Al-Risala · February 2005

اطمینان بخش توجیہہ

Al-Risala, February 2005, pp. 18–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سائنسی اصول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں تمام معلوم

شواہد کی تشفی بخش توجیہہ مل جاتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں سب کچھ ناقابل توجیہہ بنا رہتا ہے۔

عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا ادھوری معلوم ہوتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا مکمل نظر آنے لگتی ہے۔ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات ناقابل فہم بنی رہتی ہے کہ بہت سے سچے اور اچھے انسان دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ انہیں اپنی سچائی کا کوئی انعام نہیں ملا۔ مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال پوری طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا کا یہ واقعہ ناقابل توجیہہ بنا رہتا ہے کہ یہاں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ برائی اور سرکشی کرتے ہیں مگر یہاں وہ اپنی برائی کی سزا نہیں مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں، ہم کو اس سوال کا اطمینان بخش جواب مل جاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات مکمل طور پر ناقابل فہم رہتی ہے کہ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہاں ایک آئیڈیل ورلڈ کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے، مگر ہر شخص اس آئیڈیل ورلڈ کو پائے بغیر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب انسان اس یقین کے ساتھ موجودہ دنیا میں رہ سکتا ہے کہ جس مطلوب چیز کو وہ قبل از موت دنیا میں نہ پا سکا وہ اس کو بعد از موت دنیا میں پالے گا۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی۔ سورج چاند کا نظام ہو یا زمین کے کیڑے مکوڑے سب ایک مقصد کے تحت پیدا کئے گئے ہیں اور وہ اپنے اس مقصد کو پورا کر رہے اس حالت میں اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ایسی ہے جو بظاہر بلا مقصد معلوم ہوتی ہے۔ عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر حسین تمناؤں کا ایک تصور بسا ہوا ہے، کوئی بھی عورت یا مرد اس سے خالی نہیں۔ پھر جب اس دنیا کی دوسری تمام چیزیں واضح مقصد کے تحت پیدا کی گئی ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بھی اپنی ایک حقیقی منزل رکھتی ہوں۔ جس کائنات میں ہر چیز با مقصد ہو وہاں انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔

یقینی طور پر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد البتہ یہ مقصد موجودہ دنیا میں پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامحدود ہیں اور وہ ایک لامحدود دنیا ہی میں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسی لامحدود دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت کی اس لامحدود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی جو ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں ان کو آخرت کی دنیا میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طور پر بھگتے رہیں۔

Printed page