Al-Risala · February 2005

Hypothesis, Observation, Verification

Al-Risala, February 2005, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سہہ نکاتی فارمولا کو عالم آخرت کے وجود کے معاملہ میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طور پر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty) ہے۔

اس موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلا قرینہ یہ سامنے آتا ہے کہ انسان دوسری مخلوقات سے مختلف ہے۔ یہ انسان کی ایک استثنائی صفت ہے کہ وہ کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ انسان کے سوا جمادات اور نباتات اور حیوانات میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے اندر کل کا تصور رکھتا ہو۔ اس مشاہدہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے سوا دوسری تمام مخلوقات کی منزل صرف آج ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی منزل آئندہ آنے والے کل (tomorrow) سے تعلق رکھتی ہے۔ انسانی جسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم ان گنت خلیوں (living cells) سے بنا ہے۔ خلیے ہر لمحہ ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم بار بار پرانے کے بعد نیا ہوتا رہتا ہے جیسا کہ بہتے ہوئے دریا کا پانی ہر وقت پرانا اور نیا ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ ایک مستقل وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسم پر موت واقع ہوتی ہے مگر اس کی روحانی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔

اسی طرح ہر انسان کے اندر نہایت گہری خواہشیں موجود ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان خواہشات کو طلب کرنے والا ایک حیوان ہے:

Printed page