنا دیا جائے۔ یا پھر وہ ایک قسم کا تخدیری عمل (anesthesia) ہے۔ مگر اس قسم کا حل کوئی حل نہیں۔ انسان کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو حل انسان سے اس کی یہ اعلیٰ صلاحیت چھین لے، وہ حل نہیں ہے بلکہ وہ موت ہے۔ یہ جیتے جی اپنے آپ کو ذہنی قبرستان میں دفن کر دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کسی تدبیر کو حل کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کا جو فطری
حل ہے وہ ڈی اسٹرینگ نہیں ہے بلکہ وہ اسٹرس مینجمنٹ (stress management) ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مصیبت کا شکار رہتے ہیں وہ اکثر اپنے آپ کو اس چیز میں مشغول کر لیتے ہیں جس کو انسانی خدمت یا سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ یہ گویا غم غلط کرنے کی ایک تدبیر ہے مگر وہ بھی ’’کبد‘‘ کی صورت حال کا صحیح اور مطلوب رد عمل نہیں۔ سوشل سروس ایک انسانی خدمت ہے اور اس اعتبار سے وہ بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کی اہم نسبت سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک غیر مطلوب پہلو چھپا ہوا ہے۔ غور کیجئے کہ جو شخص کسی مصیبت کا تجربہ کرتا ہے اور پھر وہ سوشل سروس میں مشغول ہو جاتا ہے، اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات ایک جملہ میں یہ ہوتی ہے کہ۔ کچھ میں نے بھگتا وہ دوسروں کو نہ بھگتناپڑے: