Al-Risala · December 2005

سوال و جواب

Al-Risala, December 2005, pp. 531–534

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جامعہ دار السلام عمر آباد کا ایک طالب علم ہوں، میں آپ کی تحریروں اور مضامین سے زیادہ متاثر ہوں اور میں بھی آپ جیسا ایک مشہور محرّر اور مصنف بننا چاہتا ہوں تو میں اس کے لیے کیا کروں ۔ میں آپ کے پرچہ "الرسالہ" سے بہت متاثر ہوں۔ (شیخ اسماعیل بن شیخ افضل، حیدرآبادی) اپ کو قیمت ادا کیجیے اور پھر آپ اچھے مصنّف بن جائیں گے۔

بڑی طاقت کے سامنے لڑنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور غیر مسلموں کی تعداد ایک ہزار۔ نعوذ باللہ کیا رسول اللہ نے ذلیل ہونے کے لیے میں یہ تمام اردورڈیئرمیں سُن چکا ہوں، اورروڈبنڈیاؤں کی وڈیؤوں میں بھی قتال کیا تھا۔ (عیاض احمد، دہلی)

مکہ مکرمہ میں منزّلہ الفقیہ کے سالانہ اجلاس میں ایک عالِم نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد مکی دَور میں مخالفینِ اسلام نے اہلِ ایمان کو ستانا شروع کیا تو عمر فاروق نے کہا: ہم ان کے خلاف جہاد کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا اور فرمایا: یا عمر انا قلیل!

ہم تھوڑے ہیں) یہ اُس صورتِ حال کا معاملہ ہے جب کہ مسلمان قلیل ہوں اور ان کے حریف کثیر تعداد میں ہوں۔ ایسی غیر مناسب حالت میں اپنے حریفوں سے جہاد کے نام پر جنگ چھیڑنا، بلاشبہ رسول اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔

جہاں تک غزوۂ بدر کا معاملہ ہے تو اس کی صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت اگرچہ اہل ایمان کی تعداد تین سو تیرہ تھی مگر جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے پے در پے اپنی طرف سے فرشتے بھیجے۔ حتیٰ کہ ان فرشتوں کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر مخالفین کی تعداد ایک ہزار تھی اور اہل ایمان کی تعداد تین سو تیرہ۔ اب فرشتوں کو شامل کر کے اہل ایمان کی صف میں پانچ ہزار تین سو تیرہ کی فوج ہوگئی۔ اس طرح مسلمان عددی اعتبار سے مخالفین سے بہت بڑھ گئے، نیز طاقت کے اعتبار سے بھی۔ کیوں کہ فرشتوں کی طاقت انسان کے مقابلے میں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری فوج کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔

جماعت اسلامی کا سہ روزہ اخبار ’’دعوت‘‘، دہلی سے نکلتا ہے۔ اس کا ایشو ۱۹ اپریل ۲۰۰۵ یہ ایشو جہاد کے سبجیکٹ پر ’’اسپیشل اُشُو‘‘ کے طور پر چھپا ہے۔ اس اشو میں ایک صاحب کا آرٹیکل، اس ہیڈنگ کے ساتھ ہے: ’’جہاد، اسلام کی اخلاقی حدود کا پابند ہے۔ ‘‘ اس آرٹیکل میں ایک سوال کے جواب میں وہ لکھتے ہیں: ’’جو قومیں اسلام سے ناواقف ہیں، ان کے درمیان اسلام کے تعارف کی سعی بہت کم ہوئی ہے اور جو ہوئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ اس سطح کی نہیں ہے جس سطح کی ہونی چاہیے اور اُن زبانوں میں نہیں ہے جو اُن کی زبانیں ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ہم نے موجودہ دور کے فکر اور فلسفے کو غلط اور اسلام کو حق ثابت کر دیا ہے، اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے، وہ ضد اور ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۷۲)

میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہوں۔ میری ایجوکیشن امریکا اور لندن میں ہوئی ہے۔ زبان انگریزی ہے۔ میں نے آپ کی سب انگلش کتابیں کئی بار پڑھی ہیں، اور میں نے اپنے مسلم شوہر

سے آپ کی اردو کتابیں پڑھوا کر سنی ہیں۔ پانچ سال پہلے میں اسلام سے ہیٹ کرتی تھی۔ مگر آپ کی کتابوں کی اسٹڈی کے بعد میں نے اسلام میں سچائی کو ڈسکور کیا ہے، اور اس کو پورے کنوکشن کے ساتھ میرے جیسے میرے کئی نان مسلم ساتھی جو ہائی ایجوکیشن لیے ہوئے ہیں، انھوں نے آپ کی کتابوں کو پڑھ کر اسلام میں ڈوئن ڈرٹھڈ کو ڈسکور کیا ہے۔ حالاں کہ پہلے وہ بھی میری طرح اسلام سے ہیٹ کرتے تھے۔ میں نے اور میرے نان مسلم ساتھیوں نے ماڈرن اسٹینڈرڈ کی کی ایجوکیشن لی ہے۔ اپنے جاب کے اعتبار سے ہم انھیں لوگوں کے بیچ میں رہتے ہیں، جن کو ہائی ایجوکیٹیڈ لوگ کہا جاتا میں اور میرے نان مسلم ساتھی پورے کنوکشن کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا لٹریچر اُس لیول کا ہے جو آج کا لیول سمجھا جاتا ہے۔

میں نے اور میرے نان مسلم ساتھیوں نے آپ کا انگریزی لٹریچر بہت سے ہائی ایجوکیٹیڈ لوگوں کو دیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ لٹریچر آج کے ماڈرن لیول کے مطابق نہیں۔ میرے اور میرے دوسرے تمام ساتھیوں کے نزدیک، آج کا کوئی ایسا اِنٹلکچول لیول نہیں جس پر آپ کا لٹریچر پورا نہ اُترتا ہو۔ ہو سکے تو آپ اس معاملے کے بارے میں لکھیں (پر یاملک، نئی دہلی) ”جہاد نمبر“ میں جماعت اسلامی کے ایک بزرگ کا جو مضمون چھپا ہے، اس کو میں نے دیکھا اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال خود صاحب مضمون سے ہونا چاہیے۔ صاحب مضمون کا مذکورہ تبصرہ ایک تقابلی تبصرہ ہے۔ انھوں نے وقت کی ایک علمی سطح کو مان کر اس سے مطبوعہ اسلامی لٹریچر کا تقابل کیا ہے۔ ایسی حالت میں ان کو یہ بتانا چاہیے کہ وقت کی علمی سطح کا تصور ان کے ذہن میں کیا ہے۔ اس کے بغیر مذکورہ قسم کا تقابل ممکن نہیں۔

ان کا یہ مضمون گویا اس بات کا دعویٰ ہے کہ وہ وقت کی علمی سطح کو جانتے ہیں۔ اگر یہ سطح ان کے علم میں نہ ہو تو وہ تقابل کرنے کے اہل ہی نہیں ہو سکتے۔ ایسی حالت میں ”جہاد نمبر“ کے مضمون نگار کو سب سے پہلے یہ بتانا چاہیے کہ وقت کی وہ علمی سطح کیا ہے، تا کہ اس کی روشنی میں مطبوعہ اسلامی لٹریچر کو جانچا جا سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مضمون نگار کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ وقت کی علمی سطح کو بتائیں اور ساتھ ہی کم از کم کوئی ایک ایسی کتاب کا نام بتائیں جوان کے نزدیک وقت کی علمی سطح کو بتا رہی ہو یا اس کے مطابق ہو۔ اگر وہ ایسی کسی کتاب کا نام نہ بتا سکیں تو ان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ یہ کہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وقت کی علمی سطح کیا ہے۔ اس لیے میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس سے تقابل کر کے بتاؤں کی مطبوعہ اسلامی لٹریچر اس کے مطابق ہے یا نہیں ۔ مضمون نگار کے لیے ان دو کے علاوہ کوئی تیسری صورت جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ سورہ ق میں فرماتا ہے کہ ہم نے زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا فرمایا (۳۸) جب کہ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرتِ عظیم بھی حاصل ہے کہ ” اذا اراد شیئا ان یقول له كن فيكون “۔ تو اس چھ دنوں میں پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے۔ (وسیم بھٹ، کشمیر) ۶ دنوں سے مُراد چھ دور (periods) ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ”کن فیکون“ کی آیت میں خدا کی قدرت کا بیان ہے، اور ”ستة ایّام“ کی آیت میں خدا کے طریقے (Method) کا بیان ہے۔ کو بلاشبہ یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ ایک لمحے میں پوری کائنات کو پیدا کر دے۔ مگر اپنی حکمت کے تحت خدا نے یہ کیا کہ کائنات کو وجود میں لانے کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ تدریج کی اس حکمت کا ایک پہلو غالباً یہ ہے کہ انسان اپنے عمل میں بھی تدریج کے اس نمونے کو اختیار کرے ۔ وہ اچانک چھلانگ لگا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ وہ ترتیب اور تدریج کے اصول پر منصوبہ بند انداز میں کام کر کے اپنا مقصد حاصل کرے۔ فطرت کا جو اصول ہے اسی کو انسان اپنی زندگی کی تعمیر میں بھی اختیار کرے۔

Printed page