Al-Risala · February 2005

Let no other suffer what I have suffered.

Al-Risala, February 2005, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نفسیات بتاتی ہے کہ آدمی سارے معاملے کو بس دنیا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت صرف دنیا کی مصیبت ہے اور سب سے بڑا کام یہ ہے کہ دنیا کو بے مصیبت جگہ بنایا جائے۔ حالاں کہ یہ سوچ خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے، اس لیے وہ یہاں واقعہ بننے والی ہی نہیں۔ جب بھی دنیا میں کسی کو کوئی نا خوشگوار تجربہ ہو تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح سبق وہ اس حقیقت کو یاد کرے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو بھی آرام کی زندگی ملنے انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے منفی تجربات سے آخرت کا سبق لے۔ وہ اپنے اندر اس شعور کو جگائے کہ اس محدود دنیا میں مجھے اپنی مطلوب زندگی ملنے والی نہیں۔ مجھے اپنی مطلوب زندگی آخرت کی لا محدود دنیا میں تلاش کرنی چاہیے۔

ایسی حالت میں ناخوشگوار تجربات کا صحیح سبق یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کو یاد کرے، وہ اپنے اندر اس سوچ کو بیدار کرے کہ۔ جو کچھ میں نے آج کی عارضی دنیا میں بھگتا وہ مجھے کل کی ابدی دنیا میں نہ بھگتنا پڑے:

Let me not suffer in the Hereafter that which I have suffered in this world. کامیاب وہ ہے جس نے عارضی دنیا میں ابدی دنیا کو پہچانا۔ جس نے موجودہ دنیا کی ناکامی میں آخرت کی ابدی کامیابی کا راز دریافت کر لیا۔

قرآن میں ایک طرف بتایا گیا ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ایک ایسے نقشہ کے مطابق بنایا ہے کہ یہاں ہر عورت اور مرد کبد (مشقت) میں رہے۔ دوسری طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا حزن (فاطر ۳۲) سے پاک ہوگی جو صرف خدا کے پسندیدہ لوگوں کو ملے زندگی کے بارے میں یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مذکورہ قسم کے تمام مسائل پیدا

اس تخلیقی تقسیم کی روشنی میں دیکھئے تو تمام انسانی مسائل کی جڑ یہ ہے کہ لوگ موت سے پہلے کی دنیا میں اپنی جنت بنانا چاہتے ہیں جب کہ یہاں خالق نے وہ حالات ہی نہیں رکھے کہ یہاں کوئی شخص اپنی جنت بنا سکے۔ جس طرح ریت یا دلدل کے اوپر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے اسی طرح موجودہ دنیا میں کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں اپنا عیش محل تعمیر کر سکے۔ اور جب فطری قانون کے تحت آدمی اس ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو وہ مختلف قسم کے منفی رد عمل کا شکار ہو کر اپنے کو مزید تباہی میں ڈال لیتا ہے۔

صحیح یہ ہے کہ آدمی اس تخلیقی قانون کا اعتراف کرے اور اس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے ۔ یہ منصوبہ صرف ایک ہے۔ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وہ مطلوب انسان بنانا جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موت سے پہلے کی دنیا میں انسان کے لیے قناعت ہے، اور موت کے بعد کی دنیا میں انسان کے لیے جنت۔ قناعت میں جنت نہیں، اور دور جنت میں قناعت نہیں۔

Printed page