امید کی کرن
Al-Risala, February 2005, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکی مشنری بلی گراہہم نے لکھا ہے کہ اس کو ایک بار ایک امریکی دولت مند کا ارجنٹ پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ مجھ سے فوراً ملو۔ بلی گراہہم نے اپنا پروگرام ملتوی کر دیا۔ وہ فوراً سفر کر کے مذکورہ امریکی دولت مند کے پاس پہنچا۔ بلی گراہہم کا بیان ہے کہ جب میں امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو وہ فوراً مجھ کو اپنے وسیع مکان کے ایک الگ کمرہ میں لے گیا۔ یہاں ہم دونوں دو کرسیوں پر آنے
اس کے بعد امریکی دولت مند نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ بلی گرہم سے کہا کہ دیکھو، میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ زندگی اپنی ساری معنویت کھو چکی ہے۔ میں نامعلوم کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان، کیا تم مجھے امید کی ایک کرن دے سکتے ہو: You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope. یہ سوال صرف ایک امریکی دولت مند کا سوال نہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر آدمی اس سوال سے دوچار ہوتا ہے، عورت بھی اور مرد بھی۔ اس سوال کا معقول جواب صرف عالم آخرت کے عقیدہ میں ملتا ہے۔ اگر موت کے بعد ایک اور دنیا کو نہ مانا جائے تو یہ عالمگیر سوال ہمیشہ کے لیے بے جواب ہو کر رہ جائے گا۔