Al-Risala · December 2005

Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005

Al-Risala, December 2005, pp. 537–541

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کے انگریزی میگزین ڈی این اے (Daily News and Analysis) کے نمائندہ مس گیتا سنگھ (5560444 .Tel) نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۱۷ اگست ۲۰۰۵ کوریکاڈ کیا خاص سوال یہ تھا کہ ایک دار الافتاء نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسلم عورتیں الکشن میں ووٹ دینے کے لیے نہ اور اگر جاتی ہیں تو برقع پہن کر جائیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کا فتویٰ موجودہ حالات میں بالکل بے سیاسی معاملات میں مسلم ملکوں میں بھی فتویٰ نہیں چلتا پھر وہ انڈیا میں کیسے چلے گا۔ ایسے معاملات میں مفتی صاحبان کو حالات کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا احساس کرتے ہوئے خاموشی رہنا چاہیے۔ اسلام کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جن معاملات میں آدمی موثر نہ بن سکتا ہو اس میں وہ خاموش رہے اور دعا پر اکتفا کرے۔ ہندی ڈیلی راشٹریہ سہارا کے نمائندہ نے ۱۹ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو دینک

جاگرن میں چھپی ہوئی ۱۶/ اگست ۲۰۰۵ء کی اس خبر پر تھا جس کا عنوان یہ تھا: دیش ہت میں الپ سنکھیوکوں کی سوچ ختم کریں (سپریم کورٹ)۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستور ہند سے اقلیتوں کی فہرست ختم کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ دستور میں تبدیلی کا معاملہ ہے اور موجودہ حالت میں پارلیمنٹ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ دستور میں کوئی تبدیلی کر سکے۔ دوسری بات یہ کہ دستور ہند میں تبدیلی کا موجودہ رجحان خود صحیح نہیں۔ آزادی کے بعد سے بار بار دستور میں ترمیم کی گئی ہے اور نئے نئے قانون بنائے گئے ہیں اس طرح کی باتوں سے دستوری اور قانونی استحکام ختم ہو جاتا ہے۔ مسلسل جدوجہد (sustainable effort) چاہتی ہے۔ اور آۓ دن کی ترامیم کے ماحول میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ہندی ویکلی سہارا سے (نئی دہلی) کی نمائندہ رامشکا لانے ۱۶ اگست ۲۰۰۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں الگاوَ داد کا مزاج ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ اس کو ختم ہونا چاہیے۔ دوسری چیز تعلیم ہے۔ مسلمانوں کا ہر مسئلہ تعلیم سے جڑا ہوا ہے۔ جائے تو تمام مسئلے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ الیکشن میں ہندو اور مسلمان دونوں کی یہ سوچ ہوگئی ہے کہ یہ دوست پارٹی ہے اور یہ دشمن پارٹی ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ اس کے بجائے مثبت ذہن سے پارٹیوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ انٹرنیشنل لجس اینڈ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پیس (IIFWP) کے تحت ۱۶/ اگست ۲۰۰۵ء کو ایک سیمینار یہ سیمینار نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع کی مناسبت سے’’ اسلام اینڈ پیس‘‘ کے بارے میں مختصر اظہار خیال کیا۔ آخر میں انھیں دعا (prayer) کے لیے کہا گیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کی: اللهم انالسلام ومنك السلام وإليك يرجع السلام، حينا ربنا بالسلام وأدخلنا دارك دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت، يا ذالجلال والا کرام۔ پھرا س دعا کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ حاضرین نے اس دعا کو بہت پسند کیا۔ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ ویر ارجن کے نمائندہ مسٹر و کرم سنگھ نے ۲۲ اگست ۲۰۰۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر سپریم کورٹ کے اس نوٹس سے تھا جو دار الافتاء اور دار القضاء کے متعلق جاری کیا گیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کا نوٹس جزئی طور پر درست ہو سکتا ہے مگر اس نوٹس کا تعلق دار القضاء یا دار الافتاء کے وجود سے نہیں ہے بلکہ مفتی صاحبان کے ایک غلط فتوے سے ہے جو عمرانہ کیس (مظفر نگر) کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کیس میں مفتی صاحبان نے بالواسطہ انداز میں جو فتوٰی دیا وہ کورٹ میں مداخلت کے ہم معنی تھا۔ کیوں کہ عمرانہ کا کیس ثابت شدہ طور پر زنا بالجبر کا کیس تھا۔ اس لیے وہ ایک فوجداری کیس تھا جو عدالت کے دائرے میں آتا ہے۔ اب یہ ہونا چاہیے کہ مفتی صاحبان اور ان کے ہم نوا اعلان کے ساتھ یہ مان لیں کہ انھوں نے غلطی کی۔ عمرانہ کے معاملے میں ان کو خاموش رہنا چاہیے تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مفتی صاحبان اور ان کے ہم نوا اعلان کے ساتھ اپنی غلطی مان لیں تو اس کے بعد سپریم کورٹ کا اعتراض اپنے آپ ختم

ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مفتی صاحبان کو اور زیادہ تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سے ایک خط ملا ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ آپ کا اور میرا باہمی تعلق ہو جائے۔ آپ جیسی شخصیت سے جس کا تعلق قائم ہو جائے وہ انسان کتنا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرے گا۔ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ۲۰۰۱ء میں جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا تو میں بڑا احساس کمتری کا شکار تھا۔ میرے ٹیچر نے مجھے ایک کتاب دی جس کا نام تھا’’ راز حیات‘‘ بس میری زندگی کی شروعات ایک اچھے اور نئے طریقے سے ہونا شروع ہوگئی۔ یہ کتاب پڑھنے سے پہلے بھی میرے اندر یہ جذبہ تھا کہ زندگی آپ سے کیا مانگتی ہے۔ وہ کس چیز کا سوال آپ سے کر رہی ہے۔ پھر میں نے’’ کتاب زندگی‘‘ خریدی۔ ان دونوں کتابوں میں ایسی تحریریں شائع ہوئی ہیں جنھوں نے دل کو موہ لیا۔ پھر مجھے آپ سے ملنے کا شوق ہوا اتنی بڑی شخصیت سے کیسے ملا جائے، جب میں نے پتہ کیا تو افسوس کرتا رہا کہ آپ کی رہائش انڈیا میں ہے (سید کامران، کراچی) جدہ کے انگریزی اخبار عرب نیوز کے ایڈیٹر مسٹر سراج وہاب نے ۲۸ اگست ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو دو قسطوں میں تھا اور تفصیلی تھا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم سیاست اور مسلم جہاد اور مسلمانوں کی عالمی صورت حال کے بارے میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کسی دوسری قوم کے ظلم اور سازش کا شکار نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وہ خود اپنے نااہل رہنماؤں کی غلط رہنمائی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس غلط رہنمائی میں سرفہرست اسلام کا پولیٹیکل انترپریٹیشن ہے۔ اس غلط انتر پریٹیشن نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ بے فائدہ لڑائی میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ۲۴ اگست ۲۰۰۵ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مختلف کیندر یہ اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی صدارت جنرل چہر نے کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں وہاں انھوں نے ۲۵ منٹ کا خطاب کیا۔ اس خطاب کا موضوع تھا: ’’بنیادی انسانی اقدار اور اسلام‘‘۔ پروگرام کے مطابق ۳۰ منٹ کی تقرری تھی۔ اور اس کے بعد ۱۵ منٹ سوال و جواب ہوا۔ تقریر میں اس قرآنی آیت کی تشریح کی گئی: وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمة (البلد)

زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کا چار ستمبر ۲۰۰۵ کا اجلاس جامعہ ملیہ (نئی دہلی) کے حال میں ہوا۔ آرگنائزر ڈاکٹر ظفر محمود ہیں۔ اس اجلاس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور زکوٰۃ کی اہمیت پر ایک ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ زکوٰۃ سوشل سیکیورٹی کا ایک نظام ہے۔ اصلا وہ عبادت ہے۔ لیکن دوسرے عبادتی اعمال کی طرح اس میں بھی دنیوی زندگی کے مفاد کو شامل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: آپ کی کتاب ’’راز حیات‘‘ پڑھنے کے بعد میری اس کتاب کے بارے میں یہ رائے ہے کہ اس کتاب کی ضرورت آج کے دور کے ہر انسان کو

کتاب میں جتنے بھی عنوانات ہیں سب میں مختلف امثال کے ذریعے انسانی نفسیات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر مثال دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جداگانہ صلاحیتیں بخشی ہیں۔ صلاحیتوں کی بدولت انسان ناممکن کو ممکن بنا لیتا ہے۔ مایوسی کفر ہے لہٰذا ہمیں زندگی کے روشن پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کتاب مایوس انسانوں کے لیے اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ (سکندر حیات خاں، کراچی)

کیرلا کی تنظیم اتحاد الشبان المسلمین (ISM) کے زیر انتظام کالی کٹ میں دوروزہ سیمینار ۱۰۔ ۲۰۰۵ کو ہوا۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس کے اجلاس میں افتتاحی تقریر کی ۔ ۹ ستمبر کی شام کی تقریر ہائی سن (Hyson) ہال میں ہوئی ۔ اور ۱۰ ستمبر کی صبح کی تقریر کوزی کوڑ جبلی ہال (Kozhikode Jubly Hall) میں ہوئی۔ ان دونوں تقریروں میں اسلام اور مسلمان کا رول قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کیا گیا ۔ ان دونوں تقریروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ دونوں تقریریں ملیالم کے اخبار (۱۱ ستمبر) میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔

پرائم منسٹرس ہائی لیول کمیٹی کی میٹنگ نئی دہلی کے جامعہ ہمدرد کے ہال میں ہوئی۔ یہ میٹنگ ۶ ستمبر ۲۰۰۵ اس کمیٹی کے چیرمین جسٹس راجندر سچر ہیں۔ اس میں انڈیا کے مختلف مقامات کے ممتاز مسلمان مدعو تھے۔ کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ پس ماندہ مسلم ذات کے لوگوں کو کس طرح تعلیم اور سروس میں رزرویشن دلایا جائے ۔ صدرِ اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں کہا کہ رزرویشن کچھ افراد کے لیے وقتی طور پر کچھ فائدہ دے سکتا ہے، مگر مستقل فائدہ اور زیادہ ترقی کے لیے مسلمانوں کو خود محنت کرنا ہوگا۔ زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو تعلیم کا شوق دلایا جائے اور زیادہ سے زیادہ محنت کرکے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ مائنارٹی کمیشن کا ایک خصوصی اجتماع ۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو نئی دہلی کے لوک نائیک بھون میں ہوا۔ ہندو اور مسلم دونوں فرقے کے ممتاز افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کس طرح لائی جائے ۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کا سب سے بڑا ذریعہ باہمی اعتماد ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا احترام کرے۔ یہ احترام مذہب اور کلچر کے فرق کے باوجود ہونا چاہیے ۔ مائنارٹی کمیشن کے چیرمین مسٹر ترلوکی سنگھ نے اس جلسے کی صدارت کی۔ ٹائمس آف انڈیا کے اسسٹنٹ ایڈیٹر (فیچرس) اوی جیت گھوش نے ۲۱ ستمبر ۲۰۰۵ کو صدرِ اسلامی مرکز کا نٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم ڈریس کوڈ سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھیں انگریزی کتاب ”حجاب‘‘ پڑھنے کے لیے دی گئی۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عورتوں کے لیے اسلامی لباس یہ ہے کہ وہ سادہ ہو،

اور چست نہ ہو۔ عورت کا پورا بدن لباس سے ڈھکا ہوا ہونا چاہیے۔ البتہ وجہ، کفین اور قدمین کو فقہاء نے اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں فتوے کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فتویٰ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ذاتی مسئلے کے بارے میں شریعت کا مسئلہ دریافت کرے۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے کہ کوئی اور شخص ثانیہ مرزا کے بارے میں استفتاء مرتب کر کے مفتی کے پاس بھیجے ۔ اور مفتی اس کا جواب دے۔ اس قسم کا فتویٰ ، فتویٰ نہیں ہے بلکہ وہ ایک فتنہ اس قسم کے فتووں کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسلام بدنام ہو جاتا ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔ کمیشن فار انٹر ریلیجس ڈائیلاگ (CBCI) کے زیر اہتمام ۲۵۔ ۲۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں ایک آل انڈیا سہ روزہ سیمینار ہوا۔ اس کی کارروائی نئی دہلی کے ڈان باسکو اسکول (Don Bosco) کے ہال میں ہوئی۔ دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے کی نوٹ ایڈریس (keynote address) کے طور پر ۲۵ ستمبر کے اجلاس میں ایک تقریر کی ۔ اس کا عنوان یہ تھا:

Christian-Muslim Endeavours for a better society. اس موضوع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں انھوں نے آدھ گھنٹہ خطبہ خطاب کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے مشترک انسانی مقاصد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کرسچین کمیونٹی فارمل ایجوکیشن کے میدان میں اچھا کام کر رہی ہے۔ مگر ان فارمل (informal) ایجوکیشن کا میدان ابھی خالی ہے۔ میدان میں دونوں متحدہ کوشش سے مفید کام کر سکتے ہیں۔

انورت مومنٹ کا آشرم نئی دہلی میں واقع ہے۔ اس تنظیم کی طرف سے مہولی میں ۲۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع ” کمیونل ہارمنی“ تھا۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ہارمنی کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس جلسے میں ہندو مرد اور عورتیں بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ (لا تغضب) کی روشنی میں بتایا گیا کہ سماج کے اندر ہمیشہ اشتعال انگیزی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیزی پر صبر کیا جائے۔ اشتعال انگیزی کے واقعات کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف سرکاری اسکولوں کے پرنسپل بلائے یہ پروگرام ۲۸ ستمبر ۲۰۰۵ کو ہوا۔ اس میں خطاب کرنے کے لیے صدرِ اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی۔ کا موضوع تھا: ” بیسک ہیمون ویلوز ان اسلام“۔ ۳۰ منٹ تقریر کے لیے اور اس کے بعد ۱۵ منٹ سوال جواب کے تقریر کے بعد حاضرین کو CPS کا انگریزی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ ایک پرنسپل نے سوال کیا کہ اسٹوڈنٹ اگر شرارت کرے تو اس کو کس طرح قابو میں لایا جائے۔ جواب میں بتایا گیا کہ طلبہ میں اس زمانے میں جو انارکی پیدا ہوئی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیچر لوگ صرف پروفیشنل ٹیچر بن گئے ہیں۔ ان کے دل میں طلبہ کے لیے وہ خیر خواہی نہیں ہوتی جو اپنے بیٹے کے لیے ہوتی ہے۔

Printed page