خبر نامه اسلامی مرکز ۱۳۷۱
Al-Risala, December 2005, pp. 535–537
By Maulana Wahiduddin Khan
روز نامہ ڈینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ ارشد فریدی نے ۲ جولائی کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مظفر نگر کے واقعے (۲ جون) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں علماء اور جماعتوں کا فتویٰ اسلام کے مطابق سزا برا فعل کرنے والے کو ملے گی نہ کہ بالجبر برے فعل کا شکار ہونے والے کو۔ نزدیک اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ اس معاملے کی تفصیلی روداد انگریزی میگزین آؤٹ لک (Out Look) کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
الرسالہ مطبوعات کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اب تک تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں پیغمبر انقلاب، مطالعہ سیرت، سیرت رسول ۔ اب سیرت کے موضوع پر چوتھی کتاب زیر تیاری ہے۔ اس کا نام پیغمبر امن (The Prophet of Peace) ہوگا۔ یہ کتاب انشاء اللہ جلد ہی اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کتاب میں پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے امن والے پہلو کو نمایاں کیا جائے گا یہ کتاب تقریباً تین سو صفحے کی ہوگی۔
۲۹ جولائی ۲۰۰۵ء کو نئی دہلی کے مودی ہاؤس میں ایک انٹر فیتھ کا نفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے انٹر فیتھ ہارمنی کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور انٹر فیتھ ہارمنی کے موضوع پر اسلام کی تعلیمات پیش کیں ۔
پٹاپرتھی (آندھرا پردیش) میں بہت بڑا سائی انٹرنیشنل سینٹر قائم ہے۔ اس کے تحت پٹاپرتھی میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ۲۱- ۲۳ جولائی ۲۰۰۵ء کو ہوئی ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ”اسلام اور پیس‘‘ کے موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ اس تقریر کو عام طور پر بہت پسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ لوگوں نے بہت شوق سے انگریزی کتابیں مطالعے کے لیے لیں۔ اس کے علاوہ واپسی میں دودن بنگور میں قیام رہا۔ اس سفر کی روداد سفر نامے کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا میں رہتے ہیں۔ وہ مسلسل انٹرنیٹ کے ذریعے الرسالہ کا مشن پھیلا رہے حال میں ان کا ایک خط ۲۲ / جولائی ۲۰۰۵ کو موصول ہوا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ انھوں نے عراق کے غیر مسلموں اور عیسائیوں میں الرسالہ کا دعوتی پیغام پہنچانے کا کام شروع کیا ہے۔ ان کا ای میل آئی ڈی یہ ہے: ڈائری (94-93) چھپ کر شائع ہوگئی ہے۔ یہ 387 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے حسب ذیل ڈائریاں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں ۔ ڈائری (84-83) ڈائری (90-89) ڈائری (92-91)۔ اس طرح ڈائری کی کل چار جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔
برمنگھم کا ادارہ اسلامک ویژن (Islamic Vision) ایک دعوتی ادارہ ہے۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات کی توسیع واشاعت میں اس کا تعاون مسلسل جاری رہا ہے۔ حال میں انھوں نے انگریزی کتاب اسلام ایز اٹ از (Islam As It Is) کو بڑی تعداد میں شائع کرکے یورپ میں لوگوں کے درمیان مفت تقسیم کیا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار دہلی سے ۱۹۹۲ میں چھپی۔ اس کتاب کا مذکورہ ایڈیشن اسلامک ویژن نے ۲۰۰۵ میں چھپوایا ہے۔ صفحات پر مشتمل ہے۔ عمومی حلقے میں اسلام کے تعارف کے لیے یہ کتاب بہت مفید ثابت ہوئی۔ ۲ اگست ۲۰۰۵ کو ناروے کے مسٹر آرنے سوراس (Arne Saeveraas) کی قیادت میں ایک ڈیلی گیشن اسلامی مرکز میں آیا۔ یہ لوگ ناروے کے ناروین چرچ ایڈ (Norwegian Church Aid) کے یہ ادارہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر دونوں ملکوں کے مذہبی افراد کے درمیان ڈائیلاگ کے ذریعے وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مشن کے تحت وہ صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ مسٹر آرنے سوراس کے ساتھ چندوال پال مارٹن (Chandual Paul Martin) بھی تھے جو کہ مدارس کے لتهران چرچ (Luthran Churchi) کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی انگریزی کتابیں دی گئیں۔ نے پیس مشن کے سلسلے میں صدر اسلامی مرکز کی باتو کو بہت پسند کیا۔ اور ان کو نہایت مفید بتایا۔ انگریزی میگزین آؤٹ لک (نئی دہلی) کی بیورو چیف صبا نقوی اور انگریزی روزنامہ ٹیلیگراف کے اسپیشل کرسپاڈینٹ پورنما جوشی نے ۱۲ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا مشترکہ انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع جہاد اور خود کش بمباری تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں خود کشی یا خود کش بمباری دونوں یکساں طور پر حرام جہاد کے نام پر آج کل مسلمانوں کے اندر جو متشددانہ کارروائیاں جاری ہیں وہ بھی اسلامی شریعت میں جائز کیوں کہ اسلام میں جنگ صرف ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود مسلح جہاد شروع کردیں۔ نیز حکومت کے لیے بھی صرف جارحانہ حملے کی صورت میں دفاعی جنگ جائز ہے۔ پراکسی وار بھی اسلام میں جائز نہیں۔ ان خواتین کو امن اور اسلام کے موضوع پر چار انگریزی کتابیں دی گئی اور کچھ مضامین دیے گیے۔
ایشین نیوز اینڈ انفارمیشن نیٹ ورک (نئی دہلی) کے ڈائرکٹر راجن تیواری نے ۸ اگست ۲۰۰۵ کو دوردشن کے لیے تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کشمیر اور دوسرے مقامات پر جہاد کے نام سے ہونے والے تشدد سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ متشددانہ جہاد مسلمانوں کا ایک فعل ہے۔ اس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جہاد صرف پر امن جدوجہد کا نام ہے۔ جہاں تک جنگ یا قتال کا تعلق ہے وہ صرف دفاع کے لیے جائز ہے۔ اور یہ دفاعی جنگ بھی ایک باقاعدہ حکومت کر سکتی ہے۔ جنگ کی بھی بہت سی شرطیں ہیں۔ مثلاً غیر مقاتلین (non-combatants) اور بچوں اور عورتوں کو نہ مارنا، وغیرہ۔
امریکا میں ایک ادارہ ہے جس کا نام: یوتھ فار ہیومن رائٹس انٹرنیشنل (Youth for Human Rights International) ہے۔ اس کا صدر دفتر لاس اینجلس میں ہے۔ اس ادارے کے تحت پہلی انٹرنیشنل یوتھ سمٹ امریکا میں ہوئی۔ اس کے تحت دوسری انٹرنیشنل سمٹ ۲ اگست ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں سائی انٹرنیشنل سینٹر کے آڈیٹوریم میں ہوئی ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے واٹ آر ہیومن رائٹس نامی کتاب (مطبوعہ امریکا) کا اجرا کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے حضرت علی کا یہ قول لوگوں کو سنایا: The value of a person lies in excellence۔ نوجوانوں کو بتایا کہ اس کے مطابق کامیابی کا بہترین اصول یہ ہے کہ آپ بہتر کریں تو دوسروں سے بھی آپ کو بہتر ملے گا:Do your best, and find the best حاضری نے دل چسپی کے ساتھ اس کو نقل کیا۔
ٹی وی کمپنی افسانہ بی لون (Afsana Babylon) کے ڈائریکٹر مَر اعلیٰ ۱۰ اگست ۲۰۰۵ کو اپنی ٹیم کے ساتھ اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے اپنی مجوزہ فلم’’رحمت‘‘ کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی ویڈیو انٹرویو سوالات کا تعلق زیادہ تر تشدد اور امن کے مسئلے سے تھا۔ جوابات میں بتایا گیا کہ امن انسانی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ تشدد کے حالات میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ مستر مر اعلیٰ کو موضوع سے متعلق کچھ کتابیں دی گئیں۔
انٹرنیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی طرف سے نئی دہلی کے اسکوپ کنونشن سینٹر (scope convention centre) میں ۶ اگست ۲۰۰۵ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ ڈاکٹر کرن سنگھ اس کے صدر تھے۔ دعوت پر صدر اسلام مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ اور’’ اسلام اینڈ پیس‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں ایک تقریر کی۔ موقع پر صدر اسلامی مرکز کو ایک نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام یہ تھا: