Al-Risala · February 2005

جنت کی حقیقت

Al-Risala, February 2005, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ ایک انوکھے استثناء کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات میں ہر طرف یقین (certainty) ہے اور انسان کی دنیا میں غیر یقینیت بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشہ سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے اور انسان کی زندگی میں بے تسکینی (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہئے، وہ سب اس کو مل رہا ہے مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے جو اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہاوہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات ایک برائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔ مگر انسان استثنائی طور پر اس مسئلہ سے دوچار ہے جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔

جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری

طرح موجود ہے جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کے معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں ۔ یہ صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔

Printed page