تضاد کا خاتمہ
Al-Risala, February 2005, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے بارے میں اس قسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد پیدائشی طور پر دو متضاد صفات رکھتے ہیں۔ ایک طرف ہر ایک کی بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ایک مطلوب دنیا بنائے، ایک ایسی دنیا جو اس کے آئیڈیل کے مطابق ہوا اور جہاں وہ اپنے ’’کل‘‘ (dream world) کے دور حیات کو خوشیوں اور راحتوں کے ساتھ گزار سکے۔ مگر دوسری طرف ہر انسان اس تضاد میں مبتلا ہے کہ وہ بظاہر تمام مادی چیزیں حاصل کر لینے کے باوجود اپنی مطلوب دنیا نہیں پاتا۔ بیماری، ایکسیڈینٹ، بوڑھاپا اور آخر میں سو سال سے بھی کم مدت میں موت، یہی اس دنیا میں انسان کی
یہی معاملہ ہر عورت اور ہر مرد کا ہے۔ ہر ایک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیل کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ہر ایک اپنی حسین تمناؤں کو لیے ہوئے مر جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس نے اپنی مطلوب دنیا کو عملاً پایا ہو۔
یہاں دوبارہ ایک مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ یہ مشاہدہ کی دنیا میں عالمگیر طور پر زوجین (pairs)
کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ ہر چیز دو کے ملنے سے مکمل ہوتی ایٹم میں نیگیٹیو پارٹیکل اور پازیٹیو پارٹیکل، ستاروں کی دنیا میں جوڑا ستارے (pair stars)، نباتات کی دنیا میں نر اور مادہ، حیوانات کی دنیا میں مذکر اور مونث، انسان کی دنیا میں مرد اور عورت۔ اس عالمگیر فطری اصول کو زوجین کا اصول (pair principle) کہا جا سکتا ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔ اسی عالمگیر اصول میں مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ اس کے مطابق ، ساری دنیا میں ایک جوڑ ادنیا (pair world) ہے۔ کے ساتھ ایک اور دنیا موجود ہے اور اسی دنیا کے ملنے سے ہی موجودہ دنیا اپنے وجود کو مکمل کرتی ہے۔ آغاز کی تکمیل اب مذکورہ مشاہدہ کی روشنی میں دیکھئے تو اس بات کی واضح تصدیق ہو جاتی ہے کہ عالم آخرت کا نظریہ درست ہے۔ عالم آخرت وہ جوڑادنیا ہے جس کے ملنے سے موجودہ دنیا اپنے وجود کی تکمیل کرتی اس جوڑادنیا سے ملے بغیر ہماری موجودہ دنیا اسی طرح نامکمل ہو جاتی ہے جس طرح اس کائنات کی دوسری تمام چیزیں اپنے جوڑے کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔
ہماری دنیا کا دو دنیاؤں کی صورت میں ہونا بہت با معنی ہے۔ اس دوسری دنیا کو ماننے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل وجود بن جاتا ہے۔ اب ہر چیز اپنی معنویت پالیتی ہے۔ اب ہر چیز اپنے خانہ میں فٹ بیٹھ جاتی ہے:
Everything falls into place. درست فریم ورک یہ تصور ہم کو وہ فریم ورک دے دیتا ہے جس میں زندگی اور کائنات کی ہر چیز اپنی اطمینان بخش تو جیہہ پا سکے۔ اس تصور سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جنت اور جہنم کیا ہے۔ جنت گویا سنجیدہ اور حق پرست لوگوں کی آرام گاہ ہے اور جہنم گویا سرکش اور باطل پرستوں کا عذاب خانہ۔ اس کے مطابق جو تصور بنتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو عالم امتحان (testing ground)
کے طور پر بنایا گیا اور اگلی دنیا کو اپنا انجام پانے کی جگہ کے طور پر تخلیق کیا گیا۔ انسان کو پیدائشی طور پر ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت عطا ہوئی ہے۔ تاہم انسان کی زندگی گویا آئس برگ کی مانند ہے، جس کا بہت چھوٹا حصہ اوپر دکھائی دیتا ہے اور اس کا پورا بقیہ وجود سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مدت عمر (life span) دو حصوں میں بٹی ہوئی اس کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا گیا ہے اور اس کی مدت حیات کا زیادہ بڑا حصہ عالم آخرت میں رکھ دیا گیا ہے۔
موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے تا کہ انسان اپنی شخصیت کو مکمل کرے۔ مثال کے طور پر موجودہ دنیا طرح طرح کی تلخیوں سے بھری ہوئی ایسا اس لیے ہے کہ انسان ان تجربات سے گزرتے ہوئے یہ ثبوت دے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت احساسات کے ساتھ جی سکتا ہے۔ ایسے ہی مثبت شخصیات کے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کئے جائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ رد عمل کا شکار ہو گئے اور منفی تجربات کے درمیان خود بھی منفی بن گئے، ایسی منفی شخصیت رکھنے والے لوگوں کو جنت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ وہ جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکیں گے۔
عضویاتی ارتقاء کے نظریہ کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک فیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ عضویاتی ارتقاء کے نظریہ کے حق میں مشاہداتی دلائل حاصل ہو گئے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نظریہ ارتقاء کو ماننے کی صورت میں حیاتیاتی شواہد کی ایک قابل فہم تو جیہہ حاصل ہو جاتی ہے۔ جب کہ علماء سائنس کے نزدیک، دوسرا کوئی ایسا نظریہ موجود نہیں جو معلوم حیاتیاتی شواہد کی تو جیہہ گویا نظریہ ارتقاء ایک قابل عمل نظریہ (workable theory) ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی ثابت شدہ نظریہ (proved theory)۔